سلیمانی

سلیمانی

اسلامی جمہوریہ ایران  کی مسلح افواج کے ایک بیان میں  ایران کی آبی سرحدوں کے پاس دشمن کی جانب سے جارحیت  کے بارے میں بتایا گيا ہے کہ بحریہ نے مختلف میزائلوں، ڈرون طیاروں اور راکٹوں سے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جنہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب اور  ایرانی ساحل کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز پر حملہ کیا تھا۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کی  بحریہ کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد، جارح امریکی جنگی جہازوں نے اپنا رخ بدل لیا اور وہ  اور علاقہ چھوڑ دیا۔

 اس سے قبل خاتم الانبیاء سنٹرل کمان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  جارح، دہشت گرد اور  بحری قزاق امریکی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی  آل ٹینکر  پر حملہ کیا جو جاسک کے علاقے میں ایران کے ساحل سے آبنائے ہرمز کی طرف جا رہا تھا اسی طرح آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور ایرانی بحری جہاز کو  متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کےقریب  حملے کا نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق امریکی فوج نے  اسی دوان خلیج فارس کے جنوب کے کچھ ممالک کے تعاون سے خمیر، سیرک بندرگاہوں اور جزیرہ قشم کے ساحلوں پر غیر فوجی مقامات   پر فضائی حملے کئے ۔

 بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر  کی جانے والی جوابی کارروائی میں، آبنائے ہرمز کے مشرق اور چابہار  بندرگاہ کے جنوب میں امریکی بحری  جنگی  جہازوں پر حملہ کر دیا اور انہیں قابلِ ذکر نقصان پہنچایا۔

 بیان میں خبردار کیا گيا ہے کہ  مجرم اور جارح امریکہ اور اس کے حامی ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح طاقتور اور بغیر کسی تردید کے، ہر قسم کی جارحیت اور حملے کا تباہ کن جواب دے گا۔

حزب اللہ لبنان نے جمعے کے روز مقبوضہ سرزمینوں کی جانب 20 میزائل داغے جس کے خوف سے 10 لاکھ سے زیادہ صیہونی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔

صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حزب اللہ کے ایک میزائلی حملے میں نہاریا علاقے میں واقع ایک عمارت تباہ ہوگئی اور ایک صیہونی آبادکار بھاگتے وقت زخمی ہوگیا۔

حزب اللہ نے اس کے علاوہ ڈرون حملوں سے غاصب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں لبنان اور صیہونی حکومت کی سرحد کے قریب تین صیہونی فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

مقبوضہ سرزمینوں سے موصولہ ویڈیو فوٹیج میں، اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں کو متعدد زخمیوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ کے ڈرون حملوں کے سامنے صیہونی فوج بے بس ہوگئی ہے یہاں تک کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے لبنان کی استقامتی تنظیم کے ڈرون طیاروں کو صیہونی حکومت کے لیے سنجیدہ خطرہ قرار دیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج سے کوئی ترکیب نکالنے کی اپیل کی ہے۔

اس کے علاوہ حزب اللہ کے مجاہدوں نے جمعے کے روز جنوبی لبنان میں واقع بیوت السیاد قصبے میں زبردستی داخل ہونے والے دو اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کردیا۔

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں جاری تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے میں جاری سیاسی و سکیورٹی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ بات چیت اور سفارتکاری کا راستہ جاری رہنا چاہیے اور خطے کے ممالک کے درمیان تعمیری اور مثبت تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان تعاون سے پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور خطے میں کشیدگی اور تناؤ کے امکانات کو روکا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ریاض اپنے فضائی حدود کو کسی بھی قسم کی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی ذرائع نے سعودی چینل الحدث کو بتایا کہ عربستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود کو کسی بھی حملہ آور یا جارحانہ آپریشن میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعوی کیا تھا کہ سعودی عرب اور کویت نے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں، تاہم سعودی حکام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا۔

اسی حوالے سے سعودی چینل العربیہ نے بھی ایک سعودی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود کو کسی جارحانہ فوجی کارروائی کی حمایت کے لیے فراہم نہیں کیا اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی ہے۔

