سلیمانی
جنگی حالات میں ایران کی معیشت کیسے قائم رہی؟ الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ
الجزیرہ نے ایک تفصیلی مضمون میں جنگی حالات کے دوران ایران کی معیشت کی مضبوطی کے 8 اہم عوامل کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ ان ذرائع کی بدولت ایران موجودہ صورتحال میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی بندرگاہوں، خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان پر عائد بحری پابندیاں ایران کی معیشت کو ایک بڑے امتحان سے دوچار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ایران کس حد تک امریکی دباؤ کو قابو میں رکھتا ہے اور اسے اندرون ملک منتقل ہونے سے روکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کی معاشی مضبوطی 8 بنیادی ستونوں پر قائم ہے، جن میں تیل کی مقامی پیداوار، ریفائنری اور ایندھن کے مراکز، غذائی تحفظ، پیٹروکیمیکل صنعت، ہمسایہ ممالک سے غیر بحری تجارت، بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں، مشرقی زمینی و ریلوے راستے اور ہنگامی معاشی اقدامات شامل ہیں۔
پہلا عنصر تیل کے شعبے میں مقامی پیداوار کا فروغ ہے۔ ایرانی وزارت تیل کے مطابق اس صنعت میں درکار 80 فیصد سے زائد آلات ملک کے اندر ہی تیار کیے جاتے ہیں، جس سے بیرونی پابندیوں کا اثر کم ہوتا ہے۔
دوسرا اہم عنصر تیل کی ریفائننگ اور مقامی ایندھن کی فراہمی کا تسلسل ہے۔ جون 2025 تک ایران کی ریفائننگ صلاحیت 24 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی تھی اور تمام ریفائنریز مکمل استعداد سے کام کر رہی تھیں، جبکہ ایندھن کی ترسیل بھی بغیر رکاوٹ جاری رہی۔
تیسرا عنصر غذائی تحفظ ہے، خاص طور پر گندم میں خود کفالت ہونا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 50 لاکھ ٹن سے زائد بنیادی اشیاء ذخیرہ تھیں اور کئی ہفتوں بعد بھی ہنگامی ذخائر کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
چوتھا عنصر پیٹروکیمیکل شعبہ ہے، جو غیر تیل برآمدات کا 25 فیصد اور صنعتی پیداوار کا 19 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ شعبہ ملک کی تقریباً نصف غیر ملکی آمدن کا ذریعہ رہا ہے۔
پانچواں عنصر ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر بحری تجارت ہے۔ ایران کی 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت 2023 میں 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چھٹا عنصر شمالی ایران میں بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں اور شمال-جنوب راہداری ہے، جو جنوبی بندرگاہوں پر دباؤ کے باوجود متبادل راستے فراہم کرتی ہیں۔
ساتواں عنصر مشرقی زمینی اور ریلوے راستے ہیں، جہاں افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مال برداری میں اضافہ ہوا ہے، جو بحری پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہے۔
آٹھواں عنصر ہنگامی معاشی اقدامات ہیں، جن میں 65 نکاتی پیکج شامل ہے، جس کا مقصد تجارت اور پیداوار کو آسان بنانا ہے، جیسے بنیادی اشیاء کی درآمد کو ترجیح دینا اور صنعتی مشینری کی اجازت دینا۔
رپورٹ میں ماہر اقتصادیات پیمان مولوی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران نے برسوں کی پابندیوں کے دوران اپنی معیشت کو اس انداز میں ڈھال لیا ہے کہ کم از کم پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر خوراک کے شعبے میں۔
ایک اور ماہر آیزاک سعیدیان کے مطابق ایران کے پاس 6 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل زمینی سرحدیں ہیں، جو تجارت اور برآمدات کے لیے اہم راستے فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے کی پابندیوں نے ایران کو غیر رسمی تجارتی طریقے اپنانے پر مجبور کیا، جو اگرچہ مہنگے اور خطرناک ہیں، لیکن مختصر مدت میں برآمدات، خصوصاً تیل کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیرونی انحصار میں کمی کی پالیسی نے بھی ایران کو بعض بنیادی اشیاء کی درآمد کم کرنے میں مدد دی ہے۔
مغرب کا سورج ڈوب چکا، اور افقِ مشرق سے ایک نئی دنیا طلوع ہو رہی ہے
مغرب کا سورج اب محض ڈوب ہی نہیں رہا بلکہ اس کی وہ چمک بھی ماند پڑ چکی ہے جو کبھی دنیا پر اپنی ہیبت اور طاقت کا سکہ جمائے ہوئے تھی۔ ایران پر دباؤ، حملوں اور مسلسل پابندیوں کے باوجود اسے جھکانے میں ناکامی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ امریکہ کی وہ دھاک، جس کے سہارے وہ عالمی فیصلے مسلط کرتا تھا، اب کمزور پڑ رہی ہے۔ ایران کی مزاحمت نے نہ صرف عسکری سطح پر جواب دیا بلکہ ایک نفسیاتی دیوار بھی گرا دی—وہ دیوار جس کے پیچھے “ناقابلِ شکست سپر پاور” کا تصور کھڑا تھا۔
