سلیمانی
جارح شیطانی اتحاد کو ایران کا انتباہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ سینتالیس سال اور سودن کی مقاومت نے ، میدان جنگ سے شہروں کے چوراہوں تک اور شہروں کے چوراہوں سے سیاست اور سفارتکاری کے میدان تک، ہر جگہ حالات دگر گوں کردیئے ہیں۔
انھوں نے لکھا ہے کہ معتبری دھمکی کی جستجو واشنگٹن اور تل ابیب کے علاوہ کہیں اور کی جائے۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور صیہونی حکومت کے شیطانی اتحاد نے ایک بار اور جارحانہ حماقت کی تو یہ علاقہ ان کے لئے جہنم میں تبدیل کردیا جائے گا۔
شہدائے ضاحیہ کو سلام
بحیرہ احمر کو دشمن کے لئے سرخ تر کردیں گے
ارنا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے تہران کی اوپن اسلامی یونیورسٹی میں ایک نشست میں صیہونی حکومت کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ایران کی مسلح افواج کی جانب سے جواب دیئے جانے کی وضاحت کی۔
انھوں نے اوپن اسلامی یونیورسٹی کی سماجی، مواصلاتی اور ابلاغیاتی علوم کی فیکلٹی میں منعقدہ نشست سے خطاب میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج نے صیہونی دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا محکم جواب دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کی ہر جارحیت اور خلاف ورزی کا سخت ترین جواب دینا چاہئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے کہا کہ ثقافتی، سماجی اور ابلاغیاتی میدانوں میں بھی مقابلہ صرف ابلاغیاتی میدان میں سرگرم لوگوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ عوام بھی اس میں بھر پور حصہ لیں۔
انھوں نے کہا کہ آج آبنائے ہرمزکے کنٹرول کے تعلق سے جو کام کئے جارہے ہیں اور اسی طرح بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جو اقدامات انجام پارہے ہیں، وہ آئندہ بھی جاری رہیں گے اور ہم بحیرہ احمر کو دشمن کے لئے زیادہ سرخ بنادیں گے۔
حملے جاری رہے تو دشمن کو کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے، ایران
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے پیر کے روز جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت کا جواب مزید شدت اور طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج، جن میں پاسداران انقلاب اور بری فوج شامل ہیں، نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی اعلیٰ ترین تیاری کی سطح پر ہیں اور اپنے وعدوں پر تیزی اور انتہائی درستگی کے ساتھ عمل کرتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف آپریشنز کے نئے مرحلے میں دشمن کو بھاری، ٹارگٹڈ، دانشمندانہ اور کاری ضربیں لگائی گئی ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو ایرانی افواج کی ایک کامیاب فوجی کارروائی قرار دیا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اور باوقار ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں ہر قسم کے حالات اور ہر خطرے کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گی اور ایسے دشمنوں کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کریں گی جو پہلے ہی جنگ میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایرانی فوجی ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ اگر جارحیت اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔
ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل کو مفلوج کر دیا، الجزیرہ ٹی وی
الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی ساتویں لہر نے اسرائیل پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور مقبوضہ علاقوں کے مختلف حصوں میں غیر معمولی ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حیفا، الجلیل، گولان، گریٹر تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جسے مبصرین نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سب سے بڑی عسکری پیش رفت قرار دیا ہے۔