سعودی ذریعے نے مزید کہا کہ ریاض اس وقت صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور وہ پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنا اور کسی سمجھوتے تک پہنچنا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ حلقے نامعلوم مقاصد کے تحت سعودی عرب کے موقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ ریاض کی پوزیشن کے بارے میں ایک گمراہ کن تصویر قائم کی جاسکے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے خلیج فارس میں دشمن کی مہم جوئی کے ردعمل میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ پشیمان ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق، جنرل امیر حاتمی نے وزارت داخلہ کے خصوصی معاون بریگیڈیئر محمدحسن نامی کے پیغام کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے اس کے متن کی تائید کی، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ دشمن پشیمان ہوں گے۔

ایرانی فوج کے سربراہ کا یہ مختصر مگر سخت بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دشمن کے لیے ایک واضح انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی محاصرے نے سمندری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک نئی صورتحال بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور امریکہ کے لیے موجودہ حالت کو جاری رکھنا ناقابل برداشت بنتا جا رہا ہے۔

اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور محاصرہ قائم کرکے سمندری جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شرارتیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گی اور ان کے شر سے نجات حاصل ہوجائے گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے، جبکہ ایران نے ابھی تک عملی طور پر اپنی کارروائیوں کا آغاز بھی نہیں کیا۔

 امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگست نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی اور یہ اس وقت بھی برقرار ہے، جبکہ امریکہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، اور سمندری تجارت جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور آبنائے ہرمز میں شروع کیا گیا منصوبہ عالمی تعاون کا متقاضی ہے۔

پیٹ ہیگست نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اقدامات میں احتیاط برتے تاکہ صورت حال جنگ بندی کی خلاف ورزی کی حد سے نیچے رہے۔

دوسری جانب امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز میں مفادات رکھتے ہیں، آگے بڑھیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد 10 بار امریکی افواج پر حملے کیے، تاہم یہ حملے اس سطح تک نہیں کہ امریکہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرے۔

 رہبرِ شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے ارشادات نوجوان نسل کے لئے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آپ کی نصیحتوں کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی زندگی کے اس قیمتی دور کو سنجیدگی کے ساتھ علم حاصل کرنے، کردار سازی اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں صرف کریں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کو کبھی معمولی نہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ فرمایا: "صرف خوبصورت گفتگو یا اچھے خیالات اس بات کی دلیل نہیں کہ انسان نے صحیح معنوں میں علم حاصل کر لیا ہے۔ اصل معیار مسلسل محنت، باقاعدہ مطالعہ اور گہری علمی بنیاد ہے۔ بغیر علم کے انسان معاشرے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔"

آپ اس بات پر بھی زور دیتے تھے کہ علم انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم کے ذریعہ اپنی شخصیت کو استوار کریں اور دل لگا کر تعلیم حاصل کریں۔ اگر انسان اپنے افکار اور صلاحیتوں کو معاشرے میں مؤثر بنانا چاہتا ہے تو اس کے لئے علمی پختگی ناگزیر ہے۔

اسی طرح آپ کی تعلیمات میں اخلاقی پہلو بھی نہایت نمایاں ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے مطابق تعلیم کے ساتھ پاکدامنی، فضول اور بے فائدہ مشاغل سے اجتناب بھی نوجوانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک طالبِ علم کا وقت قیمتی سرمایہ ہے، جسے بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح آپ خاص طور پر دینی طلبہ کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص روحانیت کا لباس پہن لے مگر علم حاصل نہ کرے تو یہ ایک بے معنی عمل ہے، بلکہ ایسا ہے جیسے کوئی کسی چیز پر ناجائز قبضہ کر لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی منصب ایک بڑی امانت ہے، جسے صرف وہی شخص سنبھال سکتا ہے جو علمی طور پر اہل ہو۔

اسی تناظر میں آپ نے ابتدائی علوم جیسے نحو، صرف اور منطق کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور فرمایا: "یہ سب علمی عمارت کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر اعلیٰ علمی مقام تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح فقہ اور اصول کی گہری سمجھ انسان کو ایک مؤثر عالمِ دین بناتی ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی کی ان نصیحتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ نوجوان علم کو سنجیدگی سے لیں، اپنے اخلاق کو سنواریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ جو نوجوان علم اور عمل دونوں میں مضبوط ہوگا، وہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے اور ایک بامقصد زندگی گزار سکتا ہے۔

