آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پاپ لیون چهاردهم کی توہین پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں کی حرمت کا تحفظ سب پر لازم ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے پیغام میں اس گستاخانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عیسائی برادری اور عالمی مذہبی شخصیات کو اس عمل کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کیتھولک رہبر کی شان میں کی گئی یہ توہین ایک ناقابل قبول اقدام ہے جس کا ازالہ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اولوالعزم انبیاء میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو عظمت اور احترام کے ساتھ یاد کیا ہے، لہٰذا ان مقدس ہستیوں اور ان سے وابستہ مذہبی قیادت کا احترام پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا کہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق تمام انبیاء اور ان کے ماننے والوں کے رہنماؤں کا احترام لازم ہے، اور کسی بھی مذہبی پیشوا کی توہین درحقیقت اخلاقی اقدار کی پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے علمی و فکری مراکز کو حکمت، دانائی اور متوازن سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے اقوال و افعال نہ علمی لحاظ سے درست ہیں اور نہ ہی عملی طور پر مناسب، اور اسی غیر ذمہ دارانہ رویے کے تحت انہوں نے ایک بڑے مذہبی رہنما کی توہین کی ہے۔
آیت اللہ نے زور دیا کہ خاص طور پر امریکہ کے عیسائی اور کیتھولک حلقے اس منکر کے خلاف احتجاج کریں اور اس طرح کے ناپسندیدہ رویوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ظلم و ناانصافی کے خلاف پاپ کی نصیحت ایک قیمتی اور اہم آواز ہے، جس کی حمایت کی جانی چاہیے، نہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
