سلیمانی

سلیمانی

سپاہ پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے سربراہ جنرل جوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں متعین حدود کے اندر گزرنے والا ہر جہاز ایرانی مسلح افواج کی اجازت سے گزرے گا، جبکہ دشمن سے تعلق رکھنے والے کسی بھی بحری جہاز سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے نظم و نسق کو ایک عملی شکرگزاری کے طور پر دیکھتا ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی منظم نگرانی و کنٹرول کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا نیا انتظامی نظام عالمی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئے نظم کی بنیاد رکھے گا۔

سردار جوانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی جہاز اس مخصوص اور خط کشی شدہ علاقے میں آمد و رفت کرنا چاہے گا، اسے ایرانی مسلح افواج کی اجازت کے ساتھ یہ کام انجام دینا ہوگا تاکہ اس کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی دشمن یا حریف ملک سے تعلق رکھنے والا بحری جہاز اس علاقے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ فیصلہ کن اور سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا نقصان خود امریکہ کے لیے کہیں زیادہ ہوگا۔ امریکہ اپنی طاقت آزمانے کے لیے ہر ممکن صلاحیت میدان میں لائے گا، لیکن انجام کار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے اور وہ 40 روزہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہر ممکن کوشش کرچکا، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کسی صورت یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ حالات کو جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس لے جاسکے یا زمینی حقائق کو تبدیل کرسکے۔

الجزیرہ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر کے منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی بحری آمدورفت کے مسئلے میں اب تک کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ایران کی نئی حکمت عملی کے تحت جہازوں کی رفت و آمد میں بندش کو ختم کرنے کا اعلان کیا تاہم مقررہ مہلت گزرنے کے باوجود ٹرمپ کے اعلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔

الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے کے پہلے دن ہی واضح نتائج سامنے نہیں آئے اور آبنائے ہرمز میں رکی ہوئی بحری آمدورفت کے مسئلے میں کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اس حوالے سے چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں کئی ابہامات پائے جاتے ہیں اور یہ منصوبہ عملی طور پر قابلِ نفاذ نظر نہیں آتا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ آزادی آپریشن کے پہلے ہی دن شکوک و شبہات سامنے آگئے اور اس بات کے کوئی واضح آثار نہیں ملے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو آزاد کرنے کا دعوی حقیقت میں پورا ہوا ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اندازوں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد گزشتہ 66 دنوں میں آبنائے ہرمز میں سینکڑوں بحری جہاز رکے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس منصوبے کے عملی نتائج ابھی تک سامنے نہیں آسکے اور بحری راستوں کی صورتحال بدستور غیر واضح اور پیچیدہ ہے۔

 اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی نقطۂ نظر سے یورینیم افزودگی کی سطح پر کوئی حد مقرر نہیں، کیونکہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی ادارے کی نگرانی میں انجام پا رہی ہیں۔

ایرانی مستقل مشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جوہری پھیلاؤ کی روک تھام اور تخفیفِ اسلحہ کے معاملے میں واشنگٹن کا کردار انتہائی شرمناک رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کے پاس ہزاروں جوہری ہتھیار موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 6 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایرانی مشن نے زور دیا کہ امریکہ کو دیگر ممالک کے جوہری معاملات میں دوہرے معیار اور ناانصافی پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

بیان میں یہ بھی دہرایا گیا کہ یورینیم افزودگی سمیت ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں ہمیشہ عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کی نگرانی میں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں انجام دی جارہی ہیں۔

 مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے عوام کی سڑکوں اور چوراہوں پر اجتماعات میں بھرپور شرکت کو میزائلوں کے لیے ایندھن قرار دیتے ہوئے اسے قومی طاقت اور استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام کی حالیہ دو ماہ میں میدانوں میں حاضری، خاص طور پر قومی مہم "جانفدا برائے ایران امام رضا" کے دوران، ملک کی مسلح افواج کی حمایت اور رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای سے بیعت کا مظہر ہے۔

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کی یہ حاضری دشمن امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایرانی عوام کے عزم اور اتحاد کو ظاہر کرتی ہے، اور جنگی اور میڈیا دباؤ کے باوجود ایران اور ایرانی کبھی بھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

سپاہ پاسداران نے تاکید کی کہ عوام کی سڑکوں پر موجودگی اور ولایتی شعور کے حامل مبلغین کی کوششیں قومی وحدت اور بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، اور یہ میزائلوں کے لیے ایندھن کے برابر ہے جو ملک کی دفاعی اور اسٹریٹجک طاقت کو مستحکم بناتا ہے۔

پیغام میں سپاہ پاسداران نے دفاع وطن میں حصہ لینے والے تمام اہلکاروں، شہداء کے خاندانوں اور جانبازوں کو خراج تحسین پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالی انہیں دشمن کے مقابلے میں قطعی کامیابی عطا فرمائے۔

