ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

Rate this item
(0 votes)
ماہ شعبان کی فضیلت واعمال
 ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

معلوم ہونا چاہئے کہ شعبان وہ عظیم مہینہ جو حضرت رسول سے منسوب ہے حضور (ص) اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں َ
سے متصل فرماتے تھے ۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینہ میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے۔
امام جعفر صادق -فرماتے ہیں کہ جب شعبان کا چاند نمودار ہوتا تو امام زین العابدین- تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب ! جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے ؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور رسول اﷲ فرمایا کرتے تھے کہ یہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی(ص) کی محبت اور خدا کی قربت کیلئے اس مہینے میں روزے رکھو ۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی ابن الحسین+ کی جان ہے میں نے اپنے پدر بزرگوار حسین ابن علی +سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے اپنے والد گرامی امیر المومنین -سے سنا کہ جو شخص محبت رسول (ص) اور تقرب خدا کیلئے شعبان میں روزہ رکھے تو خدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کریگا قیامت کے دن اس کو عزت و احترم ملے گا اور جنت اس کیلئے واجب ہو جائے گی ۔
شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق -نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنے پر آمادہ کرو ! میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہو جاؤں اس میں کوئی فضیلت ہے ؟آپ(ع) نے فرمایا ہاں اور فرمایا رسول اﷲ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :
اے اہل مدینہ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے ۔ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے ۔ یعنی روزہ رکھے۔ صفوان کہتے ہیں امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ امیر المؤمنین- فرماتے تھے جب سے منادی رسول (ص) نے یہ ندا دی اسکے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہیں ہوگا نیز فرمایا کہ شعبان اور رمضان دو مہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔
اسماعیل بن عبد الخالق سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق -کی خدمت میں حاضر تھا، وہاں روزۂ شعبان کا ذکر ہوا تو حضرت نے فرمایا ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے حتی کہ نا حق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور بخشا جا سکتا ہے۔

اس عظیم و شریف مہینے کے اعمال دو قسم کے ہیں :
’’اعمال مشترکہ او راعمال مختصہ‘‘

ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال

اعمالِ مشترکہ میں سے چند امور ہیں۔
﴿۱﴾ ہر روز ستر مرتبہ کہے :اَسْتغْفِرُ اﷲ وَ اَسْئَلُہُ التَّوْبَۃَ ﴿۲﴾ ہر روز ستر مرتبہ کہے : اَسْتغْفِرُ اﷲ الَّذِیْ لَا
بخشش چاہتا ہوں اﷲ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں بخشش کا طالب ہوں اﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی
اِلَہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِبعضروایات میں الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ کے الفاظ
معبودنہیں وہ بخشنے والا مہربان ہے زندہ نگہبان ہے اورمیں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ و پائندہ بخشنے والا مہربان
الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ سے قبل ذکر ہوئے ہیں۔
بخشنے والا مہربان
پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے۔
﴿۳﴾ صدقہ دے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو، اس سے خدا اسکے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کردے گا ۔
امام جعفر صادق -سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاتم ماہ شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو ؟ راوی نے عرض کی ، فرزند رسول(ص) ! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کااجر و ثواب بہشت ہے۔ اس نے عرض کی۔ اے فرزند رسول(ص) ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے؟ فرمایا کہ صدقہ و استغفار ، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ دے ۔ پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا، جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد کے پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہوگا۔
﴿۴﴾ پورے ماہ شعبان میں ہزار مرتبہ کہے:
لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکِیْنَ
اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں اگرچہ مشرکوں پر ناگوار گزرے
اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے، جس میں ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا ۔
﴿۵﴾ شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھے تاکہ خدا دین و دنیا میں اس کی ہر نیک حاجت پوری فرمائے واضح ہو کہ روزے کا اپنا الگ اجر و ثواب ہے اور روایت میں آیا ہے کہ شعبان کی ہر جمعرات کو آسمان سجایا جاتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں ، خدایا آج کا روزہ رکھنے والوں کوبخش دے اور ان کی دعائیں قبول کر لے۔ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص ماہ شعبان میں سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھے تو خدا وند کریم دنیا و آخرت میں اس کی بیس بیس حاجات پوری فرمائے گا۔
﴿۶﴾ ماہ شعبان میں درود شریف بکثرت پڑھے۔
﴿۷﴾ شعبان میں ہر روز وقت زوال اور پندرہ شعبان کی رات کو امام زین العابدین- سے مروی صلوات پڑھے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ شَجَرَۃِ النُّبُوَّۃِ، وَمَوضِعِ الرِّسالَۃِ، وَمُخْتَلَفِ
اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو نبوت کا شجر رسالت کا مقام، فرشتوں کی آمد و رفت
الْمَلائِکَۃِ وَمَعْدِنِ الْعِلْمِ، وَٲَھْلِ بَیْتِ الْوَحْیِ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کی جگہ، علم کے خزانے اور خانہ وحی میں رہنے والے ہیں اے معبود! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
الْفُلْکِ الْجارِیَۃِ فِی اللُّجَجِ الْغامِرَۃِ، یَٲْمَنُ مَنْ رَکِبَہا، وَیَغْرَقُ مَنْ تَرَکَھَا، الْمُتَقَدِّمُ
جو بے پناہ بھنوروں میں چلتی ہوئی کشتی ہیں کہ بچ جائے گا جو اس میں سوار ہوگا اور غرق ہوگا جو اسے چھوڑ دے گا ان سے آگے نکلنے والا
لَھُمْ مارِقٌ، وَالْمُتَٲَخِّرُ عَنْھُمْ زاھِقٌ، وَاللاَّزِمُ لَھُمْ لاحِقٌ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
دین سے خارج اور ان سے پیچھے رہ جانے والا نابود ہو جائے گا اور ان کے ساتھ رہنے والا حق تک پہنچ جائے گا اے معبود! محمد(ص)
وَآلِ مُحَمَّدٍ الْکَھْفِ الْحَصِینِ، وَغِیاثِ الْمُضْطَرِّ الْمُسْتَکِینِ، وَمَلْجَاََ الْہارِبِینَ
