آيت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے پیغام کا مکمل متن

Rate this item
(0 votes)
آيت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے پیغام کا مکمل متن

بسم‌الله الرحمن الرحیم

یا مقلب القلوب والابصار یا مدبّر اللیل و النهار یا محوِّل الحول و الاحوال، حَوِّل حالَنا الی احسن الحال

اس سال روحانیت کی بہار اور فطرت کی بہار یعنی عیدالفطر اور نوروز کا قدیم تہوار ایک ساتھ آیا ہے۔ میں ان دو مذہبی اور قومی عیدوں پر قوم کے ہر فرد کو  اور خاص طور پر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجاہدین اسلام کی شاندار فتوحات کے موقع پر سب کو مبارکباد پیش کروں اور دوسری مسلط کردہ جنگ، جنوری کی بغاوت اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، سیکورٹی اداروں، سرحدی محافظوں اور انٹیلی جینس سروسز کے شہیدوں کے اہل خانہ اور پسماندگان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کروں۔

شمسی سال 1405 کی آمد کے موقع پر مندرجہ ذیل عرائض پیش کرنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے ہم گزشتہ سال کے چند اہم واقعات پر مختصراً  نظر ڈالیں گے۔ پچھلے سال، ہمارے عزیز ہم وطنوں نے تین فوجی اور سیکورٹی جنگوں کا تجربہ کیا۔ پہلی جنگ جون کی جنگ تھی جس میں صیہونی دشمن نے امریکہ کی خصوصی مدد سے اور مذاکرات کے درمیان ایک بزدلانہ حملے میں ملک کے چند بہترین کمانڈروں اور نامور سائنسدانوں اور پھر ہمارے ایک ہزار کے قریب ہم وطنوں کو شہید کیا۔ اپنے غلط حساب کتاب کی وجہ سے دشمن یہ سمجھ رہاتھا کہ ایک دو دن بعد یہی لوگ اسلامی نظام کا تختہ الٹ دیں گے۔ بہرحال آپ لوگوں کی چوکسی اور مجاہدین اسلام  کی بے مثال بہادری اور  بے شمار قربانیوں سے جلد ہی دشمن کے اندر بے بسی اور لاچارگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے ثالثی ذریعے اور جنگ روک کر کسی طرح اپنے آپ کو پاتال کے کنارے سے بچا لیا۔

دوسری جنگ جنوری کی بغاوت تھی، جس میں امریکہ اور صیہونی حکومت نے یہ سوچتے ہوئے کہ ایرانی عوام مسلط کردہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے دشمن کی خواہشات کو عملی جامہ پہنائیں گے، اپنے زرخرید ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے  بے شمار سانحات رقم کیے  اور پچھلی جنگ کی نسبت ہمارے عزیز ہم وطنوں کی زیادہ تعداد کو شہید کرنے کے علاوہ ملک کو بہت زیادہ نقصان بھی پہنچایا۔

تیسری جنگ، جس سے ہم اس وقت دوچار ہیں، اس جنگ کے پہلے دن ہم نے قوم کے مہربان باپ، اپنے عظیم القدر رہبر اعلی اللہ مقامہ کو، جو شہیدوں کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے، اپنے سفر آسمانی کے دوران اس مقام کی جانب جانے کے لیے بے تاب تھے کہ جو رحمت  الہی کے سائے اور قرب انوار طیبہ اور عداد صدیقین اور شہدا میں ان کے لیے مختص تھا، اشکبار آنکھوں اور غمزدہ اور ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ رخصت کیا۔

نیز اس دن کے بعد سے ہم نے بتدریج،  اس جنگ کے دیگر شہداء بشمول میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے نونہالوں ،  دنا بحری جہاز کے بہادر اور مظلوم ستاروں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، فوج، پولیس بسیج، انٹیلی جینس اور سرحدی فورس کے بہادر جوانوں اور بچوں اور بوڑھوں سمیت قوم کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو، جو ہماری نگاہوں کے سامنے قافلہ نور شامل ہوئے، الوداع کہا۔ 

یہ جنگ، اپنے حق میں نمایاں عوامی تحریک سے دشمن کی ناامیدی اور اس وہم کے ساتھ شروع ہوئی کہ اگر سربراہ نظام اور بعض اہم فوجی کمانڈروں کو شہید کر دیا جائے تو وہ آپ عزیز ھم وطنوں میں خوف اور مایوسی پیدا کر دے گا، جس کی وجہ سے آپ میدان چھوڑ دیں گے، اور اس طرح ایران پر تسلط اور پھر اسے تقسیم کرنے کا خواب پورا ہو جائے گا۔لیکن آپ نے اس بابرکت مہینے میں روزے کو جہاد کے ساتھ ملاکر  ایک ملک گیر وسیع دفاعی زنجیر فراہم کی اور ملک بھر کے چوراہوں، محلوں اور مساجد تک مضبوط محاذ قائم کیا اور اس طرح دشمن پر چکرا دینے والی ایسی ضرب لگائي کہ وہ تضاد بیانی اور ہرزہ سرائي پر اتر آیا جو اس کے ہوش اڑجانے اور زوال عقل کی علامت ہے۔

