کربلا انسانی اقدار کی تجلی گاہ

Rate this item
(0 votes)
کربلا انسانی اقدار کی تجلی گاہ

تحریر: محمد علی شریفی

امام حسین علیہ السلام نے اپنی لازوال اور عظیم قربانی  کے ذریعے اہل ایمان کو یہ درس دیا کہ جب بھی دین و مکتب کی بنیادیں خطرے میں پڑ جائیں تو اس کی حفاظت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔ جب امام عالی مقام نے دیکھا کہ اسلامی معاشرے کی زمامِ حکومت، یزید جیسے فاسق و فاجر  حاکم کے ہاتھوں میں آگئی ہے جو تمام  احکام الٰہی اور شریعت کے اصولوں کو اپنے پاؤں تلے روند رہا تھا، اس صورتحال کو دیکھ کر امام حسین علیہ السلام  یزید کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور  لوگوں کو بھی اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دینا شروع کی۔ اس راہ میں اپنی جان، مال، ناموس، عزیزوں اور قریبی اصحاب کی قربانی پیش کی۔

امام عالی مقام نے  پوری تاریخ بشریت کے لئے پیغام  دیا کہ جب بھی یزید جیسا شخص تمہارا حاکم بنا تو سکوت اختیار نہ کرنا اور اس کی بیعت کرنے سے انکار کرنا۔ امام کی زبان حال یہ بتا رہی تھی  کہ اگر دین محمدی میرے قتل کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا تو اے تلوارو آؤ مجھ حسین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ اسی لئے امام تمام انسانیت کے لئے اسوہ اور نمونہ بنے کہ جب بھی کوئی طاغوت، اسلامی اور انسانی اقدار کو پامال کرنا چاہے تو انقلاب حسینی سے درس لے۔ جیسا کہ گاندھی سے لیکر دنیا کے مختلف مسلم اور غیر مسلم  دانشوروں اور اہم شخصیات اس کا برملا اظہار کر چکی ہیں۔ تاکہ انسانی اور اسلامی اقدار کے خلاف ہونے والی حرکتوں کو روک سکیں۔ کربلا کے جس پہلو کی طرف بھی انسان نگاہ کرے اس پہلو سے بہتر زندگی گزارنے کا اصول ملتا ہے ہم اس تحریر میں چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

درس حُرّیت:
تحریک عاشورا کا ایک ابدی پیغام یہ ہے کہ انسان جس عقیدے کا بھی حامل ہو، کوشش کرے کہ آزاد زندگی گزارے اور ذلت سے دور رہے، کسی بھی ستمگر اور ظالم کے آگے سر نہ جھکائے۔ عاشوراء کے دن جب امام  نے دیکھا دشمن خیموں کی طرف حملہ کر رہا ہے تو آپ نے فرمایا: "وَیحَکمْ یا شیعَةَ آلِ اَبی سُفیان! اِنْ لَمْ یکنْ لَکمْ دینٌ وَ کنْتُمْ لا تَخافُونَ المَعادَ فَکونُوا اَحرارا فی دُنیاکم" وائے ہو تم پر اے آل ابی  سفیان کے پیرو کارو! اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور قیامت سے نہیں ڈرتے ہو تو، اپنی اس دنیا میں آزاد مرد بن کر رہو۔۔(1) ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں، "مَوْتٌ في عِزٍّ خَيْرٌ مِنْ حَياةٍ فِي ذُلٍّ" عزت کی  موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ (2) آیت اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں، کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں حضرت سید الشہداء کا غم منانے سے بے نیاز ہوں، چاہے شیعہ ہو یا سنی یہودی ہو یا عیسائی یا زرتشتی۔ اس لئے کہ حسین ابن علی علیہ السلام نے اپنے قول اور فعل، خطبوں اور خطوط کے ذریعے مختلف دروس کو پیش کیا۔

