اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ ہنگاموں کے بعد اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے والے چینلز نے پورے زور و شور سے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا تھا کہ ان واقعات میں کم از کم 30 ہزار افراد قتل ہوئے ہیں لیکن مختصر عرصے میں ہی اصل حقائق سامنے آ جانے کے بعد اب وہ اپنے ہی جھوٹ کے بنے ہوئے جال میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ ایران کے سرکاری ذرائع ان ہنگاموں میں قتل ہونے والے افراد کی تمام کوائف کے ہمراہ فہرست جاری کر چکے ہیں۔ اس فہرست کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 3117 ہے۔ اس اقدام کے بعد ایران کے خلاف پروپگنڈہ کرنے والے میڈیا ذرائع سے بھی یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ آپ بھی اپنے اعدادوشمار کے مطابق ایک تفصیلی فہرست جاری کریں اور جن افراد کے جاں بحق ہونے کا دعوی کر رہے ہیں ان کی تفصیلات بھی بیان کریں۔
گزشتہ چند دنوں سے ایران مخالف ذرائع ابلاغ نے ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے ہنگاموں میں ہونے والے جانی نقصان پر مبنی شائع کردہ فہرست کے بارے میں پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یاد رہے ان ذرائع ابلاغ نے پہلے 12 ہزار افراد قتل ہونے کا دعوی کیا اور پھر یہ تعداد بڑھا کر 30 ہزار کر دی تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنے مبینہ اعدادوشمار کو درست ثابت کرنے کے لیے غیر اخلاقی حربہ بھی اپنایا ہے۔ ان میڈیا ذرائع نے ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کے طور پر کچھ ایسے افراد کے نام بھی شائع کیے ہیں جنہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر اپنے زندہ ہونے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ان افراد کے خلاف بھی شدید پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا اور حتی بعض کو تو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
درحقیقت یہ میڈیا ذرائع پہلے ایسے افراد کا نام ہنگاموں میں قتل ہونے والے افراد کے طور پر جاری کرتے ہیں جو حقیقت میں زندہ ہیں اور اس کے بعد ان پر یہ دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ وہ اس جھوٹ کی تردید نہ کریں۔ اسی طرح بعض افراد تو ایسے بھی ہیں جنہیں ان میڈیا ذرائع نے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایسی اوچھی اور اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں کا مقصد اپنے مبینہ اعدادوشمار کو درست ثابت کرنا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کی جانب سے بروئے کار لایا گیا ایک اور غیر انسانی حربہ یہ ہے کہ وہ مختلف حادثات و واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کو بھی ہنگاموں کے مقتولین کے طور پر جاری کرتے ہیں۔ اب تک بارہا ایسے افراد کے لواحقین کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ چکا ہے۔
ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف میڈیا ذرائع اس وقت جس اصلی بحران اور پریشانی سے روبرو ہیں وہ یہ ہے کہ ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے ہنگاموں میں قتل ہونے والوں کے نام اور تفصیلات شائع کرنے پر مبنی اقدام کے جواب میں کیا کیا جائے؟ رائے عامہ اور جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، مخالفین کا ایک بڑا حصہ بھی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یہ میڈیا ذرائع بھی اپنے مبینہ اعدادوشمار کی تصدیق کے لیے متاثرین کے نام شائع کریں۔ اس عوامی مطالبے کے جواب میں ان میڈیا ذرائع نے اب تک صرف خاموشی اختیار کی ہے لیکن یہ خاموشی ان میڈیا ذرائع اور خاص طور پر "ایران انٹرنیشنل" نامی فارسی زبان کے چینل کو اس قدر مہنگی پڑی ہے کہ وہ متاثرین کا نام شائع نہ کرنے کا جواز پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
جمعرات کے دن ایران انٹرنیشنل نے اس بارے میں ایک ٹاک شو پیش کیا۔ اس پروگرام میں میزبان نے بلائے گئے مہمان سے مبینہ 30 ہزار افراد کے نام شائع نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا۔ اس سوال پر بلائے گئے مہمان کا جواب فکر انگیز تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ ان لوگوں کے نام اس وقت تک شائع نہیں کیے جا سکتے جب تک بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نہیں بن جاتی! اس عجیب و غریب بہانے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نہیں بنائی گئی تو آپ یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ 30,000 لوگ مارے گئے ہیں؟ ایران انٹرنیشنل کی طرف سے اس عجیب و غریب جواز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چینل حالیہ واقعات میں 30 ہزار اموات کے دعوے کو سچ ثابت کرنے میں بالکل بے بس ہے۔
ان میڈیا ذرائع کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 30 ہزار کا عدد بالکل غلط ہے اور یہ دعوی محض ایران پر فوجی حملے کے لیے میدان صاف کرنے اور اسے جواز فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یاد رہے ایران انٹرنیشنل کے تانے بانے اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد سے ملتے ہیں۔ ایران میں حالیہ بدامنی اور ہنگاموں کا منصوبہ بھی موساد نے تیار کیا تھا تاکہ یوں امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا مناسب جواز فراہم ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ان میڈیا ذرائع کی جانب سے جعلی اعدادوشمار جاری کرنے کا عمل موساد کے منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ موساد نے ایک طرف ایران میں ہنگامے اور دہشت گردی کروائی اور دوسری طرف ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں جھوٹے دعوے کر کے اصل مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جو ایران پر فوجی حملہ تھا۔
تحریر: محمد امین ہدایتی




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