و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو پائیدار جائے پناہ اور پریشان و بے چارے کی فریاد کو پہنچنے والے، بھاگنے اور ڈرنے والے کیلئے جائے
وَعِصْمَۃِ الْمُعْتَصِمِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلاۃً کَثِیرَۃً تَکُونُ
امان اور ساتھ رہنے والوں کے نگہدار ہیں اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما بہت بہت رحمت کہ جوان کے لیے وجہ خوشنودی
لَھُمْ رِضاً وَ لِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ٲَدائً وَقَضائً بِحَوْلٍ مِنْکَ وَقُوَّۃٍ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
اور محمد(ص) وآل محمد(ع) کے واجب حق کی ادائیگی اور اس کے پورا ہونے کاموجب بنے تیری قوت و طاقت سے اے جہانوں کے پروردگار
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّیِّبِینَ الْاَ بْرارِ الْاَخْیارِ الَّذِینَ ٲَوْجَبْتَ
اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو پاکیزہ تر، خوش کردار اور نیکو کار ہیںجن کے حقوق تو نے واجب کیے
حُقُوقَھُمْ وَفَرَضْتَ طاعَتَھُمْ وَوِلایَتَھُمْ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاعْمُرْ
اور تو نے ان کی اطاعت اور محبت کو فرض قرار دیا ہے اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور میرے دل کو اپنی
قَلْبِی بِطاعَتِکَ وَلاَ تُخْزِنِی بِمَعْصِیَتِکَ وَارْزُقْنِی مُواساۃَ مَنْ قَتَّرْتَ عَلَیْہِ مِنْ رِزْقِکَ
اطاعت سے آباد فرما اپنی نافرمانی سے مجھے رسوا و خوار نہ کر اور جس کے رزق میں تو نے تنگی کی ہے مجھے اس سے ہمدردی کرنے کی
بِما وَسَّعْتَ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَنَشَرْتَ عَلَیَّ مِنْ عَدْلِکَ، وَٲَحْیَیْتَنِی تَحْتَ ظِلِّکَ
توفیق دے کیونکہ تو نے اپنے فضل سے میرے رزق میں فراخی کی مجھ پر اپنے عدل کوپھیلایا اور مجھے اپنے سائے تلے زندہ رکھا ہے
وَھذا شَھْرُ نَبِیِّکَ سَیِّدِ رُسُلِکَ شَعْبانُ الَّذِی حَفَفْتَہُ مِنْکَ بِالرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوانِ الَّذِی
اور یہ تیرے نبی(ص) کا مہینہ ہے جو تیرے رسولوں کے سردار ہیں یہ ماہ شعبان جسے تو نے اپنی رحمت اور رضامندی کے ساتھ گھیرا ہوا ہے
کانَ رَسُولُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ یَدْٲَبُ فِی صِیامِہِ وَقِیامِہِ فِی لَیالِیہِ
یہ وہی مہینہ ہے جس میں حضرت رسول اپنی فروتنی سے دنوں میں روزے رکھتے اور راتوں میں صلوٰۃ و قیام کیا کرتے تھے
وَٲَیَّامِہِ بُخُوعاً لَکَ فِی إکْرامِہِ وَ إعْظامِہِ إلی مَحَلِّ حِمامِہِ اَللّٰھُمَّ فَٲَعِنَّا عَلَی
تیری فرمانبرداری اور اس مہینے کے مراتب و درجات کے باعث وہ زندگی بھر ایسا ہی کرتے رہے اے معبود! پس اس مہینے میں ہمیں
الاسْتِنانِ بِسُنَّتِہِ فِیہِ، وَنَیْلِ الشَّفاعَۃِ لَدَیْہِ اَللّٰھُمَّ وَاجْعَلْہُ لِی شَفِیعاً مُشَفَّعاً،
ان کی سنت کی پیروی اور ان کی شفاعت کے حصول میں مدد فرما اے معبود؛ آنحضرت(ص) کو میرا شفیع بنا جن کی شفاعت مقبول ہے اور
وَطَرِیقاً إلَیْکَ مَھْیَعاً وَاجْعَلْنِی لَہُ مُتَّبِعاً حَتّی ٲَلْقاکَ یَوْمَ الْقِیامَۃِ عَنِّی راضِیاً، وَعَنْ
میرے لیے اپنی طرف کھلا راستہ قرار دے مجھے انکا سچا پیروکار بنادے یہاں تک کہ میںروز قیامت تیرے حضور پیش ہوں جبکہ تو مجھ
ذُ نُوبِی غاضِیاً، قَدْ ٲَوْجَبْتَ لِی مِنْکَ الرَّحْمَۃَ وَالرِّضْوانَ، وَٲَ نْزَلْتَنِی دارَ الْقَرارِ
سے راضی ہو اور میرے گناہوں سے چشم پوشی کرے ایسے میں تو نے میرے لیے اپنی رحمت اور خوشنودی لازم کر رکھی ہو اور مجھے
