اسلام میں اقتصاد کی اہمیت

Rate this item
(1 Vote)
اسلام میں اقتصاد کی اہمیت

تحریر: رضوان حیدر نقوی
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسلام ایک جامع و کامل دین ہے، جس نے زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق بشریت کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر اسلامی احکامات کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام نے اقتصاد اور معاش کو عبادی احکامات سے اگر زیادہ نہ کہیں تو کم اہمیت بھی نہیں دی۔ بے شک اقتصاد انسانی زندگی کا بنیادی ترین رکن ہے۔ انسان، معاش اور اقتصاد کو نظر انداز کرکے اچھی زندگی نہیں گزار سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح اسلام عبادات و معنویات کو اہمیت دیتا ہے، اسی طرح اپنے خاندان اور بچوں کے لئے حلال رزق کمانے کو بھی جہاد فی سبیل اللہ قرار دیتا ہے۔ دین انسان سازی اور انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود کی خاطر آیا ہے۔ جب انسان کو اس مقصد کے لئے سب کچھ میسر ہو، جو اس کی نشو و نما اور زندگی کے لئے ضروری ہے اور اپنے آپ کو فقر و ناداری سے محفوظ رکھے تو وہ مادیات سے بالاتر ہو کر اعلیٰ مقاصد کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ ایسا انسان ہی معاشرے کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ بہت سے انسان فقر و ناداری کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتے ہیں اور بری خصلتیں ان کے دل و دماغ میں بس جاتی ہیں۔ بسا اوقات قوت فکر مفلوج اور سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

اسلام مال و دولت کو انسانی معاشرے کے لئے ضروری سمجھتا اور اسے بہت اہمیت دیتا ہے۔ اسلام ثروت اور مادی امکانات کو معاشرے کا ستون اور بنیادی جز سمجھتا ہے۔ اقتصادیات انسانی معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ قرآن مجید میں پروردگار فرماتا ہے: آپ کے اموال جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہارا نظام زندگی قائم رکھا ہے۔(سورہ نسا آیت ۵) یہ آیت معاشرے میں اقتصاد کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ درحقیقت معیشت کی نابودی سے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں دولت و ثروت معاشرے اور سماج کے جسم میں خون کی مانند ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں دولت و ثروت کو بشریت کے لئے اپنی نعمت اور شکر گزاری کا وسیلہ قرار دیتا ہے۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام  مال و دولت کو تقویٰ الہیٰ کا سبب قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: مال اور ثروت، تقویٰ الہیٰ کے لئے بہترین مددگار ہے۔ (الکافی،ج۵، ۷۱۔) امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: دنیا، سعادت آخروی کے لئے بہترین مددگار ہے۔(الکافی،ج۵، ۷۲۔) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: تین چیزیں مسلمان کے لئے سعادت ہیں، گھر کا گشادہ اور وسیع ہونا، نیک اور صالح ہمسایہ اور بہترین مرکب کا ہونا۔(الخصال، ج‌1، ص:184)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی رزق و روزی کی تلاش میں ہوتا ہے، تاکہ اس ذریعے سے خود کو لوگوں سے بے نیاز کرے، اپنے خاندان کے لئے رفاہ و آسائش کا انتظام کرے اور ہمسایوں کے ساتھ محبت سے پیش آئے، ایسا شخص قیامت کے دن پروردگار کا دیدار اس حالت میں کرے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہوگا۔(الکافی، ج۵، ۷۸) ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کی: یا ابن رسول اللہ میں دنیا کے پیچھے ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے حاصل کروں۔ امام نے فرمایا: حاصل کرکے کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا: میں چاہتا ہوں کہ اس سے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی بہتر بناوں، صلہ رحم کروں، صدقہ دوں، حج اور عمرہ ادا کروں۔ امام نے فرمایا: یہ دنیا طلبی نہیں بلکہ آخرت طلبی ہے۔(الکافی ج ۵، ۷۸۔) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے منقول ہے کہ جب بھی آپ کی کسی جوان پر نظر پڑتی تو فرماتے: کیا اس کے پاس کوئی ہنر (کام اور کاروبار) ہے، اگر جواب نفی میں ہوتا تو آپ فرماتے: میری نظروں سے یہ جوان گر گیا ہے۔(یعنی میری نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں) جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی جاتی تو آپ فرماتے، جب مومن کے پاس کوئی ہنر نہ ہو تو وہ دین کو معاش کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔(جامع الاخبار، ج۱، ص۱۳۹) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا: آخرالزمان میں لوگوں کے لئے مال و دولت اور ثروت ضروری ہوگی، کیونکہ ان کی دنیا اور آخرت اسی سے قائم ہوگی۔(کنزالعمال ج۳، ص۲۳۸)