کچھ لوگوں سے کہا اگر مسلمان نہیں ہو تو حریت پسند بنو  اور آزاد طلبی کا مطلب یہ ہے کہ نہ کسی پر قبضہ  کی چاہت ہو نہ تم پر کوئی غلبہ پاسکے! "اِنْ لَمْ یکنْ لَکمْ دینٌ وَ کنْتُمْ لا تَخافُونَ المَعادَ فَکونُوا اَحراراً فی دُنیاکُم"۔ درس آزادی اس بات کی علامت ہے کہ انسانیت کا پہلو ابھی محفوظ ہے اور اگر کوئی خدا  کو نہیں مانتا نہ ہی قیامت پر اعتقاد رکھتا ہے تو کربلا عالم بشریت کے لئے معلمِ درس حرّیت ہے۔ لہٰذا کوئی بھی کربلا سے درس حاصل کرنے کے سلسلے میں بےنیاز نہیں ملے گا اور کوئی بھی عالم اور دانشور عاشورا کی ہدایات سے بے نیاز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ زاہد و عابد جو اللہ کی راہ میں نکلا ہے، حکماء اور متکلمین جو خدا کی راہ کو طے کرچکے ہیں، عرفاء جو اس راہ کی بلندیوں  تک پہنچ چکے ہیں، یہ سب کے سب بھی پیغام حسینی کے حقیقی سننے والوں میں سے ہیں ۔۔۔(3) آپ نے عاشورا کے دن عمر ابن سعد کے لشکر سے مخاطب ہو کر فرمایا: "ألا وَ إنَّ الدَّعيَّ ابنَ الدَّعيِّ قَد رَكَّزَ بَينَ اثنَتينِ بَينَ السُلَّهِ وَالذِلَّةِ وَ هَيهاتَ مِنّا الذِلَّةُ يَأبى اللّه ُ ذلك لَنا وَرَسولُهُ" اس نابکار اور  اس نابکار  کے بیٹے نے مجھے دوراہے پر لا کھڑا کر دیا ہے (مجھے ذلت اور چمکتی ہوئی ننگی تلوار کے درمیان قرار دیا ہے) ذلت ہم سے کوسوں دور ہے۔ (4)

امر باالمعروف و نہی عن المنکر کا احیاء:
 امام حسین اس حقیقت کو بیان کرنے جا رہے تھے کہ یزید کی حاکمیت انسانی اور اسلامی معاشرے کے لئے سب سے بڑا منکر ہے، ایسے حالات میں ایک با تقوا حریت پسند انسان کا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ امر بہ معروف و نہی از منکر کرے۔ کوفہ کے عمائدین کے نام امام نے جو خط لکھا اس میں اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا۔ "أَیُّهَا النّاسُ؛ إِنَّ رَسُولَ اللّهِ (صلى الله علیه وآله) قالَ: مَنْ رَأى سُلْطاناً جائِراً مُسْتَحِلاًّ لِحُرُمِ اللهِ، ناکِثاً لِعَهْدِ اللهِ، مُخالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ، یَعْمَلُ فِی عِبادِاللهِ بِالاِثْمِ وَ الْعُدْوانِ فَلَمْ یُغَیِّرْ عَلَیْهِ بِفِعْل، وَلاَ قَوْل، کانَ حَقّاً عَلَى اللهِ أَنْ یُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ"۔ اے لوگو! رسول خدا نے فرمایا! جب کوئی مسلمان ایک سلطان جائر اور ظالم حاکم کو دیکھے جو حلال الٰہی کو حرام اور حرام الٰہی کو حلال قرار دیتا ہے اور الٰہی عہدوں کو توڑ دیتا ہے، سنت پیغمبر کی مخالفت کرتا ہے ایسے میں وہ اپنے عمل یا گفتار کے ذریعے نہ روکے تو خدا کے لئے سزاوار ہے کہ ایسے فرد کو اسی ظالم کے ساتھ جہنم میں ڈال دے۔ (5)

