روسی وزیر خارجہ کا دورہ تہران، چند اہم نکات

Rate this item
(0 votes)
روسی وزیر خارجہ کا دورہ تہران، چند اہم نکات

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے گذشتہ ہفتے 22 جون کے دن ایران کا دورہ کیا۔ ایران کے موجودہ صدر ابراہیم رئیسی کی مدت صدارت شروع ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت انجام پایا ہے جب ایران اور روس دونوں مغربی اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں سے روبرو ہیں۔ دوسری طرف خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں روس یورپ سے ہر قسم کی مفاہمت اور تعاون سے ناامید ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنا تیل اور گیس پیچنے کیلئے مشرقی ممالک کی جانب متوجہ ہوا ہے۔ ایران اور روس کو ایکدوسرے سے قریب لانے کا ایک اور اہم سبب ایران اور مغرب میں جاری جوہری مذاکرات ہیں۔ ان مذاکرات میں پیشرفت کی صورت میں ایران پر عائد پابندیوں کی شدت کم ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔

لہذا روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف کے دورہ تہران کو دونوں ممالک میں جاری باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ کئی لحاظ سے اہم ہے، جیسے:
1)۔ علاقائی سطح پر خاص طور پر یوکرین کا بحران جنم لینے کے بعد مغربی اور یورپی ممالک مشرق وسطی میں بہت زیادہ سرگرم ہو گئے ہیں جس کا مقصد اپنے مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا دورہ تہران، یوکرین جنگ کے پرامن اور سفارتی حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران نے شروع سے ہی یوکرین جنگ کی مخالفت کی ہے اور روس اور یوکرین پر باہمی تنازعات گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ، برطانیہ اور نیٹو اس جنگ میں جلتی پر تیل ڈالنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

2)۔ سرگے لاوروف کے دو روزہ دورہ تہران کو ان کے گذشتہ دوروں کے تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تین ہفتے قبل سعودی عرب اور بحرین کا دورہ کیا تھا جس میں وہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اور فیصل بن فرحان سے ملے۔ اسی طرح روسی وزیر خارجہ نے دو ہفتے پہلے ترکی کا بھی دورہ کیا تھا۔ لہذا تہران کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور اس لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل تھا۔
3)۔ روسی وزیر خارجہ کے دورہ تہران میں بعض اہم مذاکرات بھی انجام پائے ہیں۔ ان میں سے ایک ماسکو اور تہران کے درمیان طویل المیعاد تعاون کا معاہدہ طے پانے کے بارے میں گفتگو تھی۔ سرگے لاوروف نے روس اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف پہلووں کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔

انہوں نے ایران اور روس کے درمیان جاری باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے اس کی سطح بڑھانے اور اسٹریٹجک سطح تک لے جانے پر زور دیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت کو بھی انتہائی اہم قرار دیا اور علاقائی تنظیموں اور عالمی سطح پر ایران کے کردار میں وسعت لانے کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ ایران اور روس کے درمیان جاری باہمی تعاون کا ایک اہم حصہ کیسپین سمندر سے متعلق تعاون پر مشتمل ہے۔ کیسپین سمندر کے ساحلی ممالک اس سمندر میں بیرونی فوجی موجودگی نہ ہونے پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ روس اور ایران کے درمیان تعاون کے دیگر شعبے باہمی تجارت کے فروغ، مشترکہ معیشتی منصوبوں، دوطرفہ سرمایہ کاری میں سہولیات فراہم کرنے اور مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے پر مشتمل ہیں۔

4)۔ روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف کے دورہ تہران میں دیگر اہم موضوعات پر بھی گفتگو انجام پائے ہے۔ ان موضوعات میں ایران اور مغرب کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے برجام کا احیاء، شام کی صورتحال، افغانستان کے مسائل اور طالبان کی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ شروع ہونے والے ایران کے جوہری مذاکرات میں روس اور چین نے ابتدا سے ہی انتہائی اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح برجام معاہدہ طے پانے میں بھی روس ایک موثر کھلاڑی رہا تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برجام معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو جانے اور ایران کے خلاف مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دیے جانے کے بعد بھی روس نے اس معاہدے کے دوبارہ احیاء کی کوشش جاری رکھی ہے۔

مختصر یہ کہ یوکرین میں بحران جنم لینے کے بعد روس اور امریکہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ چالیس برس سے امریکہ کو اپنا اصلی دشمن قرار دے رکھا ہے۔ لہذا یوکرین جنگ کے بعد ایران اور روس کا ایکدوسرے سے مزید قریب آنا ایک فطری عمل ہے۔ یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے روس کے خلاف شدید سرد جنگ کا آغاز کر رکھا ہے۔ وہ روس کو زیادہ سے زیادہ دباو کا شکار کرنے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہیں۔ روس کی اقتصاد کا بڑا حصہ گیس اور تیل کی فروخت پر منحصر ہے لہذا امریکہ اور مغربی ممالک نے روس سے تیل اور گیس خریدنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسی صورتحال میں ایران اور روس ایکدوسرے کے تعاون سے مغربی پابندیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

تحریر: معصومہ محمدی

Read 58 times

Add comment


Security code
Refresh