وَمَحَلَّ الْاَخْیارِ ۔
دارالقرار اور صالح لوگوں کے ساتھ رہنے کی مہلت دے
﴿۸﴾ابن خالویہ سے روایت ہے کہ امیرالمومنین -اور ان کے فرزندان ماہ شعبان میں روزانہ جو مناجات پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاسْمَعْ دُعائِی إذا دَعَوْتُکَ، وَاسْمَعْ نِدائِی إذا
اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور جب میں تجھ سے دعا کروں تو میری دعا سن جب میں تجھے پکاروں تو میری
نادَیْتُکَ وَٲَ قْبِلْ عَلَیَّ إذا ناجَیْتُکَ فَقَدْ ھَرَبْتُ إلَیْکَ وَوَقَفْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ مُسْتَکِیناً لَکَ
پکار کو سن جب میں تجھ سے مناجات کروں تو میری پر توجہ فرما کہ تیرے ہاں تیزی سے آیا ہوں میں تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اپنی بے
مُتَضَرِّعاً إلَیْکَ راجِیاً لِما لَدَیْکَ ثَوابِی وَتَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَتَخْبُرُ
چارگی تجھ پر ظاہر کر رہا ہوں تیرے سامنے نالہ و فریاد کرتا ہوں اپنے اس ثواب کی امید میں جو تیرے ہاں ہے اور تو جانتا ہے جو کچھ
حاجَتِی وَتَعْرِفُ ضَمِیرِی، وَلاَ یَخْفی عَلَیْکَ ٲَمْرُ مُنْقَلَبِی وَمَثْوایَ
میرے دل میں ہے تو میری حاجت سے آگاہ ہے اور تو میرے باطن سے باخبر ہے دنیا اور آخرت میں میری حالت تجھ پرمخفی نہیں اور
وَما ٲُرِیدُ ٲَنْ ٲُبْدِیََ بِہِ مِنْ مَنْطِقِی، وَٲَ تَفَوَّہَ بِہِ مِنْ طَلِبَتِی، وَٲَرْجُوھُ لِعاقِبَتِی، وَقَدْ
جس کا میں ارادہ کرتا ہوں کہ زبان پر لاؤں اور اسے بیان کروں اور اپنی حاجت ظاہر کروں اور اپنی عافیت میں ا س کی امید رکھوںتو
جَرَتْ مَقادِیرُکَ عَلَیَّ یَا سَیِّدِی فِیما یَکُونُ مِنِّی إلی آخِرِ عُمْرِی مِنْ سَرِیرَتِی
یقینا تیرے مقدرات مجھ پر جاری ہوئے اے میرے سردار جو میں آخر عمر تک عمل کروں گا میرے پوشیدہ اور ظاہرا کاموں میں سے
وَعَلانِیَتِی وَبِیَدِکَ لاَ بِیَدِ غَیْرِکَ زِیادَتِی وَنَقْصِی وَنَفْعِی وَضَرِّی إلھِی إنْ حَرَمْتَنِی
اور میری کمی بیشی اور نفع و نقصان تیرے ہاتھ میں ہے نہ کہ تیرے غیر کے ہاتھ میں میرے معبود! اگر تو نے مجھے محروم کیا
فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْزُقُنِی وَ إنْ خَذَلْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَنْصُرُنِی إلھِی ٲَعُوذُ بِکَ مِنْ
تو پھر کون ہے جو مجھے رزق دے گا اور اگر تو نے مجھے رسو کیا تو پھر کون ہے جو میری مدد کرے گا میرے معبود! میں تیرے غضب اور تیرا
غَضَبِکَ وَحُلُولِ سَخَطِکَ إلھِی إنْ کُنْتُ غَیْرَ مُسْتَٲْھِلٍ لِرَحْمَتِکَ فَٲَنْتَ ٲَھْلٌ ٲَنْ تَجُودَ
عذاب نازل ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوںمیرے معبود: اگر میں تیری رحمت کے لائق نہیں پس تو اس چیز کا اہل ہے کہ مجھ پر اپنے
عَلَیَّ بِفَضْلِ سَعَتِکَ إلھِی کَٲَ نِّی بِنَفْسِی واقِفَۃٌ بَیْنَ یَدَیْکَ وَقَدْ ٲَظَلَّہا حُسْنُ تَوَکُّلِی
عظیم تر فضل سے عطا و عنایت فرمائے میرے معبود! گویا میں خود تیرے سامنے کھڑا ہوں اور تجھ پر میرے حسن اعتماد اور توکل کا سایہ
عَلَیْکَ فَقُلْتَ مَا ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ وَتَغَمَّدْتَنِی بِعَفْوِکَ ۔ إلھِی إنْ عَفَوْتَ
پڑرہا ہے پس تو نے وہی کچھ کیا جو تیری شان کے لائق ہے اور تو نے مجھے اپنے دامن عفو میں لے لیا میرے معبود: اگر تو مجھے معاف
فَمَنْ ٲَوْلی مِنْکَ بِذلِکَ وَ إنْ کانَ قَدْ دَنا ٲَجَلِی وَلَمْ یُدْنِنِی مِنْکَ عَمَلِی فَقَدْ جَعَلْتُ
