سلیمانی

سلیمانی

جب حضرت امام حسین (علیہ السلام) رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی قبر مبارک سے صبح کے وقت گھر واپس تشریف لائے تو آپ علیہ السلام کے بھائی جناب محمد حنفیہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا: "میرے بھائی! آپ میرے لیے محبوب ترین اور عزیزترین شخص ہیں، اللہ کی قسم! میں کسی کے حق میں خیرخواہی کرنے سے دریغ نہیں کرتا، آپ سب سے زیادہ میری خیرخواہی کے لائق ہیں، اس لیے کہ میں اور آپؑ ایک جڑ سے ہیں اور آپؑ میرے گھرانہ کی جان، روح، آنکھ اور بڑے ہیں اور آپؑ کی اطاعت مجھ پر واجب ہے، کیونکہ اللہ نے آپؑ کو مجھ پر شرف بخشا ہے، اور آپؑ کو اہل جنت کے بزرگوں میں سے قرار دیا ہے"۔

نیز جناب محمد حنفیہؑ نے عرض کیا:

"مکہ تشریف لے جایئے، اگر وہاں آپ کے لئے امن ہو تو وہیں پر رہیں، اور اگر ایسا نہ ہو تو یمن چلے جایئے گا کہ وہاں آپ کے جدّ اور والد کے اصحاب ہیں ، وہ سب سے زیادہ مہربان، محبت کرنے والے اور مہمان نواز لوگ ہیں، اگر وہاں آپ کے لئے امن ہو تو رہیئے ورنہ ریگزاروں اور پہاڑ کے شکاف میں جایئے گا اور ایک شہر سے دوسرے شہر کوچ کیجئے گا تاکہ آپ دیکھیں کہ ان لوگوں کا کام کہاں پہنچتا ہے اور اللہ ہمارے اور اس فاسق گروہ کے درمیان فیصلہ کرے گا"۔

حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے فرمایا: "يا أَخي وَاللَّهِ لَوْ لَمْ يَكُنْ في الدُّنْيا مَلْجَأً وَ لا مَأْوىً، لَما بايَعْتُ يَزيدَ بَنْ مُعاوِيَةَ"، "اے میرے بھائی، اللہ کی قسم اگر دنیا میں کوئی پناہگاہ اور امن کی جگہ نہ بھی ہو تو یزید ابن معاویہ سے بیعت نہیں کروں گا"۔

جناب محمد ابن حنفیہ خاموش ہوگئے اور رونے لگے، امام (علیہ السلام) بھی کچھ دیر روئے، پھر فرمایا: "يا أَخي جَزاكَ اللَّهُ خَيْراً، لَقَدْ نَصَحْتَ وَ أَشَرْتَ بِالصَّوابِ وَ أَنَا عازِمٌ عَلَى الْخُروُجِ الى‌ مَكَّةَ، وَ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِذلِكَ أَنَا وَ إِخْوَتي وَ بَنُو أَخي وَ شيعَتي، وَ أَمرُهُمْ أَمْري وَ رَأْيُهُمْ رَأْيي، وَ أَمَّا أَنْتَ يا أَخي فَلا عَلَيْكَ أَنْ تُقيمَ بِالْمَدينَةِ، فَتَكُونَ لي عَيْناً عَلَيْهِمْ وَ لا تُخْفِ عَنّي شَيْئاً مِنْ أُموُرِهِمْ‌"، "اے میرے بھائی، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، بیشک آپ نے خیرخواہی کی اور صحیح راستہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میں اب مکہ کی طرف جانے والا ہوں اور میں نے اس سفر کے لئے اپنے آپ کو اور اپنے بھائیوں اور بھتیجوں اور شیعوں کو تیار کیا ہے، اور ان کا کام (ارادہ) میرا کام ہے اور ان کی رائے میری رائے ہے، اور آپ اے میرے بھائی! آپ کے لئے مدینہ میں رہنے کا کوئی حرج نہیں تاکہ آپ ان پر میری آنکھ (خبررساں) رہیں اور ان کے تمام امور سے مجھے مطلع کریں"۔ (۱)

۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: شیرازی ، ناصر مکارم ، کتاب عاشورا ريشه‌ها، انگيزه‌ها، رويدادها، پيامدها، ص۳۲۷، ۳۲۸ ۔

یمنی اعلی رہنما نے تل ابیب پر حملے کو نیٹو کے لئے انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن صہیونی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔

یمنی تنظیم انصاراللہ نے تل ابیب پر حملے کو نیٹو کے لئے انتباہ قرار دیا ہے۔

تنظیم کے اعلی رہنما محمد البخیتی نے کہا ہے کہ اسرائیل پر یمنی فوج کے حملوں کا مقصد غزہ میں فلسطینی عوام کا قتل عام روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر سناریو پر کام کیا ہے اور اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

دوسری جانب یمن کے وزیراطلاعات فھمی الیوسف نے کہا ہے کہ یمن کے شدید اسرائیل کی شکست پر منتج ہوں گے۔ کل کے حملے نیٹو کے لئے پیغام ہیں کہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر یمن خاموش نہیں رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن اسرائیل کے اندر گھس حملہ کرے گا اور صہیونی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا۔

یاد رہے کہ کل یمنی فوج نے تل ابیب کے حساس علاقے پر "یافا" ڈرون طیارے سے حملہ کیا تھا جس میں کم از کم ایک صہیونی ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے تھے۔

https://taghribnews.com

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین اسمبلی کے بورڈ کے رکن آیت اللہ عباس کعبی نے آج سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کہ عزاداری کی تقریب میں منافقت کو عاشورا کے درسوں میں سے ایک سبق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں منافقت کی کچھ اقسام ہیں، جس میں سیاسی،سماجی، اخلاقی، انفرادی اور عمومی منافقت جیسی اقسام شامل ہیں۔اور سورۃ المنافقون میں ’منافق کے لیے مردہ باد کا نعرہ ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ منافقت ایک خطرناک بیماری ہے۔ منافقت کی جڑ میں ایمان کی کمزوری ، تکبر، حسد، منفی مقابلہ، مفادات کا ٹکراؤ، حکومت، طاقت، سماجی اور سیاسی، حیثیت سے زیادہ فائدہ اٹھانا، اور دنیاوی مفادات ہیں۔،

