مغرب کے پاس کوئي منطق نہیں ہے اور وہ خواتین کے سلسلے میں اپنے گھٹیا رویے کے بارے میں بات کرنے اور سوالوں کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہے

Rate this item
(0 votes)
مغرب کے پاس کوئي منطق نہیں ہے اور وہ خواتین کے سلسلے میں اپنے گھٹیا رویے کے بارے میں بات کرنے اور سوالوں کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہے

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

والحمد للہ ربّ العالمین والصّلاۃ والسّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیۃ اللہ فی الارضین۔

محترم خواتین، بہنو! اور بیٹیو! خوش آمدید! آپ سب ہماری بچیاں ہیں، ایران کے مستقبل کی  معمار ہیں، مستقبل کی دنیا آپ ہیں۔

یہ جلسہ یہاں تک، بہت اچھا اور مفید تھا۔ میں اس  پروگرام کا اہتمام کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان عزیز بچیوں کا جنہوں نے ترانہ پیش کیا، شکریہ ادا کرتا ہوں، اشعار کے مضامین بھی بہت خوب ہیں اور انہیں پیش کرنے کا انداز بھی بہت اچھا تھا۔ اس کا آہنگ اور اجرا بہت اچھا تھا۔

قاری محترم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دینے والی  خوش زبان و خوش بیان  ہستی  کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

شہیدوں کی شریک حیات، مادران شہدا اور دختران شہدا کا بھی جو اس جلسے میں تشریف لائیں، تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے آپ سب سے عقیدت ہے۔

 آیت اللہ زکزکی کی اہلیہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے یہاں تقریر کی۔ یہ چھے شہیدوں کی ماں ہیں۔ ان کے تین بیٹے ایک واقعے میں  اور تین بیٹے دوسرے واقعے میں شہید ہو گئے اور انھوں نے پہاڑ کی طرح صبر کیا، مدتوں جیل میں رہیں اور بے انتہا سختیاں برداشت کیں۔ میں ان فلسطینی خاتون (2) کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے ویڈیو کا ہم نے مشاہدہ کیا اور منتظمین سے میری درخواست ہے کہ میرا شکریہ ان تک پہنچا دیں اور ان سے کہیں کہ  میں ہمیشہ، ہر رات مستقل طور پر ان کے لئے دعا کرتا ہوں، خدا ان کی نصرت کرے۔

جو باتیں اس جلسے میں کہی گئيں، بہت اچھی تھیں۔ یعنی واقعی اگر میں کچھ بھی نہ بولوں اور  انہیں باتوں پر اکتفا کیا جائے جو ان خواتین نے یہاں کہی ہیں، تو بھی یہ جلسہ بہت مفید ہے۔ ورزش کے بارے میں بھی، خواتین کے حقوق کے تعلق سے بھی، دینی فن و ہنر کے سلسلے میں بھی، سوشل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے خطرات کے حوالے سے بھی اور اسی طرح استثنائی ذہانت کی مالک نابغہ شخصیات کے مسئلے میں، ان کی منصوبہ بندیوں اور پروگراموں کے بارے میں، گھریلو خواتین اور مادران عزیز کی قدردانی میں اور سوشل میڈیا کی بری حالت کے بارے میں، خاتون ڈاکٹروں اور اسپتالوں میں خاتون مریضوں کا خیال رکھنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب صحیح ہے۔

ان کے گلے شکوے اور تجاویز مجھے دی جائيں۔ یہ میرا کام نہیں ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کا م ہے، لیکن حکام کو تاکید کروں گا کہ انہیں دیکھیں اور ان پر غور کریں۔ امید ہے کہ یہ کام ہوگا۔

یہ جلسہ صدیقہ کبری حضرت  فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت باسعات کے نزدیک آنے کی مناسبت سے تشکیل پایا ہے۔ میں چند جملے  آپ کے بارے میں عرض کروں گا، پھر کچھ نکات خواتین کے تعلق سے میں لکھ کے لایا ہوں، وقت کا  لحاظ رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ  انہیں بھی بیان کروں گا۔

حضرت سیدہ نساء العالمین، سیدہ نساء اہل الجنۃ – جو حضرت فاطمہ زہرا( سلام اللہ علیہا) کو کہا گیا ہے– جو باتیں حضرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نے یا امیر المومنین (علیہ الصلاۃ والسلام) نے یا دیگر آئمہ کرام نے آپ کے بارے میں فرمائی ہیں، وہ سب واقعی حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی اس عظمت کو بیان کرتی ہیں جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ واقعی سوائے آل رسول اور  خود حضرت پیغمبر (صلوات اللہ و سلامہ علیہم)  کے  کسی سے  بھی آپ  کی عظمت کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کا مرتبہ اور منزلت بہت عظیم ہے۔

میں صرف ایک حدیث عرض کروں گا جو آپ نے بارہا سنی ہے۔ یہ  ایسی حدیث ہے جس کو شیعہ اور سنی سبھی نے نقل  کیا ہے۔ حدیث یہ ہے کہ "انّ اللہ لیغضب لغضب  فاطمۃ و یرضی لرضاھا"(3)  حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غضبناک ہونے پر خدا غضبناک ہوتا ہے، آپ کی  رضا اور خوشی پر خدا بھی راضی ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ  جو انسان بھی  اور جو  مسلمان بھی خدا کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو ایسا کام کرنا چاہئے جس سے فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) خوش ہوں۔ آپ کی سفارشات، آپ کے موقف اور آپ کے احساسات کو اگر ملحوظ رکھا گیا، ان کا خیال رکھا گیا اور ان کی پابندی کی گئی تو خدا خوش ہوگا۔ واقعی کسی بھی انسان کے لئے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اس سے بڑی فضیلت اور کیا سوچی جا سکتی ہے۔

