امریکی جواب ناکافی ہے: جنرل محسن رضائی

Rate this item
(0 votes)
امریکی جواب ناکافی ہے: جنرل محسن رضائی

– اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں  کہا ہے کہ امریکیوں نے ہماری شرائط کا جواب دے دیا ہے لیکن ہم ان کے جواب کو نا کافی سمجھتے ہیں، اصولی طور پر انہیں چاہئے کہ ابہامات برطرف کریں۔

انھوں نے اس انٹرویو میں ایران کے خلاف امریکی حملے اور جنگ کی ماہیت کے بارے میں پوچھے گئے، سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ظالمانہ، شر پسندانہ غیر انسانی اور احمقانہ ترین جنگ تھی۔

 جنرل رضائی نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے آنکھ بند کرکے، اپنی لگام نتن یاہو کو پکڑا دی اور اپنے جاہل وزیر جنگ اور اس وزیر خارجہ کے ساتھ مل کر جس نے وزارت خارجہ کے عہدے کو ایف بی آئی کا عہدہ سمجھ لیا تھا، سوچے سمجھے بغیر ایران کے خلاف جنگ شروع کردی۔  

ایران کی اعلی قومی سلامتی کے سیکریٹری نے کہا کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ مختصر مدت میں جنگ ختم ہوجائے گی اور ٹرمپ امریکی تاریخ کے ہیرو بن جائيں گے لیکن آج اسی حماقت کے ساتھ جنگ سے باہر نہیں نکل سکتے، بلکہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا کے عقل مند لوگ آگے آئيں، ان کا ہاتھ پکڑیں اور انہیں جنگ سے باہر نکالیں ورنہ ان کی حماقت انہیں صحیح طریقے سے جنگ سے باہر نہیں نکلنے دے گی۔

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے اور سیکریٹری جنرل محسن رضائی نے اس سوال کے جواب میں کہ  ممکنہ آئندہ جنگ میں ایران کا جواب کیسا ہوگا؟، کہا کہ امریکی معیشت کی نبض مغربی ایشیا میں ہے۔ اس علاقے میں امریکا کے بڑے قیمتی وسائل موجود ہیں۔ ہم نے ابھی انہیں اپنے اہداف میں نہیں رکھا ہے، لیکن اگر جنگ ہوئی تو وہ کیبل جو امریکا نے بچھائے ہیں اور اس کے وہ ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے مراکز جن پر 2 ہزارارب  ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ لگا ہے، وہ سب ہمارے حملوں کی رینج میں ہیں۔

   انھوں نے کہا کہ ہم نے شروع میں ہی اپنی ساری توانائی اور وسائل سے کام نہیں لیا ہے کہ بعد کے مراحل میں ہمارے ہاتھ خالی ہوں۔ اگر آج جنگ ہوئی تو یقینا ہم وسیع ترین منصوبوں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔   

جنرل رضائی نے حالیہ مہینوں میں دشمن کی متعدد شکستوں کا ذکرکیا اور کہا کہ دشمن کو پہلی 12 روزہ جنگ میں سنگین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے بعد 40 روزہ جنگ بھی سخت ترین ہزیمت اٹھانی پڑی۔ اس شکست کے بعد اس نے بحری محاصرہ شروع کیا، وہ بھی بے نتیجہ رہا۔

انھوں نے کہا کہ دشمن نے محاصرے اور اقتصادی جنگ کا آغاز کیا ہے۔ اس کو ہر حملے میں شکست ہوئی ہے لیکن ہمارا پروگرام اپنی جگہ موجود ہے۔ ہم نے بہت ہی دقیق حساب کتاب کے ساتھ، اس کے سبھی حملوں کو ناکام بنایا ہے  اور آج اس کے ہر قسم کے حملے کا مقابلہ اور اپنا دفاع کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔   

