سلیمانی

سلیمانی

تہران(IRNA) ایرانی فوج نے بتایا ہے کہ ایرانی بحریہ کے آپریشنل تعاون سے ایرانی آئل ٹینکر "سلی سٹی" کے ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوگيا ہے۔

ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق دہشت گرد امریکی فوج کے بحری بیڑے کی دھمکیوں پرواہ نہ کرتے ہوئے سلی سٹی آئل ٹینکر بحفاظت ایران سمندری حدوہ میں پہنچ گيا ہے۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر گزشتہ رات بحریہ آپریشنل کمک اور شیلٹر میں بحیرہ عرب سے گزرنے کے بعد ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوا اور چند گھنٹوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوبی بندرگاہوں میں سے ایک پر لنگر انداز ہوگیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بحیرہ عمان میں بحری جہاز پر امریکی حملے کو قزاقی عمل قرار دے کر شدید مذمت کی ہے

تفصیلات کے مطابق ترجمان بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عارضی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری جہاز کے عملے و ان کے اہل خانہ کو یرغمال بنایا ہے۔

انہوں نے جہاز اور عملے کی فوری رہائی کے لیے اقوام متحدہ، سیکیورٹی کونسل اور بین الاقوامی بحری امور کی تنظیم سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

وزارت خارجہ نے امریکہ اس خطرناک کاروائی کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا۔

لاہور میں سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی سینئر صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ، خلیج فارس کے ممالک اور خطے سمیت ملک کی سیاسی صورت حال پر بات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کے ائیر بیسز ان کے لئے دفاعی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ثالثی کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا ہے مگر حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی ہے، ہمٰں مستقل پالیسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں بھی جنگ کا حصہ بن جائیں گی۔ 

 ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ اب تک ایران کا کوئی بھی وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نہیں گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز سے مختلف بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع ابلاغ مسلسل ایسی خبریں نشر کرتے رہے جن میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کا دعوی کیا گیا۔ بعض رپورٹس میں تو یہاں تک کہا گیا کہ ایرانی وفد کی پاکستانی حکام سے ملاقات کا وقت بھی طے ہوچکا ہے تاہم یہ تمام اطلاعات غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح اور مستقل موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دھمکیوں اور عہد شکنی کے ماحول میں مذاکرات کو قبول نہیں کرتا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق مذاکرات میں مزید شرکت کا انحصار امریکہ کے رویے اور پالیسی میں تبدیلی پر ہوگا۔

 انسانی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں زمین محض زمین نہیں رہتی بلکہ وہ آسمان سے جڑ جاتی ہے۔ قم بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے—خاموش مگر گویا، سادہ مگر پُر اسرار، جہاں ہر سانس میں ولایت کی خوشبو اور ہر گوشے میں علم کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جسے ایک عظیم خاتون کی مختصر مگر بابرکت حیات نے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا—حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا، جن کا وجود قم کے لیے روح اور امت کے لیے چراغ بن گیا۔

مدینہ منورہ کی نورانی فضا میں آپ کی ولادت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جس کے ہر فرد نے تاریخ کو نئی سمت دی۔ آپ نے آنکھ کھولی تو علم آپ کے سامنے تھا، عبادت آپ کے ماحول میں تھی، اور ولایت آپ کی سانسوں میں رچی بسی تھی۔ قرآن نے اہل بیتؑ کی اسی پاکیزگی کو یوں بیان کیا:

﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾

ترجمہ: “اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں کامل پاکیزگی عطا کرے۔”

(سورۃ الاحزاب: 33)

یہ آیت صرف ایک فضیلت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا اعلان بھی ہے—اور حضرت معصومہؑ نے اپنی مختصر زندگی میں اس ذمہ داری کو اس طرح نبھایا کہ تاریخ حیران رہ گئی۔

