حج بیت اللہ چند روایات معصومین علیہم السلام کی روشنی میں

Rate this item
(0 votes)
حج بیت اللہ چند روایات معصومین علیہم السلام کی روشنی میں
تحریر: سید اسد عباس
 
موسم حج آن پہنچا، تاہم اس مرتبہ حج گذشتہ روایات سے ہٹ کر انجام دیا جائے گا۔ کرونا کے سبب حکومت سعودیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس مرتبہ دنیا بھر سے مسلمان حج کی سعادت سے بہرہ ور نہیں ہوسکیں گے۔ سعودیہ میں مقیم افراد نیز سعودیہ کے اقامہ ہولڈر ہی اس سعادت سے فیضیاب ہوں گے۔ حج کے حوالے سے یقیناً ایس او پیز کی تیاری بھی جاری ہوگی۔ یہ شاید کعبۃ اللہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ حج کو ایسی پابندیوں کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم دنیا کو اس وبائی مرض سے نجات عطا فرمائے، تاکہ ایک مرتبہ پھر بلاد حرم، زیارات مقدسہ اور مساجد و عبادت خانوں کی رونقیں بحال ہوسکیں۔ حج کے اجتماع کے حوالے سے مسلم مفکرین نے مختلف انداز سے اس اجتماع کی غرض و غایت کو بیان کیا ہے۔ ان مفکرین کی آراء کو اگر جمع کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں انھوں نے اس عظیم عبادت کے عبادی اور معنوی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے، وہیں اس کے اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی گوشوں پر بھی گفتگو کی ہے۔

گذشتہ دنوں مجھے چند ایک مسلم مفکرین کے حج کے حوالے سے مضامین پڑھنے کا موقع ملا، جن میں مولانا مودودی، مولانا ابو الکلام آزاد، امام خمینی، شہید مرتضیٰ مطہری اور شہید باقر الصدر شامل ہیں۔ یقیناً درج بالا نام ان چند شخصیات کے ہیں جنھوں نے اس عظیم عبادت کے فلسفہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ حج کے عبادی اور معنوی پہلوؤں پر تو تقریباً سبھی مفکرین کا اتفاق ہے، تاہم بعض کے نزدیک یہ عبادت فقط انفرادی، عبادی اور معنوی حیثیت کی حامل نہیں بلکہ اس میں امت مسلمہ کے لیے اجتماعی پیغامات بھی موجود ہیں۔ حج کے سیاسی اور اجتماعی پہلو کے حوالے سے امام خمینی، شہید مرتضیٰ مطہری اور شہید باقر الصدر نے متعدد تحریریں قلمبند کیں۔
 
روایات اور سیرت معصومین علیہم السلام میں حج کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی نگاہ میں حج کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب امیر کائنات حالت سجدہ میں 19 رمضان المبارک کو ابن ملجم لعین کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور جب زہر کا اثر جسم مبارک میں پوری طرح اثر انداز کر گیا تو مولائے متقیان نے اپنی اولاد و اقارب کو جمع کرکے جو آخری وصیت فرمائی، اس میں ”حج“ کی بھی تلقین فرمائی۔ آپ نے فرمایا ”یہ میری وصیت ہر اس شخص کو ہے (قیامت تک) کہ جس تک یہ میری وصیت پہنچے، اس میں نماز اور قرآن کے ساتھ عبادت الٰہی میں جس چیز کے متعلق انتباہ ضروری خیال فرمایا وہ حج ہے۔ فرمایا:
اللّٰہ اللّٰہ فی بیت ربکم فانہ ان ترک لم ینظروا“ ترجمہ: "دیکھو اللہ سے ڈرنا اپنے پروردگار کے گھر (خانہ کعبہ) کے بارے میں کہ اگر اس کا حج موقوف ہو جائے تو پھر خلق خدا کو عذاب الہیٰ سے مہلت نہیں مل سکتی۔" ایک اور جگہ مولائے متقیان علیہ السلام نے فرمایا: "لا تترکوا حج بیت ربکم، فتھلکوا" ترجمہ: "دیکھو! اپنے پروردگار کے گھر (خانہ کعبہ) کا حج ترک نہ کرنا، ورنہ ہلاکت سے دوچار ہو جاؤ گے۔"(ثواب الاعمال ص: 212)
 
