امریکی نشریاتی ادارے نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعوی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو انقرہ سے خفیہ طور پر منتقل کرنے کا فیصلہ اس اطلاع کے بعد کیا گیا کہ ایک ایرانی سیل، کندھے سے داغے جانے والے میزائلوں سے لیس ہو کر علاقے میں داخل ہوچکا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ترکی کے دورے کے دوران ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرے سے متعلق رپورٹس اسرائیلی ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں۔
اس امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ٹرمپ کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے متعلق معلومات فراہم کرنا، ممکن ہے کہ امریکی صدر کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی غرض سے کیا گیا ہو۔
اس سے قبل بھی ایسی رپورٹس سامنے آچکی ہیں کہ ٹرمپ کو انقرہ سے روانگی کے دوران، ایران کے خوف کے باعث، ان کے اصل صدارتی طیارے سے ایک چھوٹے فوجی طیارے میں خفیہ طور پر منتقل کیا گیا تھا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