 میری نظر میں، ایک مسلمان خاتون، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) سے بہتر نمونہ عمل اپنے لئے تلاش نہیں کر سکتی بلکہ دنیا کی کسی بھی عورت کو آپ سے بہتر آئیڈیل نہیں مل سکتا۔

چاہے بچپن کا زمانہ ہو، یا نوجوانی کا زمانہ ہو یا اپنی گھریلو زندگی کا دور ہو، اپنے والد کے ساتھ طرز سلوک ہو، شوہر کے ساتھ برتاؤ ہو، بچوں کے ساتھ رابطہ ہو یا گھر میں کام کرنے والی کنیز کے ساتھ سلوک ہو یا سماجی میدان میں، سیاست میں یا خلافت کے مسئلے میں، ان تمام مسائل میں آپ آئيڈیل ہیں۔

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سبھی عظمتیں، سرگرمیاں اور مثالی طرزعمل ایک مختصر سی زندگی میں تھا۔ آپ کی حداکثر عمر پچیس سال بتائی گئی ہے۔ روایات میں آپ کی عمر 18 سے 25 برس تک بتائی گئی ہے۔ یہ نمونہ عمل ہے۔

 ہماری بچیاں، ہماری عورتیں، ہمارے اسلامی معاشرے کی محترم  خواتین کوشش کریں کہ اسی جذبے اور فکر کے ساتھ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پیروی کریں۔ امور خانہ داری میں بھی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی اور علم و دانش کے میدان میں بھی۔ البتہ آپ کے لئے الہام الہی تھا اور  ہمارے اور آپ کے لئے اکتساب ہے۔ آپ کوشش کریں، البتہ الہام الہی بھی مدد کرے گا۔ سبھی میدانوں میں حضرت فاطمہ زہرا کو نمونہ عمل قرار دیجئے  اور آپ کی پیروی کیجئے۔ یہ چند جملے اس عظیم ہستی کے لئے۔

خود خواتین کے موضوع کا جہاں تک سوال ہے تو الحمد للہ آپ سب تعلیم یافتہ ہیں، گوناگوں مسائل سے واقف ہیں کہ اسلام میں خواتین کے مسئلے کو اہمیت دی گئی ہے۔ میرے بیان کی حاجت نہیں ہے لیکن پھر بھی میں چند جملے عرض کروں گا۔

عورت کے مسئلے میں، ایک خاتون کی حیثیت سے اس کا تشخص، خواتین کی اقدار، خواتین کے حقوق، خواتین کے فرائض، خواتین کی آزادی اور اس کی محدودیتیں، یہ سبھی مسائل بہت اہم اور بنیادی ہیں۔  آج دنیا پر مجموعی نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ دو نقطہ نگاہ اور دو نظریات ان تمام مسائل میں موجود ہیں۔ ایک مغرب کا نظریہ ہے جو غیر مغربی ملکوں میں بھی رائج ہو گيا ہے۔

ان تمام مسائل میں جن کا میں نے ذکر کیا، ایک  اسلامی نظریہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ ان تمام مسائل میں دونوں کا الگ الگ نقطہ نگاہ ہے۔ لہذا ان تمام مسائل میں بحث کرکے جواب حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں ایک نکتہ ہے جو میری نظر میں قابل توجہ ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ مغرب کا تہذیبی اور ثقافتی نظام ان موجودہ مسائل میں بحث کے لئے تیار نہیں ہے۔ ان مسائل میں تحقیق اور بحث سے بھاگتا ہے۔  مغربی تہذیب، مغربی نظام، مغربی تمدن اور مغرب کا ثقافتی نظام ان میدانوں میں، بہت سے سوالات کا جواب دینے اور بحث کرنے کے لئے آگے نہیں آتا بلکہ اپنی بات کو شور و غل، ہلڑ ہنگامے، آرٹ اور فلم کے ذریعے، سوشل میڈیا  کے ذریعے اور زور زبردستی سے کام لے کر آگے بڑھاتا ہے۔ اس کے پاس اپنے نظریے اور اپنے طرز عمل کے لئے منطق اور استدلال نہیں ہے بلکہ مختلف ذرائع سے جو اس کے اختیار میں ہیں، اس کو آگے بڑھاتا ہے۔  بحث کے لئے تیار نہیں ہے۔ سوالوں کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کے پاس کوئی منطق نہیں ہے۔ یہ طرزعمل روز بروز پست تر ہوتا جا رہا ہے۔ آج خواتین کے مسئلے میں جو روش مغرب میں اور اس کی پیروی میں بہت سے دوسرے ملکوں میں رائج ہے، وہ کسی منطق پر استوار نہیں ہے، لہذا وہ بحث نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی منطق پیش کرتے ہیں۔   