اسلام نے محنت و کوشش کو بہت اہمیت دی ہے اور اسے معاشرے کے لئے لازمی جز قرار دیا ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب سورہ طلاق کی آیت 2 اور 3 نازل ہوئیں، جس میں فرمایا گیا: جو تقویٰ الہیٰ اختیار کرتا ہے تو خدا اس کے لئے راستے کھول دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے، جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تو صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ بدفہمی کے باعث عبادت و دعا میں مشغول ہوگئے۔ جب رسول اللہ تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: وہ شخص میرا دشمن ہے، جو اللہ سے اپنے رزق میں اضافہ کی دعا کرے، لیکن اس کے لئے محنت اور کوشش نہ کرے۔(الفقیہ، ج۵، ص۶۷) امام صادق علیہ السلام نے عمر ابن مسلم کے بارے میں پوچھا؛ تو بتایا گیا کہ وہ تجارت چھوڑ کر دعا اور عبادت میں مشغول ہوگیا ہے۔ امام نے فرمایا: افسوس ہے اس پر، کیا اس کو معلوم نہیں کہ فقط دعا (عملی جدوجہد کے بغیر) قبول نہیں ہوتی۔(الکافی ج۵، ۸۴۔) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص خدا کی رحمت سے دور ہے، جو اپنا بوجھ دوسروں کے کندہوں پر ڈال دیتا ہے۔(الکافی، ج ‏5، ص 72) امام صادق فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ بہت سونے والے اور بے کار بندے پر غضبناک ہوتا ہے۔(من لا یحضر الفقیہ، ج ‏3، ص169)

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے کوشش کرنے والا خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔(الکافی ج۲، ص۷۶) امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص اپنے خاندان کے لئے رزق و روزی کی تلاش میں رہتا ہے، اس کا اجر خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے سے زیادہ ہے۔(الکافی ج۵، ص۸۸) رسول اکرم نے فرمایا: عبادت کے دس حصے ہیں، جس میں سے ۹ حصے حلال روزی کمانا ہے۔(جامع الاخبار، ص۱۳۹) امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کا اظہار کرنا دینداری ہے۔(کافی، ج6، ص496۔) پس بنیادی ضروریات کا حصول دینی تعلیمات میں سے ہے۔ معاشرے کے ارباب حل و عقد اور صاحب کرسی و منصب افراد پر ضروری قرار دیا گیا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے ان سہولتوں تک رسائی کو آسان بنائیں، کیونکہ جس معاشرے میں فقر و ناداری کی حکمرانی ہو، وہ معاشرہ مختلف قسم کی بیماریوں اور برائیوں کی جنم گاہ بن جاتا ہے۔