یہ معاملہ اب کسی ایک ملک یا ایک جنگ کی حدود میں قید نہیں رہا، بلکہ اس نے عالمی طاقت کے پورے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ایک ایسا ملک، جو برسوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری دھمکیوں کے حصار میں گھرا ہو، نہ صرف ڈٹ کر کھڑا ہو جائے بلکہ جواب دینے کی صلاحیت بھی دکھا دے، تو یہ منظر صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام بن جاتا ہے۔ یہ پیغام یہ ہوتا ہے کہ طاقت کا پرانا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے، اور اب فیصلہ صرف اسلحے کی کثرت یا معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ عزم، حکمتِ عملی اور استقلال سے بھی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک—چاہے وہ کھل کر اظہار کریں یا خاموشی سے—اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سمجھ رہے ہیں اور اپنے تعلقات، ترجیحات اور اتحادوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقت اب ایک مرکز سے پھسل کر کئی مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے، اور دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی ایک طاقت مطلق حاکم نہیں رہے گی۔
افقِ مشرق پر ابھرنے والی یہ نئی روشنی اب محض ایک ادبی استعارہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چین کی برق رفتار معاشی ترقی، روس کی مستقل عسکری و اسٹریٹجک موجودگی، اور ایران جیسی ریاستوں کی مزاحمتی حکمتِ عملی نے مل کر ایک ایسے عالمی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے جو مغرب کی یکطرفہ برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ صرف طاقت کا بدلتا ہوا نقشہ نہیں بلکہ سوچ اور خوف کے توازن کی تبدیلی بھی ہے۔ وہ زمانہ، جب فیصلے ایک ہی دارالحکومت سے صادر ہوتے تھے اور باقی دنیا انہیں قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی، اب بتدریج پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسا دور جنم لے رہا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات، نظریات اور حکمتِ عملیوں کے ساتھ عالمی فیصلوں میں شریک ہو رہی ہیں۔
یہ تبدیلی نہ شور و ہنگامے کے ساتھ آئی ہے اور نہ کسی ایک واقعے نے اسے جنم دیا ہے، بلکہ یہ ایک تدریجی مگر فیصلہ کن عمل کے طور پر سامنے آ رہی ہے جس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری اور حتیٰ کہ عوامی ذہنوں تک سرایت کر چکے ہیں۔ طاقت کا وہ تصور، جو برسوں تک ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا رہا، اب بکھر رہا ہے۔ اب فیصلے یک طرفہ نہیں رہے، اور نہ ہی کوئی ایک قوت اپنی مرضی کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی سابقہ حیثیت رکھتی ہے۔ خوف اور دباؤ کا وہ توازن، جو کبھی صرف ایک سمت میں جھکا ہوا تھا، اب تبدیل ہو رہا ہے—اور یہی تبدیلی دنیا کے رویّوں، اتحادوں اور ترجیحات میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں ابھرنے والی نئی صف بندیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ایک نیا عالمی نقشہ ترتیب پا رہا ہے۔ مشرقی طاقتیں صرف معاشی یا عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ فکری اور سیاسی سطح پر بھی اپنی موجودگی منوا رہی ہیں۔ وہ ریاستیں جو کبھی عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور تھیں، اب نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر رہی ہیں بلکہ عالمی فیصلوں میں فعال کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں خود اعتمادی، مزاحمت اور باہمی تعاون جیسے عناصر نمایاں ہو رہے ہیں، جو ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن رہے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک نظام کے زوال کی داستان نہیں بلکہ ایک نئے دور کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے۔ مغرب کی وہ شام، جو طویل عرصے تک طاقت، برتری اور فیصلہ سازی کی علامت بنی رہی، اب بتدریج ڈھل رہی ہے، جبکہ مشرق کا افق ایک نئی روشنی سے روشن ہو رہا ہے۔ یہ روشنی صرف عسکری یا معاشی قوت کی نہیں بلکہ خود اعتمادی، استقامت، فکری آزادی اور باوقار مزاحمت کی علامت ہے—ایک ایسا عالمی توازن جنم لے رہا ہے جس میں دنیا ایک سے زیادہ مراکز کے گرد گردش کرے گی اور جہاں فیصلے محض طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اشتراک، مفاہمت اور توازن کے اصولوں کے تحت طے ہوں گے۔
اس بدلتی ہوئی تصویر میں ایران کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایران کی ہمت، اس کی مستقل مزاج سیاست، اور دباؤ کے باوجود نہ جھکنے کا عزم اس پورے منظرنامے میں ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ برسوں کی سخت اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور مسلسل عسکری خطرات—یہ سب ایسے عوامل تھے جو کسی بھی ریاست کو کمزور کر سکتے تھے، مگر ایران نے ان حالات کو اپنی کمزوری کے بجائے اپنی طاقت میں بدل دیا۔ اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ ایک ایسا سیاسی و فکری بیانیہ بھی قائم کیا جس میں خود انحصاری، مزاحمت اور خود داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
