مباہلہ اہلبیت کی افضلیت و حقانیت کا عملی اعلان

Rate this item
(0 votes)
مباہلہ اہلبیت کی افضلیت و حقانیت کا عملی اعلان

نجران یمن اور حجاز کے بارڈر پر  واقع ہے۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں فقط یہی علاقہ مسیحیوں کا تھا، جو بعض اسباب کی بنا پر بت پرستی کو ترک کرکے دین مسیح پر کاربند تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے بھی فتح مکہ کے بعد جہاں مختلف بڑے ممالک کے سربراہوں اور مختلف دینی مراکز کے سربراہوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کی غرض سے خطوط لکھے، وہیں نجران کے بڑے اسقف ابو حارثہ کے لئے بھی ایک خط لکھا، تاکہ نجران کے عیسائیوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں۔ 
خط کا متن یہ تھا: ابراہیم، اسحاق، یعقوب کے رب کے نام سے شروع، خدا کے پیغمبر اور رسول محمد کی جانب سے نجران کے اسقف کے نام! ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے خدا کی حمد و ثناء بجا لاتا ہوں اور تمہیں بندوں کی پرستش سے خدا کی پرستش کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ میں تمہیں بندوں کی ولایت سے نکل کر خدا کی ولایت کی طرف پلٹ آنے کا تقاضا کرتا ہوں۔ میری دعوت کو قبول نہ کرنے کی صورت میں تمہیں اسلامی حکومت کو جزیہ دینا پڑے گا۔ بصورت دیگر تم لوگوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے نمائندے نجران میں داخل ہوئے اور آپ کا خط اسقف تک پہنچا دیا۔ اس نے غور و خوض کے ساتھ اس خط کو مکمل پڑھا، پھر اس کے حوالے سے حتمی فیصلے کے لئے کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کے ایک ممبر کا نام شرحبیل تھا۔ جو معاملہ فہمی اور عقل و درایت میں کافی شہرت رکھتا تھا۔ اس نے اسقف کے جواب میں کہا کہ اسلام کے بارے میں میری معلومات بہت ہی کم ہیں۔ لہذا میں اس پر اظہار نظر سے عاجز ہوں۔ اگر اس موضوع کے علاوہ کسی اور موضوع کے لئے مجھ سے مشورہ لینا چاہیں تو اس کے لئے کچھ راہ حل آپ کے لئے دے سکتا ہوں۔ البتہ میں مجبوراً ایک نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ ہم نے مکرر اپنے مذہبی پیشواؤں سے سنا ہے کہ ایک دن نبوت کا منصب حضرت اسحاق کی نسل سے نکل کر حضرت اسماعیل کی نسل میں منتقل ہوگا۔ یہ بات ہرگز بعید نہیں ہے کہ حضرت محمد حضرت اسماعیل کی نسل سے ہو اور پیغمبر موعود وہی ہو_"

شوریٰ نے رائے دی کہ ایک گروہ کو نجران کے عیسائیوں کی طرف سے نمائندے کے طور پر مدینہ بھیجا جائے، تاکہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملے اور ان کی نبوت کے دلائل پر نزدیک سے تحقیق کرے۔ ان کے عقل مند ترین اور برجستہ ترین شخصیات پر مشتمل 60 رکنی وفد من جملہ تین مذہبی پیشواؤں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملاقات کرنے کے لئے مدینے کا رخ کیا۔ نجرانی عیسائیوں کے یہ نمائندے مدینہ پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ہی محترمانہ انداز سے ان کے سلام کا جواب دیا۔ مناظرہ شروع کرنے سے پہلے ان نمائندوں نے کہا کہ ہماری عبادت کا وقت آن پہنچا ہے، لہذا مذاکرے سے پہلے ہم اپنی عبادت بجا لائیں گے۔ حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں مسجد نبوی میں اپنی عبادت انجام دینے کی اجازت دے دی۔ انھوں نے مشرق کی طرف رخ کرکے اپنی نماز بجا لائی۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخلوق خدا اور بندہ خدا ہونے پر بحث و گفتگو کا آغاز کیا اور اسی پر دلائل دیئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ فرمایا کہ یکتا خدا کی طرف تمہیں دعوت دیتا ہوں، جس کی طرف سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور مسیح علیہ السلام اس کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا اور ان میں انسانی خصوصیات پائی جاتی تھیں، دوسروں کی طرح کھانا کھاتے تھے۔ انہوں نے آپ کی اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر باپ کی ولادت کو ان کی الوہیت کی دلیل قرار دیا۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی: إِنَّ مَثَلَ عِیسَی عِنْدَ اللهِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہُ کُنْ فَیَکُون( آل عمران/59) "بے شک عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے، جسے خدا نے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس سے کہا: ہو جا تو وہ فوراً ہوگیا۔"