کرے تو کون ہے جو اس کا تجھ سے زیادہ اہل ہو اور اگر میری موت قریب آگئی ہے اور میرا کردار مجھے تیرے قریب کرنے والا نہیں تو
الْاِقْرارَ بِالذَّنْبِ إلَیْکَ وَسِیلَتِی ۔ إلھِی قَدْ جُرْتُ عَلی نَفْسِی فِی النَّظَرِ لَہا فَلَھَا
میں نے اپنے گناہ کے اقرار کو تیری جناب میں اپنا وسیلہ قرار دے لیا ہے میرے معبود! میںنے اپنے نفس کی تدبیر میں اس پر ظلم کیا
الْوَیْلُ إنْ لَمْ تَغْفِرْ لَہا ۔ إلھِی لَمْ یَزَلْ بِرُّکَ عَلَیَّ ٲَیَّامَ حَیاتِی فَلا تَقْطَعْ بِرَّکَ عَنِّی
اگر تو اسے بخشے تو یہ ہلاکت وبربادی ہے میرے معبود ایام زندگی میں تیرا احسان ہمیشہ مجھ پر ہوتا رہا پس بوقت موت اسے مجھ سے قطع
فِی مَماتِی ۔ إلھِی کَیفَ آیَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِکَ لِی بَعْدَ مَماتِی وَٲَ نْتَ لَمْ تُوَلِّنِی إلاَّ
نہ فرما میرے معبود! میں مرنے کے بعد تیرے عمدہ التفات سے کیونکر مایوس ہوں گا جبکہ میں نے اپنی زندگی میں تیری طرف سے
الْجَمِیلَ فِی حَیَاتِی ۔ إلھِی تَوَلَّ مِنْ ٲَمْرِی مَا ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ، وَعُدْ عَلَیَّ بِفَضْلِکَ عَلی
سوائے نیکی کے کچھ اور نہیں دیکھا میرے معبود! میرے امور کا اس طرح ذمہ دار بن جو تیرے شایاں ہے اور مجھ گنہگار پر اپنے فضل
مُذْنِبٍ قَدْ غَمَرَھُ جَھْلُہُ ۔ إلھِی قَدْ سَتَرْتَ عَلَیَّ ذُ نُوباً فِی الدُّنْیا وَٲَ نَا ٲَحْوَجُ إلی
سے توجہ فرما جسے نادانی نے گھیر رکھا ہے میرے معبود! تو نے دنیا میں میرے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائی جبکہ میں آخرت میں
سَتْرِہا عَلَیَّ مِنْکَ فِی الاَُْخْری إذْ لَمْ تُظْھِرْہا لاََِحَدٍ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ
اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کا زیادہ محتاج ہوں میرے معبود! یہ تیرا احسان ہے کہ تو نے میرے گناہ اپنے نیک بندوں میں سے کسی پر
فَلا تَفْضَحْنِی یَوْمَ الْقِیامَۃِ عَلی رُؤُوسِ الْاَشْہادِ إلھِی جُودُکَ بَسَطَ ٲَمَلِی
ظاہر نہیں کیے پس روز قیامت بھی مجھے لوگوں کے سامنے رسوا و ذلیل نہ فرما میرے معبود! تیری عطا میری امید پر چھائی ہوئی ہے اور
وَعَفْوُکَ ٲَفْضَلُ مِنْ عَمَلِی إلھِی فَسُرَّنِی بِلِقائِکَ یَوْمَ تَقْضِی فِیہِ بَیْنَ عِبادِکَ
تیرا عفو میرے عمل سے برتر ہے میرے معبود! اپنی ملاقات سے مجھے شاد فرما جس روز تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرے گا
إلھِی اعْتِذارِی إلَیْکَ اعْتِذارُ مَنْ لَمْ یَسْتَغْنِ عَنْ قَبُولِ عُذْرِھِ فَاقْبَلْ عُذْرِی یَا ٲَکْرَمَ
میرے معبود! تیرے حضور میری عذر خواہی اس شخص کی طرح ہے جو قبول عذر سے بے نیاز نہیں پس میرا عذر قبول فرما اے سب
مَنِ اعْتَذَرَ إلَیْہِ الْمُسِیئُونَ۔ إلھِی لاَ تَرُدَّ حاجَتِی، وَلاَ تُخَیِّبْ طَمَعِی
سے زیادہ کرم کرنے والے کہ جس کے سامنے گنہگار عذر خواہی کرتے ہیں میرے مولا میری حاجت رد نہ فرما میری طمع میںمجھے
وَلاَ تَقْطَعْ مِنْکَ رَجائِی وَٲَمَلِی ۔ إلھِی لَوْ ٲَرَدْتَ ھَوانِی لَمْ تَھْدِنِی
ناامید نہ کر اور میں تجھ سے جو امید و آرزو رکھتا ہوں اسے قطع نہ کرمیرے معبود اگر تو میری خواری چاہتا ہے تو میری رہنمائی نہ فرماتا اور
وَلَوْ ٲَرَدْتَ فَضِیحَتِی لَمْ تُعافِنِی ۔ إلھِی مَا ٲَظُنُّکَ تَرُدُّنِی فِی حاجَۃٍ قَدْ ٲَفْنَیْتُ
اگر تو میری رسوائی چاہتا تو میری پردہ پوشی نہ کرتا، میرے معبود! میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تو میری وہ حاجت پوری نہ کرے گا جو میں عمر
