ایام اور اوقاتِ مخصوص با امام مہدی علیہ السلام

Rate this item
(0 votes)
ایام اور اوقاتِ مخصوص با امام مہدی علیہ السلام

وہ روایات جن میں امام مہدی علیہ السلام کا مخصوص ایام یا اوقات میں ذکر زیادہ فضیلت کا حامل ہے، ان کے بارے میں کتاب نجم الثاقب میں یوں بیان کیا گیا ہے:
اول: شب قدر
دوم: جمعہ کا دن
سوم: عاشور کا دن
چہارم: ہر روز (سورج کی سُرخی سے جب وہ غروب ہونے لگے تا اس وقت جب تک کہ مکمل غروب نہ ہو جائے۔)
پنجم: پیر اور جمعرات، عصر کے وقت
ششم: 15 شعبان المعظم (دن اور رات)
ذکر شدہ ایام اور اوقات میں سے کچھ کا ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں:

جمعہ کا دن:
یہ ان ایام میں سے ہے جنھیں امام مہدی علیہ السلام سے زیادہ منسوب کیا گیا ہے۔ اس دن کی فضیلت میں بہت سی روایات ذکر ہیں۔ اس کی اہمیت کو یوں بیان کیا کہ اسے مسلمانوں کی عیدوں میں سے شمار کیا گیا ہے۔ اس دن کے لیے بہت سے اعمال ذکر ہوئے ہیں، جن میں سے کچھ مفاتیح الجنان، مصباح المتھجد اور دیگر دعاؤں کی ذیل میں بیان ہیں۔ علامہ حسین نوری طبرسی ؒ کتاب نجم الثاقب میں فرماتے ہیں کہ اس دن کی اہمیت کا حامل ہونا ان بنا پر ہے:
1) امام علیہ السلام کی ولادت باسعادت اسی دن ہوئی۔
2)  امام ؑ کا ظہور بھی اسی دن ہوگا۔
امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
آسمان سے منادی ندا دے گا کہ قائمؑ کا ظہور ہوگیا ہے، جو کہ پورے عالم میں سنائی دے گی۔۔۔ اور یہ آواز دینے والے جبرائیل امینؑ ہونگے اور فرمایا: یہ آواز شب جمعہ (متفقہ علیہ ہے کہ مغرب کے بعد اگلا دن شروع ہو جاتا ہے۔) ۲۳ ماہ رمضان میں آئے گی۔۔۔ حضرت مہدی (عج) کے ظہور سے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہوگا کہ حق اولاد محمد (ص) کے ساتھ ہے اور ان کے سوا سب باطل پر ہیں۔(تاریخ ما بعد الظہور/۱۷۶ـ کشف الغمہ ج۳،  ص ۲۶۰، وافی، ج ۲، ص۴۴۵۔۴۴۶، کتاب الغیبہ، شیخ طوسی، ص   ۴۳۵و ۴۵۴ و۴۵۳ ارشاد، ج۲، ص ۳۷۱؛ کمال الدین / ۶۵۱بحار الأنوار، ج۵۲، ص۲۰۴۔۲۸۸۔۲۹۰؛ منتخب الاثر، ص ۴۵۹، غیبت نعمانی/۲۵۴)

اس روایت کے علاوہ مزید احادیث و روایات میں بھی امام علیہ السلام کے ظہور کے دن کے حوالے سے جمعۃ المبارک کا ذکر ہوا ہے۔ اس دن امامؑ سے قربت اور انتظار فرج باقی دنوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر امامؑ سے مختص زیارت جس کا اس دن پڑھنے کا ذکر زیادہ روایات میں موجود ہے، وہ یہ ہے: يا مولاي يا صاحب الزمان صلوات الله عليک و علي آل بيتک هذا يوم الجمعه و هو يومک المتوقع فيه ظهورک و الفرج فيه للمومنين علي يدک۔۔۔۔۔ جمعۃ المبارک کے دن کو عید کا دن شمار کیا جاتا ہے۔ یہ دن مومنین، اولیاء اللہ کے لیے بڑا بابرکت دن ہے، اس دن ان کی آنکھیں اور دل منور و روشن اور خوش و خرم ہوتے ہیں۔"( نجم الثاقب، ص۸۱۰) اس دن کی فضیلت پر بہت سی روایات اور احادیث مبارکہ نقل کی گئی ہیں، جیسے کہ نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں: "دن اور رات جمعہ کا دن 24 گھنٹوں پر مشتمل ہے اور پروردگار ہر گھنٹے میں 6 لاکھ لوگوں کو جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے۔"(الخصال، جلد ‏ ۲، صفحہ  ۴۵۱) امام جعفر صادق علیہ السلام ، نبی پاک ﷺ سے حدیث نقل فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے دنوں میں جمعہ کے دن کا انتخاب کیا، راتوں میں سے شب قدر، مہینوں میں سے ماہ رمضان المبارک۔۔۔"(إثبات الوصیہ، صفحہ ۴۹۶)

