حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سید محمد الموسوی کا قتل فقط ایک المناک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایسے تسلسل کا حصہ ہے جس میں جیلوں میں تشدد کا شکار افراد کی لاشیں معاشرے کو ڈرانے کے لیے بطور پیغام استعمال کی جاتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جرم دراصل خوف و ہراس پھیلانے، عوامی ارادے کو توڑنے اور انتقام و جبر کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ انجمن کے مطابق، سید الموسوی کی نہایت پرتشدد انداز میں موت ایک مکمل جرم ہے، جو سنگین بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے لیے فوری، آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہیں۔
انجمن نے کہا کہ بحرین میں بعض سرکاری اداروں، حتیٰ کہ عدالتی نظام کو بھی جبر و تشدد کی پالیسیوں کو جواز دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل اس خطرناک طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ناقد آوازوں کو خاموش کرنا اور جیل، تشدد یا موت کے خوف کے ذریعے پورے معاشرے کو مرعوب بنانا ہے، جبکہ وہاں بنیادی قانونی ضمانتیں بھی شدید کمزور ہو چکی ہیں۔
بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے بحرینی حکام سے مطالبہ کیا کہ اس جرم کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور معتبر بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی جائے، جبری لاپتہ افراد کی فوری معلومات فراہم کی جائیں، جیلوں میں تشدد اور بدسلوکی کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور خودسرانہ طور پر گرفتار تمام افراد کو رہا کیا جائے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
