تاریخ کبھی صرف واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ کرداروں کی تاثیر سے زندہ رہتی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اگر بعثتِ رسولﷺ کو سب سے بڑا انقلاب کہا جائے تو اس انقلاب کی پہلی معمار کا نام سیدہ خدیجة الکبریٰؑ ہے۔ سیدہ محض امُّ المؤمنین ہی نہیں بلکہ امامت کے نورانی سلسلے کی پہلی بنیاد ہیں۔ ان کی زندگی قربانی اور شعوری ایمان کی ایک مکمل داستان ہے۔ غارِ حرا کی تاریکی میں جب پہلی وحی نازل ہوئی اور رسولِ اکرمﷺ لرزاں کیفیت میں گھر تشریف لائے، تو تاریخ کا پہلا فیصلہ ایک خاتون نے کیا۔ نہ کسی دلیل کی طلب، نہ کسی معجزے کا انتظار۔۔۔ صرف یقین۔ خدیجہؑ نے کہا: "ہرگز نہیں، خدا آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔" روایات میں آتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں کاشانہ نبوت میں صرف تین ہستیاں تھیں: رسول اللہﷺ، امیرالمؤمنین علیؑ اور سیدہ خدیجة۔ یہی پہلا خاندان تھا، جس نے کعبہ کے سائے میں توحید کا پرچم بلند کیا۔ اس منظر کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
مال کی نہیں، مشن کی تاجرہ
سیدہ خدیجة مکہ کی کامیاب تاجرہ تھیں۔ ان کے قافلے شام تک جاتے تھے، ان کی دیانت مثال زبان زد عام و خاص تھی۔ مگر جب حق کی صدا بلند ہوئی تو یہ سارا سرمایہ اسلام کے نام ہوگیا۔ شعبِ ابی طالب کا تین سالہ محاصرہ محض ایک سماجی بائیکاٹ نہ تھا، یہ ایمان کا کڑا امتحان تھا۔ بھوک، پیاس، تنہائی اور خوف۔۔۔۔ سب کچھ تھا، مگر خدیجة الکبریٰ کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔ یہ قربانی محض ساده مالی اعانت نہیں بلکہ ایک ایسی مضبوط مالی پشت پناہی تھی، جس نے دین مبین اسلام کی بقاء میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سیدہ خدیجہ نے نہ صرف نبوت کا ساتھ دیا بلکہ اس نور کی حفاظت کی، جو آگے چل کر امامت میں جلوہ گر ہونا تھا۔
امُّ الائمہ۔۔۔ امامت کا پہلا چراغ
سیدہ خدیجة الکبری ؑ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ زہراؑ کی والدہ ہیں اور سیدی فاطمہ زہراء مرکزِ ولایت ہیں۔ انہی سے امام حسنؑ، امام حسینؑ اور سلسلۂ ائمہ اطہارؑ کا آغاز ہوتا ہے۔ یوں سیدہ خدیجہ بجا طور پر "امُّ الائمہ" ہیں۔ یہ محض نسبی تعلق نہیں، بلکہ تربیت کا اعجاز ہے۔ جس آغوش میں فاطمہ پروان چڑھیں، وہ آغوش یقیناً عصمت و طہارت کا گہوارہ تھی۔
عام الحزن۔۔۔ جب سایہ اٹھ گیا
نبوت کے دسویں سال سیدہ خدیجہ کا وصال ہوا۔ اسی سال حضرت ابو طالبؑ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے اس سال کو "عام الحزن" قرار دیا۔ یہ غم صرف زوجہ کی جدائی کا نہ تھا، بلکہ اس رفیقِ راہ کا بچھڑنا تھا، جس نے ہر لمحہ اور ہر آن آپ کا ساتھ دیا، ہر زخم پر مرہم رکھا اور ہر طوفان میں ڈھال بنی رہیں۔ آج ان کی قبر جنت المعلیٰ میں سادہ مٹی کی صورت موجود ہے، مگر دلوں میں ان کا مزار ایمان کی روشنی سے منور ہے۔
ام المومنین سیدہ خدیجة الکبری کا مقام
روایات میں چار عظیم خواتین کا ذکر ملتا ہے: حضرت مریمؑ، حضرت آسیہؑ، سیدہ فاطمہ زہراؑ اور سیدہ خدیجہ۔ ان چاروں کو کمالِ ایمان کا استعارہ قرار دیا گیا ہے۔ سیدہ خدیجة الکبریٰ کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے نبوت کے آغاز میں وہ کردار ادا کیا، جو کسی مرد صحابی کے حصے میں بھی نہ آیا۔ انہوں نے کبھی رسول اللہﷺ کو دنیاوی تقاضوں سے آزمایا نہیں، نہ کسی لمحے شکایت کی۔ ان کا گھر سکون کا مرکز تھا اور یہی سکون دعوتِ اسلام کی بنیاد بنا۔
آج کے دور کیلئے پیغام
آج جب امت مسلمہ فکری انتشار، معاشی کمزوری اور قیادت کے بحران کا شکار ہے، تو سیدہ خدیجہ کی سیرت ہمیں تین بنیادی اسباق دیتی ہے: ایمان میں سبقت تاریخ بدل دیتی ہے۔ مال کی اصل قدر اس وقت ہے، جب وہ حق کے لیے خرچ ہو۔ ایک عورت کا کردار محض خانگی نہیں، بلکہ تہذیبی اور اعتقادی بنیادوں کا تعین بھی کرسکتا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اگر کربلا قربانی کی معراج ہے تو اس کی پہلی اینٹ مکہ میں رکھی گئی تھی۔۔۔۔ اور وہ اینٹ ام المومنین، ام البتول سیدی خدیجة الکبریٰ کی قربانی تھی۔ سیدہ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انقلاب ہمیشہ خاموش کمروں میں جنم لیتے ہیں اور تاریخ کے بڑے فیصلے اکثر کسی باایمان دل کی گواہی سے شروع ہوتے ہیں۔
تحریر: محمد ثقلین واحدی



















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