ایران کی یہی استقامت دراصل اس وسیع تر تبدیلی کی علامت بن گئی ہے جو آج دنیا میں رونما ہو رہی ہے۔ اس نے یہ تصور توڑا ہے کہ عالمی دباؤ کے سامنے جھک جانا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس، اس نے ثابت کیا کہ مستقل مزاجی، حکمت عملی اور عوامی حمایت کے ساتھ ایک ریاست نہ صرف اپنا دفاع کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، چاہے کھل کر یا خاموشی سے، اس ماڈل کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے فیصلوں میں اس سے اثر قبول کر رہے ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرق کے اس ابھرتے ہوئے منظرنامے میں ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک علامت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے—ایک ایسی علامت جو مزاحمت، خود مختاری اور نئے عالمی توازن کی تشکیل کی نمائندگی کرتی ہے۔ مغرب کی ڈھلتی ہوئی شام کے مقابل، مشرق کی یہ نئی روشنی اسی عزم اور استقامت سے اپنی توانائی حاصل کر رہی ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو آنے والے عالمی نظام کی بنیادوں کو تشکیل دے رہا ہے۔
تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور صہیونی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہو گا۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ بندی اس وقت ہی معنی رکھتی ہے جب محاصرہ اور عالمی اقتصاد کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند ہو، اور صہیونی حکومت ہر محاذ پر جارحیت روک دے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ فوجی حملوں کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ طاقت آزمائی کے بجائے ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔
تہران- واشنگٹن مذاکرات کی شکست کی اصل وجہ امریکہ کا متضاد موقف ہے: روس
ویانا میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے کہا ہے کہ تہران- واشنگٹن مذاکرات کی شکست کے لیے امریکہ اور اس کے جلدبازانہ اور متضاد موقف ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے عدم انعقاد کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹہرایا۔
روس کے مستقل مندوب نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے مناسب ہماہنگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
میخائیل اولیانوف نے امریکی صدر کی سوشل میڈیا پر پیغامات کی بمباری اور متضاد بیانات کے بارے میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے جلدبازانہ اور متضاد موقف کا افراط دیکھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مذاکرات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں تہران کی عدم شمولیت کی اصل وجہ واشنگٹن سے ملنے والے متضاد پیغامات ہیں۔
روزنامہ ڈیلی میل: ایرانی جہازوں نے ٹرمپ کے محاصرے کو ختم کر دیا ہے
برطانوی اخبار ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایرانی جہازوں نے امریکی بحری بیڑے کے پاس سے گزر کر ٹرمپ کے مبینہ محاصرے کو توڑ دیا ہے۔
ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایران کے جہازوں کی "گوسٹ فلیٹ" امریکی جنگی جہازوں کے قریب سے گزر کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ جنگ بندی اور تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ تلاطم پایا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ ان جہازوں کو "گوسٹ فلیٹ" کا نام دیتے ہیں جو امریکی پابندیوں کو نظرانداز اور بائی پاس کرتے ہوئے بین الاقوامی تجارت میں مصروف ہیں۔
آپ کی سرزمین سے ایران پر حملہ ہوا تو تیل کی پیداوار بھول جائیں، جنرل موسوی کا عرب ممالک کو انتباہ
سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے کمانڈر نے خطے کے ممالک کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی زمین، جغرافیہ یا عسکری اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو انہیں توانائی کی سلامتی اور تیل کی پیداوار کو خیرباد کہنا پڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق جنرل موسوی نے ایرانی عوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ کو پچاس دن سے زیادہ گزرچکے ہیں اور ان دنوں میں ایرانی عوام نے سڑکوں، میدانوں اور مختلف محاذوں پر موجود رہ کر ثابت کر دیا کہ ایران کی اصل طاقت قوم کا پختہ عزم اور غیر متزلزل حمایت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کو اس ملت کا ایک معمولی فرزند سمجھتے ہیں اور عوام کے صبر، بصیرت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
