امریکہ میں حاضر سروس پائلٹ کی خودسوزی پر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کا ردعمل

Rate this item
(0 votes)
امریکہ میں حاضر سروس پائلٹ کی خودسوزی پر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کا ردعمل

اسلام ٹائمز۔ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم کے خلاف احتجاج کے دوران امریکی فضائیہ کے پائلٹ آرون بشنیل کی خود سوزی کے ردعمل میں فلسطینی گروہوں نے اعلان کیا کہ یہ واقعہ امریکی حکومت کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف غاصبانہ جرائم میں براہ راست شرکت بند کرے۔ اسی تناظر میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے فلسطینی تحریک حماس نے اس امریکی پائلٹ کے اہل خانہ اور لواحقین کے ساتھ تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو ہارون بشنیل کی خود سوزی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ آرون بشنیل نے انسانی اقدار کے محافظ اور مظلوم فلسطینی قوم کے ظلم و جبر کے طور پر اپنا نام ہمیشہ کے لیے امر کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے 2003 میں رفح میں اسرائیلی بلڈوزر کی زد میں آ کر "ریچل کوری" نامی ایک امریکی کارکن ہلاک ہو گئی تھی۔ رفح وہی شہر ہے جس کے لیے بشنیل نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ مجرم صہیونی فوج کو رفح پر حملہ نہ کرنے دے۔

واضح رہے کہ ریچل کوری ایک 23 سالہ امریکی لڑکی تھی، جسے 16 مارچ 2003 کو فلسطین میں اسرائیلی بلڈوزر نے برے طریقے سے کچل دیا تھا، جب وہ رفح شہر میں فلسطینیوں کے مکانات کی تباہی کے دوران صیہونی حکومت کی کاروائی کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔ یہ اس حقیقت ہے کہ امریکی حکومت کو ریچل کوری کے امریکی کارخانوں کے تیار کردہ بلڈوزر تلے کچلے جانے پر کبھی احساس نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے افسوس کا اظہار کیا۔ حماس نے زور دے کر کہا ہے یہ المناک واقعہ جس کی وجہ سے بشنیل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، امریکی عوام میں بڑھتے ہوئے غصے کو ظاہر کرتا ہے، جو اپنے ملک امریکہ کی اس پالیسی سے ناراض ہیں کہ ان کی حکومتیں فلسطینی عوام کو قتل اور تباہ کرنے میں مدد دیتی ہیں اور یہ انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسی طرح امریکی حکومت قابض صیہونی حکومت کے نازی رہنماؤں کو مدد اور سیکورٹی فراہم کرکے ان پر مقدمہ چلائے جانے اور سزا دلوانے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین نے ایک بیان میں تاکید کی ہے کہ اس امریکی فوجی کا فلسطین کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے بڑی قربانی ہے اور امریکی حکومت کے لیے ایک موثر پیغام ہے کہ وہ فلسطین میں نہتے عوام کے خلاف قابض صیہونی گورسز کے جرائم میں براہ راست شرکت سے باز رہے، اس امریکی پائلٹ کی خود سوزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف صیہونیوں کی نسل کشی میں امریکہ کی مداخلت پر امریکی عوام کس قدر غصے میں ہیں اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب عالمی اور اہم ایشو بن چکا ہے، خاص طور پر امریکی حلقوں میں، یہ واقعہ وحشی سامراج کے ہاتھوں میں استعماری آلہ کار کے طور پر صیہونی حکومت کی اصل نوعیت کو دنیا پر آشکار کرتا ہے۔

قبل ازیں نیویارک ٹائمز نے امریکی فضائیہ کے پائلٹ ایرون بشنیل کی غزہ میں صیہونیوں کے جرائم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود سوزی کی خبر دی تھی، غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے امریکہ میں تل ابیب کے خلاف مظاہرے تقریباً روز کا معمول بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو میں فوجی وردی پہنے ہوئے، بشنیل نے ایک لائیو ویڈیو میں اعلان کیا کہ میں اب اس نسل کشی میں حصہ نہیں لوں گا، اس کے بعد اس نے اپنے اوپر ایک صاف مائع انڈیلا اور خود کو آگ لگاتے ہوئے کہا کہ فلسطین آزاد کرو۔ اس کے علاوہ دسمبر میں غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم اور اس علاقے کے بے گناہ لوگوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے والی ایک خاتون نے اٹلانٹا میں صیہونی حکومت کے قونصل خانے کے باہر خود کو آگ لگا لی تھی۔

Read 84 times