آپ کی زندگی کا سب سے درخشاں پہلو وہ ہجرت ہے جو بظاہر ایک بہن کی اپنے بھائی سے ملاقات کی آرزو تھی، مگر حقیقت میں یہ ایک فکری و روحانی تحریک تھی۔ جب امام علی رضا علیہ السلام کو عباسی حکومت نے خراسان منتقل کیا تو مدینہ کی گلیاں سونی ہو گئیں۔ اس فراق نے حضرت معصومہؑ کے دل میں ایک ایسا شعلہ بھڑکایا جو انہیں سفر پر لے آیا۔ یہ سفر صرف میلوں کا نہیں بلکہ ایک پیغام کا سفر تھا—حق کے ساتھ وابستگی کا، ظلم کے مقابل صبر کا، اور ولایت کی تبلیغ کا۔

راستے کی سختیاں، ساوہ کا سانحہ، اور بیماری کی حالت—یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سفر عام نہیں تھا۔ اسی حالت میں آپ نے قم کا رخ کیا، گویا آپ کو معلوم تھا کہ اس سرزمین نے آپ کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کرنی ہے۔ جب آپ قم پہنچیں تو لوگوں نے جس عقیدت سے استقبال کیا، وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ دلوں میں اہل بیتؑ کی محبت پہلے ہی گھر کر چکی تھی، اور اب اسے ایک مرکز مل گیا تھا۔

آپ کی مختصر قیام نے قم کو بدل کر رکھ دیا۔ چند دنوں کی عبادت، دعا اور خاموش تعلیم نے اس شہر کی روح میں ایک ایسا اثر چھوڑا کہ وہ صدیوں تک باقی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہؑ نے قم اور حضرت معصومہؑ کی عظمت کو بارہا بیان فرمایا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

«أَلَا إِنَّ قُمَّ عُشُّ آلِ مُحَمَّدٍ وَمَأْوَى شِيعَتِهِمْ»

ترجمہ: “خبردار! قم آلِ محمدؐ کا آشیانہ اور ان کے شیعوں کی پناہ گاہ ہے۔”

(بحار الانوار، ج 60، ص 217)

اور ایک اور روایت میں حضرت معصومہؑ کی شان یوں بیان ہوئی:

«مَنْ زَارَهَا عَارِفًا بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ»

ترجمہ: “جو ان کی زیارت ان کے حق کی معرفت کے ساتھ کرے، اس کے لیے جنت ہے۔”

(بحار الانوار، ج 60، ص 228)

یہ “معرفت” دراصل اس پیغام کو سمجھنے کا نام ہے جو حضرت معصومہؑ نے اپنی زندگی سے دیا—کہ علم بغیر ولایت کے ادھورا ہے، اور ولایت بغیر شعور کے بے اثر۔

آج قم کو دیکھیں تو وہ ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ ادارہ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں مدارس، کتب خانے، تحقیقی مراکز اور علمی حلقے موجود ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ اس شہر میں علمِ دین حاصل کرتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں فکر، عبادت اور عمل ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ یہاں کے مدرسوں میں صرف کتابیں نہیں کھلتیں بلکہ ذہن بھی روشن ہوتے ہیں، اور یہاں کے صحنوں میں صرف قدم نہیں پڑتے بلکہ تقدیریں بدلتی ہیں۔

قم کی فضا میں ایک عجیب سکون ہے۔ فجر کے وقت جب اذان کی آواز حرم کے گنبد سے ٹکرا کر پورے شہر میں پھیلتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خود زمین بھی عبادت میں مشغول ہو گئی ہو۔ دن کے وقت طلبہ کے مباحثے، رات کے وقت زائرین کی دعائیں—یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جو دنیا کے کسی اور مقام پر کم ہی نظر آتا ہے۔

اسی سرزمین سے فکری بیداری کی وہ لہریں اٹھیں جنہوں نے زمانے کا رخ بدل دیا۔ یہاں سے اٹھنے والی آوازوں نے نہ صرف ایک ملک بلکہ پوری امت کو متاثر کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب علم اور روحانیت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو وہ صرف افراد نہیں بلکہ تاریخیں بدل دیتے ہیں۔