اللہ تعالیٰ نے اسی مثال کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے متولد ہوئے ہیں تو یہ تعجب کا مقام نہیں اور یہ ان کے اللہ ہونے، یا اللہ کا بیٹا ہونے یا عین خدا ہونے پر ہرگز دلیل نہیں؛ کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت کا معاملہ اس سے بھی تعجب آور ہے کہ جو ماں باپ دونوں کے بغیر دنیا میں آئے۔ پھر آیہ مباہلہ نازل ہوئی۔ یعنی دونوں گروہ ایک دوسرے پر نفرین کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ان میں سے جو بھی جھوٹا ہے، اسے ہلاک کر دے۔ پس یہ بد دعا جس کے حق میں بھی قبول ہو جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ باطل پر ہے اور اس کا مدمقابل برحق ہے۔ فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ﴿آلعمران/۶۱﴾ "آپکے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (عیسیٰ کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہہ دیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی بیٹیوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی بیٹیوں کو بلاؤ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو_!"( آل عمران61)

طرفین مباہلے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ یہ طے پایا کہ کل سب مباہلے کے لئے آمادہ ہوکر حاضر ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی یہ طے پایا تھا کہ مباہلہ شہر سے باہر صحرا میں ہوگا۔ نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنا اتنا کوئی آسان کام نہیں تھا کہ جسے ہر کوئی انجام دے سکے، بلکہ ان سے مباہلہ کرنے والے افراد ایسے ہونے چاہیئے تھے، جو ایمان کے اعلیٰ درجے پر، یقین کی منزل پر فائز ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو شرف قبولیت عطا کرے۔ لہذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹوں کے عنوان سے حضرت امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو، خواتین کے مصداق کے طور پر سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمہ علیھا السلام کو اور نفس رسول کے عنوان سے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لیا۔ دوسری جانب نجران کے عیسائیوں کے نمائندے بھی مباہلے کے لئے معینہ مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ان کے سب سے بڑے اسقف نے کہا کہ اگر کل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے بیٹوں اور اہل بیت کے ساتھ مباہلے کے لئے آئیں تو ان سے مباہلہ کرنے سے اجتناب کرنا، لیکن اگر آپ اپنے اصحاب اور دوستوں کے ہمراہ آئیں تو ان سے مباہلہ کرنا۔