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران کے خلاف جون میں امریکی آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران امریکہ نے اصفہان سمیت ایران کے کئی اہم دفاعی اور صنعتی مراکز کو ٹاماہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنا تھا۔ ان حملوں میں استعمال ہونے والے جدید اور مہنگے میزائلوں میں سے متعدد اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ کچھ تیکنیکی خرابی کے باعث پھٹ نہ سکے، جبکہ کچھ میزائل ایران کے الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کی وجہ سے ہدف سے بھٹک گئے۔

ان ناکام میزائل حملوں کے نتیجے میں کئی ٹاماہاک میزائل تقریباً سالم یا جزوی طور پر محفوظ حالت میں زمین پر گرے اور ایرانی فورسز کے قبضے میں آگئے۔ یہ میزائل اب ریورس انجینئرنگ کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں تاکہ ان کی ساخت، تکنیکی صلاحیت اور دفاعی نظام کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

ٹاماہاک میزائل، امریکی دفاعی شاہکار ایرانی ریورس انجینئرنگ کی زد میں

ٹاماہاک: ناقابل گرفت سمجھا جانے والا میزائل

ٹاماہاک کروز میزائل کو کئی سالوں تک ایسا ہتھیار سمجھا جاتا رہا جو بہت نیچی پرواز کرتا ہے اور راستے میں آنے والی پہاڑیوں، میدانوں اور زمین کی اونچ نیچ کو پہچان کر اپنا راستہ خود درست کرتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ عام فضائی دفاع کے لیے ہمیشہ مشکل ہدف رہا ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں ایران کے دفاعی نظام نے ثابت کردیا کہ یہ میزائل اب پہلے جیسا ناقابل گرفت نہیں رہا۔ مختلف جگہوں سے اس کے کئی میزائل نیم سالم حالت میں ملے، جس نے ایرانی ماہرین کو اس کے اندرونی حصوں اور کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کا ایک اہم موقع دیا۔

ٹاماہاک میزائل، امریکی دفاعی شاہکار ایرانی ریورس انجینئرنگ کی زد میں

جدید ٹیکنالوجی تک دسترسی

ٹاماہاک میزائل ہاتھ لگ جانا صرف ایک ناکام حملے کی نشانی نہیں، بلکہ اہم ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی جسے امریکہ نے برسوں تک چھپا کر رکھا۔ ان میزائلوں میں موجود چھوٹے لیکن طاقتور انجن یہ دکھاتے ہیں کہ ہلکے وزن کے انجن کتنی دیر تک مسلسل پرواز کر سکتے ہیں۔ ان کا مطالعہ ایرانی ڈرونز اور مقامی میزائلوں کی پرواز کا وقت بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح ان کے راستہ پہچاننے والے سینسر اور تصویر دیکھ کر ہدف ڈھونڈنے والے نظام کو سمجھ کر ایسے نئے طریقے بنائے جاسکتے ہیں جو دشمن کے خودکار میزائلوں کو غلط سمت میں لے جائیں۔

جیمنگ سے بچنے والے طریقے سیکھنے کا موقع

ٹاماہاک میزائلوں میں ایسے مخصوص حفاظتی اور کنٹرول نظام بھی شامل ہوتے ہیں جو دشمن کی جانب سے پیدا کی گئی ریڈاری مداخلت یا الیکٹرانک خلل کے باوجود اپنی پرواز اور رہنمائی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان نظاموں کا کام یہ ہوتا ہے کہ اگر راستے میں ریڈار جامنگ یا سگنل میں خلل پیدا ہو جائے تو میزائل مکمل طور پر بے سمت ہونے کے بجائے متبادل طریقوں سے اپنی سمت برقرار رکھے۔ اب جبکہ ایران کے پاس ایسے میزائل نسبتا محفوظ حالت میں پہنچ چکے ہیں، ماہرین ان میں موجود ان حفاظتی نظاموں کے بنیادی اصولوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان چیزوں کا مطالعہ ایران کو یہ جاننے میں مدد دے سکتا ہے کہ مستقبل میں ایسے میزائلوں کو روکنے، گمراہ کرنے یا کم مؤثر بنانے کے لیے کون سے طریقے زیادہ بہتر ثابت ہوسکتے ہیں۔

ناکارہ میزائل اور تحقیقات کے لئے مفید مواد

12 روزہ لڑائی میں زیادہ توجہ حملے روکنے پر تھی، لیکن 40 روزہ جھڑپ کے دوران ایران نے زمین پر گرنے والے تاماہاک میزائلوں کو قیمتی نمونے سمجھ کر ان کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جو میزائل نہیں پھٹے اور پوری حالت میں ملے، وہ ماہرین کے لیے ایک طرح کی کھلی کتاب ثابت ہوئے جن سے ان کے انجن، سینسر اور رہنمائی کے طریقے بہتر انداز میں سمجھے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق کئی ٹام ہاک میزائل ایرانی دفاعی نظام کی مداخلت سے ہلکی سافٹ ویئر خرابی کا شکار ہو کر بغیر بڑے نقصان کے بیابان علاقوں میں گرے، جس سے ان کی جانچ اور بھی آسان ہوگئی۔