آیت اللہ کعبی نے مزید کہا کہ منافق نقاب پوش ہوتا ہے اور اثر و رسوخ کے منصوبے کے ساتھ اہل ایمان لوگوں کی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور موقع میسر ہوتے ہی اپنی جان لیوا ضرب لگاتا ہے۔ جن لوگوں کی منافقت کی جڑیں مضبوط تھیں وہ حضرت ابا عبد اللہ (ع) کے سامنے کھڑے ہو گئے اور امام علیہ السلام کو شھید کر دیا گیا مثال کے طور پر شمر، شبث اور عمر بن سعد جو کہ پہلے اصحاب میں سے تھے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کہ سکے کے دو رخ ہیں کہا کہ؛ تحریک کا ایک رخ عالمگیر انسان کے لیے رحمت ہے اور انسانیت حسین علیہ السلام کی محبت کے سائے میں بدلتی ہے اور دوسرا رخ منافقت کی عالمگیر نفرت ہے، عالمی جبر اور تکبر ہے۔

اگر منافق نہ ہوں تو عالمی ظلم کو آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے جیسا کہ ہم نے غزہ میں دیکھا ہے، اگر منافقین نہ ہوتے تو صیہونیت اور یہ کھلم کھلا ظلم ختم ہو جاتا۔ منافقین دوست کے بھیس میں دشمنوں اور دشمنوں کہ درمیان حدیں ختم کر کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کہ امام حسین (ع) ہماری دشمنی شناسی، با بصیرت ہونا اور منافقت کی پہچان رکھنے سےخوش ہوتے ہیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: منافقین نماز اور روزہ رکھ سکتے ہیں یا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی اجازت بھی دے سکتے ہیں۔ اس طرح لوگوں پہ یہ معاملہ مشتبہ قرار ہو جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ اسلام کے دشمنوں کی حفاظتی ڈھال ہوتے ہیں۔

منافقت سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ شرعی فریضہ پر عمل کیا جائے، فقہی احکام سے دوری اختیار نہ کی جائے۔

یہ شریعت کہ احکام پہ عمل کرنا ہی ہےجو ہمارے دلوں کو نورانی کرتا ہے۔

آیت اللہ کعبی نے مزید کہا کہ ہمیشہ وہ لوگ جو منافقین کی مدد کرتے ہیں وہ جاہل اور سادہ لوح لوگ ہوتے ہیں اور جو اسلام پر لشکر کی صورت میں خطرناک طریقے سے حملہ کرتے ہیں۔ عمر سعد کی فوج میں بہت سے جاہل لوگ ہی موجود تھے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو دنیاداری کی گرفت میں اور دنیا داری کی تلاش میں ہے۔

وفاق ٹائمز، حجت الاسلام و المسلمین سید حسین مومنی نے حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں خطاب کرتے ہوئے کہا: حضرت نوح علیہ السلام کے قصہ میں نوح کی قوم اپنے کفر کی وجہ سے بلا و مصیبت کی مستحق ٹھہری اور صرف ایمان والوں کو ہی کشتی پر سوار ہونے کا حق تھا۔

انہوں نے مزید کہا: اب جبکہ سب نے ملاحظہ کیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پر سوار ہونے اور عذاب الہی سے محفوظ رہنے کی شرط حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان تھی اور حتی حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کو بھی کشتی پر سوار ہونے کا حق نہیں تھا، تو یہ دنیا بھی ایک گہرے سمندر کی طرح ہے اور بہت سے لوگ اس گہرے سمندر میں غرق ہو چکے ہیں، اس لیے اس دنیا میں عاقبت بخیر ہونا انتہائی اہم چیز ہے۔

حجت الاسلام مومنی نے کہا: حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے مطابق اس دنیا میں بھی ہمیں ایک کشتی بنانے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد تقویٰ، عقل، صبر، توکل، ایمان اور علم پر ہو۔

انہں نے کہا: انسانیت کی بیداری کے لیے واقعہ کربلا سے بہتر کوئی مثال نہیں ہے۔ کربلا جیسی تعلیمی درسگاہ میں حضرت قاسم بن الحسن علیہ السلام کی نظر میں شہادت “شہد سے زیادہ میٹھی” ہے جبکہ مادیت پسندوں کی نظر میں موت سب سے کڑوی چیز ہے لہٰذا مکتب سید الشہداء علیہ السلام ایسی درسگاہ ہے جو تلخ ترین واقعات کو انسانوں کے لیے شیرین ترین واقعات میں بدل سکتی ہیں۔

حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ “میرے اہل بیت (ع) کی مثال کشتی نوح کی سی ہے جو اس پر سوار ہوگا وہ نجات پائے گا اور جو اس پر سوار نہیں ہوگا وہ غرق ہو جائے گا”۔ اہل بیت(ع) کی کشتی پرسوار ہونے کے لیے بھی نوح کی کشتی میں سوار ہونے کی طرح ایمان اور عمل صالح شرط ہے۔

انہوں نے مزید کہا: بعض روایات میں حضرت سیدالشہداء سلام اللہ علیہ کی کشتیٔ نجات باقی تمام ائمہ علیہم السلام کی کشتی نجات ے کہیں وسیع تر ہے۔ حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کے نورِ ہدایت میں ظلمت و تاریکی کی گنجائش نہیں ہے لہذا جو بھی اس نور سے متصل ہو گا وہ نجات پائے گا لیکن یاد رہے کہ حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی کشتی سے تمام مخلوقات بغیر کسی شرط کے نجات پاسکتی ہے۔

