آبنائے ہرمز پر ایران کا 2 ہزار سالہ تسلط

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز پر ایران کا 2 ہزار سالہ تسلط

ارنا کے مطابق ایران کے صوبہ ہرمزگآن کے علاقےمیناب میں اشکانی دور کے ایک اسٹریٹیجک قلعے کے آثار ملے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ایران نے دو ہزارسال قبل، بحری شاہراہ ریشم کی اس اہم خلیج میں بحری فوج کا ایک اڈہ بناکرآبنائے ہرمز سے مغرب اور مشرق کے درمیان بحری جہازوں کی آمد ورفت کنٹرول اپنے پاس رکھا تھا۔    

اس رپورٹ کے مطابق ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ایک ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ میناب میں اشکانی دور کے قعلے کے آثارایران کے بحری تسلط کی تاریخی دستاویز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ تقریبا دو ہزار سال قبل ایرانی آبنائے ہرمز کے پاس ایک بحری فوجی اڈہ بناکر عالمی تجارت کے اہم ترین سمندری راستے کی نگرانی اوراس کو  کنٹرول کررہے تھے۔

ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ماہر آثار قدیمہ، حسین حسین زادہ شہابی نے آبنائے ہرمز پر ایرانیوں کے تاریخی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  تقریبا 2 ہزار سال قبل، شاہراہ ریشم،عالمی تجارت کی اہم ترین شاہراہ تھی جس کی زمینی اور سمندری، دو شاخیں تھیں جو قدیمی مشرقی دنیا کو مغربی دنیا سے ملاتی تھیں۔  

 انھوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹیجک اقدام، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانیوں کو  بین الاقوامی تجارت میں اس اہم آبی شاہراہ کی جیوپولیٹیکل اہمیت کا بہت گہرا ادراک تھا ۔

 حسین حسین زادہ شہابی نے کہا کہ شاہراہ ریشم کا خشکی کا راستہ، چین سے شروع ہوکر، سرزمین ایران کے قدیمی شہرری ہوتے ہوئے، مغرب کی طرف چلا گیا اور رودان اور اناتولی کے درمیان سے قدیمی روم کی سرزمین کے ذریعے یورپ تک پہنچتا۔

بحری شاہراہ ریشم پر ایرانیوں کا تسلط

انھوں نے کہا کہ زمانہ قدیم میں عالمی تجارت اور اقتصادی لین دین میں بحری شاہراہ ریشم کا کردار بھی فیصلہ کن تھا اور وہ سمندری راستہ جو چین اور ہندوستان کے ساحلوں سے شروع ہوتا تھا، آبنائے ہرمز اور خلیج سے گزر کر، بصرہ پہنچتا تھا اور وہاں سے مغربی منڈیوں تک جاتا تھا۔  

 حسین حسین زادہ شہابی نے میناب میں ملنے والے نئے آثارقدیمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  میناب کے نخل ابراہیمی علاقے میں، آثار قدیمہ کی  تحقیقاتی جستجو کے دوران، آشکانی دور کے ایک قلعے کے آثار ہاتھ لگے ہیں۔       

 تاریخ اور آثارقدیمہ کے اس محقق نے بتایا کہ اس جستجوکے دوران، " کہور لنگر چینی" نام کی ایک پتلی کھاڑی کے آثار بھی ملے ہیں جو میناب کے علاقے تیاب سے شروع ہوکراس پرانے قلعے تک جاتی تھی  جو تجارتی اور آبی شاہرہ کے نقطہ نگاہ سے بہت  اہم ہے۔   

آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لئے بحری فوجی اڈہ

  ماہرآثار قدیمہ حسین زادہ شہابی نے کہا کہ ان علاقوں کے گہرے تحقیقاتی مطالعے اور آثار قدیمہ کی اس تحقیقاتی جستجوکے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ قلعہ کوئی عام سا اور معمولی فوجی اڈہ نہيں تھا بلکہ  یہ ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک نیول بیس تھا جہاں  فوجی بحری بیڑوں کو تمام ضروری سازمان سے لیس کرکے، آبنائے ہرمزکی نگرانی اور اس کو کنٹرول کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔    

انھوں نے کہا کہ جو شواہد ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قلعہ، بحری شاہراہ ریشم سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد ورفت کی نگرانی اور کنٹرول کے لئے بنایا گیا تھا اور یہ بحری جہاز اس وقت کے مشرق کے عظیم اقتصادی مراکز بالخصوص چین اور ہندوستان سے مغربی منڈیوں کے لئے سامان لے جایا کرتے تھے۔

 ایران کے صوبہ ہرمزگان کے اس ممتاز ماہر آثار قدیمہ نے مزید کہا کہ یہ آثا ثابت کرتے ہیں کہ ایرانیوں  کو 2 ہزار سال قبل عالمی تجارت میں آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک اور جیوپولیٹیکل اہمیت کا اچھی طرح علم  تھا۔  

 آبنائے ہرمزکا کنٹرول اور عالمی تجارت نیز اقتصادی منابع کی حفاظت میں اس کا کردار

ایران کے صوبہ ہرمزگان سے تعلق رکھنے والے ممتاز  مورخ اور ماہر آثار قدیمہ حسین زادہ شہابی نے زمانہ قدیم کی بڑی طاقتوں کے درمیان اقتصادی رقابت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رومی سلطنت ایران کی اہم ترین تجارتی رقیب تھی  اوراس کی کوشش تھی کہ ایران کو بائی پاس کرکے، مشرق کے ، ریشم، ادویہ جات اور قیمتی پتھروں کی پیداوار کے مراکز سے براہ راست رابطہ برقرار کرے۔  
 انھوں  نے کہا  کہ ان حالات میں اس اسٹریٹیجک آبی شاہراہ کی نگرانی کے لئے، یک بحری فوجی اڈہ قائم کرنا، اس دور کے بین الاقوامی تجارتی سسٹم میں اپنی پوزیشن اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لئے، ایران کی حکمت اور بنیادی سیاست کا حصہ شمار ہوتا ہے۔
 ممتاز ماہر آثار قدمیہ حسین زادہ شہابی نے کہا کہ میناب میں  ملنے والے نئے آثار قدیمہ  سے  نہ صرف یہ کہ ایران کی تجارت اور جہازرانی کی تاریخ کا ایک حصہ روشن اور واضح ہوجاتا ہے بلکہ زمانہ قدیم میں، دنیا کی ایک  اہم ترین آبی گزرگاہ کے انتظام و انصرام میں ایران کے کردار اور اس کے کنٹرول کی ایک اہم دستاویز بھی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ایران نے زمامہ قدیم میں بھی، اپنی تدبیر سے آبنائے ہرمز کو علاقے کے اہم ترین اقتصادی اور جیوپولیٹیکل مرکز میں تبدیل کردیا تھا۔

 

Read 1 times