اس دن کیلئے جن اعمال کا خصوصی طور پر ذکر ہوا:
دعا ندبہ کا پڑھنا، امامؑ کی جدائی میں گریہ کرنا، روز جمعہ کی زیارت کا پڑھنا جو مفاتیح اور جمال الاسبوع میں ذکر ہے: "اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ اللهِ في اَرْضِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَيْنَ اللهِ في خَلْقِهِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا نُورَ اللهِ الَّذي يَهْتَدي بِهِ الْمُهْتَدُونَ۔ جمعہ کے دن نماز عصر سے لے کر غروب تک نبی اکرم ﷺ پر بہت زیادہ صلوات بھیجنے کا ذکر بیان کیا گیا ہے: الّلهُمَّ صلّ علی محمّد و عجِّل فَرَجھم و أهلِك عَدوَّهم مِنَ الجِنِّ و الإنس مِن الاولینَ و الآخِرین(صحیفہ مہدیہ، ص۲۰۴)
اس کے علاوہ صبح اور ظہر کی نماز کے بعد اس دعا کے پڑھنے کا کہا گیا ہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يُدْرِكَ الْقَائِم‏(مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، جلد۱، ص۳۶۸) ان صلوات کے علاوہ ایک اور صلوات جس کو جمعہ کے دن نبی پاک ﷺ پر بھیجنے کی تاکید کی گئی ہے: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ‏ وَ صَلَاةَ مَلَائِكَتِكَ وَ رُسُلِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ یا اس طرح پڑھیں: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُم‏ (مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، جلد۱، ص۲۸۴)

 صلوات "ضراب اصفہانی" جو مفاتیح الجناں میں جمعہ کے دن اور رات کے اعمال میں ذکر کی گئی ہے۔ سید بزرگوار ابن طاووس ؒ فرماتے ہیں: یہ صلوات مقدسہ نبی کریمﷺ اور ان کی آل مبارکہ علیہم السلام پر جمعہ کو عصر کے وقت پڑھنے کے لیے امام زمانہ علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے۔ اس کی فضیلت کے بارے میں فرمایا گیا کہ اگر انسان تعقیبات عصر کو کسی عذر کی وجہ سے چھوڑ بھی دے تو اس صلوات کو نہ چھوڑے۔(صحیفہ مہدیہ، ۲۵۹) دعا ضراب اصفہانی: اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد سَیِّدِ الْمُرْسَلینَ وَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمینَ الْمُنْتَجَبِ فِى الْمیثاقِ الْمُصْطَفى فِى۔۔۔ مُدَّ فى اَعْمارِهِمْ وَ زِدْ فى اجالِهِمْ وَ بَلِّْهُمْ اَقْصى امالِهِمْ دینًا وَ دُنْیا وَ اخِرَةً إنَّکَ عَلى کُلِّ شَىْء قَدیرٌ۔ اس مقالہ کے اختصار کی وجہ سے اس صلوات مبارکہ کا شروع اور آخر والا حصہ دیا گیا ہے۔

پیر اور جمعرات، عصر کے وقت:
احادیث اور روایات کے مطابق اس وقت تمام انسانوں کے اعمال امامؑ کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ جیسے کہ نبی پاک ﷺ کے زمانے میں ان کے پاس اعمال لے جائے جاتے تھے۔ اس سلسلے میں آیات قرآنی اور احادیث و روایات میں سے چند ایک کو ذیل بیان کرتے ہیں: امام زمانہ علیہ السلام کے لئے اللہ کی جانب سے احاطہ علمی ہے کہ کائنات کی ہر شی کا علم امام کے پاس موجود ہوتا ہے اور روزانہ کے اعمال کا علم اور اشیاء میں ردوبدل کا علم جزئیات و کلیات کا علم امام کے لئے حاصل ہے، سورہ یٰسین میں آیت ”وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِی اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ“ (سورہ یٰسین، آیت ۲۱ٍٍٍٍٍ)(اور ہر چیز کو ہم نے ایک امام مبین میں جمع کر دیا ہے۔) کی تفسیر میں بھی اسے بیان کیا گیا ہے اور امام زمانہ علیہ السلام کی توقیعات میں بھی ہے کہ آپ بندگان کے تمام اعمال بارے احاطہ علمی رکھتے ہیں۔