نئی ٹیکنالوجی تک رسائی اور امریکی تشویش

امریکی ماہرین کو اس بات پر تشویش ہے کہ ایران ان میزائلوں کی صرف نقل کرنے کے بجائے حاصل شدہ معلومات کو اپنی موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر زیادہ دورمار اور بہتر میزائل تیار کرسکتا ہے۔ ایران پہلے بھی امریکی ڈرونز کو کھول کر دیکھنے اور سمجھنے سے اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کو ترقی یافتہ بناچکا ہے۔ جون 2025 اور گذشتہ مہینوں میں ہونے والی جنگ نے یہ واضح کیا کہ کروز میزائلوں کے تیز حملے اب پہلے جیسے مؤثر نہیں رہے، اور یہی میزائل اب لیبارٹریوں میں کھول کر دیکھے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل کے دفاعی نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔

حاصل سخن

ایران اور امریکہ و صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ ایران کے خلاف کیے گئے امریکی میزائل حملے مکمل طور پر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے۔ کئی ٹاماہاک میزائل ہدف تک نہ پہنچ سکے اور بعض محفوظ حالت میں زمین پر گرے، جس سے ایران کو ان کی جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ان میزائلوں کے اندرونی نظام، انجن اور رہنمائی کے طریقوں کا مطالعہ مستقبل میں ایرانی دفاعی اور میزائل صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران ان معلومات کو اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ ملا کر مستقبل میں زیادہ بہتر اور طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل بناسکتا ہے۔

 

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانچیسکا آلبانیز نے کہا کہ صیہونی حکومت کو دو عالمی فوجداری عدالتوں میں مجرم ٹہرایا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطین کے غصب کا سلسلہ اسرائیل کی جانب سے جاری ہے اور یہ مجرم حکومت بین الاقوامی قوانین، عالمی فوجداری عدالتوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے، تب تک اقوام متحدہ کے رکن کسی بھی ملک کو اسرائیل کی حمایت یا مدد نہیں کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹر نے اس موقع پر یورپی ملکوں کی مذمت کی جو ایسے حالات میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بجائے، تل ابیب کو مالی، اسلحہ جاتی اور غذائی امداد فراہم کر رہے ہیں اور اسرائیل سے جاسوسی آلات کی خریداری میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک اسرائیل کے خلاف ہر اٹھنے والی آواز کو کچل رہے ہیں جو یورپی معاشروں کو اسرائیلی زدہ کرنے کے مترادف ہے۔

تہران (IRNA) موساد کے ایک سابق سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ جوہری مسئلے پر ایران کے خلاف امریکی صیہونی حکومت کی جنگ ناکام ہوگئي ہے۔

موساد کے سابق سینئر اہلکار رامی ایگرا کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہوگي کہ افزودہ یورینیئم ایران سے نکالا نہیں جاسکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے بھی یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔

قبل ازیں اسرائیل کے چینل 11  کے سیاسی تجزیہ کار یارا شاپیرا نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کرکے غیر حقیقی توقعات پیدا کرنے کوشش کی تھی لیکن اب رائے عامہ ان کی جانب سے  بار بار کیے جانے والے فتح کے دعوؤں کو بھی قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی طاقت برقرار رکھنے کے معاملے پر کوئی معاہدہ ہوگيا تو پھر رسہی کسر بھی پوری ہوجائے گي اور کوئی بھی نیتن یاھو کی باتوں پر یقین نہیں کرے گا۔

روزنامہ ڈیفنس نیوز کی وب سائٹ نے ایران کے سلسلے میں امریکی صدر کے رویہ کو "حماقت آمیز غنڈہ گردی" قرار دیا ہے۔

 اس وب سائٹ نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے: "میڈ مین" کا نظریہ نہ تو تحفظ  کا باعث بنا ہے اور نہ ہی استحکام کا سبب بنا ہے بلکہ اس سے صرف واشنگٹن کی پالیسیوں میں نا پختگی کی ثابت ہوئی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ "میڈ مین" کی یہ پالیسی اکثر اونچی آواز میں دھمکیوں پر مبنی ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کوئی واضح یا قابل اعتماد حکمت عملی موجود نہیں ہوتی۔

