جنگ میں دشمن کی پسپائی؛ سورۂ فتح میں اللہ کا یقینی وعدہ

Rate this item
(0 votes)
جنگ میں دشمن کی پسپائی؛ سورۂ فتح میں اللہ کا یقینی وعدہ

قرآنِ کریم سورۂ فتح کی آیات 22 اور 23 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اگر کافر تم سے جنگ کریں تو یقیناً وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی وہ سنت ہے جو پہلے سے جاری ہے، اور تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

سنتِ الٰہی کا مطلب ایک یقینی اور قطعی قانون ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ جاری اصول ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اگر دشمن تم پر حملہ کرے اور تم میدان سے فرار نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ دشمن کو لازماً پسپا کر دیتا ہے۔ یہ عقیدہ تمام جنگوں میں ایک اصول کے طور پر کارفرما ہوتا ہے۔

البتہ اگر مؤمن خود جنگ کا آغاز کریں تو اس صورت میں اللہ کی سنت کے طور پر قطعی فتح کی ضمانت نہیں دی گئی؛ یعنی نصرت تو ہو سکتی ہے مگر فتح اور کامل غلبہ یقینی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر دشمن حملہ آور ہو تو اس وقت یہ سنتِ الٰہی جاری ہوتی ہے۔ آیت کا اندازِ بیان بھی بہت دقیق ہے؛ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دشمن مکمل شکست کھائے گا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ پسپا ہو جائے گا۔

 جنگِ احزاب کے موقع پر جب مؤمنوں نے دیکھا کہ کفار مختلف گروہوں کی صورت میں حملہ آور ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا اور یقیناً دشمن پر غلبہ ہوگا:

اور جب مؤمنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؛ اور اس سے ان کے ایمان اور تسلیم میں اضافہ ہی ہوا۔ (احزاب: 22)

لہٰذا مؤمن اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں کی تکمیل کو یقینی سمجھتے ہیں، اور جب یہ وعدے پورے ہوتے ہیں تو ان کے ایمان اور یقین میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

Read 1 times