 

غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کو نو ماہ مکمل ہوگئے ہیں ۔ان نومہینوں میں غزہ نے ہر طرح کے ظلم اور دہشت کا ننگاناچ دیکھاہے ۔بچوں اور عورتوں کا بہیمانہ قتل ،جوانوں کی شہادت،شہر میں جا بجا بکھری لاشیں،غذائی قلت سے تڑپتے لوگ ،مسلم حکمرانوں کی بے حسی،عالمی رائے عامہ کانفاق اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی بے بسی۔اس کے علاوہ غزہ کے لوگوں نے کیا کچھ دیکھا اور بھگتا اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔اقوام متحدہ کو ایسالاچار اور تہی اختیار اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔آخر ان عالمی اداروں کے وجود کا فائدہ کیاہے اگر وہ اپنے قیام کا مقصد پوراکرنے میں مسلسل ناکامی کا شکار ہیں؟کتنی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پیش ہوئی اور ہربار امریکہ نے اسے ویٹو کردیا۔اس کے بعد جب جنگ بندی پر اتفاق ہواتو اسرائیل نے اس عالمی رائے کو ٹھکرادیا۔اسرائیل کا یہ آمرانہ رویہ مغرب نے بھی دیکھا اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے بھی مشاہدہ کیا۔اگر کوئی دوسرا ملک عالمی رائے کی اس طرح اَن دیکھی کرتاتو اس کا کیاحشر ہوتا یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔لیکن اسرائیل جس کے ہر ظلم میں امریکہ برابر کا شریک ہے ،اس نے عالمی رائے کی نہ صرف اَن دیکھی کی بلکہ اس کی تحقیر بھی کی ۔اگر امریکہ اس کی پشت پر نہ ہوتا تو اب تک اسرائیل کا خاتمہ بالخیر ہوچکاہوتا مگر ظالم نے ظالم کی پشت پناہی کی اور آج اسرائیل کھلی ہوئی شکست کے باوجود غزہ سے نکلنے کو تیار نہیں ہے ۔

طوفان الاقصیٰ کے بعد اسرائیل نے یہ دعویٰ کیاتھاکہ وہ حماس کو ختم کرکے دم لے گا۔حماس تو آج بھی موجود ہے جس کے ساتھ اسرائیل جنگ بندی پر مسلسل مذاکرات کررہاہے ،توپھر گذشتہ نو ماہ میں اسرائیلی فوج نے کس کے خلاف جنگ لڑی؟جب جب اسرائیلی فو ج نے زعم ناقص میں یہ باورکیاکہ حماس ختم ہوچکاہے تبھی اس نے صہیونیوں فوجیوں پر سخت حملے کئے ۔نوماہ کی مسلسل جنگ کے بعد بھی حماس کے مختلف جنگجو دستے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔القسام بریگیڈ نے موقع بہ موقع صہیونی فوجیوں پر حملے کرکے اس کو پسپائی کا مزہ چکھایا۔اگر یہ حماس کے جنگجو نہیںکررہے ہیں توپھر غزہ میں صیہونی فوج کا مقابلہ کون کررہاہے ؟اگر نوماہ کی مسلسل جنگ کے باوجود اسرائیلی فوج حماس کا خاتمہ نہیں کرسکی توپھر اس جنگ کا فائدہ کیاہے؟یاپھر اسرائیل کامقصد غزہ کو تباہ کرکے شہر کو خالی کرانا تھا۔کیا صہیونی فوج بے گناہوں کا قتل عام کرکے فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ غزہ واپسی کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں ۔غزہ تو خالی کردیاگیاتھا۔اسکے بعد پناہ گزین کیمپوں پر فضائی حملے شروع ہوئے ۔رفح کیمپ کو تباہ کردیاگیا۔اگر اسرائیلی فوج کا مقصد حماس کو ختم کرنا ہوتا تو اس کے فوجیوں کو تلاش کرکرکے ماراجاتامگر یہ جنگ غزہ کے عوام کے خلاف تھی ۔اس لئے جنگ کا دائرہ بھی عوام کے آس پاس سمٹ کر رہ گیا۔ورنہ اب تک اس دعوے پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیاگیاکہ حماس نے پناہ گزین کیمپوں کو ٹھکانہ بنایاہو۔اسپتالوں اور عبادت گاہوں میں اس کے فوجیوں کا مرکز رہاہو۔توپھر ان عمارتوں پر حملے کیوں کئے گئے ؟ طبی ڈھانچے کو برباد کیوں کیا گیا؟اس کی وجہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔اسرائیل کا مقصد غزہ کے عوام کی نسل کشی تھی ،اس لئے وہ نہیں چاہتاتھاکہ زخموں سے تڑپتےاور بلکتے عوام کو بروقت علاج ملے ۔اسی لئے رفاہی اور عوامی عمارتوں کو زیادہ نشانہ بنایاگیامگر افسوس دنیاکو اسرائیل کا یہ جنگی جرم نظر نہیں آتا۔ورنہ اب تک دنیا اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک رائے ہوچکی ہوتی ۔اس سے زیادہ عالمی رائے کا اتحاد تو روس اور یوکرین جنگ میں دیکھاگیا۔کیا غزہ کا انسانی بحران یوکرین کے مقابلے کم ہے ؟اگر نہیں !توپھر دنیا اس ظلم پر خاموش کیوں رہی ؟امریکی سیاست مدار اوراس کے اتحادی غزہ جنگ اور انسانوں کے بہیمانہ قتل پر خواستہ ناخواستہ بیانات دے رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر ’فیس سیونگ ‘کی جاسکے ۔ورنہ اس جنگ میں سب سے زیادہ ہتھیار امریکہ نے اسرائیل کو بھجوائے ہیں ۔اگر امریکی مدد نہ ہوتی تو یہ جنگ کب کی فیصل ہوچکی ہوتی۔طوفان الاقصیٰ کے بعد امریکہ نے اسرائیل کی فوج امداد میں اضافہ کردیاتھا اور مسلسل اس کو ہتھیار بھیجے گئے ۔اسٹاک ہوم کے تحقیقاتی ادارے انٹر نیشنل پیس اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ نے ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۳ء کے دوران اسرائیل کو اس کی ضرورت کا۶۹ فیصد اسلحہ فراہم کیاہے ۔۷ اکتوبر کے بعد اس فیصد میں مزید اضافہ ہواہے جس کے صحیح اعدادوشمار ابھی تک جاری نہیں ہوئے ۔اس سے امریکی نفاق کا اندازہ لگایاجاسکتاہے ۔