مغربی ماحول میں عورت اپنے نسوانی تشخص اور حرمت کے تحفظ میں زیادہ بے  پروا اور غیر محتاط کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ عورت کی بے حرمتی کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ امریکا اور یورپ کی سرکاری تقریبات میں مرد کے لئے مکمل لباس حتی ٹائی یا 'بو' باندھنا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن عورت نیم عریاں لباس میں شرکت کر سکتی ہے؟ کیوں؟ کیوں ایسا ہے کہ عورت اس طرح آ سکتی ہے لیکن اگر مرد فرض کریں کسی سرکاری تقریب میں نیکر میں آ جائے تو یہ آداب کے منافی اور بد تہذیبی کیوں ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ عورت اگر منی اسکرٹ میں آ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر مرد کا لباس تھوڑا ہلکا ہو تو حرج ہے۔ کیوں؟ مغربی ماحول میں فحاشی اور جسم فروشی روز بروز کیوں بڑھ رہی ہے؟ یہ ہو رہا ہے۔ ہم جنس پرستی کو ترقی پسندی  قرار دیا جاتا ہے اور اس کے منکر کو پسماندہ کہا جاتا ہے۔ کیوں؟  سیاسی ماحول میں بھی اس کی ترویج کی جا رہی ہے اور سماجی ماحول میں بھی۔ ملکوں کے صدور اور سربراہان مملکت اس کی ترویج کر رہے ہیں اور بعض اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اس طرح ہیں! کیوں؟

 یہ کون سی منطق ہے؟ مغرب کے لا ابالی ماحول میں سہ جانبہ اور چہار جانبہ جنسی مسائل – خود انھوں نے جو اعداد و شمار دیے ہیں اور جو اطلاعات خود انھوں نے ہمیں دی ہیں، اور ہم جانتے ہیں، یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے، یہ اطلاعات آشکارا ہیں، ( یہ سہ فریقی اور چہار فریقی جنسی مسائل) کیوں روز بروز بڑھ رہے ہیں؟ وہ تمام چیزیں جو خاندان کو تباہ کرتی ہیں، مغرب میں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ یہ تمام باتیں خاندان کی بنیادیں ختم کر رہی ہیں۔ جنسی آزادی اور جنسی جارحیت کا پھیلاؤ خاندان  کو ختم کر رہا ہے۔

 میں نے چند سال قبل (4) ایک امریکی صدر (5) کی کتاب سے نقل کیا۔ اعداد و شمار واقعی وحشتناک  ہیں۔ جنسی زیادتی کے اعداد و شمار،  بے راہروی کے اعداد و شمار۔ جنسی جارحیت پر سزا نہیں ملتی لیکن حجاب پر سزا ہے!

یہ پستی، یہ ذلالت کہ کوئی کسی باحجاب عورت کے ساتھ تشدد کرے اور اس کی شکایت عدالت میں کی جائے تو عدالت کے اندر اس عورت کو چاقو مارکر قتل کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (6) اب اس شخص کو کچھ مدت کے لئے جیل بھیج دیتے ہیں لیکن حجاب کے خلاف یہ مہم اور یہ اقدام برا کام نہیں سمجھا جاتا۔ کیوں؟ یہ سوالات بے جواب کے ہیں۔ ان کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ امریکا اور یورپ کے کسی بڑے اجتماع میں ایک ایرانی عہدیدار سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ ہم جنس پرستی کے موافق ہیں؟ اگر وہ کہہ دے نہیں! تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں! اس کی وجہ کیا ہے؟ا س کی منطق کیا ہے؟ اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ یعنی مغربی دنیا  میں عورت کے مسئلے میں، عورت سے متعلق مسائل میں، معاشرے میں عورت کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، ان کاموں کی کوئی منطق نہیں ہے۔ اس لئے اس سلسلے میں بحث کرنے سے بھاگتے ہیں۔

میں نے عرض کیا کہ وہ اپنے طرزعمل کی ترویج میں وسائل سے کام لیتے ہیں۔ اس میں اچھی مہارت رکھتے ہیں۔  فلم بناتے ہيں، کتاب لکھتے ہیں، مضامین لکھتے ہیں، پیسے دیتے ہیں، فن اور آرٹ سے تعلق رکھنے والوں، ادبی اور سیاسی  شخصیات کو (اپنی حمایت میں) بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بین الاقوامی مراکز قائم کرتے ہیں-عورتوں سے متعلق مراکز – اور یہ نام نہاد بین الاقوامی تنظیمیں ہر اس ملک کو جو ان کے طرزعمل کا مخالف ہو نمبر دیتے ہیں، اس کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں اور اپنے چارٹ میں سب سے نیچے اس کا نام رکھتے ہیں۔   

اس مسئلے پر بولنے کے لئے بہت کچھ ہے اور میں ان پر بہت بول چکا ہوں۔ گزشتہ روز میرے لئے ایک کتاب لائے جن میں وہ باتیں چھپی تھیں جو میں نے کہی تھیں۔  میں نے یہ کتاب نہیں دیکھی تھی۔ پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ بہت سی باتیں جو میں نے آج یہاں بولنے کے لئے تیار کی تھیں، اس کتاب میں موجود ہیں اور اس سے پہلے بارہا کہی جا چکی ہیں۔ میں نے اس سلسلے میں بہت کچھ کہا ہے۔ میں ایک جملے میں عرض کروں گا کہ بہت  ہی حیاتی اور اہم مسئلے، خواتین کے بارے میں مغربی تہذیب کی پالیسی اور طرز عمل  
 کے  دو عوامل ہیں، مالی فائدہ اور لذت کا حصول اور ان دونوں کی تفصیل اور تشریح ہے۔ مالی فائدہ حاصل کرنے کے بارے میں، میں اس سے پہلے بات کر چکا ہوں اور فی الحال اس بارے میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔ بہرحال مغرب میں خواتین کے مسئلے میں مغرب کا طرزعمل یہ ہے۔ 

