یوم القدس، قبلہ اول کی آزادی کا نعرہ ایمان سے مشروط ہے

Rate this item
(0 votes)
یوم القدس، قبلہ اول کی آزادی کا نعرہ ایمان سے مشروط ہے

تحریر: ڈاکٹر ابوبکر عثمانی

جمعة الوداع قریب ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان سردار الایام (جمعۃ الوداع، دنوں کا سردار دن) کو خشوع و خضوع سے منانے کیلئے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث حکومت اور اداروں کی جانب سے بھی خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مساجد، مدارس، عیدگاہوں کی تزئین و آرائش بھی جاری ہے۔ مذہبی و سیاسی تنظیموں، تحریکوں کی جانب سے اپنی خدمات یا عزائم کی تشہیری مہم عروج پہ ہے۔ کہیں مبارکباد تو کہیں درخواست، کہیں خیر مقدمی تو کہیں احتجاجی بینرز، پینا فلیکسز آویزاں ہیں اور مزید بھی نصب کئے جا رہے ہیں۔ تمام اقدامات سر آنکھوں پہ، مگر سوال یہ ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس، قبلہ اول کیا کسی ایک خاص مکتب فکر کا ہے۔؟ کیا فلسطین کی آزادی کی جدوجہد ایک مخصوص مسلک کیلئے ہے۔؟ اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ قبلہ اول، بیت المقدس کی آزادی، فلسطین کی آزادی، اسرائیل کے خاتمے، کشمیر کی آزادی سے تجدید عہد پہ مبنی پوسٹرز، بینرز ایک ہی مسلک و مکتب کی جانب سے جاری کئے جا رہے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا میں بھی اسی مسلک کے رہنماؤں، اکابرین کی جانب سے عالم اسلام کے اجتماعی مفادات، حقوق کا نعرہ حق بلند ہے۔؟ کیا وجہ ہے کہ اسی مکتب فکر کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ ہونیولی عالمی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔ شہر شہر میں انہی کی جانب سے قبلہ اول پہ صہیونی قبضے کے خلاف احتجاجی ریلیوں اور لانگ مارچ کی کال دی جا رہی ہے۔؟ ایسا کیوں ہے۔؟ کیا ہم نے آزادی فلسطین کا مقدمہ کسی ایک مکتب کے سپرد کر دیا ہے؟ یا ہم نے قبلہ اول پہ صہیونی قبضے کو قبول کر لیا ہے۔؟ یقیناً دونوں باتوں میں صداقت نہیں ہے۔ آپ ایران کے انقلاب اسلامی سے چاہے اختلاف کریں یا امام خمینی کے نظریات سے اتفاق نہ کریں، مگر مقدمہ فلسطین کے حوالے سے ان کے اس احسان کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے کہ جو انہوں نے جمعة الوداع کو یوم القدس قرار دیکر تمام عالم اسلام پہ کیا ہے۔

دنیائے اسلام اس عنوان سے امام خمینی کی ممنون ہے کہ انہوں نے یوم القدس منانے کا فرمان جاری کرکے قبلہ اول کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونکی۔ ایک ایسے مقدمے کو زندہ کیا، جسے بھلا دیا گیا تھا۔ فلسطین کی آزادی کے اس نعرے کو پھر سے ببانگ دہل بلند کیا کہ جسے تقریباً تقریباً فراموش کر دیا گیا تھا۔ امام خمینی جمعة الوداع کو یوم القدس قرار دیکر قدس کی آزادی، فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کمرہ بند اجلاسوں سے، عالمی ایوانوں میں ہونے والی مخفی میٹنگز سے، حکومتی خط و کتابت سے نکال کر عوامی سطح تک لے آئے۔ دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں کی زبان کو موقع فراہم کیا کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کے خلاف آواز بلند کریں۔ آزادی فلسطین، بیت المقدس کی آزادی کے لیے اس سے بڑھ کر کیا خدمت ہو گی کہ جمعة الوداع کے موقع پہ دنیا بھر میں عظیم الشان انسانی اجتماع برپا ہوتے ہیں اور کروڑوں لوگ قبلہ اول مقبوضہ بیت المقدس کی، فلسطین کی آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

تاریخ کے چند حقائق کو سامنے رکھیں تو امام خمینی کی اس خدمت کا بہتر ادراک ہوتا ہے کہ جو انہوں نے جمعة الوداع کو یوم القدس قرار دیکر کی ہے۔ نومبر 1917ء میں آزاد عربوں کی سرزمین (فلسطین) میں یہودیوں کو آباد کرنے کی عالمی سازش کا آغاز ہوا۔ جس کے خلاف اس وقت کے تقریباً تمام مسلمان ممالک نے شدید احتجاج کیا۔ ابھی قیام پاکستان عمل میں نہیں آیا تھا، مگر اس وقت بانی پاکستان کی فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کے حوالے سے گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔ اکتوبر 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں خطبہ صدارت کے دوران مسئلہ فلسطین پہ بات کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ''یہ سب برطانیہ کا کیا دھرا ہے، عربوں کو جنگ عظیم میں استعمال کرنے کے بعد ان پہ بالفور اعلامیہ مسلط کیا گیا۔ برطانیہ وعدہ خلافی کرکے اپنی قبر کھودے گا۔ برصغیر کے مسلمان عربوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی اجلاس میں منظور ہونے والی قرار داد میں کہا گیا تھا کہ اگر برطانیہ اپنے اقدام سے باز نہیں آیا تو مسلمان برطانیہ کو اسلام کا دشمن تصور کرینگے اور اس کے خلاف اپنے ایمان کے تحت اقدامات کریں گے۔''