قرآن مجید کی آیات اور معصومین ﴿علیہم السلام کی روایتوں سے یہ نکتہ بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ اور آئمہ اطہارؑ، اُمت کے اعمال کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں۔ قرآن مجید میں آیا ہے: وقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ(سورہ توبہ، آیت ۱۰۵) "اور پیغمبر! کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمھارے عمل کو اللہ، رسول اور صاحبان ایمان سب دیکھ رہے ہیں۔" اس سلسلہ میں جو روایتیں نقل کی گئی ہیں، ان کی تعداد زیادہ ہے، من جملہ اسی آیہ شریفہ کی تفسیر میں امام صادق ﴿ؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت ﴿علیہ السلام نے فرمایا: ”لوگوں کے تمام نیک و بد اعمال ہر روز صبح سویرے پیغمبر اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے ہوشیار رہئے۔“(الکلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج ۱، ص ۲۱۹، كتاب الحجۃ، باب عرض الاعمال علی النبی و الائمۃ، دارالکتب الاسلامیۃ، تہران،ـ۱۳۶۵ھ.ش.)

عبداللہ بن ابان ایک روایت میں کہتے ہیں: میں نے حضرت امام رضا ؑ کی خدمت میں عرض کی کہ: میرے اور میرے خاندان کے لئے ایک دعا فرمایئے۔ حضرتؑ نے فرمایا: ”کیا میں دعا نہیں کرتا ہوں؟ خدا کی قسم آپ کے اعمال ہر روز و شب میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، لہذا ہر مناسب امر کے بارے میں دعا کرتا ہوں۔“ عبداللہ کہتے ہیں کہ امام ﴿ؑکا یہ کلام میرے لئے عجیب تھا کہ ہمارے اعمال ہر روز و شب امامؑ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ جب امام ﴿ؑمیرے تعجب کے بارے میں آگا ہ ہوئے تو مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "کیا آپ خداوند متعال کی کتاب نہیں پڑھتے ہیں، جہاں پر خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: وقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ اور اس کے بعد فرمایا: ”خدا کی قسم اس آیت میں مومنون سے مراد علی بن ابیطالبؑ ہیں۔“ (ایضاً، ج ۱، ۲۱۹، ح۴) چونکہ تمام ائمہ اطہار ﴿ؑنفس واحد کے مانند ہیں اور وہ سب ایک ہی نور ہیں، اس لئے جو بھی حکم ان میں سے ایک کے لئے ثابت ہو، باقی ائمہ علیہم السلام کے بارے میں بھی وہی حکم ثابت ہے۔

ہر روز (سورج کی سُرخی سے جب وہ غروب ہونے لگے تا اس وقت جب تک کہ مکمل غروب نہ ہو جائے۔):
ان اوقات میں سے جو امام ؑ سے منسوب ہیں، ہر روز سورج کی سُرخی سے جب تک کہ وہ مکمل طور پر غروب نہ ہو جائے، کیونکہ دن کو اگر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو یہ دن کا بارہواں حصہ بنتا ہے۔ کتاب نجم الثاقب میں علماء نے مطلع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک دن کو بارہ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصہ کو اس کی ترتیب کی بنا پر ہر امام علیہ السلام کے ساتھ نسبت دی گئی ہے، جیسا کہ دن کا پہلا حصہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے مرتبط ہے اور بارہواں حصہ جو غروب آفتاب کے قریب سے شروع ہو جاتا ہے، آخری امامؑ سے منسوب ہے، اسی وجہ سے اس وقت امامؑ سے دُعا کرنے کا کہا گیا ہے۔ ان حصوں کو کم اور زیادہ سردیوں اور گرمیوں کے حساب سے کرتے ہیں۔(نجم الثاقب، ص ۸۲۰۔۸۲۱) صحیفہ مہدیہ میں دو دعاؤں کو بارہویں حصے کے لیے بیان کیا ہے: پہلی دعا: يَا مَنْ تَوَحَّدَ بِنَفْسِهِ عَنْ خَلْقِهِ يَا مَنْ غَنِيَ عَنْ خَلْقِهِ بِصُنْعِه‏۔۔۔ دوسری دعا: اللّهمَّ یا خالِقَ السّقفِ المَرفوع۔۔۔۔(صحیفہ مہدیہ، ص ۳۸۰۔۳۸۴)