صہیونی فوج اگر اپنے عزائم میں کامیاب ہوتی تواسرائیلی شہری کبھی یرغمالوں کی رہائی کے لئے احتجاجی مظاہرے نہیں کرتے ۔ان کا مسلسل احتجاج یہ بتلارہاہے کہ صہیونی فوج ہر محاذ پر شکست سے دوچارہے ۔اسرائیل کے بعض وزرااور سابق فوجی بھی اقرارکرچکے ہیں کہ اسرائیل جنگ ہارچکاہے ۔ابھی تو غزہ کا محاز سرنہیں ہوسکاجس کے لئے نتین یاہو نے یہ دعویٰ کیاتھاکہ چند روز میں ہم غزہ کو فتح کرکے حماس کو ختم کردیں گے،اس پر حزب اللہ اسکے لئے درد سربناہواہے ۔حوثی بحر احمر کی آبی گذرگاہوں کو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لئے مسدود کرچکے ہیں ۔جس قدر نقصان اسرائیل نے غزہ میں اٹھایا اس سےکم مالی نقصان بحر احمر میں بھی نہیں ہواہے ۔حزب اللہ نے اسرائیل کے اندر ایسےاہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایاہے جس کے بارے میں صہیونی حکمران کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے ۔اس لئے اب جنگ لبنان کی سرحد وں کی طرف بڑھ رہی ہے ۔حزب اللہ نے گذشتہ چار ماہ میں سیکڑوں افراد کی قربانی دی ہے اور اب بھی مسلسل اس کے افراد کو نشانہ بنایاجارہاہے ۔کیونکہ جتنا خوف صہیونیوں کو حزب اللہ سے ہے شاید کسی اور مزاحمتی تنظیم سے ہوگا۔اس کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ مسلسل یہ کوشش کررہاہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ پنجہ آزمائی نہ کرے ۔کیونکہ اس کے نقصانات کا صحیح اندازہ امریکہ کوبھی ہے اور اسرائیل کو بھی ۔

۷اکتوبر کے بعد غزہ کے لوگ مسلسل جلاوطنی کی زندگی گذاررہے ہیں ۔ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں سفر کررہے ہیں ۔وہ جہاں پناہ لیتے ہیں وہیں صہیونی فوج بم برسانے لگتی ہے ۔اس دوران نامعلوم کتنے مظلوم بے گھرہوئے اور کتنے لوگ غزہ کو چھوڑ کر چلے گئے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوآرڈینیٹر سیگرڈ کاگ نے تقریر کے دوران کہاتھاکہ’’ غزہ میں ۱۹ لاکھ لوگ جلاوطنی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے ۔‘‘ان حالات میں رفح کراسنگ کے دوبارہ کھولے جانے کی ضرورت ہے ۔اگر ایسانہیں ہواتو ایک بڑی آبادی غذائی قلت کی بنیاد پر جاں بحق ہوسکتی ہے ۔اگر بہت جلد انسانی امداد کی بڑی کھیپ غزہ نہیں پہونچائی گئی تو دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی زندگیاں خطے میں پڑجائیں گی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسلسل کہاہے کہ ’اسرائیل بھوک کو غزہ کےخلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کررہاہے ‘۔اگر فلسطینی قوم میں جذبۂ شہادت موجود نہ ہوتا تو یہ قوم کب کی صہیونی فوج کے سامنے خودسپردگی کرچکی ہوتی ۔مگر ان کا جذبۂ شہادت مسلسل استقامت اورمقاومت کی دعوت دے رہاہے اور وہ اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ان کی یہی مقاومت صہیونی فوج کی شکست کا اصل سبب ہے۔ورنہ اگر غزہ کےعوام حماس کے خلاف کھڑے ہوجاتے تو آج یہ جنگ نویں مہینے میں داخل نہیں ہوتی ۔اس لئے غزہ کے عوام کی مقاومت اور جذبۂ شہادت کو بھی سلام کرناچاہیے ۔

تحریر: عادل فراز

حوزہ نیوز ایجنسی

نواسہ رسول ؐ امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام تاریخ بشریت کی وہ عظیم اور مقدس ہستی ہیں، جنہوں نے بقائے بشریت اور احیائے اسلام کے لئے مقدس لہو کا ایک ایک قطرہ سرزمین کربلا پر قربان کردیا۔ ۶۰ ہجری میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے دین و انسانیت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو ٹھکانے لگانے کے خاطر ایک مصمم، پرعزم اور مضبوط تحریک کی بنیاد ڈال دی، جس نے اسلام اور انسانیت کی نجات میں بے نظیر کردار ادا کیا۔ یہ تحریک اہداف، نظریات اور افکار کی تحریک تھی۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑنے ’’اصلاح جد امت‘‘ کے لئے ایسا فولادی، مثالی اور محکم ارادہ کیا، جو اس وقت کی تاریخ بدلا سکا اور نہ آج تک کی تاریخ دہرا سکا۔