جنرل محسن رضائی نے تاریخ ایران کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کی باتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں امریکا کے کچھ جاہل اور احمق لوگوں کا سامنا ہے، جنھوں نے نہ تاریخ پڑھی ہے اور نہ ہی ایرانی قوم کو پہچانتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں روبیو سے کہنا چاہوں گا کہ تمھارے بڑے ایران آنے کی آرزو کے ساتھ چلے گئے۔ کئی ہزار سال سے ان کی آرزو تھی کہ ایران آئيں، اس پر قبضہ کریں اور ایرانی قوم کو ختم کردیں۔ ایرانی قوم نے ان سب کو شکست دی اور آج  ان کا نام بھی تاریخ میں موجود نہیں ہے لیکن ایرانی قوم عزت و سربلندی کے ساتھ تاریخ میں باقی رہی، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ " میں صراحت کے ساتھ کہتا ہوں کہ جتنا زیادہ ہاتھ پاؤں ماروگے، اتنا ہی اس دلدل میں دھنستے جاؤگے۔ نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ  ہماری تاریخ میں تمھارے لئے بہت اچھے سبق ہیں۔ ایک بار پھر ایرانی قوم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگے اور ملت ایران کی عظمت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

جنرل محسن رضائی نے سات اکتوبرکے آپریشن طوفان الاقصیٰ کے ایام کی مناسبت سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حماس کے مجاہدین نے اپنے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لئے یہ آپریشن انجام دیا تھا۔ اس وقت جو پیغام جاری ہوا، اس میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو کے خلاف اس واقعے کے سلسلے میں غفلت  سے کام لینے کا کیس تیار کیا گیا ہے۔   

انھوں نے کہا کہ اس وقت نتن یاہو اور اسرائیلی حکومت کو پیغام دیا گیا تھا کہ ہمارے مجاہدین کو آزاد کردو ورنہ تمھارے خلاف کارروائیاں کی جائيں گی  اور پھر ہزاروں مظلوم فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لئے  آپریشن کیا گیا۔  

جنرل محسن رضائی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے انتہائی تشدد، بچوں کے قتل عام، نسل پرستی اور نسل کشی کا ارتکاب کیا۔غزہ میں فلسطینیوں کا جو وسیع تر قتل عام کیا گیا ہے وہ دنیا کے یہودیوں کے لئے اس حدتک ناقابل دفاع ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ نتن یاہو کے اقدامات نے پوری دنیا میں یہودیوں کی عزت وآبرو خاک میں ملادی۔ وہ اقدامات اس حدتک خود یہودیوں کے لئے ناقابل دفاع اور انسانیت مخالف ہیں۔  

انھوں نے کہا کہ صیہونیوں کا یہ تشدد آمیز اور انسانیت مخالف چہرہ، جو گزشتہ 70 برس کے دوران محدود دائرے میں  ہی پہچانا گیا تھا، نتن یاہو حکومت  کے وحشیانہ جرائم ایسے ہیں کہ اب وسیع ترین سطح پر یہ حقیقت بے نقاب ہوگئی ۔   

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے مذاکرات اور ڈپلومیسی کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری ڈپلومیسی تبدیل ہوگئی ہے اور اب ہم ماضی کی ڈپلومیسی کی طرف واپس نہیں جائيں گے۔ اس لئے کہ ہم نے مذاکرات کے تین دور انجام دیئے اور امریکا نے ہر دور کے مذاکرات کے بیچ میں ایران پر حملہ کیا۔ بنابریں اب ہم ماضی کی ڈپلومیسی کی طرف ہرگز واپس نہیں جائيں گے۔ جو شخص خود سمجھوتے پر دستخط کرتا ہے اور پھر اس سے نکل جاتا ہے، اس کے ساتھ دوسری قسم کی ڈپلومیسی کے ساتھ ہی پیش آنے کی ضرورت ہے۔ البتہ ہم نے کبھی بھی ڈپلومیسی ترک نہیں کی ہے، آئندہ بھی ترک نہیں کریں گے لیکن ہماری ڈپلومیسی بدل گئی ہے۔   

 

   

Read 68 times