حرمِ حضرت معصومہؑ آج بھی صرف ایک زیارت گاہ نہیں بلکہ ایک تربیت گاہ ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ لے کر جاتا ہے—کوئی سکون، کوئی یقین، کوئی عزم، اور کوئی آنسو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دل نرم ہوتے ہیں، نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور انسان اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے۔

خدایا جس طرح تو نے اس پاکیزہ خاتون کے ذریعے قم کو علم و نور کا مرکز بنایا، ہمیں بھی وہ نور عطا فرما کہ ہم اپنی زندگیوں کو تیرے دین کے لیے وقف کر سکیں۔ ہمیں وہ بصیرت دے کہ ہم حق کو پہچان سکیں، اور وہ استقامت دے کہ ہم اس پر قائم رہ سکیں۔ اور ہمیں حضرت معصومہؑ کی سچی محبت اور ان کی زیارت کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اور سینٹکام کے سابق کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ جنگ کے باعث ہو سکتا ہے ایران عسکری لحاظ سے کمزور ہوا ہو، لیکن اس کے نتیجے میں وہ حکمت عملی کے اعتبار سے مزید مضبوط بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی اسٹریٹجک طاقت کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کس حد تک کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت اور ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔

اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے دنیا کے کئی حصوں میں توانائی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے بحیرۂ عمان کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی فائرنگ کے واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے امریکی دہشتگرد اہلکاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور بھارتی و برطانوی تجارتی جہازوں کو واپس بھیجنے کے بعد، سپاہ پاسداران کی کنٹرول کارروائیوں کے تناظر میں امریکی دہشتگرد اہلکاروں نے ایک ایرانی تجارتی جہاز کو واپس موڑنے کے لیے فائرنگ کی۔

سپاہ پاسداران کی بحریہ کی بروقت مداخلت اور تیز ردعمل کے بعد امریکی اہلکار علاقے سے پسپا ہو گئے۔

صدارتی دفتر کے روابط عامہ کے سربراہ سید مہدی طباطبائی نے کہا ہے کہ ایران ایک امن پسند ملک ہے لیکن سرکش طاقتوں کو ان کی اوقات یاد دلانے میں بھی مہارت رکھتا ہے۔

سید مہدی طباطبائی نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران نے اپنی نیک نیتی اور امن پسندی کو ثابت کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے کچھ شرائط کے تحت آمد و رفت کو ممکن بنایا لیکن [فریق مقابل نے] معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ہماری رحم دلی کو اپنے پروپیگینڈا مہم کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا جس کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ تاریخ ثابت کرچکی ہے کہ ہم جتنا امن پسند ہیں، سرکش طاقتوں کو ان کی اوقات یاد دلانے میں اتنی ہی مہارت رکھتے ہیں۔

تہران (IRNA) ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ پہلے والی سخت نگرانی کی حالت میں واپس لے آیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے حسنِ نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محدود تعداد میں تیل بردار اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، مگر امریکہ کی مسلسل بدعہدی اور سمندری جارحیت کے باعث یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

 ایرانی مسلح افواج نے اس اہم گزرگاہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بحری آمد و رفت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول برقرار رہے گا۔

اسماعیل بقائی نے قومی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رفت آمد کو فریق مقابلے کے رویوں سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فریق مقابل  نے کوتاہی کی تو ایران ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کی نگرانی اور کنٹرول میں ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگا ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ وزیر خارجہ سیدعباس عراقچی کے ٹوئٹ میں واضح کردیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت  ایران کی جانب سے  طے شدہ راستے سے اور ایران کی پورٹ اینڈ شپنگ اتھارٹی کی اجازت سے انجام پاسکے گی۔  

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر فریق مقابل نے وعدہ خلافی کی تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی جوابی اقدامات انجام دے گا اور اس بارے میں ضروری فیصلے اور اقدامات پہلے ہی کيے جاچکے ہیں۔

ایران کے بحری محاصرے کے حوالے سے پوچھےگئے ایک سوال کے جواب میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تہران لازمی اقدامات پر مجبور ہوگا اور اس حوالے سے ذرہ برابر کوتائي نہیں کی جائے گي۔