جنرل موسوی نے بتایا کہ سپاہ کی فضائیہ کے جوانوں نے چالیس دن و رات لانچروں پر ڈٹے رہ کر دشمن کی طاقت کے غرور کو توڑا اور موجودہ فوجی خاموشی کے دوران بھی پوری ہوشیاری کے ساتھ دفاعی تیاری برقرار رکھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی کے بعد بھی دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر دشمن نے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت کی تو ایران کا جواب اس بار زیادہ سخت، فیصلہ کن اور پشیمان کن ہوگا۔
انہوں نے خاص طور پر خلیج کے جنوبی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اپنی زمین، فوجی اڈے اور سہولتیں امریکہ اور ایران دشمن قوتوں کے حوالے کر رہے ہیں، انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف حملہ کیا گیا تو پورے مشرق وسطی میں تیل کی پیداوار اور توانائی کی سلامتی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔
اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران دھمکیاں دینے والا ملک نہیں، لیکن اپنی عزت، سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے دفاع میں کبھی بھی پس و پیش نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں، جیسے ملت کھڑی ہے۔
امریکہ کے خلاف جنگ میں بیانیے کے حوالے سے ایران کی جیت
گارڈین کی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ بعنوان "وائرل فتح: ایران سوشل میڈیا کی جنگ میں ٹیکنالوجی کے دیو ہیکل ملک کو شکست دیتا ہے" میں لکھتا ہے: اگر ایران اسی رفتار سے تباہ کن میزائل تیار کر سکتا جس رفتار سے وہ وائرل میمز بناتا ہے، تو امریکی مرکزی کمانڈ (سینٹکام) اب تک ہتھیار ڈال چکی ہوتی۔
اخبار نے مزید لکھا ہے: ایران اور امریکہ کی اس کشمکش کا ایک عجیب اور غیر متوقع پہلو یہ ہے کہ ایران، جو ایک قدامت پسند حکومت اور مغربی ثقافت و میڈیا سے مخالفت کے باعث جانا جاتا ہے، اب سوشل میڈیا کی جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور اس نے اپنی جنریشن زیڈ کی ٹیکنالوجی سے وابستہ قوتوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ طنز و مزاح کے ذریعے ٹرمپ کی حکومت کو نشانہ بنا کر مغربی عوام کو متوجہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس وقت نکسن کی طرح مواخذے کے خطرے سے دوچار ہیں، مسلسل غلطیاں کرتے جا رہے ہیں اور انہیں اپنے سوشل پلیٹ فارم پر کی گئی وہ متنازع پوسٹ بھی حذف کرنا پڑی جس میں انہوں نے خود کو مسیح سے تشبیہ دی تھی، اور انہیں عالمی تجارت میں سست روی کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑی۔
گارڈین نے مزید لکھا کہ ایران کی سوشل میڈیا کارکردگی۔ چاہے وہ اس کے سفارتخانوں کی آن لائن سرگرمیاں ہوں یا پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے ٹوئٹس، سب سے زیادہ حیران کن ہیں۔
یہ اس وقت ہو رہا ہے جب ایران چند ہفتوں سے انٹرنیٹ کی محدودیت یا تاریکی کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اسی تاریکی میں سے ایسی تخلیقی صلاحیت سامنے آ رہی ہے جو مغرب کو ہدف بنا رہی ہے۔ حکومت کے حامی اکاؤنٹس مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ لیگو طرز کی اینیمیشنز نشر کر رہے ہیں جن میں اپسٹین کے کیس کو ٹرمپ کی جنگ سے جوڑا جاتا ہے، یا پھر طنز اور خوداعتمادی کے ذریعے مغرب کی ناکامیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
نرجس باجغولی، جو Johns Hopkins University کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مشرقِ وسطیٰ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کا مکمل میڈیا نظام مواد کی تیاری اور پیغام رسانی میں ٹیکنالوجی کی بڑی طاقتوں سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے۔
انہوں نے وضاحت کی: جنگیں دو میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، ایک حقیقی جنگ کا میدان اور دوسرا میڈیا کا میدان۔ ایران میڈیا کے میدان، خصوصاً سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر نمایاں حد تک برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔
پاپ کی توہین پر آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کا سخت ردعمل