عُمْرِی فِی طَلَبِہا مِنْکَ ۔ إلھِی فَلَکَ الْحَمْدُ ٲَبَداً ٲَبَداً دائِماً سَرْمَداً یَزِیدُ وَلاَ یَبِیدُ
بھر تجھ سے طلب کرتا رہاہوں، میرے معبود! حمد بس تیرے ہی لیے ہے ہمیشہ ہمیشہ پے در پے اور بے انتہا جو بڑھتی جاتی ہے اور کم
کَما تُحِبُّ وَتَرْضی إلھِی إنْ ٲَخَذْتَنِی بِجُرْمِی ٲَخَذْتُکَ بِعَفْوِکَ وَ إنْ ٲَخَذْتَنِی
نہیں ہوتی جو تجھے پسند ہے اور تجھے بھلی لگتی ہے، میرے معبود! اگر تو مجھے جرم پر پکڑے گا تو میں تیری بخشش کا دامن تھام لوں گا اگر
بِذُنُوبِی ٲَخَذْتُکَ بِمَغْفِرَتِکَ، وَ إنْ ٲَدْخَلْتَنِی النَّارَ ٲَعْلَمْتُ ٲَھْلَھا ٲَ نِّی ٲُحِبُّکَ
مجھے گناہ پر پکڑے گا تو میں تیری پردہ پوشی کا سہارا لوں گا اور اگرتو مجھے جہنم میں ڈالے گا تو میں اہل جہنم کو بتاؤں گا کہ میں تیرا چاہنے
إلھِی إنْ کانَ صَغُرَ فِی جَنْبِ طاعَتِکَ عَمَلِی فَقَدْ کَبُرَ فِی جَنْبِ رَجائِکَ ٲَمَلِی
والا ہوں میرے خدا! اگر تیری اطاعت کے سلسلے میں میرا عمل کمتر ہے تو بھی تجھ سے بخشش کی امید رکھنے میں میری آرزو بہت بڑی
إلھِی کَیْفَ ٲَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِکَ بِالْخَیْبَۃِ مَحْرُوماً وَقَدْ کانَ حُسْنُ ظَنِّی بِجُودِکَ ٲَنْ
ہے، میرے خدا! کس طرح میں تیری درگاہ سے مایوسی میں خالی ہاتھ پلٹ جاوں جبکہ میں تیری عطا سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ تو مجھے
تَقْلِبَنِی بِالنَّجاۃِ مَرْحُوماً إلھِی وَقَدْ ٲَ فْنَیْتُ عُمْرِی فِی شِرَّۃِ السَّھْوِ عَنْکَ، وَٲَبْلَیْتُ
رحمت و بخشش کے ساتھ پلٹائے گا، میرے خدا ہوا یہ کہ میں نے تجھے فراموش کرکے اپنی زندگی برائی میں گزاری اور میں نے اپنی
شَبابِی فِی سَکْرَۃِ التَّباعُدِ مِنْکَ ۔ إلھِی فَلَمْ ٲَسْتَیْقِظْ ٲَیَّامَ اغْتِرارِی بِکَ، وَرُکُونِی
جوانی تجھ سے دوری اور غفلت میںگنوائی میرے خدا؛ تیرے مقابل جرأت کرنے کے دوران میں ہوش میں نہ آیا اور تیری ناخوشی
إلی سَبِیلِ سَخَطِکَ إلھِی وَٲَنَا عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ قائِمٌ بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَوَسِّلٌ بِکَرَمِکَ
کے راستے پر چلتا گیا پھر بھی اے معبود؛ میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیرے ہی لطف و کرم کو وسیلہ بنا کر تیری بارگاہ
إلَیْکَ إلھِی ٲَنَا عَبْدٌ ٲَتَنَصَّلُ إلَیْکَ مِمَّا کُنْتُ ٲُواجِھُکَ بِہِ مِنْ قِلَّۃِ اسْتِحْیائِی مِنْ
میں آکر کھڑا ہوں، میرے خدا! میں وہ بندہ ہوں جو خود کو تیری طرف کھینچ لایا ہے جبکہ میں تیری نگاہوں کا حیا نہ کرتے ہوئے تیرے
نَظَرِکَ، وَٲَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْکَ إذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِکَرَمِکَ ۔ إلھِی لَمْ یَکُنْ لِی حَوْلٌ
مقابل اکڑا ہوا تھا میں تجھ سے معافی مانگتاہوں کیونکہ معاف کردینا تیرے لطف و کرم کا خاصہ ہے میرے خدا! میں جنبش نہیں کرسکتا تا
فَٲَنْتَقِلَ بِہِ عَنْ مَعْصِیَتِکَ إلاَّ فِی وَقْتٍ ٲَیْقَظْتَنِی لَِمحَبَّتِکَ، وَکَما ٲَرَدْتَ ٲَنْ ٲَکُونَ
کہ تیری نافرمانی کی حالت سے نکل آؤں مگر اس وقت جب تو مجھے اپنی محبت کی طرف متوجہ کرے کہ جیسا تو چاہے میں ویساہی بن
کُنْتُ فَشَکَرْتُکَ بِ إدْخالِی فِی کَرَمِکَ، وَ لِتَطْھِیرِ قَلْبِی مِنْ ٲَوْساخِ الْغَفْلَۃِ
سکتا ہوں پس میں تیرا شکر گذار ہوں کہ تو نے مجھے اپنی مہربانی میں داخل کیا اور میں تجھ سے جو غفلت کرتا رہاہوں میرے دل کو اس