اسرائیلی داخلی محاذ کی کمان نے ہنگامی حالت کے تمام پروٹوکول دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔ اسپتالوں کو مکمل ایمرجنسی 4پر منتقل کر دیا گیا ہے، تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور نجی کمپنیوں و اداروں کو اپنی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق فضائی نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے کے سائرن فعال ہونے کے باعث متعدد مسافر طیارے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر لینڈ نہ کر سکے اور انہیں اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے۔
رام اللہ میں الجزیرہ کے بیورو چیف ولید العمری نے بتایا کہ مقبوضہ فلسطین کی تقریباً ایک کروڑ آبادی میں سے آٹھ ملین کے قریب افراد، جو کل آبادی کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتے ہیں، فوری طور پر پناہ گاہوں اور محفوظ کمروں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے گزشتہ حملوں کے بھی زمینی اثرات دیکھے گئے۔ ایک میزائل نابلس کے قریب ایتمار بستی میں گرا، جبکہ ایک اور میزائل اریحا اور بحیرہ مردار کے درمیان شمال مغربی علاقے میں آ کر گرا۔ اسی طرح میزائلوں کے ٹکڑے بیت شیمش کے علاقے میں بھی گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے سابقہ حملوں میں دیمونا، بئر السبع اور بحیرہ مردار کے جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ اس نے اشدود کے قریب سات میزائلوں کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا۔
الجزیرہ نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ایرانی حملوں کے جواب میں تحمل سے کام لینے کی درخواست کی، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے اس مشورے کو خاطر میں نہیں لایا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے گزشتہ شب امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے تین مرتبہ گفتگو کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ عسکری اور آپریشنل تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسرائیل کے خلاف تمام کارروائیاں مکمل کامیاب رہیں، پاسداران انقلاب
پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس ادارے نے پیر کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک پیغام میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے خلاف حالیہ فوجی، سکیورٹی اور سائبر کارروائیاں مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ زمینی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق گزشتہ شب مقبوضہ علاقوں کے خلاف فوجی، سکیورٹی اور سائبر محاذوں پر شدید اور تیز رفتار ضربیں لگائی گئیں، جن کے نتائج انتہائی مؤثر رہے۔
پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم نے ان کارروائیوں کی کامیابی کو سوفیصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا، مزاحمت کی سو راتیں، سلامتی کے سو سال۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان پر اسرائیلی حملوں اور 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیلی فوجی اہداف کے خلاف متعدد جوابی کارروائیاں انجام دی ہیں۔
لبنان میں جارحیت نہ رکی تو زیادہ شدید جواب دیا جائے گا، ایران کی سخت وارننگ
، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے بند نہ کیے تو اسے پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپنے بیان میں کمانڈر نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور امریکہ کی حمایت و بین الاقوامی خاموشی کے سائے میں لبنانی عوام کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں، خصوصا فاسفورس بموں، کے استعمال کو جنگی جرائم قرار دیا۔
کمانڈر کے مطابق ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ بیروت کے جنوبی مضافات ضاحیہ کے خلاف فوجی کارروائیوں میں توسیع ناقابل قبول ہوگی، تاہم اسرائیل نے ان انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا، جسے تمام سرخ لکیروں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ ضاحیہ پر حملوں میں توسیع کی صورت میں مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
