خدا کا نبی جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا

Rate this item
(0 votes)
خدا کا نبی جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا

 حضرت«عزیر»  نسل هارون برادر موسی سے تعلق رکھتا ہے. وہ اسکا بھائی «عزیز»  بیت المقدس میں پیدا ہوئے تھے اور بعض کے مطابق ارمیا انکی جائے پیدائش بتایا جاتا ہے۔

قوم بنی‌اسرائیل کے انبیاء میں شمار ہوتے ہیں. عزیر ایرانی ایمپائر هخامنشیان کے دور میں ایران میں رہتا تھا.

مذہبی تواریخ کے مطابق عزیر جوانی میں خدا کے امر سے انتقال کرجاتے ہیں اور پھر دوبارہ سو سال کے بعد زندہ ہوجاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب عزیر ایک گاوں سے گزرتا ہے جہاں صرف پرانی قبریں موجود تھیں عزیر کے دل میں خیال آیا کہ خدا ان بوسیدہ ہڈیوں کو کیسے زندہ کرے گا۔

خدا کے حکم سے اسی وقت اسکی موت واقع ہوتی ہے اور سو سال کے بعد وہ دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ ایک دن سونے کے بعد اٹھا ہے۔

بعض تفاسیر کے مطابق عزیر ایک ایسا انسان تھا جس نے بنی اسرائیل کو سو سالہ غلامی سے نجات دلاکر بابل سے فلسطین واپس لایا۔

بخت النصر جو تاریخ کے مطابق بابل کا ظالم حاکم بتایا جاتا ہے اس نے بیت المقدس پر حملہ کیا اور یہودی عبادت خانوں کو مسمار کرکے تورات کو شہید کیا اور بنی اسرائیل کے کافی لوگوں کو قتل کرکے انکو غلامی میں لیا اور انکو بابل منتقل کیا۔

حضرت عزیر نے اس وقت جب ایرانی ایمپائر کورورش نے هخامنشی دور میں بابل کو فتح کیا تو اس نے کوروش سے درخواست کی کہ وہ یہودیوں کو بیت المقدس واپس جانے کی اجازت دیں۔

عزیر کو تورات دوبارہ زندہ کرنے کا پیغمبر بھی کہا جاتا ہے. تورات کو شهر بیت المقدس میں حملے کے وقت نذر آتش کیا گیا تھا، عزیر کو تورات زبانی یاد تھا اس نے دوبارہ اس کو پڑھا اور لوگوں نے اس کو تحریر کیا۔

 

حضرت «عزیر» کا نام قرآن میں ایک بار آیا ہے اور وہ آیت 30 سوره توبه میں ہے جہاں کہا گیا ہے کہ یہودی اسے خدا کا بیٹا جانتا تھا، اسی طرح انکی سوسالہ موت کے بعد کا قصہ نام لیے بغیر آیت

259 سوره بقره میں آیا ہے۔

عزیر نبی کے مزار بارے کئی مقامات منسوب ہیں فلسطین میں غزہ کی پٹی، عراق کے صوبہ میسان کے جنوب میں اور اسی طرح ایران میں بھی عزیر سے منسوب مزار موجود ہے۔

Read 304 times