فلسطین کی آزادی کے حوالے سے یہ بانی پاکستان کا وہ ویژن ہے کہ جس کی بنیاد قیام پاکستان سے بھی پہلے رکھی گئی اور نہایت شفاف الفاظ میں ہر اس طاقت کے خلاف قیام کا عزم ظاہر کیا گیا کہ جو کسی بھی طریقے سے اسرائیل کو تحفظ دینے کی کوشش کرے۔ یاد رہے کہ جس وقت بانی پاکستان اس عزم کا اظہار کر رہے تھے، اس وقت برصغیر برطانیہ کے زیر تسلط تھا اور قائداعظم فلسطین کی آزادی کیلئے اسی مسلط برطانوی سامراج کے خلاف قیام کو ایمان سے مشروط بیان فرما رہے تھے اور برطانیہ کو اسلام کا دشمن قرار دے رہے تھے، حالانکہ برطانوی سامراج کے زیرتسلط مساجد بھی آباد تھیں۔ مدارس بھی چل رہے تھے۔ مدارس کو حکومتی آشیرباد اور فنڈنگ بھی حاصل تھی۔ نماز، روزہ، حج، زکواة پہ بھی کوئی پابندی یا قدغن نہیں تھی، مگر اس کے باوجود بانی پاکستان یا قیام پاکستان کی تحریک کے ہراول دستے نے مسئلہ فلسطین کو صرف عربوں کا مسئلہ نہیں سمجھا، خطے کا مسئلہ نہیں کہا اور نہ ہی اسے سیاسی مسئلہ قرار دیا بلکہ زور دیکر اسرائیل کے محافظ کو اسلام کا دشمن قرار دیا اور آزادی فلسطین کی جدوجہد کو ایمان سے منسلک بتایا۔ کیا پاکستان بنانے والوں کا فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی نابودی سے متعلق یہ نظریہ پاکستانی حکومتوں اور عوام کیلئے واضح اور شفاف راستہ نہیں۔؟

1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ 1979ء میں انقلاب اسلامی برپا ہوا اور اگست 1979ء میں امام خمینی نے جمعة الوداع کو یوم القدس قرار دیا اور فلسطین کی آزادی کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف عوامی مظاہروں کا اعلان کیا۔ قیام پاکستان سے لیکر امام خمینی کی جانب سے جمعة الوداع کو یوم القدس قرار دیئے جانے کا درمیانی عرصہ تقریباً 35 برس ہے۔ ان 35 سالوں میں فلسطین کی آزادی کا مطالبہ سیاسی رہنماؤں کے اخباری بیانات میں کبھی کبھار تو ملتا ہے، مذہبی و سیاسی جماعتوں کی کانفرنسز میں بھی خال خال ملتا ہے، مگر عوامی سطح پہ، گلی کوچوں میں شہر بہ شہر اسرائیل کے خلاف اور قبلہ اول کی آزادی کے حق میں عوامی اجتماعات ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔ نہ ہی عوامی سطح پہ اس مسئلہ کی حساسیت کا ادراک تھا اور نہ ہی یہ مطالبہ زبان زدعام تھا۔ باالفاظ دیگر انقلاب اسلامی ایران سے قبل اسرائیل کے خلاف عوامی مظاہرے اور آزادی فلسطین کیلئے عوامی اجتماعات اس مقدار اور تعداد میں نہیں ملتے کہ جو انقلاب ایران کے بعد دنیا بھر میں ملتے ہیں۔ اب یہ کریڈٹ تو بہرحال امام خمینی اور انقلاب اسلامی ایران کو ہی جاتا ہے کہ آج دنیا بھر میں صہیونیت کو اپنے خلاف عظیم عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔

پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں کہ جو محض انقلاب اسلامی سے نظری اختلاف کی بناء پہ یوم القدس کے اجتماعات اور عوامی ریلیوں کے خلاف ''دور کی کوڑی'' لاتے ہیں۔ میرا سوال اپنے انہی بھائیوں سے ہے کہ آیا آپ کو قبلہ اول پہ یہودی قبضہ قبول ہے۔؟ یا تحریک آزادی قبلہ اول و فلسطین کے تمام حقوق آپ ایک مخصوص مکتب و مسلک (اہل تشیع) کو سونپ چکے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جناب اپنی خانقاہوں، مدارس، مساجد اور حجروں سے باہر آئیں۔ اسرائیل کے خلاف، امریکہ کے خلاف، برطانیہ کے خلاف نعرہ حق بلند کریں۔ سیدالایام قرار پانے والے جمعة الوداع کے موقع پہ حالت روزہ میں سوکھے گلے اور خشک لبوں کے ساتھ قبلہ اول کی، مسجداقصیٰ کی آزادی کا نعرہ بلند کریں۔ دنیا بھر کے مظلومین کے حق میں آواز اٹھائیں۔ عالمی سامراج کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں اتریں۔ یہی پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اور عالم اسلام کے بھی مفاد میں اور اسی سے اسلام کا بھی بول بالا ہوگا۔ (نوٹ: اگر بات دل کو نہیں لگی تو تعصب کی عینک اتار کر دوبارہ پڑھیں)

Read 18 times

Add comment


Security code
Refresh