کیریبین کے قزاق، تیل کے لٹیرے Featured

Rate this item
(0 votes)
کیریبین کے قزاق، تیل کے لٹیرے
امریکی حکومت نے اپنی تازہ ترین فوجی مداخلت سے وینزویلا کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ اقدام دنیا والوں کے لیے کوئی غیر متوقع اور حیران کن اقدام نہیں تھا کیونکہ امریکہ گذشتہ کئی سالوں سے کراکس کی امریکہ مخالف حکومت گرانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ گذشتہ تقریباً تین دہائیوں سے وینزویلا میں ہوگو چاویز کی سربراہی میں امریکہ مخالف سیاسی جماعتیں برسراقتدار آ جانے کے بعد سے وینزویلا کی حکومت امریکہ کے گلے میں کانٹا بنی رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے دن ریاست فلوریڈا کے شہر مارالاگو میں اپنی رہائشگاہ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور اس میں وینزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کر لینے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ایسے وقت وینزویلا کے قانونی صدر کے اغوا کا اعلان کیا جب وہ اس سے پہلے وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی بارہا تاکید کر چکا تھا۔
 
منشیات صرف بہانہ ہے تیل اصل نشانہ ہے
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کا اصل مقصد منشیات کی روک تھام اعلان کیا ہے اور وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو پر منشیات اسمگلنگ کرنے والے مافیا کا سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے لیکن 2024ء کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حریف اور امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی صدر صرف وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے۔ اکثر سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اسی بات پر زور دے رہے ہیں۔ کملا ہیرس نے ایکس پر اپنے پیغام میں ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری پر مبنی اقدام کو "غیرقانونی" اور "نامعقول" قرار دیا ہے۔ اس ڈیموکریٹک لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اصل مقصد تیل ہے لیکن ٹرمپ منشیات اور جمہوریت کو بہانہ بنا کر اپنی کاروائی کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
 
حقیقت بھی یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر وینزویلا میں تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا میں موجود تیل کے ذخائر تک رسائی چاہتا ہے۔ یاد رہے وینزویلا میں پایا جانے والا تیل بھاری ہے جسے زمین سے باہر نکالنے کے بھاری اخراجات ہیں لیکن اس کے باوجود وینزویلا دنیا کا تیل برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران جب کیریبین سمندر میں امریکہ کی جنگی کشتیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا، تب بھی وینزویلا روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل چین، یورپی ممالک اور حتی امریکہ کو برآمد کر رہا تھا۔ درحقیقت یوں دکھائی دیتا ہے کہ وینزویلا میں تیل کے ذخائر اور کنویں اب تک کی امریکی فضائی بمباری اور حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔
 
وینزویلا میں امریکہ کی فوجی مداخلت پر عالمی ردعمل
دنیا کے کئی ممالک میں وینزویلا پر امریکی فوجی جارحیت اور صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے حتی تمام یورپی ممالک اور امریکہ میں بھی منعقد ہوئے ہیں اور بعض ذرائع ابلاغ کے بقول گذشتہ دو دنوں میں عظیم ترین بین الاقوامی مظاہرے بن چکے ہیں۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں امریکہ کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ ہوا جس میں امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔ اسی طرح کے مظاہرے ایتھنز میں بھی منعقد ہوئے اور مظاہرین نے وینزویلا کے عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی مظاہرین نے امریکہ کی خارجہ سیاست کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔ اسی طرح انہوں نے وینزویلا اور فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ اٹلی میں بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔
 
غیرقانونی مداخلت
خود امریکہ کے اندر بہت سے سیاسی حلقوں اور عوام نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی جارحیت کو ناجائز اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے کالم میں اس بارے میں لکھا: "اگر گذشتہ صدی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سے کوئی اہم سبق حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ حتی کمزور ترین رجیم کی سرنگونی کی کوشش حالات خراب ہو جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں 20 سال تک ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا جبکہ لیبیا میں ایک ڈکٹیٹرشپ ختم کر کے وہاں انتشار اور انارکی پھیلا دیا۔ 2003ء میں عراق کی جنگ کے افسوسناک نتائج نے بدستور امریکہ اور مشرق وسطی کو متاثر کر رکھا ہے۔" اس امریکی اخبار نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نے اب تک وینزویلا کے خلاف اقدامات کا کوئی قابل قبول جواز پیش نہیں کیا ہے۔
 
دوسری طرف برطانوی اخبار گارجین نے بین الاقوامی قانون کے چند ماہرین سے بات چیت شائع کی ہے جنہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولاس مادرور کی گرفتاری کو اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جیفری رابرٹسن، سیرالئون میں اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی عدالت کے سابق سربراہ، نے کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 4 کے تبصرے 2 کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا: "حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ جارحیت کے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور یہ ایسا جرم ہے جسے نورن برگ کی عدالت نے سب سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔" کنگسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ایلویرا ڈومینگو ریڈوینڈو نے بھی امریکی اقدام کو دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا غیرقانونی استعمال قرار دیا ہے۔
 
تحریر: رضا عموئی
 
 
 
 
Read 14 times