اور اسی خط میں ارشاد فرماتے ہیں آگاہ رہو یقینا یہ (یزید کے) پیروکاروں نے شیطان  کی پیروی کی ہے اور اس کی بات کو اپنے اوپر واجب قرار دیا ہے، فساد کو رواج دیا ہے، احکام الٰہی کی تعطیل کی ہے حلال الٰہی کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا ہے۔ میں فرزند رسول خدا  سب سے زیادہ حقدار  ہوں کہ ان حالات پر اعتراض کروں۔ اور آپ نے مدینے سے نکلتے وقت اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کے نام لکھے گئے وصیت نامے  میں بھی واضح طور پر فرمایا: "أُُرِیدُ أنْ آَمُرَ باالمَعرُوفِ وَ أنهَی عَنِ المُنکَرِ وَ اَسِیرَ بِسیرَةِ جَدِّی وَ أبِی۔۔۔" (6)۔ میں چاہتا ہوں امر بہ  معروف و نہی از منکر کروں اور اپنے جد کی سیرت پہ عمل کروں۔

صبر  و تحمل اور برداشت:
اس عظیم قربانی کے موقع پر جگہ جگہ صبر و تحمل و برداشت ان عظیم ہستیوں میں دیکھنے میں آئے۔ جب آپ مکہ سے عراق کی طرف عازم سفر ہوئے تو ایک خطبہ ارشاد فرمایا اس میں فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔ "رِضَى اللّهِ رِضانا اَهْلَ الْبَیْتِ، نَصْبِرُ عَلى بَلائِهِ وَ یُوَفّینا اَجْرَ الصّابِرینَ۔" خدا کی رضا ہم اہلبیت کی رضا ہے۔ خدا کی طرف سے ہونے والے امتحانوں کے موقع پر ہم صبر کریں گے اور خدا صابرین کی جزا ہمیں دے گا۔ (7) راستے میں جب کسی منزل پر پہنچے تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اے لوگو ! تم میں سے جو بھی تیر و تلوار کی تیز دھار کو برداشت کرسکتا ہو وہ رہے  اور جو نہ کر سکتے ہوں وہ لوگ واپس چلے جائیں۔ روز عاشورا امام حسین نے دشمن کے ساتھ سخت جنگ کے وقت فرمایا، "صَبْراً بَنِى الْكِرامِ‌، فَمَا الْمَوْتُ‌ إِلّاٰ قَنْطَرَةٌ‌ تَعْبُرُ بِكُمْ‌ عَنِ‌ الْبُؤْسِ‌ وَ الضَّرّاءِ إِلَى الْجِنانِ‌ الْواسِعَةِ‌ وَ النَّعيمِ‌ الدّائِمَةِ‌۔۔" اے بزرگ زادو! صبر کرو موت نہیں ہے مگر ایک پل کی مانند جو تمہیں مشکلوں اور سختیوں  سے وسیع جنت اور ابدی نعمتوں کی طرف پہنچا دیتی ہے۔ (8)

وفاداری:
عہد و پیمان پر وفا اور عمل امام حسین اور آپ کے باوفا ساتھیوں کی خصوصیات میں سے ہے، شب عاشور آپ اپنے باوفا اصحاب کے بارے میں فرماتے ہیں میرے اصحاب سے زیادہ باوفا اور سچا اصحاب کسی کو نہیں ملا۔ آپ کی دین سے وفاداری کے بارے میں  زیارت اربعین  میں ایک جملہ ملتا ہے، "اَشهدُ انّکَ قد بَلّغتَ و نَصحتَ و وَفَیتَ واوفیت۔."(9)۔ میں گواہی دیتا ہوں تونے اس عہد کی وفا کی جو خدا کے ساتھ کیا تھا، کربلا میں وفاداری کی ایک اور لازوال مثال حضرت عباس علمدار کا اس امان نامے  کو  ٹھکرانا ہے جو آپ کے لیے شمر ملعون لایا تھا لہٰذا آپکی زیارت میں آیا ہے "اَشْهَدُ لَقَدْ نَصَحْتَ للَّهِ‏ِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَخيک، فَنِعْمَ الْأَخُ الْمُواسى‏"، گواہی دیتا ہوں تونے خدا اور رسول کے لئے خیرخواہی کی اور اپنے بھائی کے لئے کتنا ہمدرد تھے۔۔۔(10)۔