کمانڈر نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج فوری طور پر جنوبی لبنان اور ضاحیہ پر حملے بند کرے، کیونکہ اس علاقے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا ایران کی جوابی کارروائی کے خلاف کسی ردعمل کا جواب زیادہ طاقتور اور دور رس حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع کیا جاسکتا ہے۔
امام خمینی(ره) اسلامی دنیا میں سیاسی استقلال کے لیے بہترین آئیڈیل ہے
- امام خمینیؒ کی فکر ایران کی جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہمیشہ عالمِ اسلام میں ایک متحرک اور اثر انگیز عنصر کے طور پر پہچانی جاتی رہی ہے۔ لیکن وہ کون سی خصوصیات تھیں جن کی بنا پر فلسطین کے مسئلے سے لے کر عالمی استکبار کے مقابلے تک، اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک فکری و سیاسی رہنما کے طور پر امام راحل کا نقطۂ نظر نمایاں ہوا؟ لبنان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ممتاز شخصیت شیخ غازی حنینہ نے ایکنا سے گفتگو میں امام خمینیؒ کی شخصیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کے مطابق امام راحل ایک ایسے رہبر تھے جنہوں نے بصیرت اور ایمان کو یکجا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کی وحدت اور شناخت کی بحالی کے لیے ایک واضح راستہ متعین کیا۔
لبنان کے "تجمع علمائے مسلمین" کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ امام خمینیؒ نظریات، افکار، بصیرت، طرزِ فکر اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت تھے۔ وہ اپنے مؤقف میں دلیر اور ثابت قدم، جبکہ اپنی بصیرت میں نہایت روشن خیال تھے اور ایران، خطے اور دنیا کے حالات و نتائج سے پوری طرح آگاہ تھے۔
"شیطانِ بزرگ" کا مقابلہ؛ امام راحل کی استقلال پسندی کا ورثہ
شیخ حنینہ نے امام خمینیؒ کی سیاسی شخصیت کے بارے میں کہا کہ اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو امریکہ کے بارے میں ان کا مؤقف انتہائی مضبوط اور جرات مندانہ تھا، جب انہوں نے امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" قرار دیا۔ امام راحل کا یہ معروف قول بھی ہے کہ: "اگر فرض کریں کہ امریکہ سو فیصد اسلامی اور انسانی منصوبہ بھی پیش کرے، تب بھی ہم یقین نہیں کریں گے کہ وہ امن اور ہمارے مفادات کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل 'لا الٰہ الا اللہ' بھی کہیں تو ہم ان پر اعتماد نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ہمیں دھوکا دینا چاہتے ہیں۔" ان کے مطابق جو شخص امریکہ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، وہ گویا کوئلہ فروش سے سودا کرتا ہے، جس کا نتیجہ صرف چہرہ سیاہ ہونا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سطح پر بھی امام خمینیؒ نے فلسطین کے مسئلے کو نہایت اہمیت دی اور اسے ایک مرکزی نکتہ قرار دیا، جس کے ذریعے عرب خطے اور پورے عالمِ اسلام میں امتِ مسلمہ کی بیداری اور احیاء ممکن ہے۔
شیخ حنینہ نے ایران کے اندر امام خمینیؒ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام راحل ایرانی عوام کی وحدت، یکجہتی اور اسلامی شناخت پر خاص توجہ دیتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اسلام ہی قوم کی نجات اور اس کے مسائل کا حقیقی حل ہے۔ وہ ایسا خالص اور روشن اسلام پیش کرتے تھے جو ایرانی معاشرے کے تمام طبقات اور اقلیتوں، جن میں یہودی، زرتشتی اور مسیحی شامل ہیں، کے حقوق اور خصوصیات کا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ امام خمینیؒ کی شخصیت میں دینی، عرفانی اور سیاسی پہلو ایک ساتھ جمع تھے۔ ہم سب کو یاد ہے کہ اسلامی انقلاب ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت میں برپا ہوا اور انہوں نے داخلی میدان میں "شیطانِ بزرگ" اور مغرب کی دشمنی کے باوجود اسلامی جمہوریہ کو آگے بڑھایا۔ اس وقت امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مخالف تھا، سوویت یونین بھی اس کے خلاف تھا اور بیشتر عرب ممالک ایران سے متصادم تھے، سوائے شام کے جس پر اس وقت حافظ الاسد کی حکومت تھی۔ ایسے ماحول میں امام راحل نے ایک ایسا نعرہ پیش کیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔
شیخ حنینہ کے مطابق امام خمینیؒ کا نعرہ "نہ شرقی، نہ غربی" اس حقیقت کا اظہار تھا کہ ان کی حکومت کی فکر، بنیادیں، ثقافت اور صلاحیتیں نہ مشرق سے اخذ کی گئی تھیں اور نہ مغرب سے، بلکہ اسلام اور ایران کی مہذب عوام سے ماخوذ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس نعرے نے عرب اور اسلامی دنیا میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوان امریکہ اور سوویت یونین دونوں کے اثر و رسوخ سے ہٹ کر ایک آزاد راستہ تلاش کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے مختلف اسلامی تحریکیں، جن میں اخوان المسلمون، حزب التحریر اور دیگر جماعتیں شامل تھیں، امام خمینیؒ کے مؤقف سے متاثر ہوئیں۔ بالخصوص لبنان میں امام راحل کے افکار کو بڑی پذیرائی ملی، کیونکہ لبنانی معاشرہ سیاسی، فکری اور ابلاغی اعتبار سے کھلا اور متحرک تھا۔ چنانچہ خطے کی اسلامی تحریکیں عمومی طور پر اور لبنان کی تحریکیں خصوصی طور پر امام خمینیؒ کے افکار اور سیاسی نظریات سے متاثر ہوئیں۔
اسلامی وحدت کے میدان میں امامؒ کی فکر کا پائیدار ورثہ
شیخ حنینہ نے زور دے کر کہا کہ امام خمینیؒ وحدتِ اسلامی کی اہمیت کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے، کیونکہ اسلامی وحدت ایک الٰہی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو" (الانبیاء: 92)۔ اسی طرح فرمایا: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ" (الحجرات: 10)۔ نیز ارشاد ہوتا ہے: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو" (آل عمران: 103)۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے بھی امت کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے باہمی تعاون کا حکم دیا۔ اسی تناظر میں قرآن مجید فرماتا ہے: "بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں" (الصف: 4)۔
شیخ حنینہ نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ نے شرعی ذمہ داری اور امت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی وحدت کا منصوبہ پیش کیا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے 12 سے 17 ربیع الاول کے درمیان کے ایام کو "ہفتۂ وحدت" کا نام دیا، کیونکہ رسول اکرم ﷺ کی ولادت کے بارے میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کی دو مختلف تاریخیں موجود ہیں۔ امام نے ان دونوں تاریخوں کے درمیان کے ایام کو وحدتِ اسلامی کی علامت قرار دے کر امت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا آغاز ایسے دور میں ہوا جب سیاسی، فکری اور ثقافتی حالات مسلسل تبدیلی سے گزر رہے تھے۔ اس کے بعد بہت سے مسلمانوں نے "وحدتِ اسلامی" کے تصور کو اپنانا شروع کیا۔
آخر میں شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ آج ہم اسلامی وحدت اور باہمی ہم آہنگی کے تصورات کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع سطح پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ امر آج مزاحمتی محاذوں میں "وحدتِ میدان" (وحدتِ ساحات) کے تصور میں بھی نمایاں ہے۔ ان کے بقول امام خمینیؒ کی پیش کردہ اسلامی وحدت، جو قرآن اور سنتِ رسول ﷺ سے ماخوذ ہے، آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے قابلِ قبول، مؤثر اور مستقبل کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے۔/
تقریب؛ تھران میں حرم علوی کا غدیری پرچم نصب
امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای نے ملت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا: آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اَلْحَمْد للّٰہ الَّذی جَعَلَ کَمَالَ دینہ وَ تَمَامَ نعْمَتہ بولَایَۃ اَمیْرالْمؤْمنیْنَ عَلی بْن اَبی طَالبٍ علیہ السلام
