اگر میں غدیر کی نامہ نگار ہوتی!

Rate this item
(0 votes)
اگر میں غدیر کی نامہ نگار ہوتی!

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْأَئِمَّهِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ.

18 ذوالحجہ کا دن، لوگوں کا جمِ غفیر، ایک وسیع و عریض میدان، جس کا نام دریافت کرنا چاہا تو معلوم ہوا خُم ہے۔

قیامت خیز گرمی کی شدت سے لوگوں کے چہرے سرخ اور بدن و لباس پسینے سے تر تھے۔

سب کی آنکھیں اور کان بس ایک ہی متکلم کی طرف مائل تھیں، لیکن میں نے محسوس کیا لوگوں کے دل اس مبلغ کی طرف مائل نہ تھے جو بہت اہم پیغام پہنچانے والا تھا۔

میں اس جمِ غفیر کے وسط میں موجود اس منظر کا مشاہدہ کہ رہی تھی۔ گرمی کی تپش نے میرے بھی حواس باختہ کر دئیے تھے، لیکن میری چھٹی حس مجھے بار بار سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ آخر ایسا کون سا پیغام ہم تک پہنچنے والا ہے جس کے لیے اتنا اہتمام کیا گیا ہے، کیونکہ میں نے بذاتِ خود مشاہدہ کیا کہ پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دیکھتے ہی دیکھتے اونٹ کے پالانوں کا ایسا شاندار اور بلند منبر تیار کروایا کہ جس کی نظیر تاریخ کے کسی گوشے میں موجود نہیں۔ اتنے بڑے مجمع کو ایسے میدان میں روکنا جہاں سورج آگ برسا رہا ہو عقل رکھنے والوں کے لیے بذاتِ خود ایک اہم اور خاص پیغام کی واضح اور صریح نشانی ہے جو بولنے والے اور سننے والوں دونوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

میں نے دیکھا جب منبر تیار ہوا تو رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے خدا کی حمد و ستائش کے بعد ایک خطبے کا آغاز کیا۔ لوگوں سے اپنے مولا اور سرپرست ہونے کا اقرار لینے کے بعد مولا علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا؛ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اتنا بلند کیا، اتنا بلند کیا کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور آپ نے صاف و واضح الفاظ میں فرما دیا: ألَا فَأِنَّ اللّٰہ مَولایَ، وَأنا مَولَی الْمؤمنین، فَمَنْ کُنْتُ مَولاہٗ فَھذَا علِیٌ مَولاہٗ. "بے شک اللہ میرا مولا ہے اور میں تمام مؤمنوں کا مولا ہوں، بس جس کا میں مولا ہوں یہ علی علیہ السّلام بھی اس کے مولا ہیں"۔

سارے مجمع میں ایک عجیب سا شور و غل پیدا ہوا، لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، میری آنکھیں بس مولا علی علیہ السّلام کی طرف ٹھہر گئیں، میرے قلب کی دھڑکنیں خوشی کے مارے ٹھاٹے مارنے لگیں، خوشیاں، سکون، تازگی کی لہریں گویا میرے وجود میں رقص کر رہی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں؟ میرا مَن کر رہا تھا اس اونٹ کے پالان کی انتہا پر چڑھ جاؤں اور پوری دنیا کو بتاؤں: یا ایھا الناس! أنا غدیری

مولا علی علیہ السّلام کی ولایت نے گویا سورج کو بھی ٹھنڈا کر دیا، روح نے سُکھ کا سانس لیا، لیکن دوسری طرف میرے کانوں کو کچھ ایسی بھی سرگوشیاں سننے کو ملیں؛ کہ ہم سورج کی روشنی کے باعث کچھ دیکھ نہ سکے۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی یہ لوگ اپنے اندر موجود بغض اور عناد اور کینے کے باعث ایک ایسی چیز کا انکار کر رہے تھے جسے بچہ بچہ اپنے وجدان میں محسوس کر سکتا تھا۔

پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی آواز میں وہ رعب و دباؤ تھا اور اتنی بلند تھی کہ بعید ہے اس جمِ غفیر کے کسی بھی نفر کے کانوں تک وہ بات نہ پہنچی ہو اور مولا علی علیہ السّلام کو اتنا بلند کیا گیا تھا کہ بعید ہے کسی نے نہ دیکھا ہو۔

میرے خیال میں غدیر میں رونما ہونے والا واقعہ اور سنایا جانے والا پیغام اتنا بدیہی تھا کہ اندھوں نے بھی دیکھا اور بہروں نے بھی سنا؛ اس کے باوجود جن لوگوں نے سورج کی روشنی کا بہانہ بنایا تو میں کہوں گی، جو چیز ان کے اس واضح اور صریح واقعہ کو دیکھنے میں رکاوٹ بنی، وہ سورج کا نور نہیں، بلکہ مولا علی علیہ السلام کا نور تھا۔

بہرحال میں کاغذ و قلم کے ساتھ لوگوں کے احساسات و جذبات کو جاننے اور آنے والی نسلوں تک اس پیغام کو محفوظ بنانے کے لیے لوگوں کا انٹرویو لینے گئی تو بہت سوں کی اندرونی حالت میری حالت کی مشابہہ تھی، جیسے خوبصورت گلشن میں ہوا کی ایک ایسی لہر دوڑی ہے جس نے ایک ایک پھول کو ایسی تازگی بخشی کہ اس کی ایک ایک کلی باغ میں رقص کرتی چمن کو پُر کشش بنا رہی ہے، لیکن اس کے برعکس میں نے جلتے، سکڑتے اور بگڑتے چہرے بھی دیکھے جو ایک ایسے سرخ بارود کی مانند لگ رہے تھے کہ قریب تھا پھٹ جاتے۔

بقولِ شاعر:

ہم ازل سے سنے ہوئے ہیں

علی خدا کے چنے ہوئے ہیں

ہیں جو بھی جلتے علی سے زیدی

دل ان کے خُم سے بُھنے ہوئے ہیں

اس کے بعد میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ مولا علی علیہ السلام کے نزدیک ہوئی ان کو سلام و ادب عرض کرنے کے بعد میں نے نہایت مؤدبانہ انداز میں عرض کیا: بَخٍّ بَخٍّ لکَ یا مَولایَ،یا سیدی،

أِنِّی أُحِبُّکَ یا عَلِی!

" مبارک ہو مبارک ہو میرے مولا، میرے سردار آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اے علی!"

اعلان کر کے تیری ولایت کا یا علی

تحریر: محترمہ شازیہ بتول

حوزہ نیوز ایجنسی|

Read 0 times