تحریک کربلا کو دائمی اور لافانی حیثیت روز عاشورہ حاصل ہوئی۔ جب ۷۲ جانبازوں کو شہید کرنے کے لئے دسیوں ہزار اشقیاء میدان کارزار پہنچے۔ بزدل یزیدی افواج پھر بھی کانپ رہے ہیں، ان بزدلوں کی غیرت، جرائت اور ہمت کا جنازہ نکلا تھا، ۱۳ سالہ قاسم ابن حسن جیسے ننھے مجاہد جوان سالہ اکبر ابن حسین اور بزرگ حبیب ابن مظاہر جیسے جری و شجاع جب بزدل فوج پر حملے کر رہے تھے، یزیدی صفوں میں طوفان برپا ہو رہا تھا۔ صفیں کی صفیں واصل جہنم ہو رہے تھے۔ ایک جری و شجاع کو شہید کرنے کے لئے ہزاروں اشقیاء جمع ہوتے تھے۔

 عاشورہ کے روز کربلا کے تپتے ریگزار پر حق و باطل کا جو معرکہ ہوا، یہ کوئی ناگہانی حادثہ نہیں تھا۔ نہ ہی امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ جان بچانے کے لئے کربلا آئے تھے۔ جس انداز سے اس عاشورہ کو پیش کیا جا رہا ہے، یہ قیام امام عالی مقام کے منافی ہے۔ عاشورہ کے دن میدان کربلا میں جو واقعہ پیش آیا، وہ اس الہیٰ اور لافانی تحریک کا عروج ہے، جس کی بنیاد امام عالی مقام نے مضبوط ارادے کے ساتھ ڈالی، جو خالص اسلامی اصول و قواعد پر مبنی ہے۔ ایک منظم اور مضبوط تحریک جس کا سردار و علمبردار امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام ہے، جس کا نگہبان ابوالفضل عباسؑ جیسا شجاع و دلیر ہے۔

تحریک کربلا نے صاف اور واضح لفظوں میں اصلاح امت کی بات کی۔ گھٹاٹوپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی انسانیت کے آزادی، عزت، احترام اور وقار کی بات کی۔ اس سے بھی بڑھ کر دین ناب محمدی ؐ کی بات کی۔ کربلا کی تحریک عسکری اور فوجی تحریک نہیں تھی بلکہ یہ اسلامی اور انسانی ثقافت کی تحریک تھی۔ وہی ثقافت جو یزید پلید اور اس کے کارندوں کے ہاتھوں یرغمال ہوئی تھی۔ اس ثقافت کی بقاء پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کی قیادت میں روشن، پُرسکون اور ہشاش بشاش کربلائی چہروں نے اپنے لہو مقدس سے اس ثقافت کو سیراب کرکے زندہ کیا اور جام شہادت نوش فرما کر اسلام و انسانیت کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کیا۔

شہدائے کربلا نے شہادت کو آفت نہیں بلکہ سعادت، نیک بختی اور نعمت سمجھا۔ قید و بند کی مشقتیں، شہادتیں، ظلم و ستم، خیموں کا جلنا، تازیانے، طعنے، چادریں چھیننا۔۔۔۔۔ اس کے باوجود کربلا کے سماج کو زیبائی کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا۔ کیونکہ اس الہیٰ سماج کے اہداف بلند تھے، یہ سماج انسانیت شناس بھی تھا، زمان شناس بھی تھا، دین شناس بھی اور حجت شناس بھی تھا۔ یہاں کوئی مادی لالچ نہیں تھا۔ نہ حکومت ری کی، نہ ذر و دینار کی۔ اس نڈر سماج کو اگر فکر تھی تو وہ اسلام و انسانیت کی فکر تھی۔ اس تحریک میں جتنے بھی جانباز تھے، وہ شجاعت، استقامت، مجاہدت، مزاحمت اور صبر و استقلال کے اعلیٰ ترین نمونہ تھے، وہ شوق شہادت اور جذبہ جہاد سے دلدادہ تھے۔ انہوں نے پُرسکون انداز میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

سالار کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کو مدینہ سے کربلا تک کے سفر میں متعدد افراد نے یہ کہہ کر ترک سفر کا مشورہ دیا تھا کہ خون خرابہ ہوگا۔لیکن اسلام اور انسانیت کے عظیم علمبردار، مجاہد اعظم، سالار نہضت، سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ میرے قیام کا مقصد ہی اپنے جد بزرگوار حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی امت کی اصلاح ہے۔ اس کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ امام عالی مقام ؑ نے اپنے اہل و عیال اور اصحاب و انصار کے ہمراہ ۲۸رجب سنہ ۶۰ ہجری سے لیکر روز عاشورہ تک اور پھر روز عاشورہ جو مثالی قربانیاں پیش کیں، آج چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک ان قربانیوں کی مثال تاریخ دہرا نہ سکی۔

چھ ماہ کا شیر خوار علی اصغر ؑ بھی دین کی نصرت کے خاطر اپنے گلوئے مبارک پر ایسا تیر کھا رہا ہے، جس کے احساس سے بشریت آج بھی لرز رہی ہے اور تا روز ابد لرزتی رہے گی۔ ان لامثال اور لازوال قربانیوں سے یہ مقدس تحریک کامیاب ہوگئی۔ سر کٹانے کے باوجود حسینی افکار اور حسینی نظریات دنیا پر چھا گئے، حسینی ثقافت حسینی کلچر اور حسینی معاشرہ قائم ہوگیا۔تلوار پر خون کی فتح ہوئی۔ اس کے باوجود یزید پلید زندہ رہ جانے کے باوجود بھی اہداف و نظریات کی یہ جنگ ہار گیا۔ یزید گالی بن گیا اور یزید نحوست اور کثافت کی مثال بن گیا۔

