ایران کی آزادی، عوامی حمایت اور عالمی میڈیا

Rate this item
(0 votes)
ایران کی آزادی، عوامی حمایت اور عالمی میڈیا

تمام ممالک میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ اس ملک کے آزادی کے دن کو خوشی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری سطح پر مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں اور لوگ اپنی وطن دوستی کا اظہار بھنگڑے ڈال کر کرتے ہیں۔ ایران میں بھی انقلاب اسلامی کی سالگرہ کو یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے اور باقی ممالک کی طرح سرکاری سطح پر تقاریب منعقد کرنے پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرتے ہیں۔ یہ جشن ہر سال منعقد کیا جاتا ہے اور لوگ ان ریلیوں میں شرکت کرکے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

اس سال ان ریلیوں کی اہمیت اس لئے دوچند ہوگئی تھی کہ ٹھیک ایک ماہ پہلے عالمی استعمار نے 12 روزہ جنگ کا انتقام لینے کے لئے مسلح جتھوں کے ذریعے ایرانی اسلامی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی اور میڈیا وار کے ذریعے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی تھی کہ ایرانی لوگ موجودہ نظام سے تھک چکے ہیں اور اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اسی تناظر میں رہبر انقلاب اسلامی نے آج کے دن کو دشمن کے لئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے ان ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔ ایرانی عوام نے بھی اپنے رہبر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بھرپور شرکت کی، یہاں تک کہ بعض ذرائع کے مطابق 22 سے 26 ملین لوگ ان ریلیوں میں شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ ان اعداد و شمار میں صرف شہروں کو شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ہزاروں دیہاتوں میں بھی لوگ انقلاب کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اب عالمی میڈیا کی دوغلی پالیسی کی بات کرتے ہیں، جب ایران میں مظاہروں کے دوران مسلح جتھے عوامی املاک اور سکیورٹی پر مامور جوانوں پر حملے کر رہے تھے تو ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، جیسے کل ہی ایرانی نظام کا خاتمہ ہونے والا ہے، حالانکہ ان مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد 10 ہزار تک بھی نہیں پہنچتی۔ یہ جو بے طرفی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے، تاکہ عوام کو فریب دیا جا سکے، دراصل تمام میڈیا ہاؤسز کے اپنے اہداف ہوتے ہیں اور عالمی اہداف بھی ہوتے ہیں اور وہ انہی اہداف کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

تحریر: جاوید اقبال غندوسی

Read 2 times