اچانک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کی اہل بیت کے چار مصادیق نجران کے مسیحیوں کے سامنے نمودار ہوئے۔ ان باعظمت ہستیوں کو دیکھتے ہی وہ سب ورطۂ حیرت میں پڑے، ایک دوسرے کی طرف تکنے لگے اور سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ اس شخص کو اپنی حقانیت پر سو فیصد یقین ہے۔ اس وقت نجرانیوں کے اسقف نے کہا: میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ ہستیاں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ بڑے بڑے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو فوراً ہٹ جائیں گے۔ ان نورانی چہرے والی باعظمت ہستیوں سے ہمارا مباہلہ کرنا بلکل غلط ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ نتیجے کے طور پر ہم سب نابود ہو جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ عذاب کا دائرہ وسعت اختیار کر جائے اور پوری دنیا میں موجود مسیحیوں کو اپنے لپیٹ میں لے۔ درنتیجہ یہ زمین مسیحیوں سے ہی خالی ہو جائے۔ آخرکار انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش ہوکر اپنی شکست کا اعلان اور جزیہ دینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: عذاب نے اپنے بدترین سائے کو نصرانیوں کے نمائندوں کی طرف پھیلا دیا تھا۔ اگر وہ لوگ مباہلہ کر لیتے تو نتیجے کے طور پر اپنی انسانی شکل و صورت سے ہاتھ دھو بیٹھتے، صحرا میں جلنے والی آگ میں وہ راکھ بن جاتے اور عذاب کا دائرہ نجران تک پھیل جاتا۔ بعد ازاں حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے صلح نامہ تحریر فرمائے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ مباہلے کے دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار افراد کو کالے رنگ کی عبا پہنائیں اور ان کو اپنے ہمراہ لیا، اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے مباہلے کے لئے چلے: إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً (احزاب/33) "بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیتؑ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے، جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔"

مشہور مفسر فخر رازی آیہ مباہلہ کہ تفسیر میں لکھتا ہے کہ سفید بالوں سے بنی ہوئی عبا زیب تن کی، حضرت حسین علیہ السلام کو اپنی گود میں لئے ہوئے، حضرت حسن علیہ السلام کے ہاتھوں کو تھامے ہوئے، حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی علیہ السلام بھی آپ کے پیچھے پیچھے مباہلے کے لئے تشریف لے گئے۔ اس حال میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تلقین فرمائی کہ جونہی میں نفرین کرنے کے لئے اپنے ہاتھوں کو بلند کروں تو آپ لوگ آمین کہنا۔ بعد ازاں پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مباہلے کے مقام پر پہنچتے ہی حسن، حسین، علی اور فاطمہ (علیھم السلام) کو اپنی عبا کے اندر جمع کر لیا اور آیہ تطہیر کی تلاوت فرمائی۔ یوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اہل بیت کا تعارف بھی کروایا اور ان کی عظمت و منزلت سے بھی آگاہ کیا۔ فخر رازی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ روایت اہل حدیث و تفسیر کے نزدیک متفقہ طور پر صحیح روایت ہے اور اس میں کسی قسم کا نقص نہیں پایا جاتا۔ علاوہ ازیں یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ حسن اور حسین (علیہما السلام) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے ہیں۔( تفسیر فخر رازی، ذیل آیہ آل عمران/ 61)

زمخشری اس حوالے سے تفسیر کشاف میں رقمطراز ہیں کہ واقعہ مباہلہ اور یہ آیہ مجیدہ اصحاب کساء کی فضیلت کے سب سے بڑے گواہ اور اسلام کی حقانیت کی زندہ مثال ہے۔(تفسیر کشاف، ج1، ص433) مسلم نیشاپوری اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے اہل بیت اطہار علیھم السلام کی ایک اور فضیلت و منقبت نقل کرتا ہے: جب آیہ مباہلہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین (علیہم السلام) کو بلایا پھر فرمایا: اللھم ھؤلاء اھلی۔ "اے اللہ! فقط یہی افراد میری اہل بیت ہیں۔"(صحیح مسلم، باب فضائل الصحابہ) آخر کار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 24ذی الحجہ کو اپنی اہل بیت اطہار علیھم السلام کے ساتھ فاتحانہ واپس مدینہ تشریف لائے جبکہ مسیحیوں کے ماتھے پر اس تاریخی شکست کے آثار آج بھی نمایاں ہیں۔ لہذا یہ دن تمام مسلمانان عالم کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل عید کا دن ہے۔

تحریر: ایس ایم شاہ

Read 933 times