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پاپ لیون چهاردهم کی توہین پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں کی حرمت کا تحفظ سب پر لازم ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے پیغام میں اس گستاخانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عیسائی برادری اور عالمی مذہبی شخصیات کو اس عمل کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کیتھولک رہبر کی شان میں کی گئی یہ توہین ایک ناقابل قبول اقدام ہے جس کا ازالہ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اولوالعزم انبیاء میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو عظمت اور احترام کے ساتھ یاد کیا ہے، لہٰذا ان مقدس ہستیوں اور ان سے وابستہ مذہبی قیادت کا احترام پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا کہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق تمام انبیاء اور ان کے ماننے والوں کے رہنماؤں کا احترام لازم ہے، اور کسی بھی مذہبی پیشوا کی توہین درحقیقت اخلاقی اقدار کی پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے علمی و فکری مراکز کو حکمت، دانائی اور متوازن سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے اقوال و افعال نہ علمی لحاظ سے درست ہیں اور نہ ہی عملی طور پر مناسب، اور اسی غیر ذمہ دارانہ رویے کے تحت انہوں نے ایک بڑے مذہبی رہنما کی توہین کی ہے۔
آیت اللہ نے زور دیا کہ خاص طور پر امریکہ کے عیسائی اور کیتھولک حلقے اس منکر کے خلاف احتجاج کریں اور اس طرح کے ناپسندیدہ رویوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ظلم و ناانصافی کے خلاف پاپ کی نصیحت ایک قیمتی اور اہم آواز ہے، جس کی حمایت کی جانی چاہیے، نہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔
غزہ سے میناب تک: خون کی زنجیر
تاریخ کے سیاہ ترین اوراق میں وہ سطور زیادہ دردناک ہیں جہاں طاقت نے معصومیت کو نشانہ بنایا ہو، جہاں جدید ہتھیاروں سے لیس طاقتوں نے معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کو خاک و خون میں نہلایا ہو، اور جہاں عالمی ضمیر اتنا بے حس ہو چکا ہو کہ وہ محض تماشائی بن کر رہ گیا ہو۔ یہ تحریر ایسے ہی ایک واقعے کی گواہی ہے جب 28 فروری 2026ء کی صبح، ایران کے جنوبی شہر میناب کے مدرسہ "شجرہ طیبہ" پر امریکی و اسرائیلی جارحیت نے معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔
یہ بچے ایک ایسی بستی میں تھے جس کے وسائل پر اپسٹین قبیلے کی نظر تھی۔ یہ کہانی صرف میناب کی نہیں؛ یہ غزہ، یمن، لبنان اور فلسطین کی بھی ہے بلکہ ان تمام مظلوم قوموں کی داستان ہے جن کے خلاف طاقت کی سیاست نے انسانیت کو روند ڈالا، اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔
واقعات کا تسلسل کچھ یوں ہے کہ 28 فروری کی صبح دس بجے اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ شروع کیا تو اس مدرسے کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس سے پہلے کہ بچے محفوظ مقام تک پہنچ پاتے، پہلا میزائل اسکول کی مرکزی عمارت پر آیا۔ جو بچے اس سے بچ نکلے، وہ نماز خانہ کی طرف بھاگے مگر دوسرا میزائل عین اسی جگہ پر گرا، اور پھر تیسرا حملہ اسکول گراؤنڈ پر کیا گیا، گویا منصوبہ یہ تھا کہ کوئی زندہ نہ بچے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سو پینسٹھ سے ایک سو ستر کے قریب معصوم بچے، جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں، شہید ہو گئے۔ یہ کوئی جنگی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک منظم قتلِ عام اور جنگی جرم تھا۔
اس وحشیانہ اقدام کے بعد عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف دباؤ بڑھا اور متعدد ممالک کی طرف سے شدید مذمتی بیانات جاری ہوئے، مگر افسوس کہ اس بدترین بربریت کے باوجود امریکہ نے ابتدائی لمحات میں اپنے موقف کا دفاع جاری رکھا۔ پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ یہ حملہ خود ایران نے کیا ہے ایک ایسا الزام جس کی تردید کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہ تھی۔ جب ثبوت سامنے آئے اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہ حملہ امریکی فورسز نے کیا ہے، تو ان کا کہنا تھا: "میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا اور جو بھی رپورٹ آئے گی، میں اسے ماننے کو تیار ہوں"۔ پھر پینٹاگون نے تسلیم کیا کہ "امریکی افواج کے اسکول کو نشانہ بنانے کے ذمہ دار ہونے کا امکان ہے" لیکن اسے "انسانی غلطی" قرار دے کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ امریکی فوج کی سابق انٹیلیجنس آفیسر جوزفین گیلبو،نے کھلے عام اعتراف کیا کہ "ہم امریکہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ ہم اس کہانی کے ولن ہیں۔" انہوں نے واضح کیا کہ جدید ترین سسٹمز سے لیس میزائل، حملے سے پہلے اصل منظرنامے کو کمانڈ روم میں براہِ راست منتقل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی کمانڈ سسٹم نے اپنی آنکھوں سے اسکول کے صحن میں کھیلتے ہنستے مسکراتے بچوں کو دیکھا، اور پھر بھی حملے کا حکم دیا۔ اور جب تین حملے ہوئے، تین مختلف مقامات پر، تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ کیا غلطی ایک بار ہوتی ہے؟ مگر ایک ہی اسکول پر تین بار حملے کو غلطی کہہ سکتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ بالکل نہیں! یہ کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ ایک منصوبہ بند اور سفاکانہ جرم تھا، جسے بعد میں "غلطی" کا نام دے کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا گیا۔