اسلام کا طرز عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام کا طرز عمل منطقی ہے، دلیل کے ساتھ ہے اور اس سلسلے میں اس کا بیان واضح  اور شفاف ہے۔ عورت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نگاہ اس کا ایک قوی پہلو ہے۔ میں یہ بات عرض کر دوں کہ بعض لوگ یہ نہ سمجھیں کہ خواتین سے متعلق مسائل میں ہمیں بیٹھ کر جواب دینا چاہئے۔ جی نہیں،خواتین سے متعلق ہر مسئلے میں اسلام کے پاس  محکم منطق اور مضبوط عاقلانہ استدلال ہے۔ چاہے وہ جگہ ہو جہاں اسلام جنسیت کی نفی کرتا ہے اور چاہے وہ جگہ جہاں جنسیت کو نمایاں کرتا ہے۔ سب کے لئے اس کے پاس منطقی استدلال ہے۔

اسلام بعض کلی معاملات میں جنسیت کو نظر انداز کرتا ہے۔ بحث عورت اور مرد کی نہیں ہے بلکہ انسانی کرامت کا مسئلہ ہے: لقد کرمّنا بنی آدم ۔(7) یہاں جنسیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ انسانی قدریں، عورت اور مرد دونوں میں مساوی اور یکساں ہیں اور مرد کے ساتھ اس کی اقدار کی نسبت میں، جنسیت کا عمل دخل نہیں ہے: "والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر"(8) الی آخر۔ "انّ المسلمین و المسلمات والمومنین و المومنات والقانتین و القانتات" (9) الی آخر۔ سورہ احزاب کی آیت ہے۔ سب خدا کے نزدیک معنوی درجات کی بلندی میں یکساں ہیں۔ یعنی نہ اس کو اس پر ترجیح حاصل ہے اور نہ اس کو اس پر۔ دونوں کو ہی مشابہ استعداد کے ساتھ اس راہ میں قرار دیا گیا ہے اور ان کی محنت پر منحصر ہے۔ ایسی عورتیں بھی ہیں کہ کوئی بھی مرد ان کے پائے کا نہیں ہے۔ بنابریں جنسیت مد نظر نہیں  ہے۔  

البتہ اسی معنوی مراتب میں بعض جگہوں پر خاص وجوہات سے، خداوند عالم  نے جنس زن کو ترجیح دی ہے۔ جیسے وہی آیہ کریمہ جس کی تلاوت کی گئی "و ضرب اللہ مثلا للذین آمنوا امرائۃ فرعون(10) حضرت موسی  کے معاملے میں بعض  انسان ایسے ہیں جن کا حضرت موسی کے تعلق سے خاص طور پر نام لیا گیا ہے اور خاص طور پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ جناب ہارون ہیں، حضرت خضر ہیں، حضرت موسی کے ساتھی اور رفیق ہیں۔ چند لوگ ہیں جن کا قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے لیکن کسی کے لئے بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ نمونہ عمل ہے۔ "مثل" یعنی نمونہ اور آئیڈیل۔ خداوند عالم نے تمام مومن انسانوں کے لئے دو خواتین کو اسوہ اور نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ ایک فرعون کی بیوی اور ایک حضرت مریم۔ ومریم ابنۃ عمران الّتی احصنت فرجھا (11) یہاں خداوند عالم نے خود حضرت موسی کو "مثل" اور نمونہ نہیں کہا ہے، فرعون کی بیوی کو نمونہ کہا ہے جس نے حضرت موسی کو پالا ہے۔ خود حضرت عیسی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کی ماں کا ذکر کیا ہے۔  یہ ایک طرح سے مرد پر عورت کی برتری ہے،  اس کی وجوہات ہیں اور میری نظر میں یہ وجوہات واضح ہیں۔ چونکہ مرد کی جنس میں اور اس کے اندر جو خصوصیات پائی جاتی ہیں، ان کی وجہ سے، اس کے اندر برتری کی طلب ہے، خاص طور اس دور میں جب قرآن نازل ہوا ہے، ایسا ہی تھا۔ خداوند عالم اس (برتری) کی نفی کرنا چاہتا ہے: یہ باتیں کیا ہیں؟ چونکہ مثال کے طور پر اس کی آواز بھاری ہے، چونکہ اس کا قد لمبا ہے، چونکہ اس کا سینہ چوڑا ہے، اس لئے اس کی اہمیت زیادہ ہے؟ نہیں! اس کو اسی عورت اور اسی خاتون کی پیروی کرنی ہے اور اس کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دینا ہے۔

اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ایک  شخص پیغمبرکے پاس آیا اور عرض کیا کہ من ابرّ۔ زیادہ نیکی کس کے ساتھ کروں؟ پیغمبر فرماتے ہیں "امّک" (12) اپنی ماں کے ساتھ۔ اس کے بعد وہ پوچھتا ہے اس کے بعد کس کے ساتھ؟ پیغمبر نے فرمایا اس کے بعد بھی اپنی ماں کے ساتھ، اس نے تیسری بار پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ پیغمبر نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ۔ یعنی پیغمبر تین بار فرماتے ہیں کہ ماں کے ساتھ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماں کو باپ پر تین گنا برتری حاصل ہے۔  اس سے خاندان میں عورت کی منزلت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ تاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ معنوی راہ میں، معنوی بلندی میں، حقیقی انسانی قدروں میں جنسیت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک معاملے میں ایک کو دوسرے پر ترجیح حاصل ہے تو وہ ترجیح عورت کو مردوں پر حاصل ہے۔ میں نے ترجیح کی کوئی اور جگہ نہیں دیکھی۔ اس کے بعد تمام جگہوں پر جنسیت مد نظر نہیں ہے۔

در اصل سماجی ذمہ داریاں بھی اسی طرح ہیں۔ امام (خمینی رضوان اللہ علیہ) نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ سیاست اور ملک کے بنیادی معاملات میں مشارکت خواتین کے فرائض اور ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہ عورتوں کا حق بھی ہے اور فریضہ بھی۔ یعنی آپ نے واجب کر دیا ہے کہ خواتین ملک کے مستقبل کے فیصلوں اور بنیادی ذمہ داریوں میں شریک ہوں۔ یہ خود ایک طویل معاملہ ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان معاملات میں عورت اور مرد میں کوئی فر‍ق نہیں ہے۔

امور معاشرہ کی انجام دہی: من اصبح و لم یھتمّ بامور المسلمین فلیس بمسلم۔(14) یہ جو فرمایا ہے کہ "لیس بمسلم" یعنی چاہے وہ عورت ہو یا مرد، آپ صبح جب اٹھتی ہیں تو چاہے گھریلو عورت ہوں، ملازمت پیشہ ہوں، صنعت کار ہوں، جو کام بھی کرتی ہوں، معاشرے کی فکر میں رہیں۔ یعنی یہ دیکھیں کہ معاشرہ کس حال میں ہے۔ اب کتنی مدد کر سکتی ہیں اور  کیا کردار ادا کر سکتی ہیں یہ دوسری بات ہے۔ سبھی افراد کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن یہ اہتمام  اور فکر ہمہ گیر ہے۔ یہ اہتمام کرنا، فکر کرنا اور سوچنا، سب کا فریضہ ہے۔ اس میں بھی جنسیت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یا یہی "من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین"(15) یہ خاتون جو ابھی تقریر  کر رہی تھیں کہ انھوں نے کہا کہ ہم نے فلسطین کے قضیے میں اور غزہ کے معاملے میں اپنا راستہ بند کر دیا ہے، ورنہ آ سکتے تھے۔ اب فرض کریں یہ خاتون ڈاکٹر ہیں، یہ وہاں رہ کر مریضوں، زخمیوں، بچوں اور عورتوں کی مدد کر سکتی ہیں۔ ہر ایک کا ایک کردار ہے لیکن بنیادی چیز یہ فکر ہے، یہ فریضے اور ذمہ داری کا احساس ہے، یہ عام ہے اس میں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں ہے۔ اسلام نمایاں طور پر ان باتوں کو بیان کرتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو اسلام میں واضح ہیں اور ان کو بیان کیا گیا ہے۔

لیکن خاندانی امور میں، یقینا ایسا نہیں ہے۔ خاندان سے متعلق فرائض یکساں نہیں ہیں۔ ہر ایک کا فریضہ اپنی نوعیت میں الگ ہے۔ امکانات، فطری صلاحیتيں، ہر ایک کے لئے الگ فریضے کی متقاضی ہیں۔ یہاں جنسیت کا کردار ہے۔  یہ جو مطلق جنسی مساوات کا سلوگن دیتے ہیں، یہ غلط ہے۔ ہر جگہ جنسی مساوات (صحیح) نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر کیوں نہیں، برابری ہے، لیکن بعض جگہوں پر نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتی۔ صحیح بات، جنسی انصاف ہے۔ جنسی انصاف ہر جگہ معتبر ہے۔ عدل یعنی ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا۔ عورت کی روحانی اور فطری ساخت، عورت کی جسمانی ساخت، عورت کے  جذبات کی ساخت بعض مسائل کی متقاضی ہے۔ بچے پیدا کرنا، بچوں کی دیکھ بھال، بچوں کی پرورش، عورت کا کام ہے۔ مرد سے یہ کام نہیں ہو سکتا، خداوند عالم نے اس کو اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ دوسرے کام کے لئے ہے۔ گھر سے باہر کا کام، گھر کی مشکلات کو حل کرنا۔ لیکن خاندانی حقوق میں دونوں مساوی ہیں: ولھنّ مثل الذی علیھن بالمعروف۔ (16) یعنی کنبے میں جتنا حق مرد کا ہے اتنا ہی حق  عورت کا بھی ہے۔ یہ قرآن کی آیت ہے۔ لہذا خاندانی حقوق میں دونوں برابر ہیں۔ لیکن خاندانی فرائض میں نہیں۔ البتہ بعض چيزیں ایسی ہیں کہ عورتوں کے تعلق سے ان کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے۔ ان خواتین کی تقاریر میں بھی ان میں سے بعض کا ذکر تھا، میں نے بھی نوٹ کیا ہے۔

