سلیمانی

سلیمانی

«يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ»

 اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے

رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ولایت کا مطلب یہ ہے کہ انسان فکر و عمل میں علی (ع) کا پیرو ہو اور ان کے ساتھ ایک مضبوط اور دائمی تعلق رکھے۔ حدیثِ قدسی "وَلَایَةُ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ حِصْنِی" کے مطابق، جو اس حصار میں داخل ہو جائے وہ عذابِ الٰہی سے محفوظ رہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنین (ع) نے نہج البلاغہ میں قرآن کو ایسا نصیحت کرنے والا اور راہنما قرار دیا ہے جو کبھی دھوکہ نہیں دیتا۔ لہٰذا جو شخص قرآن کو ناقابلِ فہم سمجھتا ہے یا خدا کی راہ میں اپنے مال، جان، آرام یا قدرت سے ذرا برابر بھی گذرنے کو تیار نہیں، وہ ہرگز ولائے علی (ع) کا حقیقی حامل نہیں ہو سکتا۔

خلاصہ یہ کہ ولایت علی (ع) کا تقاضا ہے کہ انسان فکری اور عملی دونوں پہلوؤں سے امام علی (ع) سے جُڑا ہوا ہو، اسی صورت میں وہ خدا کے حصار میں داخل ہو کر عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

 

ماخذ: کتاب "طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن"، فصل ولایت، جلسہ 24، ص 431

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْأَئِمَّهِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ.

18 ذوالحجہ کا دن، لوگوں کا جمِ غفیر، ایک وسیع و عریض میدان، جس کا نام دریافت کرنا چاہا تو معلوم ہوا خُم ہے۔

قیامت خیز گرمی کی شدت سے لوگوں کے چہرے سرخ اور بدن و لباس پسینے سے تر تھے۔

سب کی آنکھیں اور کان بس ایک ہی متکلم کی طرف مائل تھیں، لیکن میں نے محسوس کیا لوگوں کے دل اس مبلغ کی طرف مائل نہ تھے جو بہت اہم پیغام پہنچانے والا تھا۔

میں اس جمِ غفیر کے وسط میں موجود اس منظر کا مشاہدہ کہ رہی تھی۔ گرمی کی تپش نے میرے بھی حواس باختہ کر دئیے تھے، لیکن میری چھٹی حس مجھے بار بار سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ آخر ایسا کون سا پیغام ہم تک پہنچنے والا ہے جس کے لیے اتنا اہتمام کیا گیا ہے، کیونکہ میں نے بذاتِ خود مشاہدہ کیا کہ پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دیکھتے ہی دیکھتے اونٹ کے پالانوں کا ایسا شاندار اور بلند منبر تیار کروایا کہ جس کی نظیر تاریخ کے کسی گوشے میں موجود نہیں۔ اتنے بڑے مجمع کو ایسے میدان میں روکنا جہاں سورج آگ برسا رہا ہو عقل رکھنے والوں کے لیے بذاتِ خود ایک اہم اور خاص پیغام کی واضح اور صریح نشانی ہے جو بولنے والے اور سننے والوں دونوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

میں نے دیکھا جب منبر تیار ہوا تو رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے خدا کی حمد و ستائش کے بعد ایک خطبے کا آغاز کیا۔ لوگوں سے اپنے مولا اور سرپرست ہونے کا اقرار لینے کے بعد مولا علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا؛ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اتنا بلند کیا، اتنا بلند کیا کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور آپ نے صاف و واضح الفاظ میں فرما دیا: ألَا فَأِنَّ اللّٰہ مَولایَ، وَأنا مَولَی الْمؤمنین، فَمَنْ کُنْتُ مَولاہٗ فَھذَا علِیٌ مَولاہٗ. "بے شک اللہ میرا مولا ہے اور میں تمام مؤمنوں کا مولا ہوں، بس جس کا میں مولا ہوں یہ علی علیہ السّلام بھی اس کے مولا ہیں"۔

سارے مجمع میں ایک عجیب سا شور و غل پیدا ہوا، لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، میری آنکھیں بس مولا علی علیہ السّلام کی طرف ٹھہر گئیں، میرے قلب کی دھڑکنیں خوشی کے مارے ٹھاٹے مارنے لگیں، خوشیاں، سکون، تازگی کی لہریں گویا میرے وجود میں رقص کر رہی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں؟ میرا مَن کر رہا تھا اس اونٹ کے پالان کی انتہا پر چڑھ جاؤں اور پوری دنیا کو بتاؤں: یا ایھا الناس! أنا غدیری

مولا علی علیہ السّلام کی ولایت نے گویا سورج کو بھی ٹھنڈا کر دیا، روح نے سُکھ کا سانس لیا، لیکن دوسری طرف میرے کانوں کو کچھ ایسی بھی سرگوشیاں سننے کو ملیں؛ کہ ہم سورج کی روشنی کے باعث کچھ دیکھ نہ سکے۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی یہ لوگ اپنے اندر موجود بغض اور عناد اور کینے کے باعث ایک ایسی چیز کا انکار کر رہے تھے جسے بچہ بچہ اپنے وجدان میں محسوس کر سکتا تھا۔

پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی آواز میں وہ رعب و دباؤ تھا اور اتنی بلند تھی کہ بعید ہے اس جمِ غفیر کے کسی بھی نفر کے کانوں تک وہ بات نہ پہنچی ہو اور مولا علی علیہ السّلام کو اتنا بلند کیا گیا تھا کہ بعید ہے کسی نے نہ دیکھا ہو۔

میرے خیال میں غدیر میں رونما ہونے والا واقعہ اور سنایا جانے والا پیغام اتنا بدیہی تھا کہ اندھوں نے بھی دیکھا اور بہروں نے بھی سنا؛ اس کے باوجود جن لوگوں نے سورج کی روشنی کا بہانہ بنایا تو میں کہوں گی، جو چیز ان کے اس واضح اور صریح واقعہ کو دیکھنے میں رکاوٹ بنی، وہ سورج کا نور نہیں، بلکہ مولا علی علیہ السلام کا نور تھا۔

بہرحال میں کاغذ و قلم کے ساتھ لوگوں کے احساسات و جذبات کو جاننے اور آنے والی نسلوں تک اس پیغام کو محفوظ بنانے کے لیے لوگوں کا انٹرویو لینے گئی تو بہت سوں کی اندرونی حالت میری حالت کی مشابہہ تھی، جیسے خوبصورت گلشن میں ہوا کی ایک ایسی لہر دوڑی ہے جس نے ایک ایک پھول کو ایسی تازگی بخشی کہ اس کی ایک ایک کلی باغ میں رقص کرتی چمن کو پُر کشش بنا رہی ہے، لیکن اس کے برعکس میں نے جلتے، سکڑتے اور بگڑتے چہرے بھی دیکھے جو ایک ایسے سرخ بارود کی مانند لگ رہے تھے کہ قریب تھا پھٹ جاتے۔

بقولِ شاعر:

ہم ازل سے سنے ہوئے ہیں

علی خدا کے چنے ہوئے ہیں

ہیں جو بھی جلتے علی سے زیدی

دل ان کے خُم سے بُھنے ہوئے ہیں

اس کے بعد میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ مولا علی علیہ السلام کے نزدیک ہوئی ان کو سلام و ادب عرض کرنے کے بعد میں نے نہایت مؤدبانہ انداز میں عرض کیا: بَخٍّ بَخٍّ لکَ یا مَولایَ،یا سیدی،

أِنِّی أُحِبُّکَ یا عَلِی!

" مبارک ہو مبارک ہو میرے مولا، میرے سردار آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اے علی!"

اعلان کر کے تیری ولایت کا یا علی

تحریر: محترمہ شازیہ بتول

حوزہ نیوز ایجنسی|

 اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے تین نکات پر مشتمل سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا ہے اور امریکہ کو ہوش کے ناخن لینے کی ہدایت دی ہے۔

اسپیکر قالیباف نے اپنے پیغام کے پہلے حصے میں لکھا ہے کہ  ہم رعایت گفت و شنید سے نہیں، میزائلوں سے لیتے ہیں اور مذاکرات میں تو ہم صرف انہیں اپنی شرائط سے آگاہ کرتے ہیں۔"

انہوں نے پیغام کے دوسرے حصے میں واضح کیا کہ ہمیں ضمانتوں اور باتوں پر بھروسہ نہیں لہذا معیار صرف طرز عمل ہے اور فریق مقابلے کے کسی بھی عملی اقدام سے پہلے انہیں کوئی بھی رعایت نہیں دیں گے۔

ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے اپنے پیغام کے تیسرے حصے میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کامیاب کہلایا جائے گا جو معاہدے کے دوسرے دن سے جنگ کے لیے بہتر انداز میں تیار ہوچکا ہو۔

 سپاہ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ملک کی مختلف شعبوں میں تیاریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین سطح کی جنگی تیاری بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب سے زیادہ فوجی میدان پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے دفاعی اور عسکری تیاریوں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا کہ اگر دشمن فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو کارروائیوں کی نوعیت، جنگ کا جغرافیہ اور استعمال ہونے والے ہتھیار ماضی سے مختلف ہوں گے، جبکہ پاسداران انقلاب تمام ممکنہ حالات اور منظرناموں کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی مسلح افواج کی جنگی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق یہ صلاحیت نہ صرف ماضی کی عسکری طاقت کا تسلسل ہے بلکہ میدان جنگ اور دشمن کے ساتھ براہ راست مقابلوں سے حاصل ہونے والے تجربات کا نتیجہ بھی ہے۔

آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا کہ آج ایران کو دشمن کی عسکری صلاحیتوں، حملہ آور اور دفاعی سازوسامان، جنگی حکمت عملیوں اور آپریشنل طریقہ کار کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ جامع معلومات حاصل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عرصے میں ایران کی جنگی صلاحیت میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ ان کے بقول بعض دعوؤں کے برعکس نہ تو ایرانی بحری قوت تباہ ہوئی ہے اور نہ ہی ملک کی عملیاتی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے زمینی، بحری اور فضائی سطح پر اپنی وسیع عسکری طاقت استعمال کرنے کے باوجود چند منٹوں کے لیے بھی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے نہیں چھینا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنی مرضی کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں آیا تھا، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

ترجمان نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے دوران بھی امریکہ اپنی وسیع فوجی صلاحیتوں کے باوجود آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو متاثر نہیں کر سکا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری مکمل طور پر برقرار ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول پاسداران انقلاب کی طاقت اور دفاعی صلاحیت کی علامت ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: مغربی ایشیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بعض اوقات ایک مختصر واقعہ بھی بڑے حقائق کو آشکار کر دیتا ہے۔ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر وسیع اسرائیلی حملے کی دھمکی اور پھر ایران کی جانب سے سخت انتباہات کے بعد اس منصوبے کا اچانک رک جانا بھی ایسے ہی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے جنگ پسند عناصر طاقت اور ممکنہ نقصانات کی زبان کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

گذشتہ روز صہیونی حکومت نے لبنان کے خلاف اپنی دھمکیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے ضاحیہ جنوبی بیروت کے بعض علاقوں کے مکینوں کو گھروں سے نکل جانے کی ہدایات جاری کیں۔ عبرانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ اسرائیلی فوج ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ ان حالات میں خطہ ایک نئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے دہانے پر پہنچتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم جب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حملہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، اچانک صورتحال تبدیل ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد حملے کے منصوبے کو روکنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس پیش رفت نے ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آخر چند گھنٹوں کے اندر ایسا کیا ہوا جس نے اتنے اہم فوجی فیصلے کا رخ بدل دیا؟

ایران کا بروقت ردعمل اور دشمن کی عقب نشینی

اس تبدیلی کے پس منظر میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے واضح اور دوٹوک پیغامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تہران نے واضح کیا کہ موجودہ جنگ بندی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اسی دوران ایسے انتباہات بھی سامنے آئے جن سے یہ تاثر ملا کہ لبنان کے خلاف کسی نئی جارحیت کی صورت میں ردعمل محدود نہیں رہے گا اور اس کے اثرات تل ابیب کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے فیصلے اخلاقی اصولوں، انسانی ہمدردی یا بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر نہیں بلکہ لاگت اور فائدے کے حساب سے کرتے ہیں۔ جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سامنے والے فریق میں جواب دینے کی صلاحیت یا ارادہ موجود نہیں تو وہ جارحانہ اقدامات اختیار کرتے ہیں، لیکن جب ممکنہ نقصانات اور سخت ردعمل کا خدشہ بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے رویے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بیروت کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے صرف سفارتی بیانات کافی نہیں بلکہ مؤثر ڈیٹرنس اور طاقت کا توازن بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دفاعی طاقت ہی اصل ڈیٹرنس

خطے کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ لبنان سے غزہ تک، شام سے عراق تک، جب بھی طاقت کا خلا پیدا ہوا یا ڈیٹرنس کمزور پڑی، امریکہ اور اسرائیل کی جنگی مشین زیادہ سرگرم ہوئی۔ لیکن جب بھی انہیں مؤثر مزاحمت، جواب دینے کی صلاحیت اور مقابلے کے پختہ عزم کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے اپنی حکمت عملی اور حساب کتاب تبدیل کر لیا۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ کو روکنے والی چیز سفارتی وعدے نہیں بلکہ جنگ کی بھاری قیمت کا خوف ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ طرزعمل کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ صدر جو بارہا طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی کا ذکر کرچکے ہیں، درحقیقت دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں طاقت کی منطق پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی معاملات میں انہوں نے متعدد بار یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مذاکرات کو باہمی افہام و تفہیم کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی مرضی مسلط کرنے کے ایک آلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ صرف اسی وقت کشیدگی میں اضافہ کرنے سے گریز کرتے ہیں جب ان کے سامنے کوئی مؤثر قوت موجود ہو۔

اسی طرح بنیامین نیتن یاہو نے بھی گزشتہ برسوں میں کئی مرتبہ بیرونی بحرانوں کو اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ اور عدم استحکام عوامی توجہ کو سیاسی، سکیورٹی اور سماجی بحرانوں سے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم وہ بھی اس وقت پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جب انہیں یہ محسوس ہو کہ تنازع کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتی ہے۔

