یہودی ارب پتی اور عالمی سطح پر لڑکیوں کے اسمگلر جفری ایپسٹین کا کیس، وفاقی عدالت میں زیر بحث ہزاروں مقدمات میں اب محض ایک سادہ مجرمانہ کیس نہیں رہا بلکہ یہ ایک تباہ کن زلزلہ بن چکا ہے جس نے مغرب کی سیاست اور دولت کے محلات کے ستون ہلا کر رکھ دیے ہیں اور وہ یکے بعد از دیگرے زمین بوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین ایک ایسا شخص بے جو غربت سے بے پناہ دولت تک پہنچا۔ وہ درحقیقت جدید دور میں بھتہ خوری اور منظم بدعنوانی کے سب سے گندے نیٹ ورک کا بانی تھا۔ اس نے کیریبین میں "لٹل سینٹ جیمز" نامی ایک جزیرہ خریدا اور اسے بچوں کی معصومیت کی قربان گاہ اور "سیاہ سفارت کاری" کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے اس کیس سے مربوط 30 لاکھ سے زائد دستاویزات، خفیہ فلم کے لاکھوں رولز اور ہزاروں تصاویر شائع کی ہیں۔
لندن میں سونامی، اسٹارمر کی حکومت ٹوٹنے کے قریب
اگرچہ برطانیہ نے ہمیشہ خود کو پارلیمانی جمہوریت کا گہوارہ اور گڈ گورننس میں اعلیٰ اخلاقی معیارات کا حامل قرار دیا ہے لیکن 2026ء کی نئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوانی شاہی خاندان اور موجودہ حکومت کے مرکز تک جا پہنچی ہے۔ پرنس اینڈریو کا اسکینڈل اور ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اس برفانی تودے کی صرف ایک نوک تھی جو برسوں پہلے دیکھا گیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تعلق محض چند یادگار تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے محل، ایسی پارٹیوں کی میزبانی کرتے تھے جہاں کم عمر لڑکیوں کو "سفارتی تحائف" کے طور پر منتقل کیا جاتا تھا۔ ان انکشافات نے کیئر اسٹارمر کی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسٹارمرکو اب ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس نے پوری لیبر پارٹی کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
امریکہ کرپشن کی لپیٹ میں، کلنٹن اور ٹرمپ کا منحوس اتحاد
بحر اوقیانوس کے اس پار منظرعام پر آنے والی دستاویزات نے امریکہ میں طاقت کے دو ستونوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن، جن کا نام بار بار "لولیتا ایکسپریس" (ایپسٹین کا پرائیویٹ جیٹ طیارہ) کی فلائٹ لسٹ میں درج تھا، کو اب جزیرے پر ان کی موجودگی اور غیر قانونی اجتماعات اور حتی منحرف مذہبی رسومات میں شرکت کی تصدیق کرنے والی نئی شہادتوں کا سامنا ہے۔ ہمیشہ خود کو خواتین کے حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کرنے والی ہیلری کلنٹن کو اب ایسی دستاویزات کا سامنا ہے جو ان جرائم کو چھپانے اور متاثرین کو رشوت دینے میں ان کے دفتر کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین کے خفیہ لاکرز سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر اور نوٹس کئی دہائیوں سے ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اور مشکوک معاملات کو ظاہر کرتے ہیں۔
خون اور معصومیت کی تجارت، جزیرے کے شوکیس میں لڑکیوں کی نیلامی
شاید اس کیس کا سب سے خوفناک اور غیر انسانی پہلو، بحران زدہ ممالک سے انسانوںوں کی تجارت اور نوجوان لڑکیوں کی اسمگلنگ پر مشتمل ہے۔ دستاویزی رپورٹس اور ایپسٹین کے کچھ ساتھیوں کے چونکا دینے والے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نیٹ ورک نے گزشتہ چند برسوں میں ہیٹی اور ترکی میں آنے والے زلزلوں جیسے ناگوار حادثات سے پیدا ہونے والی افراتفری کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بچوں کو نشانہ بنایا جو یتیم ہو گئے تھے یا اسپتالوں سے اغوا کیے گئے تھے۔ موصولہ مالیاتی دستاویزات کے مطابق، ان میں سے کچھ بچوں کو ناقابل یقین قیمتوں جیسے 200 ملین ڈالر کے عوض خرید کر جزیرے پر پہنچایا گیا تھا۔ ان بے سہارا بچوں کو شدید سیکورٹی والے ماحول میں قید رکھا جاتا تھا اور وہ سیاست دانوں کی ہوس رانی اور جنسی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے رہتے تھے۔
موساد کا سایہ اور صیہونی "ہنی ٹریپ" پراجیکٹ
اس کیس کے حتمی تجزیے میں غاصب صیہونی رژیم اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے نمایاں اور مشکوک کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جفری ایپسٹین کے رابرٹ میکس ویل (ایپسٹین کا سسر) سے بہت قریبی تعلقات تھے، جو مغرب میں موساد کے ایک اہم ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر جانا جاتا تھا۔ رابرٹ میکس ویل کی مشتبہ موت کے بعد ایپسٹین اور اس کی بیوی گیسلن نے عملی طور پر مغربی اشرافیہ کی معلومات اکٹھی کرنے کا کام جاری رکھا۔ بہت سے انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کا جزیرہ دراصل ایک بہت بڑا اور جدید ترین "ہنی ٹریپ" تھا جسے اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز نے ڈیزائن کیا تھا۔ مقصد سادہ لیکن خوفناک تھا: عالمی رہنماؤں کے غیر اخلاقی اعمال، عصمت دری اور شیطانی رسومات کی دستاویز اور فلم بندی کرنا تاکہ انہیں نازک لمحات میں سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
مغربی سیاست دان اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے بھیانک جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ یا بلا روک ٹوک مالی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں؟ اس کا جواب ایپسٹین کے جزیرے کے بیڈ رومز میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیجز میں مل سکتا ہے۔ ایپسٹین کے اپارٹمنٹس میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود براک کی موجودگی اور وہاں ان کے اکثر دورے ایک گہرے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی دولت کا بڑا حصہ ایسے نامعلوم چینلز کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو واشنگٹن اور تل ابیب میں طاقتور صیہونی لابیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقدمے نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صیہونیت اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی اسمگلنگ سے لے کر عالمی رہنماؤں کی اخلاقی بدعنوانی تک کسی بھی گھناؤنے طریقے سے دریغ نہیں کرتی۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
