ایران کی طاقت کا عالمی اعتراف Featured

Rate this item
(0 votes)
ایران کی طاقت کا عالمی اعتراف


اس سال 11 فروری کا دن محض ایک قومی سطح کا دن یا اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی تقریب نہیں تھی بلکہ اس دن منعقد ہونے والی عوامی ریلیاں، خطے اور حتی دنیا کے اہم ترین سیاسی اور میڈیا ایشو کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ اس ملین مارچ کا انعقاد ایسی فضا انجام پایا ہے جہاں ایران فوجی دھمکیوں، پابندیوں کے دباؤ اور 12 روزہ جنگ نیز گزشتہ ماہ دہشت گردانہ واقعات کے اثرات سے روبرو تھا۔ لہذا بین الاقوامی میڈیا میں ان ریلیوں کو غیرمعمولی کوریج دی گئی ہے اور انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی اندرونی ہم آہنگی اور سماجی طاقت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ ایرانیوں نے کس طرح سے صرف ایک ماہ کے اندر دو بڑے ملین مارچ منعقد کیے اور دنیا کے سامنے اپنی حب الوطنی اور قومی خودمختاری کی حمایت کا بے مثال مظاہرہ کیا۔
 
کروڑوں ایرانی شہریوں کی شرکت کا ناگزیر اعتراف
اس سال ایران میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد ہونے والے ملین مارچ کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی اکثریت نے ماضی کے برعکس ان ریلیوں میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت کا اعتراف کیا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے ایران مخالف ذرائع ابلاغ بھی نظرانداز نہیں کر سکے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں عوام کی بھاری شرکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان ریلیوں کو قومی یک جہتی اور حکمفرما نظام کے لیے بھاری عوامی حمایت کی علامت قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس نیوز ایجنسی نے ان ریلیوں میں ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت پر بھی خاص توجہ دی ہے۔ اسی طرح خبررساں ادارے روئٹرز نے بھی ان ریلیوں کو حکومتی نظام کے لیے عوامی حمایت کا تسلسل قرار دیا ہے۔
 
عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والے تین اہم پہلو
مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان ریلیوں کی مجموعی کوریج اور ان کے بارے میں شائع ہونے والے تجزیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے بنیادی طور پر تین اہم پہلووں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ سب سے پہلے ایران کے مختلف شہروں میں شہریوں کی وسیع پیمانے پر شرکت ان کی توجہ کا مرکز بنی ہے جسے انہوں نے سماجی ہم آہنگی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والا دوسرا اہم پہلو، اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر منعقد ہونے والی ان ریلیوں میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کی نمائش پر مبنی ہے۔ اس نمائش میں فوجی سازوسامان اور غاصب صیہونی رژیم کے گرائے گئے ڈرون طیاروں کی باقیات بھی شامل تھیں، جس کا تجزیہ تہران کی جانب سے ڈیٹرنس کے پیغام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
 
تیسرا اہم پہلو، علاقائی حالات، جوہری تنازعہ اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے بارے میں ایرانی حکام کے بیانات پر مشتمل ہے۔ دریں اثنا، بعض ذرائع ابلاغ نے اس ملین مارچ کے انعقاد کے بارے میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسے ایران کی خارجہ سیاست سے متعلق جاری حالات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان حالات میں جوہری مذاکرات اور علاقائی کشیدگی بھی شامل تھی۔ البتہ تمام ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس اور تجزیات میں ایک مشترکہ نکتہ بھی پایا جاتا تھا جو اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے ایران کی سڑکوں پر ایرانی شہریوں کی بھاری اکثریت کی پرجوش موجودگی کی تصویر پر مشتمل تھا۔ دوجے ویلے جیسے کچھ یورپی ذرائع ابلاغ نے عوام کی اس عظیم شرکت کو ایران معاشرے اور اسلامی انقلاب میں گہرے تعلق کی علامت بھی قرار دیا ہے۔
  
عوامی طاقت کا مظاہرہ اور علاقائی میڈیا کا ردعمل
علاقائی میڈیا میں سے عرب اور اسلامی مزاحمت سے متعلقہ چینلز نے ان ریلیوں کی بڑے پیمانے پر کوریج فراہم کی ہے۔ المیادین نے ایران کے مختلف شہروں میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت کا ذکر کرتے ہوئے اس ملین مارچ کو بیرونی دباؤ کے خلاف قومی یک جہتی کی علامت قرار دیا اور نوجوان نسل کی بھرپور موجودگی پر بھی تاکید کی۔ المنار اور العہد لبنان چینلز نے بھی صبح سویرے سے دسیوں لاکھ شہریوں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے اس مارچ کو اسلامی انقلاب کے نظریات اور اسلامی مزاحمت کے شہداء سے ایرانی قوم کے تجدید عہد کے طور پر پیش کیا۔دیگر عرب نیٹ ورکس جیسے المسیرہ یمن اور رشیا ٹوڈے نے بھی 11 فروری مارچ کو امریکی اور صیہونی دباؤ کے خلاف ایران کی ثابت قدمی کا واضح پیغام قرار دیا اور بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کو ایران کی طاقت جانا ہے۔
 
11 فروری، ایران کی سماجی طاقت کی علامت
اس سال انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد ہونے والے ملین مارچ کی عالمی اور علاقائی میڈیا پر بھاری کوریج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریلیاں، سماجی ہم آہنگی کی علامت بن چکی ہیں اور عوام کی جانب سے اسلامی جمہوریہ نظام کی بھرپور حمایت کی عکاسی کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ان ریلیوں میں عوام کی بھرپور شرکت کو ایرانی قوم کی جانب سے دفاعی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف ایرانی حکام کے سیاسی پیغامات بھی اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ 11 فروری کا دن، عالمی سطح پر ایران کی سماجی اور سیاسی طاقت پرکھنے کا اہم معیار قرار پا چکا ہے۔ ایسے حالات میں جب ایران شدید سیکورٹی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے، 11 فروری کے دن منعقد ہونے والے ملین مارچ اور عالمی سطح پر اس کی وسیع کوریج نے ثابت کر دیا کہ سماجی سرمایہ اور قومی ہم آہنگی، ایران کی طاقت کے اہم ترین ستون ہیں۔

تحریر: علی احمدی

Read 2 times