نماز کی اہمیت کا خیال:
کربلا اور عاشورا کا ایک اور نمایاں درس نماز کا پابند ہونا اور اس کی پاسداری ہے امام حسین نے اقامہ نماز کی ترویج اور اس کے اہتمام کے لیے بے مثال اہتمام کیا۔ 9 محرم کو عمر سعد نے جب جنگ شروع کرنا چاہی تو آپ نے  اپنے بھائی حضرت عباس کو بھیجا تا کہ ایک رات کی مہلت مانگیں تاکہ اس رات کو دعا اور نماز میں گزاریں۔ "أنّی کنتُ قد أحبّ الصّلاة له و تلاوةَ کتابه و کثرة الدّعاء و الاستغفار" میں نماز اور تلاوت قرآن و کثرت دعا و استغفار کو پسند کرتا ہوں۔(11) عاشورا کی ظہر کو جب ابو ثمامہ صائدی نے امام کو وقت نماز کی یاد دلائی تو امام نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ "قالَ: ذَكَرتَ الصَّلاةَ، جَعَلَكَ اللّهُ مِنَ المُصَلّينَ الذَّاكِرينَ" تونے نماز کی یاد دلائی، اللہ تمہیں ان نمازیوں میں سے قرار دے جو نماز کو یاد رکھتے ہیں۔

اور اس طرح سے دشمن کی تلواروں کے سائے میں نماز ادا کی۔ امام حسین نے یزید کے سیاہ ترین دور میں کہ جس میں اسلامی اقدار، پامال ہو رہی تھیں، شہادت کو سینے سے لگا کر اسلامی معاشرے کے اندر پھر سے شہادت کے حیات بخش کلچر کو زندہ کیا اور شہادت سے عشق کو معاشرے کے اندر کلچرل بنایا، جب امام نے سب کو خبر دی کہ کل شہید ہو جائیں گے تو حضرت قاسم ابن حسن کو یہ فکر لاحق ہوئی کہیں کم سنی کی وجہ سے میں شہادت سے محروم نہ رہ جاؤں اور امام سے سوال کیا، چچا جان آیا میرا نام بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہے یا نہیں؟؟ امام نے قاسم سے امتحان لینے کے لئے پوچھا موت کو کیسے پاتے ہو؟ فرمایا "اَحْلَی مِنَ العَسَلِ" موت شہد سے زیادہ میٹھی لگتی ہے۔

صداقت اور سخاوت:
تحریک کربلا کے شروع سے لے کر آخر تک صداقت اور سخاوت موجزن تھی۔۔؟ اس کی واضح مثال امام کی حر سے ملاقات ہے، جب شراف کے مقام پر امام کی ملاقات حر اور اس کے سپاہیوں سے ہوئی اور انہوں نے آپ کا راستہ روکا، یہ لوگ آپ کی جان کے درپے تھے جب آپ نے دیکھا یہ لوگ پیاسے ہیں اپنے ساتھیوں کو حکم دیا ان سب کو پانی پلا دیں یہاں تک کہ پیاس  سے نڈھال پیچھے رہ جانے والے ایک سپاہی کو آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی پلایا۔

ادب و شرافت:
عاشورا کا ایک اور لازوال درس ادب اور شرافت و بزرگواری ہے۔ یہی خصوصيت امام کے ساتھیوں میں سے ہر ایک میں نمایاں طور پر دکھائی دی، کربلا کے اس سفر میں اس کی واضح مثال جب حر اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی، وہ انتہائی مؤدبانہ انداز میں امام کی خدمت میں آتے ہیں، اسی طرح حضرت عباس ہمیشہ امام کو میرے آقا میرے مولا کہہ کر یاد کرتے تھے۔ جب ہم جناب سیدہ زینب (س) کی رفتار کو دیکھتے ہیں ادب اور بزرگواری کی آخری منزل کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے انہوں نے اپنے دونوں فرزندوں کو اپنے بھائی کی عظیم تحریک کے لئے ہدیہ کر کے اسلام پر فدا کر دیا، آپ نہ صرف  اپنے بچوں کے جنازے کی منتقلی کے وقت خیمے  سے باہر نہ آئیں بلکہ کربلا سے شام تک ایک بار بھی اپنے بچوں پر گریہ  نہیں کیا اور ہمیشہ سالار شہیدان کی مظلومیت بیان  کرتی رہیں۔