انسان کے لئے سہولیات کا حاصل کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔ انسان کو چاہیئے کہ سہولیات کے حصول کے لئے نیک اور پسندیدہ راستوں کو اپنائے اور جدوجہد کرے، ان سے فائدہ اٹھائے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دیکھے کس زمانہ میں جی رہا ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں ہمیں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہ ہستیاں اپنے زمانے کے مطابق زندگی گزارتی تھیں، جیسا کہ امام علی علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام کی طرز زندگی میں فرق ہے۔ روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کے کاندھے پر بعض اثرات دیکھے گئے، جب امام سجاد علیہ السلام سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ ان کھانے سے بھری گھٹریوں کی وجہ سے ہے، جو میرے بابا ہر روز اپنے کاندھے پر اٹھا کر عورتوں، یتیموں اور مسکینوں کے گھروں میں پہنچاتے تھے۔(بحار ج‌44، ص190) جب رات کا کچھ حصہ گزر جاتا تو امام صادق علیہ السلام اس گھٹری کو جس میں روٹیاں، گوشت اور درہم ہوتے تھے، اپنے دوش اطہر پر اٹھا کر مدینہ کے فقیروں کے پاس جاتے اور ان میں تقسیم کرتے تھے۔(وسایل الشیعه، ج6، ص278) امام موسی کاظم علیہ السلام رات کو مدینہ کے تنگدست لوگوں کے پاس جاتے تھے اور ایک تھیلہ بھی ساتھ لے جاتے، جس میں پیسے اور کھجوریں ہوتی تھیں اور اسے فقیروں میں تقسیم کرتے تھے۔(وسایل الشیعه، ج6، ص278)

اسلام کسی طور پر بھی فقر و فاقہ کو پسند نہیں کرتا بلکہ صراحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ معاد اور معاش کے درمیان ظاہری اور باطنی رابطہ ہے۔ اسلام انسان کی مادی زندگی کے لئے کسب معاش اور لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ جان اور نان کے درمیان موجود رابطے کو بیان کرتا ہے۔ جس سے اسلام میں اقتصادی نظام کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ اسلام ان تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے، جو حیات انسانی کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ میانہ روی اور معتدل راستے سے ہٹنے کا نتیجہ غربت و افلاس کے کنویں میں گرنا ہے۔ غربت اور فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی، مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ غربت یہ ہے کہ انسان زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہو یا ان سہولتوں سے محروم ہو، جن سے انسان ترقی اور تکامل کی منزلوں کو طے کر سکتا ہے۔ احادیث میں غربت اور فقر کی بہت مذمت ہوئی ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: فقر اور غربت سب سے بڑی موت ہے۔(نہج البلاغہ،حکمت154۔)  اور پھر فرمایا: قبر، تنگدستی اور ناداری سے بہتر ہے۔(الکافی، ج ۸، ۲۱۔) معروف جملہ ہے کہ جب فقر ایک دروازے سے داخل ہوتا ہے تو ایمان دوسرے دروازے سے چلا جاتا ہے۔

پس فقر ایک ایسا مرض ہے، جو دھیرے دھیرے پورے مسلم معاشرے کے بدن میں سرایت کر رہا ہے اور اگر جلد اس کا علاج نہیں کیا گیا تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ علم اقتصاد کے ماہرین کا خیال ہے کہ جس معاشرے کی اکثریت غریب ہو، وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ غربت اور تنگدستی تمام آفتوں اور اخلاقی برائیوں کی ماں ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے ایک یہ ہے اے میرے بیٹے! میں نے تمام تلخیوں کا مزہ چکھا، لیکن غربت جیسی کوئی تلخی نہیں ہے۔(جامع أحاديث الشيعة ج‌22، ص238) امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: غربت اور افلاس قرض کے ساتھ سب سے بڑی شقاوت اور بدبختی ہے۔(غررالحکم، ص28۔) امام صادق علیہ السلام، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت بیان فرماتے ہیں: فقر اور تنگدستی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔(الکافی، ج ۲، ۳۰۷۔) علماء کے کلام میں ایک جملہ ملتا ہے کہ جس کی معاش نہیں، اس کی آخرت بھی نہیں۔