میں عید سعید غدیر کی مبارک باد ایران اور پوری دنیا کے تمام مسلمانوں اور امت مسلمہ کے پدر گرامی، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی روح مطہر پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ اس سال یہ سینتیسویں 14 خرداد (4 جون) ہے جو امام خمینی کے فراق کو گزر رہی ہے اور یہ پہلی 14 خرداد ہے جب امت کے مہربان باپ، مکتب امام خمینی کے مرید اور وفادار و ممتاز ساتھی، انقلاب اسلامی کے عظیم رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ ضیافت الٰہی کے مہمان بنے ہیں اور امام خمینی کے مزار اقدس میں ان کی مضبوط آواز اور حکمت و بصیرت سے بھرپور کلام کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ کے بانی کے دس سالہ اور عظیم الشان رہبر شہید کے چھتیس سالہ بیان، خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ کہ آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے، اللہ کی جانب سے لیے گئے عہد و میثاق کا وہ دن جب خداوند عالم نے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا انتظام چلانے کا معاملہ طے کر دیا اور حضرات معصومین علیہم السلام کی مسلسل ولایت و امامت کے ذریعے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا۔
عید غدیر اس ہستی کی یاد دلاتی ہے جس نے کعبے میں ولادت سے لے کر شہادت کی سعادت پانے تک اپنی پوری زندگی خدا کے لیے اور خدا کی راہ میں گزاری۔ اسی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امیر المومنین اپنی زندگي کے تمام ادوار میں اور تمام مسلمانوں و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ ہیں اور مناسب اور لازمی ہے کہ کم سن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک، اور عام لوگوں سے لے کر اہل فکر و دانش اور رہنماؤں تک، سب ان کی پیروی کریں، جس طرح انقلاب کے دونوں اماموں کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی اسی عظیم ہستی کی پیروی رہا ہے۔
دوسرے یہ کہ آج امام امت رحمۃ اللہ علیہ کی برسی ہے اور اس مشہور لیکن کم پہچانی گئی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع بھی ہے۔ ایسی پرکشش شخصیت کہ جس کی نورانی راہ اور ہدف کی گہری شناخت و معرفت، اسلامی مملکت ایران کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے لیکن قوم کے بہت سے نوجوان افراد کو ان کی براہ راست زیارت اور شناخت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بہت سے لوگ بھی، جنھوں نے ان کی زندگی کا زمانہ دیکھا، ان کی شخصیت کی گہرائی اور ان کی راہ و روش تک کم ہی پہنچ سکے۔
قَالَ اللہ تَعَالٰی: قلْ انَّمَا اَعظكمْ بوَاحدَۃٍ اَنْ تَقوموا للّٰہ مَثْنٰی وَ فرَادٰی۔ (سورۂ سبا، آيت 46) خداوند متعال اس آیت شریفہ میں رسول اعظم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ امت سے کہہ دیجیے: میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، یہ کہ تم اللہ کے لیے دو دو کر کے یا ایک ایک کر کے اٹھ کھڑے ہو۔ یہ آیت اس پہلے پیغام اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک کا آغاز ہے جس میں ہمارے عہد کے اس بے مثال بندۂ صالح، انقلاب کے عظیم رہبر اور اسلامی جمہوریہ کے بانی نے ایرانی قوم کو اللہ کے لیے قیام کی دعوت دی تھی۔ جی ہاں، اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینی کی بنیاد ہے اور ان کی ہستی کی اہم ترین برکتوں میں سے ایک یہی ہے کہ انھوں نے اسی اصول کی بنیاد پر معاشرے کی ہدایت و تربیت کی اور اس پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی الہی تحریک، اللہ کی برکتوں اور عنایتوں کے نزول کا سرچشمہ بنی اور اسی کے ذریعے حق کی راہ کی طرف معاشرے کی راہنمائی کی خداوند عالم کی سنت جاری ہوئی کہ وَالَّذیْنَ جَاھَدوْا فیْنَا لَنَھْدیَنَّھمْ سبلَنَا (اور جو لوگ ہمارے لیے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں۔ سورۂ عنکبوت، آيت 69) کیا ایسا نہیں ہے کہ ایرانی قوم کی سب سے بڑی عوامی تحریکیں اور بعثتیں خمینئ کبیر اور رہبر عظیم الشان شہید خامنہای کے دور میں، براہ راست یا بالواسطہ انھی کی ہدایات کے نتیجے میں وجود میں آئیں؟ کون سی عظیم طاقت 15 خرداد 1342 ہجری شمسی (5 جون 1963) کو سامراج و استعمار کے سحر میں گرفتار اور غفلت زدہ قوم کو ایسی حالت سے بیدار کر سکتی تھی؟ جب گھٹن، جبر اور مغرب پر مکمل انحصار مسلط تھا؟ کون سی طاقت تھی جو 12 بہمن 1357 ہجری شمسی (1 فروری 1979) کو امام خمینی کے استقبال اور 14 خرداد 1368 ہجری (4 جون 1989) کو امام امت کی آخری رخصت کے لیے دسیوں لاکھ انسانوں کو سڑکوں پر لے آتی؟ اور حالیہ حیرت انگیز نمونے میں، وہ کون سی مضبوط طاقت اور فولادی ارادہ تھا جس نے 28 فروری 2026 کی سحر سے ایرانی قوم کو اس طرح مبعوث کر دیا اور میدان میں لے آئی کہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنے شہید رہبر اور دیگر شہداء کے خون کے انتقام کا مطالبہ کرنے، اسلامی نظام اور اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری گرم جوشی اور شدت کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور کروڑوں جاں نثاروں کی صفوں کو رہبر شہید کے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے اور حق کے قیام اور اللہ کے لیے قیام کے لیے مستحکم کیے ہوئے ہے؟
