ایران نے امریکی و اسرائیلی دبدبہ خاک میں ملا دیا

Rate this item
(0 votes)
ایران نے امریکی و اسرائیلی دبدبہ خاک میں ملا دیا

ایران میں رجیم کی تبدیلی کے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا امریکی و اسرائیلی معرکہ ابتدا میں بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے تک پہنچا، پھر دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی سمت لڑھکتا ہوا بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں سمٹ آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پورے یورپ اور حتیٰ کہ چین کو بھی مدد کے لیے پکارا جا چکا ہے۔ اسی طرح امریکی دھمکیاں بھی سٹاک مارکیٹ کی طرح  ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئی ہیں۔ بوکھلائی ہوئی دھمکیوں اور متعدد متضاد و بے ربط بیانات کے باعث امریکہ میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ ٹرمپ جنگ پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس اپنی ساکھ بچانے اور جنگ سے کسی صورت باعزت نکلنے کا واحد راستہ جنگ کو پھیلانا ہے، جس کا وہ پہلے ہی جیت چکنے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو بھی ایرانی میزائل حملے کی سائٹ پر جا کر یورپ کو ایرانی میزائلوں کی رینج سے خبردار کرتے نظر آتے ہیں۔

امریکہ کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات اور لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ایران پر حملے کا آغاز اس کی آئینی اور اعلیٰ سیاسی قیادت کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر سفارتکاری جاری تھی۔ اس اقدام کے ذریعے امریکہ نے عالمی قوانین سے ماورا اپنا جنگلی اور غیر مہذب چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور اب ٹرمپ یہی تقاضا یورپ سے بھی کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کا ایران میں وینزویلا طرز کے آپریشن کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ اب ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ واضح کریں کہ اس جنگ کے آغاز کے اصل مقاصد کیا تھے اور کانگریس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ کیا اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ پہلے سے طے کیا گیا تھا؟ کیا انہیں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے تیل کی عالمی منڈی پر اثرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی تھی؟ ان تمام اہم سوالات کے جواب میں ٹرمپ کی جانب سے اب تک صرف مبہم، غیر مربوط اور ٹال مٹول پر مبنی بیانات ہی سامنے آئے ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو جس ایران کو خطرہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، اس نے دیگر تمام مہذب اقوام کی طرح نیوکلیئر پروگرام پر پچھلے معاہدے کی پاسداری کی، جسے ٹرمپ نے اپنی پچھلی مدت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ ایران نے اسلامی شریعت کے تحت ایٹمی ہتھیار بنانا ناجائز قرار دے رکھا ہے اور ایٹمی پروگرام کو صرف توانائی کے متبادل کے طور پر استعمال میں لانا چاہتا ہے، جس کی ضمانت کے طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو نگرانی کا موقع بھی دیا گیا۔ اس جارحیت سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی کبھی بند نہیں کیا ہے۔ ایران دیگر آزاد اقوام کی طرح ٹیکنالوجی کے حصول میں اپنی خود مختاری اور جائز حقوق کا قائل ہے اور امریکہ کی دھونس کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔

ٹرمپ ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے میدان میں امریکہ کو دنیا کا بلاشرکتِ غیرے لیڈر اور عالمی تنازعات میں حرفِ آخر کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، اور یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پوری دنیا ٹیکنالوجی کے معاملے میں اس کی محتاج ہے۔ اپنی صدارتی مہم کے دوران اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ مضبوط امریکی معیشت کا دارومدار اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کے انہی معاہدوں پر ہے جو دیگر ممالک، خصوصاً عرب ریاستوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت امریکی ٹیکنالوجی اور اسلحے کے یہ "بت" اسلامی سرزمینوں پر حکمرانوں نے سجا بھی رکھے تھے۔

کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنا اسے امریکی تسلط پسندی کے اسی مائنڈ سیٹ، اس کی عالمی کشمکش اور دیگر آزاد اقوام کے خلاف تجاوز کا حصہ بنا دیتا ہے۔ ایک بار اس دائرے میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنا آسان نہیں رہتا، اور پاکستان اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے جو آج تک اس فیصلے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہ دراصل امریکہ کی سکیورٹی چھتری تلے آ کر خود اسی کے ہاتھوں بے دفاع ہو جانے کے مترادف ہے۔ ایسی صورتحال جس میں  ریاستیں نہ صرف اپنی خودمختاری کھو دیتی ہیں بلکہ جارحیت کی مذمت تک کا اختیار بھی عملاً سلب ہو جاتا ہے۔ 

مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر اسرائیل نامی پہلے ناجائز اڈے کو امام خمینیؒ نے مسلمانوں کے قلب میں پیوست خنجر قرار دیا تھا اور امتِ مسلمہ کو اس کے مقابلے میں جہاد کی راہ دکھائی تھی۔ ایران کا ہدف مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ اور فلسطین کا اختیار فلسطینی عوام کے سپرد کرنا ہے، جسے اس نے ہمیشہ ایک واضح اور اعلان شدہ مقصد کے طور پر پیش کیا ہے اور جس کے لیے وہ اپنی سب سے بڑی سے بڑی قربانی بھی پیش کر چکا ہے۔

تحریر: تصور حسین شہزاد

Read 3 times