مسلمانوں کی تکفیر سنت پیغمبر ۖ کی مخالفت کرنا ہے

Rate this item
(0 votes)
مسلمانوں کی تکفیر سنت پیغمبر ۖ کی مخالفت کرنا ہے

 

۔

 

 
:جس طرح مسلمانوں کے کفر کا فتویٰ دینا قرآن مجید کے مخالف ہے اسی طرح سنت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی مخالف ہے اس بارے میں ہم یہاں پہ اہل سنت کی معتبر ترین کتب کے اندر موجود احادیث میں سے فقط چند ایک کی طرف اشارہ کریں گے ۔
الف) مسلمانوں کی تکفیر سے شدید ممانعت :
حضرت علی علیہ السلام اور حضرت جابر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
''...اہل لا الہ الا اللہ لاتکفروھم بذنب ولا تشہد وا علیھم بشرک ''(١)
لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کو گناہ کی وجہ سے مت تکفیر کرو اور ان پر شرک کی تہمت نہ لگاؤ۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں : میں نے رسول خدا ۖ سے سنا آپ نے فرمایا:
'' لا تکفروا احدا من اہل القبلة بذنب وان عملوا بالکبائر''()
اہل قبلہ میں سے کسی کو گناہ کے سبب تکفیر نہ کرو اگر چہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو ۔(٢)
--------------
(١)المعجم الاوسط ٥:٩٦ ؛ مجمع الزوائد ١: ١٠٦.
(٢)مجمع الزوائد ١: ١٠٦و١٠٧.

ب: دوسروں کو تکفیر کرنے والے کا کفر
بخاری نے ابو ذر سے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے سنا آپ ۖنے فرمایا:
''لا یرمی رجل رجلا بالفسوق ولایرمیہ بالکفر الا ارتدت علیہ ، ان لم یکن صاحبہ کذلک ''(1)
اگر کوئی شخص دوسرے کو گناہ یا کفر سے متہم کرے جب کہ وہ شخص گنہگار یا کافر نہ ہو تو وہ گناہ و کفر خود تہمت لگانے والے کی طرف پلٹے گا ۔
عبد اللہ بن عمر نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا:
'2ایما رجل مسلم کفر رجلا مسلما فان کان کافرا والا کان ھو الکافر ''.()
جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہے اور وہ مسلمان کافر نہ ہوتو کہنے والا خود کافر ہو جائے گا ۔
نیز عبد اللہ بن عمر نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ کہ آپ ۖنے فرمایا:
--------------

(1صحیح بخاری ٧:٦٠٤٥٨٤، کتاب الادب ، باب ماینھیٰ من السباب واللعن.
(2)کنز العمال ٣:٦٣٥از سنن ابی دادؤو مسند احمد ٢:٢٢.تھوڑے سے فرق کے ساتھ .

''کفوا عن اہل لا الہ الا اللہ لا تکفروھم بذنب من اکفر اہل لا الہ الا اللہ فھوا لی الکفر اقرب ''۔(١)
لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے دست بردار ہو جاؤ اور انھیں گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو۔ جو شخص اہل توحید کی طرف کفر کی نسبت دیتا ہے وہ خود کفر سے نزدیک تر ہے ۔

ج:اہل قبلہ کے قتل کی حرمت
صحیح بخاری نے انس بن مالک کے واسطے سے رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا:
''من صلی صلاتنا ، واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی لہ ذمة اللہ وذمة رسولہ فلا تخفروااللہ فی ذمتہ ''.( ٢)
جو ہماری طرح نماز پڑھے، قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارے ذبح شدہ حیوانات کا گوشت کھائے تو وہ مسلمان اور خدا و رسول ۖ کی پناہ میں ہے پس عہد خدا کو نہ توڑو۔

د: خوف سے اسلام لانے والے کے قتل کی حرمت
صحیح مسلم نے اسامنہ بن زید سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : پیغمبر اکرم ۖ
--------------

(١)معجم الکبیر١٢: ٢١١ ؛ مجمع الزوائد ١:١٠٦ ؛ فیض القدیر شرح جامع الصغیر ٥: ١٢ ؛ جامع الصغیر ٢ : ٢٧٥؛ کنز العمال ٣: ٦٣٥.
(٢) صحیح بخاری ١:٣٩١١٠٢، کتاب الصلاة ، باب فضل استقبال القبلة .

نے ہمیں ایک قبیلہ کے ساتھ جنگ کے لئے بھیجا ، صبح کے وقت ہم اس قبیلہ کے پاس پہنچے ۔ میں نے ایک شخص کا پیچھا کیا تو اس نے کہا : '' لا الہ الا اللہ ''مگر میں نے نیزہ مار کر اسے قتل کر ڈالا ۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلط کام کیا ہے ، پیغمبر ۖ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا:''اقال لا الہ الا اللہ وقتلتہ ''کیا تونے اسے ''لا الہ الا اللہ ''کہنے کے باوجود قتل کردیا ؟
میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ۖ !اس نے اسلحہ کے خوف سے کلمہ پڑھا۔ آنحضرت نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا ؟ پیغمبر ۖ نے اس بات کا اس قدر تکرار کیا کہ میں آرزو کرنے لگا کہ اے کاش! آج ہی کے دن پیدا ہوا ہوتا ( اوراس عظیم گناہ کا ارتکاب نہ کرتا )
سعد بن وقاص کہتاہے : میں اس وقت تک کسی مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک اسامہ اسے قتل نہ کرے ایک شخص نے کہا : کیا خداوند متعال نے یہ نہیں فرمایا: ( وقاتلوھم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کلہ اللہ )اور کافروں کو قتل کر و یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین فقط خد اہی کا رہ جائے ۔
سعد نے کہا: ہم اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ فتنہ ختم ہو جب کہ تم اور تمہارے ساتھی اس لئے لڑتے ہوتاکہ فتنہ برپاکرسکو ۔(١)
-----v

Read 144 times

Add comment


Security code
Refresh