جی ہاں، یہی امام خمینی اور عظیم الشان شہید خامنہای تھے جنھوں نے ایرانی قوم کے اندر موجود اس استعداد اور آمادگی کو دریافت کیا، اسے فعال کیا اور ہمیشہ اسے خاص اہمیت دی۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے، جو بلاشبہ اپنے بے مثال تقوی اور پرہیزگاری کے باعث قلم سے نکلنے والے ہر لفظ پر پوری توجہ رکھتے تھے، اپنی وصیت میں ایک عظیم دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا: "میں پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ آج کے دور میں ملت ایران اور اس کے کروڑوں افراد، رسول خدا کے زمانے کے حجاز کے لوگوں اور امیرالمؤمنین و امام حسین علیہما السلام کے دور کے کوفہ و عراق کے لوگوں سے بہتر ہیں۔" آج پوری ایرانی قوم کو فخر ہے کہ مزاحمتی محاذ کے شانہ بہ شانہ اپنی نئی بعثت کے ذریعے، وہ دنیا کی آزاد قوموں اور بیدار نگاہوں کے لیے باعث افتخار بنی ہوئی ہے اور اس نے امام خمینی کی وصیت کے اس جملے کی سچائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ کے بقول، وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا، عظیم امام خمینی کی فولادی شخصیت، مطمئن دل اور ذوالفقار جیسی زبان تھی، جس نے دسیوں لاکھ انسانوں کو میدان میں اتارا، انھیں میدان میں قائم رکھا اور انھیں آگے بڑھنے کی سمت سمجھائی۔ اور یقینی طور پر اسی طرح کے اثر کا ایک اور نمونہ خود عزیز خامنہای سے متعلق تھا، جنھوں نے اپنے سلف صالح کے راستے پر قدم رکھا اور تقریباً چار عشروں تک انقلاب اور اسلامی نظام کی قیادت کے دوران نوجوانوں پر اعتماد، عوامی شعور کی گہرائی اور فکری سطح کی بلندی کے ذریعے معاشرے کو ایسی آمادگی تک پہنچایا کہ ان کی شہادت کے عظیم واقعے کے بعد ایرانی قوم کی بعثت کا ایک نیا نصاب سامنے آیا۔
جی ہاں، عزیز خامنہای کا مکتب درحقیقت وہی امام خمینی کا مکتب ہے جو خالص محمدی اسلام کا ہی تسلسل ہے اور جس کا بنیادی ڈھانچہ اللہ کے لیے قیام ہے۔ اس مکتب کے شاگرد صف بہ صف حق کے قیام، باطل کے خاتمے اور اس نورانی راہ میں مجاہدت کے لیے تیار ہیں۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایران، اسلامی امت اور پوری دنیا کی سطح پر ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی لانے والے تھے جسے رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ نے مزید گہرائی، وسعت اور تسلسل عطا کیا، اور اس کی تکمیل و عملی جامہ پہننے کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کی۔ اسی سلسلے میں انھوں نے اپنے قول، قلم اور عمل کے ذریعے اور مختلف ملاقاتوں میں مکتب امام خمینی کو زندہ رکھا اور 4 جون کو ایرانی قوم اور امام خمینی کے درمیان سالانہ تجدید عہد کے موقع میں بدل دیا۔ وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے۔ ان تعلیمات میں سے ایک، جو شاید بار بار دوہرائی جاتی تھیں، یہ تھا کہ ایرانی قوم، ایک باایمان، ذہین اور بہادر قوم ہے اور یہ کہ عوام ہی ملک کے حقیقی مالک اور اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں، اور یہ کہ یہ قوم اگر کسی صحیح تبدیلی کا ارادہ کر لے تو اسے عملی جامہ پہنا سکتی ہیں اور "ہم کر سکتے ہیں" کے نعرے کو مختلف میدانوں میں حقیقت بنا سکتی ہیں۔ انھی تعلیمات میں، ایک اسلامی، انسانی اور ایرانی فریضے کی حیثیت سے مظلوم کی حمایت ہے۔ نیز یہ کہ عالمی تسلط پسندانہ نظام اور اس میں سرفہرست امریكا، اس قوم، اس کے ممتاز تشخص اور اس کے سر نہ جھکانے والے مزاج کو برداشت نہیں کر پا رہا ہے۔