(مثال کے طورپر) خواتین کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ خاندان کے اندر سلامتی۔ عورت کو مرد کے ساتھ سکون اور سلامتی کا احساس ملنا چاہئے۔ گھر کی چار دیواری، آسایش اور سلامتی کی جگہ ہے۔ اگر مردوں کا طرزعمل ایسا ہو کہ عورت اس احساس سلامتی سے محروم ہو جائے، عورت خود کو غیر محفوظ سمجھے، شوہر بد زبانی کرے، یا اس سے بہت بدتر اور زیادہ وحشیانہ، ہاتھ اٹھائے تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ اس کا راستہ کیا ہے؟ راستہ یہ ہے کہ سخت قوانین وضع  کئے جائيں۔ میں نے یہ بات بارہا کہی ہے۔(17)  ( کہ سخت قوانین بنائے جائيں۔) اشارہ کیا گیا ہے اس قانون کی طرف جو پارلیمنٹ میں ہے۔ اس پر ضرور کام ہونا چاہئے۔ میں بھی سفارش کرتا ہوں، آپ بھی اپنے طور پر اس کی پیروی کریں۔ ان مردوں کے لئے سخت قانون ہونا چاہئے جو گھر کے اندر ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں کہ  عورت خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ گھر کے باہر بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ یہ ایک بات۔

ایک اور بات سماجی امور اور مینجمنٹ کا مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں بعض خواتین نے مجھ سے سوال کیا ہے۔ یہاں بھی جنسیت کا مسئلہ  نہیں ہے۔ مختلف مینجمنٹ، مختلف سماجی اور سرکاری کاموں میں عورتوں کی موجودگی کی کوئی محدودیت نہیں ہے۔ اب فرض کریں کہ جیسے امریکیوں نے ہمارے ایک پڑوسی ملک میں یہ ضروری قرار دے دیا تھا کہ دفاتر میں پچیس فیصد عورتیں ہوں۔ یہ لازمی قرار دینا غلط ہے۔ 25 فیصد کیوں؟ 35 فیصد 20 فیصد۔ یہ عدد  معین کرنا، تناسب معین کرنا، بے معنی ہے۔ یہاں معیار صلاحیت ہے۔ مختلف مینجمنٹ  میں مختلف سماجی اور سرکاری کاموں میں، کسی جگہ ایک تعلیم یافتہ اور تجربہ کار، کارآمد خاتون، مثال کے طور پر وزارت کے لئے اس مرد سے  بہتر ہے، اس کو وزارت کے لئے نامزد ہونا چاہئے۔ اس عورت کو وزیر ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے بھی ایسا ہی ہے۔ فرض کریں کسی شہر سے ایک یا دو افراد پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہونے ہیں۔ ایک یا  دو خواتین  اور ایک یا دو مرد امید وار ہوتے ہیں، تو یہ دیکھنا چاہئے کہ کون زیادہ باصلاحیت ہے۔ صلاحیت کو نظر میں رکھنا چاہئے۔ یہاں کوئی ترجیح نہیں ہے۔ کوئی محدودیت نہیں ہے۔ یعنی اسلام کا نظریہ یہ ہے۔  یہاں بات صلاحیت کی ہے۔

 البتہ خواتین ان عہدوں پر کام کر سکتی ہیں لیکن اس طرح ہونا چاہئے کہ ایک عورت کی حیثیت سے ان کا جو اہم اور بنیادی کام ہے، یعنی امور خانہ داری اور بچوں کی پیدائش اس سے محروم نہ ہوں۔ بعض شعبوں میں عورتوں کی موجودگی واجب کفائی ہے، جیسے میڈیکل کا شعبہ ہے۔ میڈیکل کے شعبے میں عورتوں کی موجودگی واجب ہے۔ اتنی خاتون ڈاکٹروں کا ہونا ضروری ہے کہ عورتوں کی ضرورت پوری ہو جائے۔ عورتوں کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہئے۔

 اسی طرح ٹیچنگ بھی خواتین کے لئے واجب کفائی ہے۔

 اب ممکن ہے کہ بعض اوقات اس واجب کفائی اور امور خانہ داری، یا بچوں کی پیدائش یا اس آرام و آسائش اور چھٹی میں جو عورتوں کے لئے ضروری ہے، تضاد پیدا ہو جائے یا کام کے اوقات کا مسئلہ ہو مثال کے طور پر اس کے کام کا وقت ایسا ہو کہ وہ کام بھی کر سکے اور امور خانہ داری بھی دیکھ سکے۔ اب اگر دونوں میں تضاد ہو تو ملک کے حکام کو اس کی فکر کرنا چاہئے۔ یعنی تعداد اتنی بڑھا دیں  کہ  مثلا ایک (خاتون)  ٹیـچرکے لئے اگر ضروری ہو کہ  پانچ دن کالج میں رہے اور مثال کے طور پر وہ چار دن رہ سکتی ہے تو اس خلا کو پر کرنے کے لئے ایک اور ٹیچر رکھی جائے۔ اسی طرح میڈیکل کا شعبہ ہے۔ بنابریں میڈیکل کے شعبے میں، سرکاری اور غیرسرکاری ملازمتوں میں، مینجمنٹ میں، بنیادی سروسز میں، ان  امور میں جو واجب کفائی ہیں، کوئی محدودیت نہیں ہے اور اگر خواتین سے متعلق امور خانہ داری سے تضاد پیدا ہو تو ایسا حل نکالنا چاہئے کہ دونوں ہی  امور انجام پا سکیں۔

