مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے/ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں: وزیر خارجہ عراقچی

Rate this item
(0 votes)
مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے/ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں: وزیر خارجہ عراقچی

الجزیرہ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کی 15 شقوں پر مشتمل تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا ہے نہ ہی کوئی تجویز یا شرط پیش کی ہے۔

سید عباس عراقچی نے بین الاقوامی تعلقات میں، آمنے سامنے بیٹھ کر مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کو مذاکرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسی کوئی صورتحال ایران اور امریکہ کے مابین موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے جسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے بعض اوقت براہ راست یا دوست ملکوں کے ذریعے پیغام بھیجے جاتے ہیں اور ایران ضرورت کے حساب سے بعض کا جواب بھی دیتا ہے۔

وزیر خارجہ نے زور دیکر کہا کہ پیغامات کا تبادلہ محض وزارت خارجہ کے ذریعے انجام پا رہا ہے اور طریقہ کار کا تعین اعلی قومی سلامتی کونسل میں کیا جا چکا ہے۔

سید عباس عراقچی نے امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب دیا ہے اور کہا کہ ایران نے امریکہ کے مذکورہ پلان کا کوئی جواب نہیں دیا نہ ہی اس پلان پر کوئی شرط رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی 5 شرطوں پر مشتمل فہرست کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ باتیں ذرائع ابلاغ کے اندازے ہیں۔

وزیر خارجہ عراقچی نے زور دیکر کہا کہ ایران جنگ بندی نہیں بلکہ پورے خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے جارحیت کے دوہرائے نہ جانے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کو ایران کی شرطوں میں سے قرار دیا۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کردیا کہ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں ہے کیونکہ واشنگٹن ماضی میں ہونے والے معاہدوں سے نکل گیا اور مذاکراتی عمل کے بیچ حملہ بھی کر چکا ہے۔

وزیر خارجہ عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس وقت امریکہ پر اعتماد کی سطح صفر کے قریب ہے۔

انہوں واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ڈیڈلائن کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے عوام کے حقوق اور ملک کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیں گے۔

سید عباس عراقچی نے دھونس دھمکی کی زبان کو ایران پر بے اثر قرار دیا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ یہ آبی راستہ ایران اور عمان کے بحری حدود میں واقع ہے اور موجودہ حالات کے تحت ایران سے جنگ میں ملوث ملکوں کی جہازرانی کے لیے بند ہے لیکن دوسرے ممالک کے جہازوں کے لیے پرامن طریقہ کار فراہم کردیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے دشمنوں کو خبردار کیا کہ ایران کی دفاعی طاقت معیاری ہے اور ہر طرح کے فوجی اقدام کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے جھڑپوں کی شدت اور وسعت میں اضافے اور باب المندب کے بند ہونے کے امکان کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ علاقے کے ممالک سے وابستہ ہے اور ایران نے ایسی کوئی درخواست کسی سے نہیں کی ہے۔

سید عباس عراقچی نے زور دیکر کہا کہ علاقے کے ممالک ہی خطے کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرعلاقائی افواج کی موجودگی نہ صرف سلامتی کا باعث نہیں بلکہ اس سے عدم استحکام کو ہوا ملے گی۔

Read 44 times