جی ہاں، یہی تسلط پسندانہ نظام، جس نے لگ بھگ اسّی برس پہلے اسرائیل نامی ایک فوجی اڈا قائم کیا تھا، فرات کے مشرق میں، اپنے نام نہاد اور جعلی "گریٹر اسرائیل" کی مشرقی سرحد پر ایک طاقتور، آزاد اور مختلف صلاحیتوں سے مالامال ایران کا وجود برداشت نہیں کر سکتا اور اس کی ترقی روکنے کے لیے کسی بھی کارروائي سے دریغ نہیں کرتا۔ اسی موقع پر میں عزیز قوم سے عرض کرتا ہوں کہ خبیث دشمن، جب سے اسے مسلح فورسز میں موجود آپ کے بہادر فرزندوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا ہے اور خاص طور پر فیصلہ کن ضرب کھانے کے بعد چاہے وہ عسکری محاذ پر ہو یا عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اس سے واضح طور پر دور ہونے لگے ہیں۔ اس وجہ سے اب اس نے اپنی ہائبرڈ وار کا رخ دو باتوں پر مرکوز کر دیا ہے: ایک عوام کی استقامت اور ثابت قدمی اور دوسرا ملک کے ذمہ داران کو اندازے کی غلطی میں مبتلا کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس کا اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے۔ لہذا ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب لوگ ثابت قدمی، بصیرت، اتحاد و یکجہتی، باہمی اعتماد سے کام لے کر اور دشمن کی آواز میں آواز نہ ملا کر اس کے منحوس عزائم کو مٹی میں ملا دیں۔ اس سلسلے میں ان امور کی پشت پناہی میں حکام اور ذمہ داران کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر وہ اقدام جو عوام کے دلوں میں بداعتمادی یا کمزوری پیدا کرے، درحقیقت اس ملک اور اس کے عوام کے دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔
اس وقت، اسلامی انقلاب کے مظلوم لیکن مقتدر اور یقینی طور پر کامیاب رہنماؤں کے طور پر امام خمینئ کبیر اور شہید عزیز خامنہای کے مکتب کو عملی طور پر دنیا بھر میں متعارف کرانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کا ایک نیا موقع حاصل ہو گيا ہے۔ یہ اہم ذمہ داری پوری قوم، بالخصوص نوجوانوں، اہل دانش، اہل فکر اور اہل فن کے کندھوں پر ہے کہ وہ اسی مکتب کی بنیاد پر، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے، ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں اور خالص اسلام کے راستے پر، یعنی اس نورانی راہ پر جسے صاحبان عصمت و ولایت کبریٰ علیہم السلام نے اپنے ڈھائی سو سالہ دور حیات میں متعین فرمایا، عزیز ایران کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں۔
میں خداوند قادر سے دعا کرتا ہوں کہ اس مبعوث شدہ قوم کو حتمی فتح اور پیشرفت و عظمت کی بلند و پرشکوہ چوٹیوں تک پہنچائے، اور انقلاب کے دو اماموں کی ارواح مقدسہ اور اسلامی انقلاب کے شہداء خصوصاً دوسرے اور تیسرے مقدس دفاع کے شہداء کی پاکیزہ روحوں کو ان کے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے۔ ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقدس اور نورانی قلب کو ایرانی قوم سے راضی فرمائے اور اس عزیز قوم اور اپنے فضل و کرم سے اس کے خدمت کاروں کو حضرت کی خصوصی دعاؤں اور شفاعت سے مستفیض کرے۔
والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
آبنائے ہرمز پر ایران کا 2 ہزار سالہ تسلط
ارنا کے مطابق ایران کے صوبہ ہرمزگآن کے علاقےمیناب میں اشکانی دور کے ایک اسٹریٹیجک قلعے کے آثار ملے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ایران نے دو ہزارسال قبل، بحری شاہراہ ریشم کی اس اہم خلیج میں بحری فوج کا ایک اڈہ بناکرآبنائے ہرمز سے مغرب اور مشرق کے درمیان بحری جہازوں کی آمد ورفت کنٹرول اپنے پاس رکھا تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ایک ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ میناب میں اشکانی دور کے قعلے کے آثارایران کے بحری تسلط کی تاریخی دستاویز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ تقریبا دو ہزار سال قبل ایرانی آبنائے ہرمز کے پاس ایک بحری فوجی اڈہ بناکر عالمی تجارت کے اہم ترین سمندری راستے کی نگرانی اوراس کو کنٹرول کررہے تھے۔
ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ماہر آثار قدیمہ، حسین حسین زادہ شہابی نے آبنائے ہرمز پر ایرانیوں کے تاریخی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 2 ہزار سال قبل، شاہراہ ریشم،عالمی تجارت کی اہم ترین شاہراہ تھی جس کی زمینی اور سمندری، دو شاخیں تھیں جو قدیمی مشرقی دنیا کو مغربی دنیا سے ملاتی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹیجک اقدام، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانیوں کو بین الاقوامی تجارت میں اس اہم آبی شاہراہ کی جیوپولیٹیکل اہمیت کا بہت گہرا ادراک تھا ۔