رہبر شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ اور دیگر بزرگان دین کے ارشادات اور نصیحتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر وہ عمل جو تعلیمی نظام کو متاثر کرے، نوجوانوں خاص طور سے طلبہ کی تعلیم و تربیت میں رکاوٹ بنے وہ کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔

جیسا کہ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے شب قدر کے سلسلہ میں فرمایا: "مَن أحیا هاتَینِ اللَّیلَتَینِ بِمُذاکَرَهِ العِلمِ فَهُوَ أفضلُ" یعنی جو شخص ان دونوں راتوں کو علمی گفتگو اور سیکھنے سکھانے میں گزارے، وہ زیادہ افضل ہے۔ (امالی شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ، مجلس 93)

اسی طرح مفسر قرآن فقیہ اہل بیت علیہم السلام آیۃ اللہ العظمیٰ جوادی آملی دام ظلہ نے فرمایا: شبِ قدر میں الٰہی علوم اور دینی معارف کو سیکھنے، بیان کرنے اور سننے سے بہتر کوئی کام نہیں۔ تفسیر، حدیث یا احکام کی محفلوں کا انعقاد کرنا یا ان میں شرکت کرنا خود ایک سعادت اور توفیق ہے۔ اگر ایسی کوئی مجلس میسر نہ ہو تو انسان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہیے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔

آپ نے مزید فرمایا: تیئیسویں شب، جو ماہِ مبارک رمضان کی تمام راتوں بلکہ انیسویں اور اکیسویں شب سے بھی افضل ہے، اس میں سب سے بہتر کام علم حاصل کرنا اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہی علم انسان کو عقل تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے، اور جو انسان عاقل ہو جائے وہ سکون میں رہتا ہے اور کبھی عذاب میں مبتلا نہیں ہوتا۔

مذکورہ مطالب سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جب شب قدر کا افضل ترین عمل تعلیم و تعلم ہے تو عام حالات میں اس سلسلہ میں غفلت، فراموشی یا کوتاہی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

اللہ تبارک و تعالی کے ولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی یعنی سید الاولیاء وسید الاوصیاء امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا: “مواقع بادلوں کی طرح تیزی سے گزر جاتے ہیں، پس نیکی کے مواقع کو غنیمت جانو اور انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو۔”

 مرکز اطلاع‌رسانی فلسطین کے مطابق اس بین الاقوامی ادارے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر عالمی یوم آزادیٔ صحافت  کے موقع پر ایک پیغام میں کہا: غزہ کی پٹی صحافیوں کے لیے پوری دنیا میں سب سے خطرناک جگہ ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا سے وابستہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صرف "مذمتی بیانات یا یکجہتی کے اظہار” سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔

ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جوابدہی کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں، صحافیوں کو جسمانی تحفظ فراہم کیا جائے، اور بین الاقوامی میڈیا کو غزہ تک آزاد اور خودمختار رسائی دی جائے۔

اسی تناظر میں، فولکر ترک، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، نے موجودہ صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: “غزہ میں اسرائیل کی جنگ میڈیا کے لیے ایک مہلک جال بن چکی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دفتر نے اکتوبر 2023 میں تنازع کے آغاز سے اب تک تقریباً 300 صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ اس شعبے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔/

“ٹینکر ٹریکرز” نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی مائع گیس لے جانے والا جہاز “زافیا” امریکی بحری محاصرے سے گزرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

الجزیرہ کے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جہاز امریکی بحریہ کی جانب سے قائم کردہ محاصرے کے دائرے سے باآسانی نکل گیا۔

 “ٹینکر ٹریکرز” نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ تقریباً تین ہفتے قبل انہوں نے XAVIA (9052331) نامی جہاز کو ایران کے شہر عسلویہ میں اپنی کھیپ لوڈ کرتے ہوئے دیکھا تھا، جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

امریکی بحری محاصرہ ناکام؟ ایرانی گیس بردار جہاز باآسانی نکل گیا

مزید کہا گیا کہ اس جہاز کو آخری مرتبہ دو روز قبل عمان کے شہر صحار کے قریب دیکھا گیا۔