امام عالی مقام ؑ اور آپ کے جانثاروں نے جو قربانیاں پیش کیں، وہ پوری بشریت اور ہر دور کے لئے مشعل راہ بن گئیں۔ امام عالی مقام ؑ نے بیعت یزید پلید کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’مثلي لا يبايع مثلہ‘‘ یعنی "مجھ (حسین) جیسا تجھ (یزید) جیسے کی بیعت کبھی نہیں کرے گا۔" امام عالی مقام کا یہ جملہ تا روز قیامت آنے والی نسلوں کے لئے روڈمیپ بن گیا۔ قیام کربلا کا لب لباب یہی ہے کہ ہر دور کے یزید کو للکارا جائے اور ہر دور کے یزید کی بیعت بہادرانہ انداز میں ٹھکرائی جائے۔ احیائے اسلام اور بقائے انسانیت کا علمبردار بننا حسینیت ہے۔مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا حسینیت ہے، انسانیت کو گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر عزت، احترام اور وقار بخشنا حسینیت ہے، ذلت کو ٹھکرا کر عزت اور آزادی کی زندگی گزارنا حسینیت ہے۔

افسوس صد افسوس ہم نے حسینیت کے اصل پہلوؤں پر پردہ ڈال کر حسینیت کو صرف مجلسوں اور جلوسوں تک محدود کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عزاداری عبادت ہے اور عزاداری میں وہ طاقت ہے، جس سے ہم حسینیت کے اصل اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں۔ یزید وقت کو للکار سکتے ہیں اور یہ مظلوم کی ایک مضبوط آواز بن سکتی ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ تاجران خون حسین ؑ نے عزاداری سے اس کی روح نکال لیا ہے۔ اس رزم کو رسم میں تبدیل کرکے عزاداری کو پیشہ بنایا ہے۔ کربلا میں روز عاشورہ اور عاشورہ کے بعد یزید پلید اور اس کے کارندوں نے اہلبیت ؑ پر جو مظالم ڈھائے ہیں، تاریخ شرمندہ ہے، انسانیت شرمسار ہے۔ اس پر جتنا بھی واویلا کیا جائے، سینہ پیٹا جائے کم ہے۔

ان مظالم سے ہر صاحب دل کا جگر پارہ پارہ ہو رہا ہے۔ جو لوگ شہدائے کربلا کا درد جانتے ہیں، انہیں آج فلسطین کے مظلوموں کے درد کا احساس ہو رہا ہے اور یہی احساس آج فلسطین میں کام آرہا ہے۔ عزاداری سرمایہ ہے، جب تک جان اور جہاں ہے، تب تک یہ عزاداری شان و شوکت سے برپا ہوگی۔ پس علمائے کرام و ذاکرین کرام سے مودبانہ التماس ہے کہ وہ عزاداری کے ساتھ ساتھ تحریک کربلا کے اصل اہداف و مقاصد کو بیان کرنے کی کوشش کریں۔
 تحریر: مجتبیٰ علی شجاعی
 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے خطے کو دہشت گرد گروہوں کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے ان گروہوں کی تشکیل کا ذمہ دار امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس اداروں کو قرار دیا ہے۔ جمعرات کی شب ایک تقریب میں لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے گذشتہ دو دہائیوں میں خطے کے ممالک کے لیے دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کا مقصد اسلامی اقدار کی توہین کرنا تھا۔ انہوں نے جہاد، شہادت اور مزاحمت کو بدنام کرنے کے لئے پہلے انتہاء پسند گروہوں کی نشاندہی کی اور بعد میں انہیں خطے میں دہشت گرد نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے تیار کیا۔

لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "2000ء کے بعد سے مغرب میں بہت سی ثقافتی اور میڈیا کوششیں شروع ہوئی ہیں، تاکہ خطے میں مزاحمت کی اقدار پر حملہ کیا جاسکے، جس کی واضح مثال جہاد النکاح کی اصطلاح کا استعمال تھا۔" انہوں نے خطے میں مغرب کے دہشت گرد گروہوں کے قیام کا مقصد لوگوں کو مزاحمت سے دور کرنا قرار دیا۔ لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے نقطہ نظر کے مطابق مغربی ممالک اور صیہونی حکومت نے خطے کے مسلم ممالک بالخصوص مزاحمت کے بلاک پر حملہ کرنے کے لیے داعش اور جھبۃ النصرہ جیسے انتہاء پسند اور دہشت گرد گروہ قائم کیے، لیکن خطے کے عوام اور ذمہ داران کی چوکسی اور ہوشیاری سے یہ سازش ناکام ہوگئی۔

خطے میں دہشت گرد گروہوں کی تشکیل میں استکبار اور صیہونیت کے کردار کے بارے میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے جس بات کا انکشاف کیا ہے، اس کا مغربی اور صیہونی شخصیات اور حکام نے بارہا اعتراف کیا ہے۔ 2019ء میں، اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف، گاڈی آئزن کوٹ نے اعتراف کیا تھا کہ تل ابیب نے شام میں دہشت گردوں کو "اپنے دفاع کے لیے" مہلک ہتھیاروں سے لیس کیا تھا۔ 2016ء کی انتخابی مہم میں "داعش دہشت گرد گروہ" کے قیام میں امریکہ کی مدد کے بارے میں "ڈونلڈ ٹرمپ" کے بیانات، اس گروہ اور اسی طرح کے گروہوں کو مضبوط کرنے میں صیہونی حکومت کی بالواسطہ اور بلاواسطہ مدد کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔

درحقیقت شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے مزاحمت کے بلاک کا مقابلہ کرنے کے لیے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور عراق و شام اور پھر افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی مسلسل کوششیں کیں۔  امریکہ نے مغرب کے رہنماء کی حیثیت سے اپنے مغربی اور صہیونی شراکت داروں کے ساتھ مل کر داعش سمیت تکفیری دہشت گردوں کی وسیع حمایت کی اور دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ماضی میں القاعدہ اور حال میں داعش جیسے دہشت گرد گروہ بڑی طاقتوں اور مغربی حکومتوں کی مالی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد کے بغیر طویل مدت تک تنہا کام نہیں کرسکتے۔

