سلیمانی
ایران کے پاس عسکری میدان میں بہت سے سرپرائز ہیں/ دوسرے ممالک کے ساتھ تہران کے تعلقات ہندوستان کے خلاف نہیں ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب دوسرے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے باہمی تعلقات کی بات آتی ہے اس بارے میں فیصلہ کرنا ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی ہندوستان کے خلاف نہیں رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے کہ کسی بھی دو طرفہ تعلقات کو تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔
ایران امریکہ مذاکرات کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ پچھلے سال جون میں کیا ہوا تھا؟ مذاکرات کے درمیان انہوں نے مذاکرات کی میز کو اڑا دیا۔جنگ ہوئی اور پھر 28 فروری کو انہوں نے دوبارہ حملہ کردیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ہم نے یہ سفارتی عمل دوبارہ شروع کیا اور کچھ متن کا تبادلہ ہوا جس میں نے مسئلہ کے بنیادی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ سب سے پہلے اس مسئلے پر توجہ دی جو پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ جس میں جنگ کا خاتمہ، جہازرانی آزادی اور امریکی بحری قزاقی کی روک تھا سب سے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بظاہر ہم جنگ بندی کی حالت میں ہیں جبکہ دوسری جانب ہماری سمندری ناکہ بندی جاری جو بین الاقوامی قانون کے تحت بذات خود ایک جنگ ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ امریکہ بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے والی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور مذاکرات کو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور فریق مقابل کے تحفظات اور مطالبات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کا مطلب ہے کہ ایک فریق 100 فیصد مقاصد حاصل کرلے تو یہ مذاکرات نہیں بلکہ اپنی مرضی مسلط کرناہے کم از کم ایران اسے ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔
انہوں خطے کے ممالک میں پیش آنے والے معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس سے خوش نہیں ہیں لیکن یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل نے پیدا کی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ایران آبنائے ہرمز کی سلامتی پر کسی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ انحصار کرتا ہے؟ کیونکہ ہم ایک ساحلی ملک ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ میں سلامتی کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس جارحانہ جنگ کا آغاز کیا اور ان نتائج کو پوری عالمی معیشت کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے اصل ذمہ داروں کو عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔
ملک کی دفاعی تیاریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے پاس سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور ہم نے یہ گزشتہ سال جون اور حالیہ جنگ میں اپنی توانائی کو ثابت کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عسکری میدان میں ہمارے پاس بہت سے سرپرائز ہیں جبکہ ایرانی عوام متحدہ ہیں اپنی سرزمیں چپے چپے کا دفاع کرنے کی توانائي رکھتے ہیں۔
ٹوکیو میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ، مظاہرین کا ایران سے اظہار یکجہتی
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں بعض جاپانی شہریوں نے امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خلاف نعرے لگائے اور ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں ’’ہم ایران کے ساتھ ہیں‘‘ کے نعروں والے پلے کارڈز، ایرانی پرچم اور امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تصاویر موجود تھیں۔
مظاہرین نے اس موقع پر امریکہ سے مشرق وسطیٰ سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں تیل بحران شدت اختیار کر گیا
عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے اعلان کیا ہے کہ فروری سے اب تک آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی سپلائی میں یومیہ 12 لاکھ 80 ہزار بیرل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث سال 2026 کے دوران تیل کی عالمی رسد، طلب سے کم رہے گی.