آپ نے اس سے پہلے 12 جنوری کو ہونے والی بغاوت کو کچل دیا اور 11 فروری کو آپ نے ایک بار پھرعالمی استکبار کے خلاف نہ ختم ہونے والی مخالفت کا اظہار کیا، پھر 12  مارچ کو یوم قدس کے موقع پر آپ نے دشمن پر وار کر کے واضح کر دیا کہ تمہارا مقابلہ صرف  میزائلوں، ڈرونز، تارپیڈو اور فوجی معاملات سے نہیں، ایران کی فرنٹ لائن دشمن کے حقیر اور کوتاہ دماغ سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔

میں اس عظیم کارنامے کی تخلیق پر قوم کے ایک ایک فرد کا اور اسی طرح بہادر، سچے اور عوامی صدر نیز ان تمام عہدیداروں کا جو کسی پروٹوکول کے بغیر عوام کے ساتھ یوم قدس کے جلوس میں شامل ہوئے، شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ یہ اقدام اور اسطرح کی دیگر کاوشیں اپنی جگہ پر لائق تحسین ہیں کیونکہ ان سے عوام اور حکومت کے درمیان اتحاد کو مزید تقویت ملے گی۔

اس وقت ہم وطنوں کے درمیان تمام ترمذہبی، فکری، ثقافتی اور سیاسی تفاوت کے باجود جو حیرت انگیز اتحاد پیدا ہوا ہے، اس نے دشمن کو شکست و ریخت سے دوچار کردیا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص نعمت سمجھنا چاہیے اور زبان سے، دل سے اور عمل سے اس کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ ناقابلِ تنسیخ اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی کسی نعمت کا شکر ادا کیا جاتا ہے تو اس کی جڑیں، ادائے  شکر کے تناسب سے مضبوط یا بلند ہوجاتی ہیں اور شکر گزار پر زیادہ احسانات ہوتے ہیں۔عملی طور پر شکرگزاری کے لحاظ سے فی الحال جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس عظیم نعمت کو محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت سمجھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائيں۔ اس طرح یہ اتحاد یقیناً مضبوط اور مستحکم ہوگا اورآپ کے دشمن ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔

 یہ تو تھا سن  1404 ہجری شمسی کے چند اہم واقعات کا جائزہ۔

لیکن اب جب کہ ہم سن 1405  ہجری شمسی کی دہلیز پر ہیں، ہمیں کئی چیزوں کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ ہم اپنے پیارے مہمان، رمضان المبارک 1447 کے بابرکت مہینے کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ رہے ہیں۔ وہ مہینہ جس میں لیلۃ القدر میں آپ کے دل عالم بالا کی  طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے خدائے رحمان کو پکارا اور اس نے بھی اپنی نظر رحمت تمہاری جانب موڑ دی۔ 

آپ نے ہم سب کے آقا (امام زمانہ) عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اور ان کے خدا سے فتح وظفر، خیر و عافیت اور ہر قسم کی نعمتیں طلب کی ہیں، یقینا اس نظام اور اس قوم پر اس کی سابقہ عنایتوں کے پیش نظر، انشااللہ آپ کی طلب قلبی کے مطابق یا اس بھی زیادہ نتیجہ آپ کے شامل حال ہوگا۔

ماہ رمضان کو الوداع کہتے ہوئے کہ اگرچہ انسانوں کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی، اس ماہ کا فراق اتناہی تلخ اور غمگین ہوگا،  ہم شوال المکرم کے بابرکت چاند کا گرمجوشی سے خیر مقدم  کرتے ہیں اور خوف اور امید کے ساتھ حضرت حق تبارک و تعالی کی جانب سے عیدی کے منتظر ہیں۔ 

 میں امید کرتا ہوں کہ آپ عزیز ہم وطنوں کی ذمہ دارانہ اور شبانہ روز حاضری اور یوم قدس کے جلوسوں میں عظیم الشان شرکت  کے نتیجے میں حق تعالی ہمارے ساتھ اپنے کرم و حلم اور عفو و لطف عمیم کے سوا، کہ جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں، کوئی سلوک نہیں کرے گا اور خاص کر ہمارے آقا حضرت ولی اللہ الاعظم کے امر ظہور عام کا راستہ ہموار ہونے کی جلد بشارت دے کر آنجناب کے قلب مبارک کو سرور عطا فرمائے گا کہ جس کے بعد اس کی منت و کرم سے اہل دنیا پر متنوع برکتیں نازل ہوں گی۔ 