اس امریکی جریدے نے لکھا ہے: ٹرمپ نے گو کہ نئے انداز میں اس حربے کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اگر ہم اس حربے کی تاریخ پر غور کریں تو اگر اسے پوری طرح سے نا کامیاب قرار نہ بھی دیں تب بھی یہ یقینی ہے کہ یہ حربہ ناقص ثابت ہوا ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز سے اب تک، ایران کو مختلف طرح کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے غزہ کی جانب جانے والے بین الاقوامی انسانی امدادی قافلے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی ضمیر پر حملہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ صمود فلوٹیلا ایک خالصتاً انسانی اور بین الاقوامی اقدام ہے، جس میں دنیا کے درجنوں ممالک کے افراد فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ کا غیر قانونی محاصرہ توڑنے کے مقصد سے شریک تھے، تاکہ وہاں کے شہریوں تک ضروری امداد پہنچائی جاسکے۔

بقائی نے کہا کہ صمود قافلے پر حملہ صرف ایک امدادی مشن پر حملہ نہیں، بلکہ یہ بیدار عالمی ضمیر اور مشترکہ انسانی اقدار پر کاری ضرب ہے۔

ایرانی ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گرفتار شدہ افراد کو کتزیعوت جیل منتقل کیا گیا ہے، جسے سخت اور غیر انسانی حالات کے باعث بدنام سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ صہیونی حکومت کے نام نہاد داخلی سلامتی کے وزیر کا توہین آمیز اور غیر انسانی رویہ اسرائیلی حکومت کی اخلاقی پستی کا واضح ثبوت ہے۔

بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کی بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف مضبوط مؤقف اپنائیں، قابض قوتوں کو جوابدہ بنائیں اور غزہ کے عوام کے لیے جاری انسانی امدادی مہم کی غیر مشروط حمایت کریں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی تحویل میں موجود صمود فلوٹیلا کے تمام افراد کو فوری اور غیر مشروط رہا کیا جائے۔

شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے امت اسلامی کی وحدت کے موضوع پر اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے اسلامی اخوت ایک عظیم سماجی اور ثقافتی سرمایہ ہے جس کے تحقق سے معاشرہ ترقی، سلامتی، معنویت اور عزت کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

اس اصول کی پابندی الہی رحمت، معاشرے کی ذہنی صحت اور مسلمانوں میں ذمہ داری کے احساس کو تقویت دینے کی ضامن ہوگی اور امت اسلامی کی ترقی و سربلندی کا سبب بنے گی۔

اسلام کا بقا اور اسلامی معاشرے کا استحکام مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے حصول پر منحصر ہے۔

یہ الہی اصول جو قرآن و سنت میں بنیاد رکھتا ہے، نہ صرف جذباتی اور سماجی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ہمدردی اور مہربانی پیدا کرکے معاشرے کو بیرونی خطرات کے خلاف مقاوم بناتا ہے اور دشمنوں کی امید کو مایوسی میں بدل دیتا ہے۔

وحدت اور سماجی ہماہنگی انسانی زندگی کی بدیہی اور ضروری ترین ضروریات میں سے ہے کیونکہ منتشر اور بکھرا ہوا اجتماع طاقت اور اثرپذیری سے عاری ہوتا ہے لیکن چھوٹی قوتوں کے ملاپ سے ایک بڑی اور تبدیلی لانے والی طاقت تشکیل پاتی ہے۔

تاہم تجربے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہری عوامل جیسے نسل، زبان، مشترکہ تاریخ یا سرزمین، اگرچہ ایک قسم کا اتحاد پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں لیکن چونکہ مادی اور غیر ارادی امور پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے پائیدار وحدت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

اس قسم کے اتحاد عموماً عارضی ہوتے ہیں اور مشترکہ اہداف کے حصول کے بعد اختلافات پھر سر اٹھاتے ہیں۔

اسلام ان نظریات کے مقابلے میں ایک گہرا اور زیادہ پائیدار حل پیش کرتا ہے اور وہ ہے "ایمان اور عقیدے کے محور پر وحدت"۔

اس نقطہ نظر کی بنا پر، مسلمان خدا پر ایمان کی روشنی میں ایک واحد پیکر کے اعضا کی طرح ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور اسلامی اخوت کے اصول کو تحقق بخشتے ہیں۔

قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" اور مومنین کو تاکید کرتا ہے کہ وہ اس برادرانہ تعلق کو برقرار رکھیں اور اس کی اصلاح و مضبوطی کی راہ میں کوشش کریں۔

یہ تعبیر انسانی رشتوں کی گہری ترین قسم کو ظاہر کرتی ہے جو ایمان اور ہدف میں اشتراک کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔

تاہم، اسلام کے دشمن ہمیشہ اس مضبوط رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش میں رہے ہیں اور فکری، سیاسی اور قومی اختلافات پیدا کر کے مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

بعض اسلامی معاشروں میں تنازعات کا تسلسل ان سازشوں کی نسبتی کامیابی اور اسلامی اخوت کے اصول سے غفلت کی علامت ہے۔
https://taghribnews.com/vdcd9z05nyt0xz6.432y.html