مغرب کا سورج ڈوب چکا، اور افقِ مشرق سے ایک نئی دنیا طلوع ہو رہی ہے

Rate this item
(0 votes)
مغرب کا سورج ڈوب چکا، اور افقِ مشرق سے ایک نئی دنیا طلوع ہو رہی ہے

مغرب کا سورج اب محض ڈوب ہی نہیں رہا بلکہ اس کی وہ چمک بھی ماند پڑ چکی ہے جو کبھی دنیا پر اپنی ہیبت اور طاقت کا سکہ جمائے ہوئے تھی۔ ایران پر دباؤ، حملوں اور مسلسل پابندیوں کے باوجود اسے جھکانے میں ناکامی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ امریکہ کی وہ دھاک، جس کے سہارے وہ عالمی فیصلے مسلط کرتا تھا، اب کمزور پڑ رہی ہے۔ ایران کی مزاحمت نے نہ صرف عسکری سطح پر جواب دیا بلکہ ایک نفسیاتی دیوار بھی گرا دی—وہ دیوار جس کے پیچھے “ناقابلِ شکست سپر پاور” کا تصور کھڑا تھا۔

یہ معاملہ اب کسی ایک ملک یا ایک جنگ کی حدود میں قید نہیں رہا، بلکہ اس نے عالمی طاقت کے پورے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ایک ایسا ملک، جو برسوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری دھمکیوں کے حصار میں گھرا ہو، نہ صرف ڈٹ کر کھڑا ہو جائے بلکہ جواب دینے کی صلاحیت بھی دکھا دے، تو یہ منظر صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام بن جاتا ہے۔ یہ پیغام یہ ہوتا ہے کہ طاقت کا پرانا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے، اور اب فیصلہ صرف اسلحے کی کثرت یا معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ عزم، حکمتِ عملی اور استقلال سے بھی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک—چاہے وہ کھل کر اظہار کریں یا خاموشی سے—اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سمجھ رہے ہیں اور اپنے تعلقات، ترجیحات اور اتحادوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقت اب ایک مرکز سے پھسل کر کئی مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے، اور دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی ایک طاقت مطلق حاکم نہیں رہے گی۔

افقِ مشرق پر ابھرنے والی یہ نئی روشنی اب محض ایک ادبی استعارہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چین کی برق رفتار معاشی ترقی، روس کی مستقل عسکری و اسٹریٹجک موجودگی، اور ایران جیسی ریاستوں کی مزاحمتی حکمتِ عملی نے مل کر ایک ایسے عالمی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے جو مغرب کی یکطرفہ برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ صرف طاقت کا بدلتا ہوا نقشہ نہیں بلکہ سوچ اور خوف کے توازن کی تبدیلی بھی ہے۔ وہ زمانہ، جب فیصلے ایک ہی دارالحکومت سے صادر ہوتے تھے اور باقی دنیا انہیں قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی، اب بتدریج پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسا دور جنم لے رہا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات، نظریات اور حکمتِ عملیوں کے ساتھ عالمی فیصلوں میں شریک ہو رہی ہیں۔

یہ تبدیلی نہ شور و ہنگامے کے ساتھ آئی ہے اور نہ کسی ایک واقعے نے اسے جنم دیا ہے، بلکہ یہ ایک تدریجی مگر فیصلہ کن عمل کے طور پر سامنے آ رہی ہے جس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری اور حتیٰ کہ عوامی ذہنوں تک سرایت کر چکے ہیں۔ طاقت کا وہ تصور، جو برسوں تک ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا رہا، اب بکھر رہا ہے۔ اب فیصلے یک طرفہ نہیں رہے، اور نہ ہی کوئی ایک قوت اپنی مرضی کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی سابقہ حیثیت رکھتی ہے۔ خوف اور دباؤ کا وہ توازن، جو کبھی صرف ایک سمت میں جھکا ہوا تھا، اب تبدیل ہو رہا ہے—اور یہی تبدیلی دنیا کے رویّوں، اتحادوں اور ترجیحات میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں ابھرنے والی نئی صف بندیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ایک نیا عالمی نقشہ ترتیب پا رہا ہے۔ مشرقی طاقتیں صرف معاشی یا عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ فکری اور سیاسی سطح پر بھی اپنی موجودگی منوا رہی ہیں۔ وہ ریاستیں جو کبھی عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور تھیں، اب نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر رہی ہیں بلکہ عالمی فیصلوں میں فعال کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں خود اعتمادی، مزاحمت اور باہمی تعاون جیسے عناصر نمایاں ہو رہے ہیں، جو ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن رہے ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک نظام کے زوال کی داستان نہیں بلکہ ایک نئے دور کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے۔ مغرب کی وہ شام، جو طویل عرصے تک طاقت، برتری اور فیصلہ سازی کی علامت بنی رہی، اب بتدریج ڈھل رہی ہے، جبکہ مشرق کا افق ایک نئی روشنی سے روشن ہو رہا ہے۔ یہ روشنی صرف عسکری یا معاشی قوت کی نہیں بلکہ خود اعتمادی، استقامت، فکری آزادی اور باوقار مزاحمت کی علامت ہے—ایک ایسا عالمی توازن جنم لے رہا ہے جس میں دنیا ایک سے زیادہ مراکز کے گرد گردش کرے گی اور جہاں فیصلے محض طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اشتراک، مفاہمت اور توازن کے اصولوں کے تحت طے ہوں گے۔

اس بدلتی ہوئی تصویر میں ایران کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایران کی ہمت، اس کی مستقل مزاج سیاست، اور دباؤ کے باوجود نہ جھکنے کا عزم اس پورے منظرنامے میں ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ برسوں کی سخت اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور مسلسل عسکری خطرات—یہ سب ایسے عوامل تھے جو کسی بھی ریاست کو کمزور کر سکتے تھے، مگر ایران نے ان حالات کو اپنی کمزوری کے بجائے اپنی طاقت میں بدل دیا۔ اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ ایک ایسا سیاسی و فکری بیانیہ بھی قائم کیا جس میں خود انحصاری، مزاحمت اور خود داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

ایران کی یہی استقامت دراصل اس وسیع تر تبدیلی کی علامت بن گئی ہے جو آج دنیا میں رونما ہو رہی ہے۔ اس نے یہ تصور توڑا ہے کہ عالمی دباؤ کے سامنے جھک جانا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس، اس نے ثابت کیا کہ مستقل مزاجی، حکمت عملی اور عوامی حمایت کے ساتھ ایک ریاست نہ صرف اپنا دفاع کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، چاہے کھل کر یا خاموشی سے، اس ماڈل کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے فیصلوں میں اس سے اثر قبول کر رہے ہیں۔

یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرق کے اس ابھرتے ہوئے منظرنامے میں ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک علامت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے—ایک ایسی علامت جو مزاحمت، خود مختاری اور نئے عالمی توازن کی تشکیل کی نمائندگی کرتی ہے۔ مغرب کی ڈھلتی ہوئی شام کے مقابل، مشرق کی یہ نئی روشنی اسی عزم اور استقامت سے اپنی توانائی حاصل کر رہی ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو آنے والے عالمی نظام کی بنیادوں کو تشکیل دے رہا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

Read 12 times