ایک اور چیز جو ہمارے سامنے ہے وہ نوروز کا اہم او قدیمی تہوار ہے۔ایک ایسا تہوار جو اپنے ساتھ فطرت کی طرف سے تجدید، تازگی اور زندگی کا تحفہ لاتا ہے، اور خوشی اور جشن منانے کے لیے انتہائي موزوں ہے۔

دوسری طرف قوم کے لیے یہ پہلا سال ہے کہ جب ہمارے شہید قائد اور دیگر اعلیٰ ترین شہداء ہمارے درمیان موجود نہیں۔ خاص طور پر شہداء کے اہل خانہ اور پسماندگان کے دل اپنے پیاروں کے غم میں سوگوار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اپنی طرف سے، اور ایک عام شہری کی حیثیت سے کہ جس حصے  میں بھی چند شہادتیں آئیں ہیں، میں سجھتا ہوں کہ اگرچہ ہم عزادار ہیں اور ہمارے دل اپنے تمام شہیدوں کے غم سے لبریز ہیں، مجھے خوشی ہوگی کہ ان ایام میں، نوبیاہتی دلہنیں اور دولہے اپنی مشترکہ زندگي کا آغاز کریں انشااللہ ہمارے شہید رہبر اور اس جنگ کے دیگر شہدا کی دعائيں ان کے ساتھ ہیں۔

میں پوری قوم کو سفارش کرتا ہوں کہ وہ شہیدوں کے اہل خانہ کے احترام کو ملحوظ خاطر اور ان کے حالات کا خیال رکھتے ہوئے ان ایام میں ملنے  ملانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور کیا ہی اچھا ہو کہ ہر محلے کے لوگ ضروری ہم آہنگی کے ذریعے  اپنے محلے کے شہیدوں کے احترام کے ساتھ سال نو کی ملنے ملانے کا آغاز کریں۔ بلاشبہ حکومت نے ہمارے محبوب رہبر کی شہادت کے غم کی جو مدت مقرر کی ہے وہ اپنی جگہ باقی ہے اور اس کا احترام  اس نظام اور ملک کی عظمت کا ایک ستون شمار ہوتا ہے۔

ان عرائض کے بعد چند اور باتیں گوش گزار کرنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے، مجھے ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جو، شاہراہوں، محلوں اور مساجد میں اپنی موجودگی کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی کردار کو بھی بھرپور طریقے سے نبھانے میں مصروف ہیں۔جن میں پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے بعض پیداواری یونٹ اور انڈسٹریاں بھی شامل ہیں۔اور خاص طور پر وہ لوگ جو عوام کو مفت میں مفید خدمات فراہم کر رہے ہیں اگر چہ یہ ان کا پیشہ بھی نہیں ہے، اور الحمدللہ ایسے لوگوں کی تعداد ہمارے ملک میں کم نہیں۔

دوم، دشمن کا ایک راستہ اس کی میڈیا کارروائیاں ہیں، جو ان دنوں خاص طور پر افراد کے ذہنوں اور نفسیات کو نشانہ بنا کر قومی یکجہتی اور نتیجتاً قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں ہماری اپنی غفلت سے  دشمن کے مذموم ارادے پورے نہ ہوں۔ لہٰذا، ملکی میڈیا کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ممکنہ فکری، سیاسی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود کمزویوں کو اجاگر کرنے سےگریز کریں بصورت دیگر دشمن کے مقاصد پورے ہونے کا اندیشہ ہے۔

سوم، دشمن کی امیدوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ان معاشی اور انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے جو طویل عرصے سے چلی آرہی ہیں۔ ہمارے شہید رہبر، اعلیٰ اللہ مقامہ نے مختلف برسوں  میں سال کا بنیادی فوکس اور نعرہ معیشت پر مرکوز رکھا تھا۔ اس عاجز کی رائے میں لوگوں کی روزی روٹی کو محفوظ بنانا، زندگی اور فلاحی انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا اور عام لوگوں کے لیے دولت پیدا کرنا دشمن کی طرف سے شروع کی گئی معاشی جنگ کے خلاف مرکزی نقطہ ہی نہیں بلکہ اسے ایک طرح کا دفاع اور پیشقدمی کا راستہ سمجھنا چاہیے۔

میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے مختلف سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے عزیز ہم وطنوں کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر، میں آپ کے ساتھ ایک نامعلوم شخص کی طرح تہران کی سڑکوں پر ایک ٹیکسی میں سفر کرتا رہا ہوں جو میری ہی درخواست پر مہیا گئی تھی اور میں آپ کی باتیں سنتا رہا ہوں، اور میں اس طرح کے رابطے کو رائے عامہ کے جائزوں سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ بہت سے معاملات میں آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں، جن کا اظہار عام طور پر معاشی اور انتظامی معاملات پر تنقیدوں کی شکل میں کیا جاتا رہا ہے۔ اس دوران، میں نے آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور آئندہ بھی سیکھنے کی کوشش کروں گا۔ مثال کے طور پر ان دنوں میں 19 رمضان سے پہلے اور بعد کے ایام میں، جو لوگ سڑکوں اور اہم اسکوائر پر موجود تھے، میں نے ان لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں آئندہ بھی اس نعمت سے محروم نہیں رہوں گا۔ سیکھنے،  سننے اور دیگر مطالعات کے نتیجے میں، ایک قابل عمل اور کارساز منصوبہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ممکنہ حد تک جامع ہو۔بحمداللہ یہ مقصد کافی حد تک پورا ہوگيا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی ملک کے اعلیٰ ہمت حکام اور عوام  کے تعاون سے اس پر عملدرآمد کا آغاز  کیا جائے گا۔   

اپنے پیغام کے اس حصے کے آخر میں عظیم شہید رہبر کی تاسی کرتے ہوئے میں اس سال کے نعرے کا اعلان کرتا ہوں ’’قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘‘۔

چوتھی اور آخری بات، میں نے اپنے پہلے بیان میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت کے نقطہ نظر اور پالیسی کے بارے میں جو باتیں کہی تھیں وہ ایک سنجیدہ اور حقیقی معاملہ ہے۔ ہمسائیگی کے رشتے سے ہٹ کر بھی، دوسرے روحانی عناصر ہمارے پیش نظر ہیں، اور تمام  اشترکات میں دین اسلام پر تدین سرفہرست ہے، اور ان میں سے بعض ممالک میں مشاہد مشرفہ اور مقامات مقدسہ واقع ہیں جبکہ بعض دیگر ممالک میں ایرانیوں کی بڑی تعداد مقیم یا کام کاج کرتی ہے، جبکہ بعض ممالک کے ساتھ ہمارے نسلی اور لسانی رشتے ہیں یا مشترکہ اسٹریٹجک مفادات ہیں، خاص طور سے سامراجی محاذ کے خلاف جدوجہد حوالے سے، کہ ان میں سے ہر ایک عنصر اپنی جگہ، اچھے تعلقات کی تقویت کا باعث بن سکتاہے۔

ہم اپنے مشرقی پڑوسیوں کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ میں طویل عرصے سے پاکستان کو ایسے ملک کے طور پر جانتا ہوں جو ہمارے شہید رہبر کا خاص پسندیدہ ملک تھا، جس کی مثال اس تباہ کن سیلاب کے بعد نماز عید کے خطبوں میں آپ کی غمگین آواز میں دکھائی دی تھی، وہ سیلاب جس نے ہمارے دینی بھائيوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ مختلف دلائل کی بنا پر میری سوچ بھی ہمیشہ یہی رہی ہے اور مختلف ملاقاتوں میں نے اس کے اظہار سے گریز نہیں کیا۔ یہاں میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہمارے دو برادر ممالک افغانستان اور پاکستان رضائے الہی کی خاطر اور مسلم امہ کو تقسیم سے بچانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائيں اور یہ حقیر اس مقصد کے لیے اپنے حصے کے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔

یہاں میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ترکی اور عمان میں کہ جن کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات قائم اور ان کے ممالک کے بعض حصوں میں جو حملے کیے گئے وہ اسلامی جمہوریہ ایرن کی مسلح افواج یا مزاحمی محاذ کی دیگر قوتوں نے ہرگز نہیں کیے۔ یہ صیہونی دشمن کی ایک چال ہے کہ فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے اسلامی جمہوریہ اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا کیا جائے اور ہوسکتا ہے کہ بعض دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کی صورتحال دکھائی دے۔ اس سے متعلق باقی باتیں میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں۔

میں امید کرتاہوں کہ ہمارے آقا عجل اللہ تعالی فرجہ کی دعاؤں اور حضرت باری تعالی کی نظر کرم سے آنے والا سال ہماری قوم، ہمارے تمام پڑوسیوں اور مسلم اقوام  کے لیے اور خاص طور پر مزاحمتی محاذ کے لوگوں کے لیے فتوحات اور ہر قسم کے مادی اور روحانی مواقع سے بھرپور سال ثابت ہوگا جبکہ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔ 

 وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّهً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِینَ وَ نُمَکِّنَ لَهُمْ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامَانَ وَ جُنُودَهُمَا مِنْهُم ما کانُواْ یَحْذَرُون. صدق‌ الله العلی العظیم و صدق رسوله الکریم و نَحنُ عَلی ذلکَ مِنَ الشّاهدین.

 و السلام علیکم و رحمه الله و برکاته

Read 5 times