مغربی ایشیاء کے خطے میں دہشت گرد عناصر کی فوجی تربیت، مالی اور انٹیلی جنس مدد اور انہیں ہتھیار اور مواصلاتی آلات بھیجنا نیز دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور اس کی حمایت، امریکہ کے کردار کی ایک معمولی جھلک ہے۔ بلا شک و شبہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثرین میں سے ایک ہونے کے ناطے دہشت گرد گروہوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے خطے اور دنیا کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی آمادگی کا بارہا اعلان کرچکا ہے اور اس نے بھاری مالی اخراجات کے ساتھ اپنے پیاروں کی قربانیاں بھی پیش کی ہیں، جن مین سے ایک پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی بھی ہیں۔

ایران، افغانستان، شام، پاکستان، ترکی اور عراق سمیت خطے کے ممالک کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ ملکر خطے میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران نے انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون اور مختلف سکیورٹی اداروں کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حالیہ برسوں میں خطے کے مختلف اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور دوروں کو بھی اس تناظر میں دیکھنا چاہیئے۔

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

ا ررہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا کے بڑے مسائل کے حل میں موثر کردار ادا کرنے کےلیے خود کو تیار کریں۔

 یورپ میں اسلامی طلبہ تنظیموں کے اتحاد (UISA) کی سالانہ کانگریس کے نام اپنے تحریری پیغام میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ آپ کی مستحکم اور معروف یونین اور اس کی سرگرمیوں کا تسلسل خوش آئند ہے۔ 

 رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کے پیغام میں آیا ہے کہ اسلامی طلبہ تنظیموں کا اتحاد اپنے اندازے کے مطابق، دنیا کے موجودہ پیچیدہ مسائل میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ 

آپ نے کہا کہ بڑے مسائل پر اثر انداز ہونا، کسی بھی طرح کی تعداد سے زیادہ، سرگرم افراد کے جذبے، ایمان اور خود اعتمادی پر منحصر ہوتا ہے اور بحمد اللہ یہ گرانقدر سرمایہ آپ مومن اور انقلابی ایرانی جوانوں میں موجود اور قابل مشاہدہ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کے پیغام میں آيا ہے کہ آپ اہم مسائل اور نئے پرانے زخموں کو پہچانتے ہیں اور ان میں سب سے تازہ مسئلہ، غزہ کا المیہ ہے، ان میں سب سے نمایاں مسئلہ، مغرب، مغربی سیاستدانوں اور مغربی تمدن کی اخلاقی، سیاسی اور سماجی شکست ہے۔ 

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مسائل میں سب سے عبرت آمیز مسئلہ، اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے میں لبرل ڈیموکریسی اور اس کے دعویداروں کی ناتوانی اور معاشی و سماجی انصاف کے سلسلے میں ان کی مرگ بار خاموشی ہے 

حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے غزہ کی حمایت میں چلنے والی عالمی طلبہ تحریک کو اہم تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اور امریکا میں عوامی احتجاج بالخصوص اسٹوڈنٹس کے احتجاج کی مدھم امید افز
ا روشنی کی کرن ہے۔
https://taghribnews.com
 
 
صیہونی حکومت کے چینل 12 نے ہفتہ کے روز ایک سروے شائع کیا جس میں تقریباً 70 فیصد صیہونیوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں غزہ کی جنگ میں یقینی فتح کی کوئی امید نہیں ہے اور ان میں سے 68 فیصد نے اس جنگ کے بارے میں نیتن یاہو کی کارکردگی کو انتہائی برا قرار دیا ہے۔

غزہ جنگ کے 9 ماہ کے بعد صیہونی حکومت کے چینل 12 نے آج صیہونیوں کے درمیان کئے جانے والے  ایک سروے کی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق تقریباً 70 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ موجودہ اسرائیلی کابینہ کی طرف سے غزہ جنگ کا  مینیجمنٹ  "خراب" ہے۔

اس چینل  کے مطابق، زیادہ تر صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جنگ سے متعلق کارکردگی کے بارے میں  اچھا نظریہ نہيں رکھتے۔

 چنانچہ صرف 28 فیصد کا خیال ہے کہ جنگ میں نیتن یاہوکی کارکردگی اچھی رہی ہے۔

سروے کے مطابق 46 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وزیرجنگ  یوو گالانٹ نے جنگ کو خراب طریقے  آگے بڑھایا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل جنگ میں مکمل فتح کے قریب ہے، 68  فیصد نے کہا کہ اسرائيل کی  فتح کا "امکان نہیں"، 23 فیصد  نے کہا کہ یہ قریب ہے، اور  /vdc7 فیصد  نے کوئی رائے نہیں ظاہر کی
https://taghribnews.com

انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور تنظیموں نے ہمیشہ سے امریکہ اور یورپ کی جانب س اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امداد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ مغربی طاقتیں ہمیشہ سے اس مسئلے پر پردہ ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی ذرائع ابلاغ میں گاہے بگاہے اس بارے میں حقائق منظرعام پر آتے رہتے ہیں۔ مڈل ایسٹ مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران امریکہ اور جرمنی نے سب سے زیادہ اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اب تک اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو ہلکے سے لے کر بھاری تک مختلف قسم کے فوجی ہتھیار فراہم کئے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکہ اب تک اسرائیل کو 100 سے زیادہ فوجی سازوسامان کے پیکج فراہم کر چکا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ غزہ میں انجام پانے والے جنگی جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
 
