اطالوی اخبار کے عسکری صحافی جیانلوکا دی فیو نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام میں کمزوری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور یہ نظام ایران کے بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کے سامنے اپنی مؤثریت کھو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب کی جانب سے جدید اور طاقتور ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایسے میزائل بھی استعمال ہو رہے ہیں جو دفاعی نظام کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اطالوی اخبار کے مطابق اسرائیل نے اپنے آرو دفاعی نظام کے استعمال میں کمی کر دی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو بڑی تعداد میں آنے والے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم بظاہر اس کے میزائل ذخائر محدود ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کی پہلی لہر کو روکنے کے لیے اسرائیل نے 80 سے زائد انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے، جبکہ ایک سابقہ جنگ میں ابتدائی مرحلے پر یہ تعداد تقریباً 50 تھی۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی تیاری کا عمل سست اور محدود ہے، اور صرف اسی مقدار کو دوبارہ تیار کرنے میں تقریباً تین سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آرو میزائلوں کی کمی کے باعث اسرائیلی فوج اب بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ "فلاخن داود" نظام استعمال کر رہی ہے، تاہم یہ نظام بڑے پیمانے پر حملوں کو روکنے میں ناکام ہورہا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرسیپٹر ہتھیاروں کی کمی پر امریکی محکمہ دفاع میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے، جبکہ خلیج فارس کے ممالک بھی اس صورتحال پر فکرمند ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے جہازوں پر جدید میزائل دفاعی نظام نصب کر رہا ہے، جن میں تھاڈ، اس ایم 3 اور پیٹریاٹ پاک 3 شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی 36 گھنٹوں میں امریکی افواج نے 80 سے زائد تھاڈ اور 150 دیگر میزائل استعمال کیے، جو ان کے کل ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی سالانہ پیداوار 40 سے زیادہ نہیں، جس کے باعث استعمال ہونے والے ذخیرے کی بھرپائی میں 2030 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