میناب کا یہ واقعہ کوئی الگ سانحہ نہیں ہے، بلکہ یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلم ممالک میں کی جانے والی "بے حسی کی تہذیب" کی تازہ ترین کڑی ہے۔ جب ہم غزہ کی طرف دیکھتے ہیں تو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ نومبر 2023 سے لے کر اپریل 2026 تک تقریباً ستر ہزار سے زیادہ افراد بچے، خواتین، بوڑھے قتل کیے گئے، اور رپورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ اعداد و شمار "عام شہریوں کی موت کے لیے واضح طور پر بے حسی" کو ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ براؤن یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دو سالوں میں امریکہ نے اسرائیل کو 21 بلین ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کی، یعنی غزہ میں بچوں کی قبریں بنانے والے ہتھیار امریکی تھے، اور یہ امداد دو طرفہ سیاسی حمایت کے ساتھ ملتی رہی۔
اہم سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے: جب معصوم بچوں کا قتل عام جاری تھا تو عالمی ادارے کہاں تھے؟ اقوامِ متحدہ؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ مغربی میڈیا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مسلمان ملک میں ایسے مظالم ہوئے، عالمی ردِ عمل سست اور کمزور رہا۔ یہ خاموشی ہی وہ چیز ہے جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جرأت بخشی کہ وہ اپنے جرائم میں مزید جری ہوتے چلے گئے۔ شکاگو سن ٹائمز کی ایرانی نژاد صحافی نگار مرتضوی نے ٹھیک کہا ہے کہ "یہ حملہ مجھے ویت نام کے قتلِ عام کی یاد دلاتا ہے". یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کی جانوں سے بے اعتنائی کی تازہ بدترین مثال ہے۔"
جب ہم اس پورے منظرنامے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک اور بھی گہرا المیہ نظر آتا ہے اور وہ ہے عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بے حسی۔
یہ وہی بے حسی ہے جس نے غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ افراد کو خاک و خون میں نہلانے کے بعد بھی مغربی بلاک نے سکوت اختیار کیا، یہی وہ بے حسی ہے جس نے آج اس خوبصورت دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ معاملات حل کرنے اور عالمی افق پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے صرف طاقت اور زبردستی کی زبان ہی واحد راستہ رہ گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے، کیونکہ جب طاقت ہی واحد زبان ہوتی ہے تو پھر کمزور قوموں کے پاس کوئی آواز نہیں رہتی، اور انصاف کا تصور معدوم ہو جاتا ہے۔
یہ صرف ایران کا المیہ نہیں، بلکہ یمن، حماس، لبنان اور دیگر مزاحمتی محاذوں پر بھی امریکہ اور اسرائیل کے مظالم و دہشت گردی کا انداز یکساں رہا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی خود مختاری اور آزادی کی آواز بلند ہوئی، وہاں مغربی طاقتوں نے ملکی مفادات ، علاقائی سیاست اور انسانی حقوق کے نام پر خاموشی اختیار کی، مگر عمل میں سب سے زیادہ ظلم ڈھائے۔ ویت نام سے لے کر عراق کے فلوجہ تک، افغانستان کے قندھار سے لے کر غزہ کے شجاعیہ تک، اور اب میناب کے اسکول تک یہ سلسلہ جاری ہے، اور عالمی برادری ہر بار وہی خاموشی اختیار کرتی ہے۔
جب تک طاقتور ممالک کو ان کے جرائم پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، یہ عالمی ادارے اپنی کمزوری اور بے اثری کا شکار رہیں گے، اور "بے حسی کی تہذیب" اور "سکوت کا پرچم" ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کریں گے کیونکہ طاقت کے زور پر مسلط کردہ امن کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کردہ امن ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ حقیقی امن وہ ہے جو انصاف، مساوات اور باہمی احترام پر قائم ہو۔
میناب کے بکھرے خواب، غزہ کی کچلی ہوئی مسکراہٹیں، اور یمن کی بھوکی آنکھیں سب ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ اب خاموشی جرم سے بڑھ کر گناہ بن چکی ہے۔ تاریخ کی بند آنکھوں اور ضمیر کی بے حسی میں آج ان مظلوم بچوں کی یہ آواز گونج رہی ہے: " *کیا کوئی ہماری بھی سنے گا؟*
یہ تو طے ہے کہ مظلوم کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ مگر وقت کی ضرورت ہے کہ ہم خود ان کی آواز بنیں۔ ورنہ یہی سکوت اور خاموشی سب کے لیے سزا بن جائے گی، اور تاریخ کے اوراق میں ہم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