البتہ میری نظر میں کوئی منافات نہیں ہے۔ میں ایسی خواتین کو جانتا ہوں کہ جو بہت ہی سنگین سماجی امور انجام دیتی تھیں، علمی کام اور یونیورسٹی میں تعلیم بھی اور غیر علمی امور بھی اور اسی کے ساتھ انھوں نے کئی بچوں کو پالا اور ان کی پرورش اور تربیت کی اور بہت اچھی طرح ان امور کو انجام دیںے میں کامیاب رہیں۔ بنابریں ان میں کوئی منافات نہیں ہے۔

اسلام کی نگاہ میں دو باتیں اہم ہیں۔ یعنی میں نے یہ جو عرض کیا کہ خواتین کے لئے سبھی میدانوں میں، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا راستہ کھلا ہوا ہے، یہ دو اہم نکات کے ساتھ ہے اور اسلام نے ان دونوں نکات کو بہت اہمیت دی ہے: ایک نکتہ  خاندان کا مسئلہ ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا اور دوسرا نکتہ، جنسی کشش کے خطرے کا مسئلہ ہے۔ جنسی کشش کا خطرہ! اسلام کی نگاہ میں یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔  جنسی کشش سے بہک جانے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے اور ایسا ماحول عورت یا مرد کو مشکل میں ڈال سکتا ہے، اسلام ہمیں ایسے ماحول اور فضا سے پرہیز کا حکم دیتا ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ حجاب اس سلسلے میں ہے۔ حجاب ان چیزوں میں سے ہے جو جنسی کشش کے خطرے  میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور اس کو روکتی ہیں۔ اس لئے اسلام میں حجاب کی تاکید کی گئی ہے۔ سورہ احزاب میں دو جگہ حجاب کا مسئلہ (بیان کیا گیا ہے): واذا سالتموھنّ متاعا فاسئلوھنّ من وراء حجاب۔(18) جو لوگ پیغمبر کے گھر جاتے ہیں، مثلا فرض کریں کہ مہمان ہیں، کھانا لینا چاہتے ہیں تو پیغمبر کی ناموس کے سامنے نہ جائيں، پردے کے پیچھے سے کھانا لیں: اتنی دقت نظر سے کام لیا گیا ہے۔ سورہ احزاب کی ایک دوسری آیت میں بھی یہی مضمون پایا جاتا ہے۔  

 بنابریں ان دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ حجاب کی بھی حقیقی معنی میں پابندی ہونی چاہئے اور خاندان کے مسئلے کا، ماں کے کردار کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے جو اہم ترین کردار ہے۔ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلقت بشری میں ماں کا کردار سارے کرداروں سے برتر ہے۔ اس لئے کہ اگر ماں نہ ہو، بچے کی پیدائش نہ ہو، حمل نہ ہو، بچے کو دودھ پلانا نہ ہو تو نسل بشر ختم ہو جائے گی۔ بنابریں عالم خلقت اور انسان کے مادی عالم وجود میں اہم ترین کردار ماں کا ہے۔ اسلام اس کو اہمیت دیتا ہے آپ بھی اس کو اہمیت دیں، اس پر عمل کریں اور جنسی کشش کے مسئلے کا بھی خیال رکھیں۔

بہت سے کام ہیں جو باہمی تفاہم سے انجام پاتے ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر کے اندر کام کرنا خواتین کا فریضہ ہے۔ نہیں عورت کا مطلقا، فریضہ یہ نہیں ہے کہ گھر کے اندر کام کرے۔ کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور صاف  ستھرا رکھنا عورت کا فریضہ نہیں ہے۔ عورت اور مرد دونوں کو باہمی تفاہم سے کام کرنا چاہئے۔ اب بعض مرد خوش قسمتی سے یہ کام کرتے ہیں، گھر کے اندر کام کرتے ہیں، عورت کی مدد کرتے ہیں اور بعض امور اپنے ذمے  لیتے ہیں۔ بہرحال یہ عورت کے فرائض میں نہیں ہے۔ اس کو سب جان لیں۔

 شادی کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ اسلامی کتب میں تاکید کی گئی ہے کہ شادی میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ نوجوانوں کو جلدی شادی کرنا چاہئے۔ یہ اسی جنسی کشش کے خطرے کے روک تھام کے لئے ہے۔ البتہ اس کا مطلب بچوں کی شادی نہیں ہے جس کی کچھ لوگ بات کرتے ہیں۔ بلکہ نوجوان عورت اور مرد، نوجوان  لڑکے اور  لڑکیا ں جہاں تک ممکن ہو، وقت پر شادی کریں۔ اسلام کی نگاہ میں یہ بات اچھی ہے اور خود ان کے لئے بھی بہتر ہے۔ معاشرے کے لئے بھی بہت بہتر ہے۔ بنابریں، اگر مسئلہ حجاب کو دیکھیں تو اس کو عورت کو محروم کرنے کا وسیلہ نہ سمجھیں۔ یہ عورت کی محرومیت نہیں ہے، یہ دراصل حصول ہے، حجاب عورت کو سلامتی اور سیکورٹی فراہم کرتا ہے۔ تحفظ اور سلامتی کا موجب بنتا ہے۔   

