شہادتِ رہبر معظم اور عاشورائی معرکہ

Rate this item
(0 votes)
شہادتِ رہبر معظم اور عاشورائی معرکہ

مسلم دنیا کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک شخصیت کی شہادت نہیں ہوتے بلکہ ایک پورے عہد کی حقیقت کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ رہبرِ مسلمین کی جاں گداز شہادت بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے جس نے حق و باطل کی کشمکش کو ایک مرتبہ پھر پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ یہ شہادت اس حقیقت کی گواہی ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ قربانیوں سے گزرتا ہے اور یہی وہ اصول ہے جو تاریخِ اسلام میں امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی سے ہمیں ملا۔

آج کے عالمی حالات میں بھی یہی منظر کسی نہ کسی شکل میں دہرایا جا رہا ہے۔ کئی مسلمان ممالک وقت کے یزیدی نظام، یعنی امریکہ اور صیہونی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہیں۔ مگر رہبر معظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بارہا اعلان کیا کہ ان کی جدوجہد دراصل عاشورائی جہاد کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہم امریکہ اور صیہونیوں کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے۔

یہ دراصل اس ادراک کا اظہار تھا کہ حالات ایک نئے کربلا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جیسے شہادتِ امام حسینؑ کے بعد امت بیدار ہوئی تھی، اسی طرح رہبر معظم کی عظیم شہادت نے بھی امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان کی قربانی نے مکتبِ اہل بیتؑ کی حقانیت کو مزید درخشاں کر دیا اور تکفیری و خارجی گروہوں کے ساتھ ساتھ صیہونی طاقتوں کے مکروہ چہرے بھی بے نقاب ہوگئے۔

رہبر شہید نے نصف صدی پر محیط انقلاب اسلامی کی تحریک کو نئی زندگی عطا کی۔ امام خمینی کے خطِ انقلاب پر قائم رہتے ہوئے انہوں نے ایرانی قوم کو استقامت، خودداری اور مزاحمت کا درس دیا۔ ان کی خون رنگ شہادت نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ ’’مردہ باد امریکہ‘‘ کا نعرہ محض ایک سیاسی شعار نہیں بلکہ عالمی استکبار کے خلاف ایک فکری موقف ہے۔ تاریخ کی سچائی یہی ہے کہ آخرکار خون ہمیشہ تلوار پر غالب آتا ہے۔

اس وقت امت مسلمہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر استعماری تسلط کے خلاف متحد ہوں۔ خاموشی اور بے حسی دراصل ظلم کی تائید کے مترادف ہے۔ اگر ظلم کے مقابلے میں آواز بلند نہ کی جائے تو یہ بزدلی بھی ہے اور جرم بھی۔ ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ خود کو لشکرِ حسینؑ کا ایک سپاہی سمجھے اور وقت کے یزیدی نظام کے خلاف حق کا ساتھ دینے کے لئے تیار رہے۔

ایران کی مزاحمتی پالیسی نے عالمی سیاست میں ایک نئی حقیقت کو بھی آشکار کیا ہے۔ ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا کہ وہ طویل المدت جنگ سے خوفزدہ نہیں۔ یہ مزاحمت دراصل عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی حکمت عملی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متوجہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف خلیجی عرب حکمرانوں کا کردار بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان حکومتوں نے اکثر اوقات امریکی مفادات کی خدمت کو اپنی پالیسی بنایا۔ کم از کم انہیں اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لئے استعمال ہونے سے روکنا چاہئے جو مسلم دنیا کے خلاف ہوں۔

پاکستان میں بھی رہبر معظم کی شہادت پر امامیہ نوجوانوں کا ردعمل غیر معمولی تھا۔ پورے ملک میں احتجاج کرکے انہوں نے اپنے جذبات اور عقیدت کا اظہار کیا۔ یہ نوجوان درحقیقت رہبر کے فدائی ہیں جنہوں نے اپنی محبت اور وفاداری کو عملی شکل دی۔ بعض مقامات پر نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی تک دے دی، جو ان کے ایمان اور عقیدت کی بلندی کا ثبوت ہے۔ مقامی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نوجوانوں کی پشت پناہی کرے اور ان کے حوصلے کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت اور تعمیری جدوجہد کی طرف رہنمائی فراہم کرے۔

رہبر معظم کی شخصیت کسی عام رہنما کی نہیں تھی۔ وہ ایک فکری مکتب، ایک مزاحمتی نظریہ اور ایک انقلابی روح کے نمائندہ تھے۔ ان کی شہادت بظاہر ایک عظیم نقصان ہے، مگر درحقیقت یہ صیہونیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ شہادت ہمیشہ تحریکوں کو ختم نہیں کرتی بلکہ انہیں نئی زندگی عطا کرتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ رہبر معظم کی شہادت دراصل عاشورائی معرکہ کا نقطۂ عروج ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ہمیں پھر یاد دلاتی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی ہی اصل کامیابی ہے، اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی حسینؑ کا پیغام ہے۔ اگر امت مسلمہ اس پیغام کو سمجھ لے تو کوئی طاقت اسے مغلوب نہیں کر سکتی۔

تحریر: سید انجم رضا

Read 2 times