آبنائے ہرمز ایرانی قوم کے حقوق کا لحاظ کیے جانے تک بند رہے گی: میجر جنرل حاتمی

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز ایرانی قوم کے حقوق کا لحاظ کیے جانے تک بند رہے گی: میجر جنرل حاتمی

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے حالیہ مسلط کردہ جنگ میں دشمن کے اندازوں اور حساب کتاب کی غلطیوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، مسلط کردہ جنگ کے آغاز ہی سے بند کر دی گئی تھی اور جب تک دشمن ایرانی قوم کے حقوق کا لحاظ نہیں کرتا، یہ بند رہے گی۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل حاتمی نے جمعرات 15 اکتوبر 2026 کی شام امام علی (علیہ السلام) ملٹری اکیڈمی میں اعتکاف کے گیارہویں فیسٹول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پر مسلط کی گئی اس جنگ میں ہم سرفرازی کے ساتھ فتحیاب ہوئے اور دشمن کو ذلت کے ساتھ شکست ہوئی تو ہماری طاقت کا بنیادی عنصر، ایمان ہے۔

انھوں نے جنگ شروع ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اندازے اور حساب کتاب کی غلطی کا شکار ہوا۔ یہ اہم ہے کہ دشمن بھی اس بات پر توجہ دے اور ہم بھی اس کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ دشمن نے کم از کم تین یا چار معاملات میں سنگین غلطیاں کیں اور اسے ان غلطیوں کو نہیں دوہرانا چاہیے۔

دشمن کا مقابلہ کرنے میں مسلح فورسز کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح فورسز نے اپنی پوری طاقت سے دشمن پر حملے کیے اور دشمن کو یقین نہیں تھا کہ پہلے گھنٹے، پہلے دو گھنٹوں اور پہلے ہی دن اس کی جانب سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جائیں گے لیکن ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی فوج کے تمام اہلکاروں اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تمام اہلکاروں نے حملے کیے اور اس کے باوجود کہ کمانڈروں اور بہت سے عہدیداروں کو شہید کیا جا چکا تھا، دشمن کو ایک حیران کن یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔

فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ دشمن اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکا۔ انھوں نے کہا کہ دشمن نہ اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکا اور نہ ہی اپنے اسٹریٹیجک اہداف حاصل کر سکا۔ فوجی میدان میں وہ ہماری مسلح فورسز کو ایسی حالت میں پہنچانا چاہتا تھا کہ وہ اس کی طرف فائر نہ کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کا مجرم صدر مسلسل کہتا ہے کہ ایران کے پاس مسلح فورسز، فضائیہ، بحریہ اور بری فوج نہیں ہے لیکن اس سوال کا جواب اس کے پاس نہیں کہ اگر ہمارے پاس مسلح فورسز نہیں ہیں تو آخری لمحے تک ہمارے میزائل اور ڈرون کیسے داغے جاتے رہے اور ہمارا فضائی دفاع کیسے فائر کرتا رہا؟

میجر جنرل حاتمی نے زور دے کر کہا کہ ہم نے دشمن کے لیے یہ اصول قائم کر دیا ہے کہ اگر ہمارے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کے بنیادی ڈھانچے اور مفادات، مجرم صیہونی حکومت کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے ہر فریق کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچے گا۔

Read 3 times