غربت و افلاس بہت سے امراض کا سبب بنتی ہے۔ بہت سی نفسیاتی بیماریاں ناداری اور تنگدستی کے سبب وجود میں آتی ہیں۔ جسم کا کمزور ہونا، توہین اور تحقیر کا شکار ہونا، گھریلو زندگی میں ناکام ہونا، اخلاقی اور جنسی برائیوں کا جنم لینا، معاشرے میں سر نیچا ہونا، اداسی کا احساس کرنا، صلاحیتوں کا ضائع ہونا، سیاسی میدانوں سے انہیں دور رکھنا، سیاسی میدانوں کو مالداروں کے لئے کھلا چھوڑنے جیسی بیماریاں غربت اور افلاس سے جنم لیتی ہیں۔ کسی بھی دین کی کامیابی کا راز اس میں مضمر ہے کہ وہ کس حد تک لوگوں کی جسمانی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کی کسی بھی ضرورت کو نظر انداز کئے بغیر تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتا ہے۔ غربت و تنگدستی انسان کے تکامل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ غربت و افلاس انسان کی شخصیت کو برباد کر دیتی ہے۔ غربت و ناداری کے معاشرے پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کینہ اور بغض جیسی لاعلاج بیماریاں پروان چڑھتی ہیں۔ بسا اوقات ناامید غریب شخص پورے معاشرے پر اپنا بوجھ ڈال دیتا ہے۔

یہاں پر اہل علم، دانشوروں، اور صاحب حیثیت افراد کو اپنا کردار پیش کرنا چاہیئے کہ وہ معاشرے کو غربت کے منفی اثرات سے پاک اور غربت کے خاتمے کے لئے خلوص دل کے ساتھ کام کریں؛ غریب لوگوں کیلئے ملازمتیں پیدا کریں، انہیں اپنی کمپنیوں، کارخانوں میں کام کا موقع دیں، ان کی صلاحتیوں اور ہنرمندی میں مزید اضافہ کریں اور ان کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کریں۔ امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں غربت کے بہت سے منفی اثرات ہیں۔ جن میں سے ایک حقارت ہے! امام علیہ السلام  فرماتے ہیں: لوگ فقیر کو فقر کی بنا پر حقیر سمجھتے ہیں۔(الحیات، ج4، ص32) پھر فرمایا: فقیری ایک انسان کو استدلال کے وقت گنگ بنا دیتی ہے۔(الحیات، ج4، ص319) جہاں مولا علی علیہ السلام کی پوری زندگی فقر و ناداری کے خلاف جہاد میں گزری، وہیں آج مسلم معاشرے کی اکثریت فقر و ناداری کا شکار ہے۔ جس کی ایک وجہ خود ہماری سستی اور کام سے فرار ہے۔

جبکہ حضرت علی علیہ السلام معیشت کو سدھارنے کے لئے طاقت فرسا کام انجام دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے اور آپ لوگوں کی معیشت سنوارنے کو خود پر لوگوں کا حق سمجھتے تھے۔(علامہ تقی جعفری، شرح نہج البلاغہ، ج9، ص25) کتب تاریخ میں مذکور ہے کہ امام علی علیہ السلام کی خلافت کے دور میں کوئی شخص بھی کوفہ میں ایسا نہیں تھا، جس کا اپنا گھر نہ ہو۔ اب یہ ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے کہ معاشرے میں غربت کی وجوہات تلاش کرے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ فقر و ناداری، ضعف ایمان کا سبب بھی ہے۔(الحیات، ج4، ص309) جب تک یہ مشکل حل نہیں ہوگی، معاشرہ دلدل میں پھنستا چلا جائے گا۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق فقر، فقر پیدا کرتا  ہے۔(نگاھی بہ فقر زدائی از دیدگاہ اسلام، ص34) امام علی علیہ السلام فقراء کی دستگیری اور ان کی دیکھ بھال کے بارے میں فرماتے ہیں: خدا را خدا را نچلے طبقے کا خیال رکھیں کہ جن کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔(نھج البلاغہ مکتوب53۔) لہذا اس کے لئے کوئی راہ حل تلاش کرنا چاہیئے، تاکہ معاشرے کو غربت و افلاس سے نجات دلائی جاسکے۔ اس کے لئے ہم سب کو جدوجہد کرنی ہوگی۔ پوری قوم کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔

Read 65 times

Add comment


Security code
Refresh