 اس وقت اسلامی جمہوریہ کے اندر اگرچہ ہم حقیقی معنی میں ابھی اسلامی نہیں ہو سکے ہیں، میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ ابھی ہمارا کام ادھورا ہے، لیکن آپ ملاحظہ فرمائیں کہ اسی اسلامی جمہوریہ میں خواتین کی پیشرفت ایسی ہے کہ ماضی کا اس سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ علم میں، تحقیق میں، سماجی سرگرمیوں میں، آرٹ اور ہنر میں، کھیل کود میں، سبھی کاموں میں کتنی دانشور خواتین ہیں، کتنی خواتین یونیورسٹیوں میں پڑھاتی ہیں، کتنی اعلی تعلیم یافتہ خواتین ہیں، کتنی قلمکار خواتین ہیں۔ انواع و اقسام کی ان کی تحریریں، علمی تحریریں، لکھنے کے آرٹ اور ہنر کی ماہر کتنی خواتین ہیں، افسانہ نویسی اور شاعری وغیرہ میں (کتنی خواتین ہیں)  انقلاب سے پہلے ان کا دسواں حصہ بھی نہیں تھا۔ میں سماجی میدان میں پوری طرح موجود تھا (اور جانتا ہوں)  آج الحمد للہ ان میدانوں میں ملک غنی ہے اور یہ اسلام کی برکت ہے۔ اگرچہ ہم نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ابھی ادھورا اسلامی ملک ہے اور ہم اب تک پوری طرح اسلام نافذ نہیں کر سکے ہیں۔ اگر اسلام پوری طرح نافذ ہو جائے تو آج جو توانائی ہے اس کی کئی گنا ہو جائے گی۔ بہت بہتر ہوگی۔

 میں اپنی گفتگو کے آخر میں انتخابات کے مسئلے کا بھی اشارتا ذکر کروں گا۔ انتخابات کے مسئلے میں، میں نے چند روز قبل بھی اس کی اہمیت بیان کی ہے۔ (19) آپ خواتین اس میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اپنے شوہر اور اولادوں کو انتخابات کے حوالے سے فعال کر سکتی ہیں اور امیدواروں کی صحیح تحقیق میں مدد کر سکتی ہیں۔ خواتین بعض مسائل میں، افراد کی شناخت، تحریکوں اور اسٹریٹجی کی شناخت میں مردوں سے زیادہ ظرافت اور دقت سے کام لیتی ہیں لہذا انتخابات میں امیدواروں کی شناخت پولنگ اسٹشنوں پر لوگوں کے  جانے  کے حوالے سے اپنے گھر کے اندر بھی اور گھر سے باہر بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

 آپ لوگوں سے مل کے مجھے بہت خوشی ہوئی، یہ جلسہ تھوڑا طولانی ہو گیا اور ظہر کا وقت گزر گیا۔ ان شاء اللہ آپ سب کامیاب و کامران رہیں۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

 1۔ اس جلسے کے شروع میں جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت باسعادت اور یوم خواتین کے قریب آنے کی مناسبت سے انجام پایا، دس خواتین اور لڑکیوں نے مختلف مسائل میں اپنے نظریات اور تجاویز پیش کیں۔ 

2۔ فلسطینی خاتون صحافی محترمہ اسراء البحیصی نے غزہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس جلسے سے خطاب کیا

3۔ امالی شیخ مفید، ص 95

4۔ ملک کی ممتاز خواتین  کے اجتماع سے خطاب 19-4-2014،

5۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی کتاب

6۔ 2009 کے اواسط میں مروہ شربینی کے قتل کی طرف اشارہ۔ یہ مصری خاتون جرمنی میں مقیم تھی، الیکس وینز نامی  ایک روسی نژاد جرمن باشندے نے اس خاتون کو عدالت کے اندر چاقو سے  18 وار کرکے قتل کر دیا۔ اس مصری خاتون نے عدالت میں اس کی شکایت کی تھی۔   

7۔ سورہ اسراء کی آیت نمبر 70 "اور یقینا ہم نے بنی آدم کو کرامت عطا کی۔"

8۔ سورہ توبہ، آیت 71  " اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے دوست ہیں جو اچھے کاموں کی تلقین کرتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں۔ 

 9۔ سورہ احزاب آیت نمبر 35  "مسلمان مرد اور عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، اور عابد مرد اور عبادت کرنے والی عورتیں"

  10۔ سورہ تحریم، آیت نمبر 11، " اور جولوگ ایمان لائے ہیں ان کے لئے خدا نے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کی ہے۔"

11۔ سورہ تحریم، آیت نمبر 12، "اور مریم بنت عمران کو وہی جس نے اپنے آپ کو پاکدامن باقی رکھا"

12۔ کافی جلد 2، صفحہ 159 

13۔ صحیفہ امام، جلد 6 صفحہ 301، 3-3-1979 کو قم میں خواتین کے اجتماع سے خطاب

14۔ کافی، جلد 2، صفحہ 163 (تھوڑے سے فرق کے ساتھ)

 15۔ کافی، جلد 2 صفحہ 164

  16۔ سورہ بقرہ  آیت نمبر 228

17۔ خواتین کے اجتماع سے خطاب 4-12-2022

18۔ سورہ احزاب، آیت نمبر 53

19 صوبہ کرمان اور خوزستان کے لوگوں کے اجتماع سے خطاب

 23-12-2023

Read 132 times