عَنْکَ ۔ إلھِی انْظُرْ إلَیَّ نَظَرَ مَنْ نادَیْتَہُ فَٲَجابَکَ، وَاسْتَعْمَلْتَہُ بِمَعُونَتِکَ
سے پاک کردیا میرے خدا! مجھ پر وہ نظر کر جو تو تجھے پکارنے والے پر کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کرتا ہیپھر اس کی یوں مدد کرتا ہے گویا
فَٲَطاعَکَ، یَا قَرِیباً لاَ یَبْعُدُ عَنِ الْمُغْتَرِّ بِہِ، وَیا جَواداً لاَ یَبْخَلُ عَمَّنْ رَجا
وہ تیرا فرمانبردار تھا اے قریب کہ جو نافرمان سے دوری اختیار نہیں کرتا اور اے بہت دینے والے جو ثواب کے امیدوار کے کیے کمی
ثَوابَہُ ۔ إلھِی ھَبْ لِی قَلْباً یُدْنِیہِ مِنْکَ شَوْقُہُ، وَ لِساناً یُرْفَعُ إلَیْکَ صِدْقُہُ، وَنَظَراً
نہیں کرتا، میرے خدا! مجھے وہ دل دے جس میں تیرے قرب کاشوق ہو۔ وہ زبان عطا فرما جو تیرے حضور سچی رہے اور وہ نظر دے
یُقَرِّبُہُ مِنْکَ حَقُّہُ۔ إلھِی إنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِکَ غَیْرُ مَجْھُولٍ، وَمَنْ لاذَ بِکَ غَیْرُ مَخْذُولٍ
جس کی حق بینی مجھے تیرے قریب کرے، میرے خدا! بے شک جسے تو جان لے وہ نامعلوم نہیں رہتا جو تیری محبت میں آجائے وہ بے
وَمَنْ ٲَ قْبَلْتَ عَلَیْہِ غَیْرُ مَمْلُولٍ ۔ إلھِی إنَّ مَنِ انْتَھَجَ بِکَ لَمُسْتَنِیرٌ، وَ إنَّ مَنِ
کس نہیں ہوتا اور جس پر تیری نگاہ کرم ہو وہ کسی کا غلام نہیں ہوتا، میرے خدا! بے شک جو تیری طرف بڑھے اسے نور ملتا ہے اور جو تجھ
اعْتَصَمَ بِکَ لَمُسْتَجِیرٌ، وَقَدْ لُذْتُ بِکَ یَا إلھِی فَلا تُخَیِّبْ ظَنِّی مِنْ رَحْمَتِکَ،
سے وابستہ ہو وہ پناہ یافتہ ہے، ہاں میں تیری پناہ لیتا ہوں اے خدا؛ مجھے اپنے دوستوں میں قرار دے جن کا مقام یہ ہے
وَلاَ تَحْجُبْنِی عَنْ رَٲْفَتِکَ ۔ إلھِی ٲَقِمْنِی فِی ٲَھْلِ وِلایَتِکَ مُقامَ مَنْ رَجَا
کہ وہ تیری محبت کی بہت امید رکھتے ہیں، میرے خدا! مجھے اپنے ذکر کے ذریعے اپنے ذکر کا
الزِّیادَۃَ مِنْ مَحَبَّتِکَ ۔ إلھِی وَٲَ لْھِمْنِی وَلَہاً بِذِکْرِکَ إلی ذِکْرِکَ، وَھِمَّتِی فِی رَوْحِ
شوق اور ذوق دے اور مجھے اپنے اسمائ حسنیٰ سے مسرور ہونے اور اپنے پاکیزہ مقام سے دلی سکون حاصل کر
نَجاحِ ٲَسْمائِکَ وَمَحَلِّ قُدْسِکَ إلھِی بِکَ عَلَیْکَ إلاَّ ٲَلْحَقْتَنِی بِمَحَلِّ ٲَھْلِ طاعَتِکَ
نیکی ہمت دے میرے خدا تجھے تیری ذات کا واسطہ ہے کہ مجھے اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے
وَالْمَثْوَی الصَّالِحِ مِنْ مَرْضاتِکَ، فَ إنِّی لاَ ٲَقْدِرُ لِنَفْسِی دَفْعاً، وَلا ٲَمْلِکُ لَہا نَفْعاً ۔
اور اپنی خوشنودی کے مقام تک پہنچادے کیونکہ میں نہ اپنا بچاؤ کرسکتا ہوں اورنہ اپنے آپ کو کچھ فائدہ پہنچاسکتاہوں ،
إلھِی ٲَ نَا عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ، وَمَمْلُوکُکَ الْمُنِیبُ فَلا تَجْعَلْنِی مِمَّنْ صَرَفْتَ
میرے خدا؛ میں تیرا ایک کمزور و گنہگار بندہ اور تجھ سے معافی کا طلب گار غلام ہوں پس مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن سے تو نے توجہ
عَنْہُ وَجْھَکَ وَحَجَبَہُ سَھْوُھُ عَنْ عَفْوِکَ ۔ إلھِی ھَبْ لی کَمالَ الانْقِطاعِ إلَیْکَ، وَٲَنِرْ
ہٹالی اور جن کی بھول نے انہیںتیرے عفو سے غافل کر رکھا ہے میرے خدا مجھے توفیق دے کہ میں تیری بارگاہ کا ہوجاؤں اور ہمارے
ٲَبْصارَ قُلُوبِنا بِضِیائِ نَظَرِہا إلَیْکَ، حَتَّی تَخْرِقَ ٲَبْصارُ الْقُلُوبِ حُجُبَ النُّورِ
اورہمارے دلوں کی آنکھیں جب تیری طرف نظر کریں تو انہیں نورانی بنادے تا کہ یہ دیدہ ہائے دل حجابات نور کو پار کرکے تیری