سفارت کاری اور دفاعی طاقت کا تعلق

بیروت پر ممکنہ حملے کے رک جانے کو صرف سفارتی رابطوں یا ثالثی کی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سفارت کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے طاقت کی ضمانت موجود ہو۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ طاقت کے بغیر مذاکرات بے بنیاد وعدوں پر ختم ہوتے ہیں اور فریق مقابل کو مزید دباؤ ڈالنے اور اپنی خواہشات بڑھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ حالیہ واقعے میں اصل مؤثر عنصر یہ تھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر وہ اپنی موجودہ راہ پر آگے بڑھتے رہے تو انہیں ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہوں۔

یہ واقعہ لبنان کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ لبنانی حکومت نے گزشتہ برسوں میں متعدد بار سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ قومی سلامتی کو صرف بیرونی وعدوں کے سہارے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ بڑی طاقتیں اسی وقت ممالک کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں جب ان کے اپنے مفادات اس کا تقاضا کریں، اور جب مفادات کا رخ بدل جائے تو وہ کھلی جارحیت اور واضح خلاف ورزیوں کو بھی نظر انداز کردیتی ہیں۔

لہٰذا لبنان کی سلامتی کی ضمانت نہ بین الاقوامی بیانات دے سکتے ہیں اور نہ ہی بیرونی طاقتوں کی یقین دہانیاں، بلکہ اس کے لیے ایک مؤثر ڈیٹرنس کا قیام اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ ایسا توازن جس میں دشمن اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ جارحیت کی قیمت اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف اسی صورت میں جنگ کے امکانات کم ہوتے ہیں اور پائیدار استحکام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

حاصل سخن

جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ کا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ مغربی ایشیا کے پرآشوب ماحول میں طاقت اب بھی وہ سب سے اہم عنصر ہے جو مختلف فریقوں کے رویوں کا تعین کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کا ایسے حملے سے پیچھے ہٹ جانا جو عملی نفاذ کے قریب پہنچ چکا تھا، ان کے امن اور استحکام سے متعلق نظریات میں کسی اچانک تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ فوجی کارروائی کی ممکنہ قیمت اور نتائج کے بارے میں ان کے اندازوں میں آنے والی تبدیلی کا مظہر تھا۔

اس واقعے کا بنیادی سبق بالکل واضح ہے۔ ایسے فریقوں کے مقابلے میں جن کی تاریخ جنگوں، قبضہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہو، صرف حسن نیت پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہوتا۔ جنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کا توازن قائم رکھا جائے، عزم و ارادے کا مظاہرہ کیا جائے اور دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے۔ بیروت کے تجربے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جب جارحیت کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو انتہائی سخت گیر اور جنگ پسند سیاست دان بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ بالآخر وہ ہر زبان سے زیادہ طاقت کی زبان کو سمجھتے ہیں

Sunday, 31 May 2026 20:04

مناسک حج

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے امریکی MQ-1 ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

سپاہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج سے تعلق رکھنے والا یہ ڈرون ایرانی علاقائی پانیوں کے اوپر فضائی حدود میں داخل ہوکر مخاصمانہ سرگرمی انجام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ ڈرون کی نشاندہی ہوتے ہی سپاہ کے فضائی دفاعی نظام نے اس کی مسلسل نگرانی کی اور جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے اسے فوری طور پر تباہ کر دیا۔

سپاہ کے فضائی دفاعی یونٹ نے خبردار کیا کہ ایران کی فضائی حدود، خصوصاً علاقائی سمندری حدود کے اوپر کا فضائی علاقہ، مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور کسی بھی قسم کی دراندازی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ MQ-1 پریڈیٹر ایک بغیر پائلٹ کے چلنے والا امریکی فوجی ڈرون ہے جو عموماً نگرانی، جاسوسی اور اہداف کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ محدود حملے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

 ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیشن کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے ایران کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے ایران کے خلاف نئی جارحیت کی کوشش کی تو اسے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج اسلامی جمہوری ایران کی فوج پوری استقامت اور عزم کے ساتھ دشمن کی ہر مخاصمانہ کارروائی کے مقابلے کے لیے کھڑی ہے اور ملک کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایڈمرل سیاری کے مطابق ایرانی فوج کی تمام شاخیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ دفاعی نظاموں اور جدید عسکری سازوسامان سے لیس ہیں، جس سے ملکی دفاع کا نظام مزید مضبوط ہوا ہے۔

 رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے حجِ بیت اللہ کی مناسبت پر اپنے ایک پیغام میں فرمایا کہ حج کے پُر رمز اعمال اور اذکار انسانیت کے لیے ہمیشہ رہنے والی ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب ہجرت، شیطان اور اس کے پیروکاروں کی غلامی سے نجات، احکامِ الٰہی پر مسلسل عمل، نفسانی خواہشات سے آزادی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتی ہیں۔