تحریر: جواد پاروی
حوزہ نیوز ایجنسی|
جنگ نے ایران کو کیسے فیصلہ کن طاقت میں تبدل کیا؟
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی بلا اشتعال جنگ عبرتناک طریقے سے ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی نوآبادیاتی ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، واشنگٹن واپسی کا راستہ تلاش کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ امن "مذاکرات" میں ایران کا پلہ بھاری ہے۔ مزید برآں، خلیج فارس میں بحری آمد و رفت پر تہران کے نئے اور مضبوط کنٹرول نے (جسے نہ تو امریکہ اور نہ ہی کوئی دوسرا چیلنج کر سکا ہے) اسے زبردست معاشی برتری فراہم کر دی ہے۔ مزید یہ کہ، ایرانی عوام شہری اہداف پر حملوں کے ایک طویل سلسلے کے باوجود متحد کھڑے ہیں۔ ان حملوں کا آغاز سابق رہبر سید علی خامنہ ای کی شہادت اور جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول میں 168 افراد، جن میں زیادہ تر طالبات تھیں، کے قتلِ عام سے ہوا تھا۔ عوام کی یہ یکجہتی اسلامی جمہوریہ کے استحکام اور مستقبل کی ضمانت بن گئی ہے۔
یہ ایک عجیب جنگ ہے، جیسا کہ میں نے اس کے تیسرے اور چوتھے ہفتے میں مشاہدہ کیا۔ اکثر بڑے شہروں میں روزمرہ کی زندگی معمول کے مطابق جاری تھی، جبکہ پس منظر میں دہشت گردانہ کارروائیاں ہو رہی تھیں۔ تہران کے نیلوفر اسکوائر پر ایک بیکری کے مالک نے مجھے بتایا کہ یہ 1980ء کی دہائی کی ایران عراق جنگ جیسی روایتی جنگ نہیں ہے جہاں فوجیں فرنٹ لائن پر ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس بیکری کی عمارت ایک دشمن میزائل سے تباہ ہو گئی تھی جس کا ہدف برابر میں واقع پولیس اسٹیشن تھا۔ نیلوفر اسکوائر پر اس حملے میں درجنوں افراد ایک قریبی کیفے اور رہائشی اپارٹمنٹس میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ میں 19 سے 31 مارچ کے درمیان ایرانی میڈیا کی میزبانی میں چار مبصرین کے ایک گروپ (ایک ترک صحافی، ایک یونانی وکیل و صحافی اور ایک شمالی امریکی ویڈیو گرافر) کا حصہ تھا۔ہمارا دورہ شمالی شہر تبریز سے شروع ہوا اور تہران، اصفہان، شیراز، بوشہر، بندر عباس اور میناب (اسکول کی طالبات کے قتلِ عام کی جگہ) تک گیا۔
ہم زیادہ تر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد کے اثرات اور بڑے شہروں میں تقریباً ہر شام لوگوں کی حب الوطنی پر مبنی متحرک لہر کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ ہر ایرانی شہر میں، دسیوں ہزار لوگ ہر شام اپنے ملک کی حمایت میں باہر نکلتے تھے۔ اس میں تہران کی امام خمینی مسجد میں عید کی نماز کا ایک بہت بڑا اجتماع بھی شامل تھا، جو 35 برسوں میں پہلا ایسا اجتماع تھا جس سے شہید ایرانی رہنما سید علی خامنہ ای نے خطاب نہیں کیا تھا۔ رپورٹس اور مشاہدات سے معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ، خواہ ان کے سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں (بشمول وہ لوگ جو دوسرے ممالک سے واپس آئے تھے) اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے پرجوش تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران پر ٹرمپ کا حملہ اسرائیلی پروپیگنڈے کی وجہ سے ہوا، جس میں بار بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ "حکومت" انتہائی غیر مقبول اور تنہا ہے، جس کے لیے اکثر جانبدارانہ سروے کا سہارا لیا گیا۔ اسرائیلی پروپیگنڈے نے تجویز دی تھی کہ اگر قیادت کو ختم کر دیا گیا تو ایرانی عوام اس "حکومت" کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا، یہاں تک کہ کئی رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی نہیں۔ یہ "اپنی ہی جھوٹی باتوں پر یقین کرنے" کا نتیجہ ہے، جو زیادہ تر اسرائیلی 'ہاسبرا' (Hasbara) مہمات کا پیدا کردہ تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ اسلامی جمہوریہ سے نفرت کی جاتی ہے اور یہ کمزور ہے۔ اس مہم نے جنوری 2026ء میں موساد اور سی آئی اے کی جانب سے بھڑکائی گئی تشدد کی لہر کا فائدہ اٹھایا، جیسا کہ اسرائیلی میڈیا اور سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیک پومپیو نے اعتراف کیا تھا۔ اس لہر نے معاشی احتجاج (کرنسی کی گراوٹ کے بعد) کا رخ موڑا اور 3,000 سے زائد افراد کو قتل کیا، جن میں سینکڑوں پولیس اہلکار اور رضاکار (بسیج) شامل تھے۔ ایران میں ہمارے گروپ نے ہر طرح کے لوگوں، خاص طور پر خواتین کو اپنے ملک اور فوج کے دفاع کے لیے باہر نکلتے دیکھا۔ ٹرمپ-اسرائیل جنگ کا مقصد کبھی واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اسرائیلی ایران کو تباہ یا ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے تھے۔ جنگ کے کسی واضح جواز کی کمی کی وجہ سے بہت سے امریکی اتحادیوں نے دوری اختیار کر لی۔