ظلم سے مقابلہ:
امام نے اپنے قیام کے ذریعے انسانوں کو ظلم سے مقابلہ، ظلم ستیزی اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیا انسانیت کو یہ سکھایا کہ اگر ظالموں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے تو خاموش بھی نہ رہیں۔ آپ نے یہ اہم ترین کام معاویہ کی زندگی کے آخری سالوں میں ہی شروع کیا۔ خطبہ منٰی جو معاویہ کی موت سے دو سال قبل مکے میں دو ہزار کے قریب صحابہ، تابعین اور دیگر افراد کو جمع کر کے ارشاد فرمایا۔ امام حسینؑ کے اس خطبے  میں درج ذیل موضوعات پر بحث ہوئی ہے:

1۔ امام علیؑ اور خاندان عصمت و طہارت کی فضیلت اور ان آیات و روایات کو بیان کیا ہے جن میں اہل بیتؑ خاص کر امام علیؑ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ منجملہ ان فضائل میں سد ابواب، واقعہ غدیر خم، مباہلہ، امام علی کے ہاتھوں خیبر کی فتح اور حدیث ثقلین۔
2۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف دعوت اور اسلام میں اس وظیفہ کی اہمیت۔
3۔ ستمگروں اور مفسدین کے خلاف قیام کرنے کو علماء کی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف علماء کے سکوت اور خاموشی کے نقصانات اور علماء کا اس الہی وظیفے کی انجام دہی میں سہل انگاری پسندی کے بھیانک نتائج کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 12 جب آپ کو پتہ چلا کہ یزید مسلمانوں کا حاکم بن چکا ہے تو اس کی عملی مخالفت شروع کی اور اس کی سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کو فاش کیا۔ آپ نے فرمایا یزید فاسق و فاجر، شرابی اور بے گناہوں کا قاتل ہے۔ 13                                                                                                                   
شجاعت و دلاوری:
امام جو ہدف رکھتے تھے اس راہ میں کوئی چیز امام کے دل میں خوف نہیں ڈال سکی اور نہ ہی اپنے ارادے سے منحرف کرسکی اور امام کو دشمن سے مقابلہ کرنے سے نہیں روک سکی اسی لئے جنگ جتنی تیز ہو جاتی  تھی اور شہادت کا وقت قریب آتا امام کا مبارک چہرہ اور زیادہ درخشان ہوتا تھا اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا۔

امام شناسی کا درس:
امام کوفہ والوں کو یوں لکھتے ہیں میری جان کی قسم لوگوں کا امام اور پیشوا وہ ہے جو قرآن کی بنیاد پر حکم کرے اور دین حق کی پیروی کرے اور خدا کی راہ میں سر تسلیم خم ہو۔ آپ نے اپنے اس فرمان کے ذریعے تمام طاغوت حاکموں کی رہبری پر خط بطلان کھینچ دیا اور دنیا والوں کو یہ پیغام دیا کہ ایسے حاکموں کو قبول نہ کریں جو لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں اور دنیا و آخرت کی خیر سے دور کرتے ہیں۔

