جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے جامعۃ الازہر مصر کی جانب سے امریکہ اور خلیج فارس کے بعض ممالک میں اس کے نیابتی حکمرانوں کے حق میں دیے گئے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ الازہر کا یہ جانبدارانہ رویہ نہایت افسوسناک ہے اور اس سے اس قدیم دینی ادارے کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
جامعہ مدرسین نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مجرمانہ کارروائیوں کے دوران الازہر حق و باطل میں تمیز نہ کر سکا، جس سے اس ادارے کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بیان کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کا اقدام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، جبکہ الازہر کی جانب سے ایران کی مذمت حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران ہمیشہ مسئلہ فلسطین، اسلامی ممالک کی خودمختاری، عزت اور امت مسلمہ کے اتحاد کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے، اور الازہر کی جانب سے حقیقت کو الٹ کر پیش کرنا ایران کے مثبت کردار کو ہرگز متاثر نہیں کر سکتا بلکہ خود الازہر کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جامعہ مدرسین نے الازہر کے علماء اور دانشوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بیت المقدس کی آزادی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے خواہاں ہیں تو انہیں سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کو امت کے اصل دشمن کے طور پر پہچاننا ہوگا اور ان کی سازشوں سے باخبر رہنا ہوگا۔
بیان میں امت مسلمہ کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ اور اسلامی ممالک کی عزت و سربلندی کا خواہاں ہے، اور یہ مقصد صرف استکباری طاقتوں خصوصاً امریکہ سے دوری اختیار کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ آج کے حالات میں حق و باطل کی پہچان اور قدس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت، امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، اور اہل حق بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