ایران کی میزائل اور ڈرون قوت نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک اسرائیلیوں کو سزا دی، جبکہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں موجود تمام 13 امریکی اڈوں کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ایرانی میزائلوں کے خوف سے امریکی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب نہ آ سکے۔ اسی وجوہات کی بنا پر امریکہ نے کوئی زمینی حملہ بھی نہیں کیا۔ پھر بھی ہم نے شہروں سے گزرتے ہوئے صدمے سے دوچار خاندان دیکھے۔ تہران کے رسالت محلے میں ایک رہائشی علاقہ دشمن کے میزائلوں سے تباہ ہو گیا جس میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے۔ وہاں کوئی تزویراتی یا فوجی ہدف نہیں تھا۔ اصفہان میں ہم نے آئی آر جی سی (IRGC) کے کرنل مہدی نصر آزادانی کے جنازے میں شرکت کی، جو 20 دن کی ڈیوٹی کے بعد گھر لوٹے تھے اور امریکی-اسرائیلی میزائل حملے میں اپنی والدہ، بیوی اور دو بچوں سمیت شہید ہو گئے۔ ہم نے ان کی واحد بچ جانے والی بچی زینب سے اسپتال میں ملاقات کی جو لائف سپورٹ پر تھی، اور اسے علم نہیں تھا کہ اس کا پورا خاندان ختم ہو چکا ہے۔
ہم نے تبریز میں ایک ڈاکخانے کے ملازم کے سوگوار خاندان کو دیکھا، ہنگامی امدادی کارکنوں اور دیہاتیوں کو دیکھا جو شیراز کے مضافات میں فضائی مقناطیسی بارودی سرنگوں سے زخمی یا ہلاک ہوئے تھے۔ شیراز کے اسپتال میں ہماری ملاقات 12 سالہ سالار سے ہوئی، جو فٹ بال کا کھلاڑی تھا اور اسپورٹس گراؤنڈ پر میزائل حملے میں بچ گیا تھا، جہاں 20 افراد قتل ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس حملے میں نیا "پریسیژن اسٹرائیک میزائل" (PrSM) استعمال کیا گیا تھا، جسے بحرین سے فائر کیا گیا تھا۔ اگرچہ ہمارے مشاہدات محدود تھے، لیکن تہران میں ایرانی ہلالِ احمر نے ہمیں بتایا کہ شہری مقامات پر 81,000 حملے ہو چکے ہیں۔ اپریل کے اوائل تک ہلالِ احمر کے مطابق 2,100 سے زائد افراد شہید اور 115,000 شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔تہران میں تاریخی گلستان محل اور پہلوی محل میوزیم کمپلیکس کو بنکر بسٹر بموں سے شدید نقصان پہنچا، جبکہ اصفہان میں چہل ستون محل کو بھی نقصان پہنچا۔ جب ہم بوشہر سے بندر عباس اور پھر میناب پہنچے تو وہاں اسکول کے قتلِ عام کے متاثرین کے والدین کو ابھی تک قبرستان میں اپنے بچوں کے غم میں بیٹھے دیکھا۔
بہت سے لوگوں نے بچوں کے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے بیگ تھامے ہوئے تھے جو اس قتلِ عام کی علامت بن چکے ہیں۔ امریکی فوج کی سابق کاؤنٹر ٹیررازم انٹیلی جنس آفیسر جوزفین گیلبیو نے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا اور امریکی افسران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بندر عباس واپسی پر ہم نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز "بند" نہیں تھی، بلکہ دشمن سے منسلک بحری جہازوں کو آئی آر جی سی نے روک دیا تھا، جبکہ کچھ خلیجی ریاستوں کے جہازوں سے ٹول ٹیکس لیا جا رہا تھا اور دوست ممالک (مثلاً عراق اور چین) کے جہاز آزادانہ گزر رہے تھے۔ امریکہ آبنائے کا کنٹرول حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ مجموعی طور پر، ایران کے برسوں کے "اسٹریٹجک صبر" کا خاتمہ واشنگٹن کے براہ راست حملوں کے ساتھ ہوا، جس نے تہران کو دنیا کی 20 فیصد توانائی کی سپلائی کے گیٹ وے پر کنٹرول کا ایک طاقتور ہتھیار دے دیا ہے۔ مغربی میڈیا نے اس پر سخت ردعمل دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی-اسرائیلی جنگ بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ جیت رہے ہیں، لیکن حقیقت میں امریکہ نے اپنے درجنوں طیارے اور فوجی اڈے کھو دیے۔ پروفیسر جان میئر شائمر جیسے تجزیہ کاروں نے تسلیم کیا کہ ایران نے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسرائیلیوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو "زہر آلود" کر دیا ہے۔ برطانوی تجزیہ کار ڈیوڈ ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حماقت نے خلیج فارس میں ایران کی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ کی اس شکست کا ممکنہ نتیجہ خلیج فارس سے تمام امریکی اڈوں کا انخلاء ہو سکتا ہے، جو اب ایران کا اہم مطالبہ ہے۔ یہ امریکی عالمی بالادستی کے زوال کا ایک اور قدم ہے۔ یاد رہے کہ چین بھی ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا حامی ہے کیونکہ یہ اس کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ بہرحال، ٹرمپ اب اپنی اس عظیم ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی فرضی "فتح" کی تلاش میں ہوں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