اسلامی مقدسات کی حفاظت:
واقعہ عاشورا اگرچہ دین کی حفاظت اور اصلاح امت کی خاطر پیش آیا لیکن ساتھ ساتھ امام اور آپ کے باوفا اصحاب کا ہر فیصلہ اہمیت کا حامل ہے اور آپ کے پیروکاروں کے لئے انتہائی سبق آموز ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں کی نگاہ میں مکہ اور بیت اللہ کی بڑی حرمت و تقدس  ہے، بڑا مقام ہے، جب آپ نے احساس کیا کہ یزید کے گماشتے مجھے اس حرم الہی  میں حج کے موقع پر قتل کر دیں گے اور میری وجہ سے حرمت خانہ خدا شکستہ ہو جائے گی آپ نے فورا مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور  عازم کوفہ  ہوئے، لہٰذا آپ فرماتے ہیں "مکہ میں  قتل ہونے سے مکے سے ایک بالشت باہر قتل ہونا بہتر ہے" آپ خانہ خدا کے تقدس کو بچانے کے لیے حج چھوڑ گئے۔

عفت اور حجاب کی پاسداری:
عاشوراء کے دروس میں سے ایک اہم ترین درس حجاب اور پردے کی پاسداری ہے اور یہ خواتین کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے عصر عاشورا لعینوں  نے خیموں میں آگ لگائی، اہل حرم کی چادروں اور شہداء کےجسموں کے لباسوں کا خیال بھی نہیں رکھا گیا۔ منقول ہے جب دشمن نے اہل حرم کو گھیر لیا اس وقت علی (ع) کی بیٹی  کلثوم  دشمنوں سے مخاطب ہو کر فرماتی ہے اے لعینو! تمہیں شرم نہیں آتی کہ خاندان رسالت کی بیبیوں کے سروں پر مناسب پردہ بھی نہیں تم دیکھنے جمع ہوگئے ہو! شہزادی زینب یزید کے دربار میں یذید سے مخاطب ہوکر فرماتی ہیں۔ "يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ تَخْدِيرُكَ حَرَائِرَكَ وَ إِمَاءَكَ وَ سَوْقُكَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ص سَبَايَا" اے طلقاء کے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تونے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹها رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ 14

توحید کا درس:
ایک جملے میں حادثہ کربلا بیان کریں تو یہ ہوگا کربلا معارف اسلامی اور اسلامی اعتقادات سے بھری ایک مکمل  کتاب ہے سب سے اہم ترین درس، کربلا میں درس توحید ہے امام حسین نے اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو لکھے گئے وصیت نامے میں سب سے پہلے خدا کی وحدانیت، رسول کی رسالت اور قیامت کے برحق ہونے کی شہادت دی، اس کے بعد اپنے جانے کے مقصد کو بیان فرمایا اس عظیم قربانی کے موقع پر آپ اور آپ کے باوفا ساتھیوں نے یہ واضح کیا کہ اگر امر دائر ہو جائے رضائے الہی اور رضائے غیر خدا میں، تو غیر الہی امور سے چشم پوشی و نظر انداز  کر کے رضائے الہی کو حاصل کرنا دنیا کے تمام موحدین کے لئے عاشورا کا جاودانہ درس  ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
(1) بحارالانوار، ج45، ص51، مقتل خوارزمی ج2، ص32
(2) بحارالانوار، ج44، ص 192، مناقب شہر آشوب ج4، ص75
(3) شکوفائی عقل در پرتو نہضت حسنی اسرار ص 83
(4) موسوعہ امام؛ حسین ص 425، ح 412
(5) تاریخ طبری ج4، ص 304، بحار، ج44، ص 382
(6) سخنان امام حسین از مدینہ تا کربلا، ص53
(7) لہوف ص53، مثیرالاحزان 21
(8) معانی الاخبار ج3، ص288
(9) زیارت اربعین، مفاتیح الجنان
(10) زیارت حضرت عباس، مفاتیح الجنان
(11) بحار، ج 44، ص 392
(12) سخنان امام حسین از مدینہ تا کربلا، ص363
(13) مقتل خوارزمی ج1، ص184
(14) مقتل ابی مخنف مترجم سید علی‌ محمد موسوی جزایری، قم، انتشارات امام حسن، چ اول، 80، ص 393

Read 82 times

Add comment


Security code
Refresh