حسین حسین زادہ شہابی نے کہا کہ شاہراہ ریشم کا خشکی کا راستہ، چین سے شروع ہوکر، سرزمین ایران کے قدیمی شہرری ہوتے ہوئے، مغرب کی طرف چلا گیا اور رودان اور اناتولی کے درمیان سے قدیمی روم کی سرزمین کے ذریعے یورپ تک پہنچتا۔
بحری شاہراہ ریشم پر ایرانیوں کا تسلط
انھوں نے کہا کہ زمانہ قدیم میں عالمی تجارت اور اقتصادی لین دین میں بحری شاہراہ ریشم کا کردار بھی فیصلہ کن تھا اور وہ سمندری راستہ جو چین اور ہندوستان کے ساحلوں سے شروع ہوتا تھا، آبنائے ہرمز اور خلیج سے گزر کر، بصرہ پہنچتا تھا اور وہاں سے مغربی منڈیوں تک جاتا تھا۔
حسین حسین زادہ شہابی نے میناب میں ملنے والے نئے آثارقدیمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میناب کے نخل ابراہیمی علاقے میں، آثار قدیمہ کی تحقیقاتی جستجو کے دوران، آشکانی دور کے ایک قلعے کے آثار ہاتھ لگے ہیں۔
تاریخ اور آثارقدیمہ کے اس محقق نے بتایا کہ اس جستجوکے دوران، " کہور لنگر چینی" نام کی ایک پتلی کھاڑی کے آثار بھی ملے ہیں جو میناب کے علاقے تیاب سے شروع ہوکراس پرانے قلعے تک جاتی تھی جو تجارتی اور آبی شاہرہ کے نقطہ نگاہ سے بہت اہم ہے۔
آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لئے بحری فوجی اڈہ
ماہرآثار قدیمہ حسین زادہ شہابی نے کہا کہ ان علاقوں کے گہرے تحقیقاتی مطالعے اور آثار قدیمہ کی اس تحقیقاتی جستجوکے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ قلعہ کوئی عام سا اور معمولی فوجی اڈہ نہيں تھا بلکہ یہ ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک نیول بیس تھا جہاں فوجی بحری بیڑوں کو تمام ضروری سازمان سے لیس کرکے، آبنائے ہرمزکی نگرانی اور اس کو کنٹرول کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ جو شواہد ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قلعہ، بحری شاہراہ ریشم سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد ورفت کی نگرانی اور کنٹرول کے لئے بنایا گیا تھا اور یہ بحری جہاز اس وقت کے مشرق کے عظیم اقتصادی مراکز بالخصوص چین اور ہندوستان سے مغربی منڈیوں کے لئے سامان لے جایا کرتے تھے۔
ایران کے صوبہ ہرمزگان کے اس ممتاز ماہر آثار قدیمہ نے مزید کہا کہ یہ آثا ثابت کرتے ہیں کہ ایرانیوں کو 2 ہزار سال قبل عالمی تجارت میں آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک اور جیوپولیٹیکل اہمیت کا اچھی طرح علم تھا۔
آبنائے ہرمزکا کنٹرول اور عالمی تجارت نیز اقتصادی منابع کی حفاظت میں اس کا کردار
ایران کے صوبہ ہرمزگان سے تعلق رکھنے والے ممتاز مورخ اور ماہر آثار قدیمہ حسین زادہ شہابی نے زمانہ قدیم کی بڑی طاقتوں کے درمیان اقتصادی رقابت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رومی سلطنت ایران کی اہم ترین تجارتی رقیب تھی اوراس کی کوشش تھی کہ ایران کو بائی پاس کرکے، مشرق کے ، ریشم، ادویہ جات اور قیمتی پتھروں کی پیداوار کے مراکز سے براہ راست رابطہ برقرار کرے۔
انھوں نے کہا کہ ان حالات میں اس اسٹریٹیجک آبی شاہراہ کی نگرانی کے لئے، یک بحری فوجی اڈہ قائم کرنا، اس دور کے بین الاقوامی تجارتی سسٹم میں اپنی پوزیشن اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لئے، ایران کی حکمت اور بنیادی سیاست کا حصہ شمار ہوتا ہے۔
ممتاز ماہر آثار قدمیہ حسین زادہ شہابی نے کہا کہ میناب میں ملنے والے نئے آثار قدیمہ سے نہ صرف یہ کہ ایران کی تجارت اور جہازرانی کی تاریخ کا ایک حصہ روشن اور واضح ہوجاتا ہے بلکہ زمانہ قدیم میں، دنیا کی ایک اہم ترین آبی گزرگاہ کے انتظام و انصرام میں ایران کے کردار اور اس کے کنٹرول کی ایک اہم دستاویز بھی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ایران نے زمامہ قدیم میں بھی، اپنی تدبیر سے آبنائے ہرمز کو علاقے کے اہم ترین اقتصادی اور جیوپولیٹیکل مرکز میں تبدیل کردیا تھا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