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور جنگی اثرات کے سبب دنیا بھر میں تیل کے ذخائر انتہائی غیر معمولی رفتار سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل عالمی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ نے تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو عالمی توانائی ایجنسی اسٹریٹجک ذخائر سے مزید تیل نکالنے کے لیے تیار ہے۔
فاتح بیرول کے مطابق رکن ممالک اب تک اپنے مجموعی تزویراتی ذخائر کا تقریباً 20 فیصد جاری کر چکے ہیں۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیا، صہیونی میڈیا کا اعتراف
صہیونی اخبار جروزالم پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جاری نامکمل جنگ اگرچہ تاحال کسی پائیدار سیاسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکی، تاہم اس نے خطے کے نظم اور عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔
جروزالم پوسٹ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی اسٹریٹجک ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا ایرانی عسکری اور جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں تو کامیاب رہا، لیکن وہ نہ ایرانی حکومت کا خاتمہ کر سکا اور نہ ہی ایران کے میزائل پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کر پایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے برعکس ایران نے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کیا، جبکہ ایران اپنی میزائل صلاحیت اور خطے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہا۔
صہیونی اخبار نے مزید لکھا کہ خلیجی ممالک ایک جانب امریکی حمایت کے محتاج ہیں اور دوسری جانب جنگی میدان بننے کے خوف کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خطے میں طاقت کے ماڈل پر اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جبکہ امارات اسرائیل کے ساتھ وسیع تر سکیورٹی تعاون اور توانائی کے متبادل راستوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جروزالم پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ چین اور روس نے مغربی اتحاد کی کمزوری اور توانائی بحران سے فائدہ اٹھایا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کر کے اپنی سفارتی حیثیت مزید مضبوط بنا لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل عسکری کامیابیوں کے باوجود اب تک جنگ کے خاتمے اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے کسی واضح سیاسی حکمت عملی سے محروم ہے۔
ایران نے امریکہ کی تجویز کا جواب دے دیا
مجوزہ منصوبے کے مطابق، مذاکرات کے اس مرحلے میں پوری توجہ خطے میں جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی تازہ ترین تجویز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا جواب پیر کے روز پاکستان کے ذریعے ارسال کر دیا گيا ہے ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے پہلے کئی بار اعلان کیا تھا کہ ایران کا جواب ، امریکہ کی تجاویز پر غور و خوض، مکمل جائزے اور حتمی نتیجے تک پہنچنے کے بعد، ارسال کیا جائے گا۔
ایرانی جواب کے مطابق ، مذاکرات کے اس مرحلے میں توجہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے موضوع پر مرکوز ہوگی۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر کی رہبر معظم انقلاب اسلامی سے ملاقات
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مجموعی دفاعی تیاریوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں ایرانی فوج، پاسدارانِ انقلاب، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکیورٹی و بارڈر فورسز، وزارت دفاع اور بسیجی رضاکاروں کی تیاریوں کا جائزہ شامل تھا۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کے تمام دستے دفاعی، جنگی حکمتِ عملی، عسکری منصوبہ بندی اور ضروری ہتھیاروں و سازوسامان کے لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکہ یا صہیونیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی “اسٹریٹجک غلطی” یا جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری، شدید اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مسلح افواج اور تمام رزمندگانِ اسلام کی جانب سے رہبر معظم انقلاب کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کی ہدایات پر مکمل عمل کرتے ہوئے آخری سانس تک انقلابِ اسلامی کے نظریات، ایران کی سرزمین، قومی خودمختاری، قومی مفادات اور ایرانی عوام کے دفاع کے لیے پرعزم رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر کو اپنے “جارحانہ عزائم” پر پچھتانا پڑے گا۔
ملاقات کے دوران رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے جاری “تیسری مسلط جنگ” کے تناظر میں دشمن کے خلاف اقدامات کے تسلسل اور مؤثر حکمتِ عملی کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔
ایران کی عاشورائی تہذیب کے مقابلے میں ٹرمپ کی شکست
