جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات (1)

Rate this item
(0 votes)
جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات (1)

مسائل کسی کو پسند نہیں، اس کے باوجود انسانی زندگی اور مسائل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ انسانی زندگی کی بقا کا انحصار مسائل کی درست شناخت اور ان کے حل پر ہے۔ جسے مسائل  کی درست شناخت نہیں، وہ مسائل کے حل کیلئے کوئی ٹھوس حل بھی نہیں تجویز کر سکتا۔ یعنی بیماری کی صحیح تشخیص کے بعد ہی اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات کی یاد آوری، ان مسائل کی صحیح تشخیص اور ان کے حل کیلئے تجاویز کے حوالے سے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی آن لائن نشستیں میرے جیسے طالب علم کیلئے بہت مفید ہیں۔ یہ نشستیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس انسان کی حالت کیسے بہتر ہو سکتی ہے کہ جسے اپنی بیماری کا  کچھ پتہ ہی نہ ہو اور وہ مختلف دوائیاں استعمال کرتا چلا جائے۔

مانا کہ ساری دوائیاں مفید ہوتی ہیں لیکن ساری دوائیاں سارے مریضوں کو نہیں کھلائی جاتیں۔ اسی طرح سیاسی و اقتصادی  نیز سماجی و معاشرتی مسائل بھی جسمانی بیماریوں کی طرح مختلف اقسام کے ہوتے ہیں اور ان کے حل کیلئے بھی متخصص ماہرین اور تجربہ کار دانشمندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی بھی شخص سماجی و سیاسی اور اقتصادی مسائل کا متخصص اور ماہر اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ کسی مسئلے کے تمام پہلوؤں سے آگاہ نہیں ہوتا۔ آگاہی کا یہ سفر اشتراکِ فکر، مکالمے اور مباحثے سے انجام پاتا ہے۔  ہمارے ہاں اشتراکِ فکر اور مکالمے  و مباحثے کیلئے جس وسعتِ قلبی کی اشد ضرورت ہے وہ خال خال ہی نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں مسائل کے حل کیلئے مشترکہ راہوں کی تلاش، مل کر سوچنے کی ریت، اجتماعی فعالیت، تنقید سے مثبت پہلو نکالنا، خامیوں کو اصلاح کے ساتھ دور کرنا اور فراخدلی کے ساتھ دوسرے کو اپنے پہلو میں جگہ دینا یہ سب کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔

اجتماعی سوچ اور آفاقی شعور کی کمی اور فقدان کے باعث ہمارے ہاں انانیت اور انفرادیت کا دور دورہ ہے۔ ظاہر ہے ایسے میں اجتماعی مفادات کو انفرادی فیصلوں پر قربان کر دینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جہاں پر اجتماعی مفادات کو انفرادی تجزیات اور شخصی آرا کی بھینٹ چڑھا دینا معمول ہو وہاں نئے افکار کی تولید اور نئے زاویوں کی تلاش نہیں کی جا سکتی۔ ہم وہ لوگ ہیں جو نوآوری اور اختلاف رائے کا دروازہ بند کر کے اندھی تقلید کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا چکے ہیں۔ ہمیں نہ ہی تو مخالفت کرنے کے آداب آتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کو برداشت کرنے کا ہنر ہمارے پاس  ہے۔ پس ہمارا معاشرہ خصوصاً مشرقی معاشرہ ان دو بنیادی خوبیوں سے یکسر طور پر عاری ہے۔ یہ انٹرنیشنل فورم ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم ہر صبح کو ٹرک کی ایک نئی بتی کے پیچھے  کیوں دوڑنے لگتے ہیں۔ اس دوڑ میں بھی ہمیں اپنی انفرادیت اور انا کا خاص طور پر خیال رہتا ہے۔

چنانچہ اس بھیڑ چال میں بھی ہم دوسروں کو پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اب اس بھاگم بھاگ میں ہم یہ بھی بھول چکے ہیں کہ ہم اصل میں کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ کہاں کو دوڑ رہے ہیں؟ ہمارے پاؤں کیوں زخمی ہیں؟ ہمارے گریبان کیوں پھٹے ہوئے ہیں؟ ہم نے آستینیں کیوں چڑھا رکھی ہیں؟ ہماری بھنویں کیوں تنی ہوئی ہیں؟ ہماری ہر صبح و شام کا آغاز ایک نئی دوڑ اور ایک نئی لڑائی سے کیوں ہوتا ہے؟ ہم آخر کس قبیلے کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے ہی دین کو بدنام کر دیا ہے؟ ہم آخر کس قماش کے انسان ہیں کہ جنہوں نے اپنے ہی بچوں کا حال اور مستقبل تاریک کر دیا ہے؟ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے دنیا بھر میں اتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے کہ جہانِ اسلام میں  بیواؤں اور یتیموں کی  گنتی کسی کے بس میں نہیں۔ کہنے کو تو ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن ہمارے وسائل ہمارے کسی کام کے نہیں، ہمارے ہاں کپڑے سینے والی ایک سوئی کے اوپر بھی میڈ اِن جاپان لکھا ہوتا ہے۔

ہم آج بھی غیروں کیلئے بیساکھی کا کام دیتے ہیں اور ہم دل و جان راضی ہیں کہ کل کو ہماری نسلیں بھی اغیار کے شکم کا ایندھن بنیں۔ اب مسلمانوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو اسی بھیڑچال میں دوڑتے چلے جائیں، اپنے سوا باقی سب کو غلط، باقی سب کا منہ بند، باقی سب کی تکفیر، باقی سب باطل، باقی سب واجب القتل، باقی سب گمراہ  اور یا پھر اختلافِ رائے کا دروازہ کھولیں، سطحی اور عامیانہ باتوں کی بجائے تعلیم، تحقیقات اور مطالعات کی طرف آئیں، میں، انا اور انفرادیت کے بجائے، مکالمے، اصلاح، مدد اور تکمیل کا آغاز کریں اور  سب سے بڑھ کر  اپنے اندر دوسروں کو سننے اور سمجھنے  کا حوصلہ پیدا کریں۔  دوسروں  کو  سننے اور سمجھنے کے حوالے سے ۔۔۔۔

رتحریر: نذر حافیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read 19 times

Add comment


Security code
Refresh