صیہونزم کے ہاتھوں لہولہان صحافت

Rate this item
(0 votes)
صیہونزم کے ہاتھوں لہولہان صحافت

غاصب صیہونی رژیم نے غزہ کے نہتے عوام کے خلاف مجرمانہ اقدامات جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر فلسطینی رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کو براہ راست جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔ خان یونس شہر میں واقع ناصر اسپتال پر صیہونی بمباری میں پانچ فلسطینی رپورٹرز شہید ہو گئے ہیں اور یوں غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی کل تعداد 244 تک جا پہنچی ہے۔ الجزیرہ چینل کے رپورٹر نے بریکنگ نیوز کا اعلان کرتے ہوئے کہا: "الجزیرہ نیوز چینل کا کیمرہ مین محمد سلامہ، فلسطینی کیمرہ مین حسام المصری، رپورٹر مریم ابودقہ اور معاذ ابوطہ ناصر اسپتال پر اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں کچھ دیگر صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں۔" الجزیرہ نے اسی طرح اعلان کیا کہ اب تک ناصر اسپتال پر حملے میں 20 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں پانچ صحافی بھی شامل ہیں۔
 
اس بارے میں فلسطینی حکومت کے دفتر نشریات نے بھی اپنے بیانیے میں کہا ہے کہ ناصر اسپتال پر حملے میں پانچ صحافیوں کی شہادت کے بعد اب تک شہید صحافیوں کی تعداد 244 ہو چکی ہے۔ اس بیانیے میں غاصب صیہونی رژیم، امریکی حکومت اور برطانیہ، جرمنی اور فرانس سمیت کچھ یورپی ممالک کو بھی اس وحشیانہ اور انسان سوز جرم میں صیہونی رژیم کا شریک قرار دیا گیا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ صیہونی رژیم نے صحافیوں کی ٹیم کو براہ راست حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے پہلے 11 اگست کے دن بھی صیہونی فوج نے صحافیوں کے کیمپ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔ یہ کیمپ غزہ شہر میں شفا میڈیکل کمپلکس کے مین گیٹ کے سامنے نصب کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 6 فلسطینی صحافی شہید ہو گئے تھے۔ غزہ میں صیہونی رژیم کی جانب سے صحافیوں کو براہ راست نشانہ بنانے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
 
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے غزہ میں صحافیوں کے قتل عام کو "بین الاقوامی انسان پسندانہ قوانین کی واضح خلاف ورزی" قرار دیا اور تاکید کی کہ اسرائیل صحافیوں سمیت تمام عام شہریوں کا احترام کرے اور انہیں نقصان پہنچانے سے باز رہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ ہم غزہ تک تمام صحافیوں کی فوری اور محفوظ رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر آئرین خان نے آزادی اظہار کے بارے میں بیانیہ جاری کرتے ہوئے کہا: "صیہونی فوج حقیقت کو نابود کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ ہر گز اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو گی۔" فلسطینی ذرائع ابلاغ کی انجمن کے سربراہ محمد یاسین نے غزہ میں صحافیوں کو درپیش شدید مشکل حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "غاصب صیہونی صحافیوں کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت جارحانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
 
انہوں نے مزید کہا: "صیہونی حکمران چاہتے ہیں کہ حقیقت کی آواز بند ہو جائے اور عام شہریوں کے خلاف ان کے مجرمانہ اقدامات پوشیدہ رہ جائیں۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ صحافی ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے افراد کے حقیقی گواہ اور آواز ہیں لہذا ان کی ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں۔" محمد یاسین نے کہا: "صحافی بہت ہی سخت اور مشکل حالات میں اور کسی قسم کی حمایت کے بغیر غزہ میں فعالیت انجام دے رہے ہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ نہ ہونے، اپنے دسیوں دوست صحافیوں کی شہادت اور اپنا گھر مسمار اور اہلخانہ شہید ہو جانے کے باوجود وہ اپنی فعالیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی آواز دنیا والوں تک پہنچا رہے ہیں۔" فلسطین میڈیا انجمن کے سربراہ نے صیہونی رژیم کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ داخلے سے روکنے کے بارے میں کہا: "یہ اقدام واضح طور پر غزہ کا میڈیا بائیکاٹ کرنے اور اپنے جرائم چھپانے کی غرض سے انجام پا رہا ہے۔"
 
انہوں نے کہا: "بین الاقوامی آزاد صحافیوں کی غزہ میں موجودگی صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کو آواز اور تصاویر کے ذریعے فاش کر سکتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے اسرائیل روک رہا ہے۔" انہوں نے آخر میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پر عمل کریں اور صحافیوں پر حملے روکنے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے غزہ می فوری داخلے کے لیے غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالیں۔ غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت نے بھی اپنے بیانیے میں صیہونی رژیم کی جانب سے ناصر اسپتال کو فضائی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی اور اسے جنوبی غزہ میں واحد فعال اسپتال کے خلاف ہولناک جرم قرار دیا ہے۔ اس وزارت کے بیانیے میں کہا گیا ہے: "یہ حملہ صحت کے نظام کی نابودی اور سسٹمٹک نسل کشی کا تسلسل ہے اور تمام انسانی اقدار اور عدالت چاہنے والوں کی بے حرمتی ہے۔"
 
فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے بھی اس بزدلانہ حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا: "صیہونی فوج نے ناصر اسپتال پر بمباری کر کے 20 افراد کو شہید کر دیا جن میں صحافی اور امدادی کارکن بھی تھے۔ جرائم پیشہ نازی رژیم نے غزہ کے تمام علاقوں میں جنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور عام بے گناہ شہریوں کا وسیع قتل عام کر رہی ہے۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اس کی دہشت گرد کابینہ نے ایک بار پھر جان بوجھ کر تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپتال پر حملہ کیا ہے اور حسام المصری، محمد سلامہ، مریم ابودقہ اور معاذ ابوطہ نامی صحافیوں کو شہید کر دیا ہے۔ یہ افراد عرب اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان پر حملہ ایک جنگی جرم ہے جس کا مقصد غزہ کے حقائق پر پردہ ڈالنا ہے۔ عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیمیں صیہونی جنگی جرائم روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات انجام دیں۔"

تحریر: علی احمدی

Read 10 times