عاشور کا دن:
یہ دن تو ہے ہی امام مہدی ؑ سے مخصوص، یہی وہ دن ہے، جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے امام ؑ کے لیے"قائم" کا لقب عطا کیا گیا۔ شيخ جعفر بن محمد بن قولويہ اپنی کتاب کامل الزيارت میں محمد بن حمران سے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں، بیان کیا کہ: "جب دشمنوں نے میرے جد امجد امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تو فرشتے مغموم ہوئے اور روتے اور آہ و نالہ کرتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: خداوندا! پروردگارا! کیا تو ان لوگوں سے درگذر کرے گا، جنہوں نے تیرے برگزیدہ بندے اور تیرے برگزیدہ بندے کے فرزند کو بزدلانہ طریقے سے قتل کیا؟" تو خداوند متعال نے فرشوں کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’اے میرے فرشتو! میری عزت و جلالت کی قسم! میں ان سے انتقام لونگا گو کہ اس میں کافی طویل عرصہ لگے گا۔" اس کے بعد خداوند متعال نے امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں کا سایہ دکھایا اور پھر ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا، جو حالت قیام میں تھے اور فرمایا: ’’میں اس قائم کے ذریعے امام حسین (ع) کے دشمنوں سے انتقام لوں گا۔‘‘

آیت کریمہ وَمَنْ قُتِلَ مظلوماً فقد جَعَلْنا لِوَلیّه سلطاناً  (سورہ اسراء آیت۳۳) (اور جو مظلومیت کے ساتھ قتل ہو، ہم نے اس کے وارث کو تسلط عطا کیا ہے) کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "اس آیت میں مظلوم سے مراد امام حسین علیہ السلام ہیں، جو مظلومیت کے ساتھ قتل کئے گئے اور جَعَلنا لِوَلیِّه سلطاناً سے مراد حضرت امام مہدی(عج) ہیں۔" (البرہان فی تفسیر القرآن، ج ۴، ص۵۵۹) اسی طرح کی روایت کو شیخ صدوق نے علل الشرائع میں ابو حمزہ ثمالی سے، جنہوں نے امام باقر علیہ السلام سے نقل کی ہے کو بیان کیا ہے۔ تفسير علی بن ابراہیم میں سورہ مبارکہ حج کی آیت 39: أُذِنَ لِلَّذينَ يُقاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلى‏ نَصْرِهِمْ لَقَدير(جن لوگوں پر جنگ مسلط کی جائے، انہیں (جنگ کی) اجازت دی گئی ہے، کیونکہ وہ مظلوم واقع ہوئے اور اللہ ان کی مدد کرنے پر یقیناً قدرت رکھتا ہے۔) کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ "یہ قائم ؑ آل محمد علیہم السلام کے بارے میں بیان ہوئی ہے کہ وہ قیام کریں گے اور امام حسین ؑ کے خون کا انتقام لیں گے۔"

حاصل گفتگو:
روایات و احادیث جو مخصوص ایام یا اوقات کے حوالے سے ذکر کی گئیں، ان سے ہرگز یہ مطلب نہیں نکلتا کہ امام وقت حجت خدا کا ذکر صرف انہی دنوں یا وقت میں کرنا چاہیئے، یہ صرف ہر عبادت کے لیے فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے کہ نماز پڑھنی ہے، مگر اول وقت کی اہمیت اور پھر جماعت کے ساتھ پڑھنے وغیرہ کا ذکر اس عبادت کے درجہ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس سے ہم بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ امامؑ کا ذکر ہمیں ہر وقت اور ہر لمحہ ہی کرنا ہے، امامؑ شیخ مفید ؒ کے لیے صادر کردہ ایک توقیع فرماتے ہیں:۔۔۔ "ہم تمہارے حالات سے واقف ہیں اور تمہاری کوئی بات ہم سے پوشیدہ نہیں ہے، ہم نہ تم سے غافل ہیں اور نہ تمہیں فراموش کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مصائب و آلام کے پہاڑ تم پر ٹوٹ پڑتے اور دشمن تمہیں تارتار کرکے نابود کر دیتے۔۔۔"(الاحتجاج طبرسی) یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اس ہستی کے ذکر سے غافل ہو جائے، جو لمحہ بھر کے لیے اس سے غافل نہیں اور  وہی ہیں جن کہ بدولت اللہ تعالیٰ نے اس وقت کائنات کو بقا دی ہوئی تو کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ان کی یاد کے بغیر گزاریں۔ اسی بات کو زیارت آل یاسین میں یوں بیان کیا گیا ہے: السَّلامُ عَلَيْكَ فِي آنَاءِ لَيْلِكَ وَ أَطْرَافِ نَهَارِكَ "سلام ہو آپؑ پر رات کے اوقات میں اور دن کی ہر گھڑی میں۔۔۔"

Read 76 times

Add comment


Security code
Refresh