امام حسن ؑکے بارے ملتا ہے کہ آپ نے بیس (20) حج پا پیادہ کیے۔ بعض روایات کے مطابق پچیس (25) پا پیادہ حج کیے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے پچیس (25) حج پا پیادہ کیے اور تین دفعہ آپ نے اپنا کل اثاثہ خدا کی راہ میں لُٹا کر حج کیا۔ امام زین العابدین علی الحسین علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:
"حجوا واعتمروا وتضح اجسامکم و تتسع ارزاقکم، ویصلح ایمانکم وتکفوا مونۃ عیالاتکم" ترجمہ: "حج اور عمرہ بجا لایا کرو، جسمانی طور پر تندرست رہو گے، رزق میں اضافہ اور برکت ہوگی، ایمان میں اصلاح ہوگی(تمہارے مال میں اتنی وسعت ہوگی کہ لوگوں کی ضرورت پوری کرسکو گے)۔" حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "الحاج و المعتمر وفد اللہ ان سئلوہ اعطاھم و ان دعوہ اجابھم، و ان شفعوا شفعھم، وان سکتوا ابتداھم ویعضون بالدرھم الف الف درھم۔" ترجمہ: "حج اور عمرہ کرنے والے خداوند عالم کی بارگاہ میں حاضر ہونے والا (ایسا وفد ہے) کہ اگر یہ لوگ اس سے کچھ مانگیں تو عطا کرے گا، اگر اسے پکاریں تو جواب دے گا، کسی کی سفارش کریں تو اس کی سفارش کو قبول کرے گا، اگر خاموش رہیں تو وہ خود ابتدا کرے گا اور ہر درہم کے بدلے انھیں ہزار ہزار درہم دیے جائیں گے۔"
 
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "من مات ولم یحج حجۃ الاسلام ولم یمنعہ من ذلک حاجۃ تجحف بہ او مرض لا یطیق الحج من اجلہ او سلطان یمنعہ فلیمت ان شاء یھودیا و  ان شآء نصرانیا۔"ترجمہ: "اگر کسی شخص نے (استطاعت کے باوجود) حج کا اسلامی فریضہ ادا نہیں کیا، جبکہ نہ کوئی ایسا ضروری کام درپیش تھا، جو اس کے لیے رکاوٹ بنے، نہ ایسا بیمار تھا کہ جس کی وجہ سے حج کر ہی نہ سکے اور نہ (حکم وقت) کسی جابر سلطان نے اسے منع کیا تھا، تو وہ چاہے یہودی مرے یا عیسائی۔" ایک اور جگہ امام صادقؑ نے فرمایا: "من حج یرید بہ اللہ ولا یرید بہ ریاء ولا سمعۃ، غفراللہ لہ البتۃ۔"(ثواب الاعمال، صف ۲۶) ترجمہ: "جو شخص حج کرے اور اس کا مقصد صرف خداوند عالم (کی خوشنودی) ہو، نہ ریاکاری پیش نظر ہو، نہ شہرت(وغیرہ) تو خداوند عالم، یقیناً اس کی مغفرت فرمائے گا۔"
 
 حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: "اعلم یرحمک اللہ، ان الحج فریضۃ من فرائض اللہ جل و عز اللازمۃ الواجبۃ من استطاع الیہ سبیلاً، وقد وجب فی طول العمر مرۃ واحدۃ، ووعد علیھا من الثواب الجنۃ والمعفومن الذنوب، وسمی تارکہ کافرا، وتوعد علی تارکہ بالنار فنعوذ باللہ من النار۔" ترجمہ: "یاد رکھو! خدا تم پر رحم کرے کہ ”حج“ خداوند عالم کے مقرر کردہ فرائض میں سے ایک اہم، واجب و لازم فریضہ ہے۔ ہر اس شخص کے لیے جس کو وہاں جانے کی استطاعت حاصل ہو۔ یہ پوری زندگی میں صرف ایک بار واجب ہے۔ خداوند عالم نے اس (کی ادائیگی) پر گناہوں کی مغفرت اور اس کے ثواب کے طور پر جنت کا وعدہ کیا ہے۔ اسے ترک کرنے والے کو کافر کے نام سے یاد کیا ہے اور حج نہ کرنے والے کو جہنم کے عذاب کی خبر دی ہے۔" ہم آتش جہنم سے خداوند عالم کی پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ کریم ہر مسلمان کو اس عظیم عبادت کو اس کی حقیقی روح کے مطابق انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ افراد جو اس برس کوویڈ 19 کے سبب حج کی سعادت سے محروم رہے ہیں، خدا انہیں اگلے برس حج بیت اللہ سے سرفراز فرمائے، نیز ان احباب کو اپنے اموال کو راہ خدا میں صرف کرنے اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین
Read 112 times

Add comment


Security code
Refresh