فَتَصِلَ إلی مَعْدِنِ الْعَظَمَۃِ، وَتَصِیرَ ٲَرْواحُنا مُعَلَّقَۃً بِعِزِّ قُدْسِکَ ۔ إلھِی وَاجْعَلْنِی
عظمت و بزرگی کے مرکز سے جاملیں اور ہماری روحیں تیری پاکیزہ بلندیوں پر آویزاں ہوجائیں میرے خدا؛ مجھے ان لوگوں میںرکھ
مِمَّنْ نادَیْتَہُ فَٲَجابَکَ، وَلاحَظْتَہُ فَصَعِقَ لِجَلالِکَ، فَناجَیْتَہُ سِرّاً
جن کو تو نے پکارا تو انہوں نے جواب دیا تو نے ان پر توجہ فرمائی تو انہوں نے تیرے جلال کا نعرہ لگایا ہاں تو نے انہیں باطن میں پکارا
وَعَمِلَ لَکَ جَھْراً ۔ إلھِی لَمْ ٲُسَلِّطْ عَلی حُسْنِ ظَنِّی قُنُوطَ الْاَیاسِ، وَلاَ انْقَطَعَ
اور انہوں نے تیرے لیے ظاہر میں عمل کیا ، میرے خدا؛ میں نے اپنے حسن ظن پر ناامیدی کو مسلط نہیںکیا اور تیرے
رَجائِی مِنْ جَمِیلِ کَرَمِکَ ۔ إلھِی إنْ کانَتِ الْخَطایَا قَدْ ٲَسْقَطَتْنِی لَدَیْکَ فَاصْفَحْ
لطف و کرم کی توقع قطع نہیں ہونے دی ہے، میرے خدا؛ اگر تیرے نزدیک میری خطائیں نظر انداز کردی گئی ہیںتو میری جو توکل تجھ
عَنِّی بِحُسْنِ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ ۔ إلھِی إنْ حَطَّتْنِی الذُّنُوبُ مِنْ مَکارِمِ لُطْفِکَ فَقَدْ
پر ہے اس کے پیش نظر میری پردہ پوشی فرمادے، میرے خدا؛ اگر گناہوں نے مجھے تیرے کرم کی برکتوں سے دور کردیا ہے تو بھی
نَبَّھَنِی الْیَقِینُ إلی کَرَمِ عَطْفِکَ ۔ إلھِی إنْ ٲَنامَتْنِی الْغَفْلَۃُ عَنِ الاسْتِعْدادِ
یقین نے مجھے تیری عنایت و مہربانی سے آگاہ کر رکھا ہے میرے خدا؛ اگر میں نے خواب غفلت میں پڑکر تیری بارگاہ میں حاضری کی
لِلِقائِکَ فَقَدْ نَبَّھَتْنِی الْمَعْرِفَۃُ بِکَرَمِ آلائِکَ ۔ إلھِی إنْ دَعانِی إلَی النَّارِ عَظِیمُ عِقابِکَ
تیاری نہیں کی تو بے شک معرفت نے مجھے تیری مہربانیوں سے باخبر کردیا ہے، میرے خدا؛ اگر تیری سخت سزا مجھے جہنم کی طرف
فَقَدْ دَعانِی إلَی الْجَنَّۃِ جَزِیلُ ثَوابِکَ ۔ إلھِی فَلَکَ ٲَسْٲَلُ وَ إلَیْکَ ٲَبْتَھِلُ
بلارہی ہے تو بھی تیرا بہت زیادہ ثواب مجھے جنت کی سمت لیے جاتا ہے، میرے خدا؛ میں بس تیرا سوالی ہوں تیرے آگے زاری کرتا
وَٲَرْغَبُ، وَٲَسْٲَ لُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُدِیمُ
ہوں تیرے پاس آیا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ مجھے ایسا قرار دے جو ہمیشہ تیرا
ذِکْرَکَ، وَلاَ یَنْقُضُ عَھْدَکَ، وَلاَ یَغْفُلُ عَنْ شُکْرِکَ، وَلاَ یَسْتَخِفُّ بِٲَمْرِکَ ۔
ذکر کرتا رہا، جس نے تیری نافرمانی نہیں کی، جو تیرا شکر ادا کرنے سے غافل نہیںہوا اور جس نے تیرے فرمان کو سبک نہیں سمجھا،
إلھِی وَٲَلْحِقْنِی بِنُورِ عِزِّکَ الْاَ بْھَجِ فَٲَکُونَ لَکَ عارِفاً وَعَنْ سِواکَ مُنْحَرِفاً، وَمِنْکَ
میرے خدا؛ مجھے اپنی روشن تر عزت کو نور تک پہنچادے تا کہ میں تجھے پہچان لوں، تیرے غیر کو چھوڑدوں اور تجھ سے
خائِفاً مُراقِباً یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَصَلَّی اﷲُ عَلی مُحَمَّدٍ رَسُولِہِ وَآلِہِ
ڈرتے ہوئے تیری جانب متوجہ رہوں اے سب مرتبوں اور عزتوں کے مالک اور اللہ اپنے رسول محمد مصطفی(ص) پررحمت نازل فرمائے
الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً ۔
اور ان کی پاکیزہ آل(ع) پر اور سلام بھیجے کہ جو سلام بھیجنے کاحق ہے۔
اور یہ بہت جلیل القدر مناجات ہیں جو آئمہ کی طرف سے منسوب ہیں اور یہ دعا مضامین عالیہ پر مشتمل ہے جب انسان حضور قلب رکھتا ہو اس دعا کا پڑھنا مناسب ہے

Read 241 times

Add comment


Security code
Refresh