امریکی سیاست دان بظاہر غزہ میں جنگ اور عام شہریوں کے قتل عام پر جو تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے رہتے ہیں اس کا واحد مقصد فیس سیونگ اور عوام کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ ہم اس تحریر میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی سب سے زیادہ فوجی امداد کرنے والے دو مغربی ممالک کا ذکر کریں گے اور اس کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کو فراہم کئے گئے فوجی سازوسامان کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ غاصب صیہونی رژیم کے اصلی ترین حامی کے طور پر امریکہ اسرائیل کو سب سے زیادہ فوجی امداد فراہم کرنے والا ملک ہے۔ 2019ء سے 2023ء کے دوران اسرائیل نے جتنا بھی اسلحہ خریدا اس کا 69 فیصد امریکہ نے اسے فراہم کیا ہے۔ یہ اعدادوشمار اسٹاک ہوم کے تحقیقاتی ادارے انٹرنیشنل پیس اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ نے شائع کئے ہیں۔ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023ء کے دن اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصی انجام پانے کے بعد سے امریکہ نے اسرائیل کی فوجی امداد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
 
طوفان الاقصی آپریشن سے اب تک امریکہ اسرائیل کو 100 فوجی پیکج فراہم کر چکا ہے۔ یہ فوجی پیکجز مختلف قسم کے فوجی ہتھیار جیسے ایئر ڈیفنس سسٹمز، گائیڈڈ بم اور میزائل، توب کے گولے، ٹینک کے گولے اور ہلکے ہتھیاروں پر مشتمل تھے۔ امریکہ نے اسرائیل میں آئرن ڈوم نامی میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم کو مضبوط بنانے اور اسرائیل کو زیادہ جدید ایئر ڈیفنس سسٹم سے لیس کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ سرکاری رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو وسیع پیمانے پر چھوٹے سائز کے انٹیلی جنٹ بم فراہم کرنے کے ساتھ ایسی جدید ٹیکنالوجیز بھی فراہم کی ہیں جن کی بدولت بم اور میزائلوں کو ٹھیک نشانے پر مارا جا سکتا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کئے گئے مختلف ہتھیاروں میں 155 ملی میٹر کے توپ کے گولے، ہیل فائر میزائل، 30 ملی میٹر کے گولیاں اور 120 ملی میٹر کے ٹینک کے گولے بھی شامل ہیں۔
 
اسی طرح کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو رات کو دیکھنے والے آلات اور مورچے تباہ کرنے والے بم بھی فراہم کئے ہیں۔ صیہونی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2024ء کے آخر تک امریکہ اسرائیل کو ایف 35 جنگی طیارے، آپاچی فوجی ہیلی کاپٹر، بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹر، سی ہاک فوجی ہیلی کاپٹر، مختلف قسم کے ڈرون طیارے، ایم 270 راکٹ لانچر، ایف 16 فیلکن جنگی طیارے اور توپ کے ہزاروں گولے فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ اسی طرح مارچ 2024ء کے آخر تک بائیڈن حکومت نے 2.5 ارب ڈالر مالیت کے 25 ایف 35 جنگی طیارے اور جنگی طیاروں کے دیگر پرزہ جات جیسے انجن وغیرہ اسرائیل کو فراہم کئے تھے۔ بائیڈن حکومت کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کردہ ہتھیاروں میں 1800 عام بم اور 500 گائیڈڈ بم بھی شامل تھے۔
 
اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے والا دوسرا بڑا مغربی ملک جرمنی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2019ء سے 2023ء تک اسرائیل نے جتنا اسلحہ خریدا اس کا 25 فیصد جرمنی نے اسے فراہم کیا تھا۔ جرمنی اسرائیل کو زیادہ تر سب میرینز، جنگی کشتیاں، مختلف گاڑیوں، جہازوں اور جنگی طیاروں کے انجن اور تارپیڈو فراہم کرتا آیا ہے۔ لیبرز ان فلسطین نامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی اسرائیل کو فراہم کئے جانے والے ہتھیار اور فوجی سازوسامان کا ایک تہائی حصہ فوجی امداد کی صورت میں اسے دیتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء سے پہلے جرمنی نے اسرائیل کو براہ راست طور پر 326 ملین یورو کا فوجی اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دے رکھی تھی۔ البتہ جرمنی اسرائیل کو فوجی ٹریننگ کے شعبے میں بھی بہت زیادہ تعاون فراہم کرتا ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق جرمن حکومت نے مختلف فوجی ٹیکنالوجیز، الیکٹرونک آلات، جنگی کشتیوں، سمندری ہتھیاروں جیسے بم، تارپیڈو، راکٹ، میزائل وغیرہ اسرائیل کو فراہم کرنے کی بھی منظوری دے رکھی ہے۔
 
جرمنی نے اسرائیل کو مرکاوا 4 ٹینک میں استعمال ہونے والا ڈیزل انجن بھی فراہم کیا ہے۔ یاد رہے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم مرکاوا 4 ٹینکوں کا وسیع استعمال کر رہی ہے۔ اکتوبر 2023ء کے آخر سے اسرائیل نے غزہ میں شہری آبادی اور مراکز کو مرکاوا 4 ٹینکوں سے نشانہ بنایا ہے۔ جنوری 2024ء میں جرمن اخبار اشپیگل نے رپورٹ دی ہے کہ جرمنی اسرائیل کو 120 ملی میٹر توپ کے گولے فراہم کرنے کی منظوری دے چکا ہے۔ صیہونی حکمرانوں نے نومبر 2023ء میں جرمنی کو یہ گولے دینے کی درخواست دی تھی۔ البتہ سرکاری رپورٹس میں جن اعدادوشمار کا ذکر ہوا ہے وہ اس مقدار سے بہت کم ہے جو حقیقت میں امریکہ اور جرمنی نے اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کی ہے۔ امریکہ اور جرمنی کے علاوہ اٹلی اور برطانیہ بھی اسرائیل کے اصلی فوجی حامیوں میں شامل ہیں۔ عالمی سطح پر غزہ میں صیہونی جرائم کے خلاف شدید احتجاج اور مخالفت کے باوجود یہ مغربی ممالک اسرائیل کو فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تحریر: علی احمدی