دشمن کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت شروع کرنے کی وجوہات جاننے کے لیے دو چیزوں پر توجہ ضروری ہے: ایک ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور امریکہ اور دوسرا نیتن یاہو اور اسرائیل۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مخصوص اہداف رکھتا ہے۔ ٹرمپ غرور، تکبر اور جھوٹی خوداعتمادی کا شکار ہو چکا تھا جس کی بنیادی وجہ، طاقت کے حصول کے لیے امریکی حکومت کے مخصوص انداز میں پوشیدہ ہے۔ دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کا وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو گذشتہ تقریباً 20 سال سے امریکہ میں ایسا احمق صدر تلاش کرنے میں مصروف تھا جو اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ایران پر فوجی جارحیت کا آغاز کرے۔ چونکہ وہ بہت اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ایران، سیاسی ارادے کے ساتھ ساتھ فوجی اور اقتصادی طاقت کے لحاظ سے بھی اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اپنے تمام تر دعووں کے باوجود براہ راست طور پر ایران سے دوبدو جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ لہذا بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے اندرونی حالات کی غلط تصویر پیش کر کے اور یہ دعوی کر کے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر اور اعلی فوجی قیادت ختم کر دی جائے تو آسانی سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر راضی کر لیا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی محاذ کھول کر عملی طور پر امریکہ کے قومی مفادات کو اسرائیل کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ البتہ یہ سوال بھی جنم لے چکا ہے کہ کیا "ایپسٹن جزیرے" نامی اسکینڈل میں ٹرمپ نے بھی کوئی غلط حرکتیں کر رکھی ہیں اور کیا اسرائیلی حکام کے پاس ٹرمپ کی بھی کوئی تصاویر یا ویڈیوز موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر صیہونی حکمرانوں نے ٹرمپ پر دباو ڈال رکھا ہے؟
امریکی اور صیہونی دشمن کے ایران سے متعلق غلط اندازے یہ تھے کہ وہ سوچ رہے تھے کہ چار دن کے اندر اندر ایران کا کام ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے لیکن جس حقیقت کا انہیں بعد میں علم ہوا، اور بہت سے سیاسی اور فوجی تجزیہ کاران اور ماہرین حتی مغربی ماہرین نے بھی اس کا اعتراف کیا، وہ یہ تھی کہ انہوں نے ایرانی قوم اور ایرانی تہذیب کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اس عظیم اور شیرین فتح کی بنیادی وجہ عوام کا مستحکم ارادہ اور قومی وحدت تھی جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے حوصلے بلند رکھے اور انہیں قوت قلب عطا کی۔ اس وحدت نے دشمنوں کو ایران کا طاقتور چہرہ دکھایا اور فتح کا حقیقی سبب بنا۔ امریکی اور صیہونی دشمن ابتدا سے ہی ایرانی قوم اور حکومت کے بارے میں شدید غلط فہمی کا شکار تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع سے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اسے توقع ہے کہ ایران کی مسلح افواج، حکومت اور عوام بہت جلد خوف زدہ ہو کر ہتھیار پھینک دیں گے اور مجھ سے مذاکرات کے لیے منت سماجت شروع کر دیں گے۔ لیکن اسے یہ دکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ ایرانی ہر گز خوف زدہ نہیں ہوئے۔ یہ درحقیقت دشمن کی ایران سے متعلق وہی لاعلمی اور جہالت ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے۔ دشمن، ایرانی قوم کے نظریات و افکار، حب الوطنی، اعلی اہداف، اور اس تہذیب سے لاعلم تھا جو گذشتہ 7 ہزار سال پر محیط ہے اور اس سرزمین کی تہذیب و تمدن تشکیل دیتی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کر کے دنیا والوں پر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ ایرانی قوم اور ایران کی مسلح افواج ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں اور ان کا موازنہ کسی اور سے نہیں کیا جا سکتا۔
اس وقت دنیا والوں کے ساتھ ساتھ مغربی حکمران اور ماہرین بھی اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ ایرانی قوم کے نظریات اور عقائد اسلام کی بنیاد پر استوار ہیں۔ ایرانی قوم ایک عاشورائی تہذیب کی مالک قوم ہے جو دین کا دفاع کرنے اور اس مقصد کے لیے جان نچھاور کرنے کو اپنے لیے فخر سمجھتی ہے۔ یہ شہادت اور مزاحمت پر مبنی سوچ ہے جو جنگ کے میدان میں فتح اور کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ یہ سوچ اور عقائد، دشمن کے لیے ہر قسم کے اسلحے سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہیں۔ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دو ماہ سے زائد عرصے تک ایرانی عوام مسلسل ملک کی حفاظت اور مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کرنے کے لیے ملک بھر میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ان کی تعداد کروڑوں پر مشتمل ہے اور انہوں نے استقامت، مزاحمت، شجاعت اور سیاسی بصیرت کی اعلی مثال قائم کر دی ہے۔
اس وقت مغربی حکمران سمجھ گئے ہیں کہ ایران سے اس زبان میں بات نہیں کی جا سکتی جس زبان میں وہ دنیا کے دیگر ممالک سے بات کرتے ہیں۔ امریکہ نامی ملک کی کل تاریخ 500 سال سے زیادہ پر محیط نہیں ہے جبکہ اس میں سے بھی 250 سال خانہ جنگی اور قتل و غارت میں بسر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ایران کی عظیم قوم ہے جس کی تاریخ 7 ہزار سال پر محیط ہے اور یہ تاریخ تہذیب و تمدن، علم اور انسانیت سے بھری پڑی ہے۔ لہذا مغربی حکمران اب اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ وہ فوجی طاقت اور دھونس کی بنیاد پر ایرانی قوم کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنی آخری تقریر میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں اور "مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا" ہمارا لائحہ عمل ہے۔
تحریر: حجت اللہ سلطانی (وینزویلا میں ایران کے سابق سفیر)
ایران: آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کا واحد راستہ، جنگ اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ہے
ارنا کے نامہ نگار کے مطابق، "امیر سعید ایروانی" نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے ایک گفتگو میں کہا: امریکہ اور بحرین نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کی صورتحال پر ایک انتہائی ناقص، یکطرفہ اور سیاسی طور پر اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکہ و بحرین دعوی کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی آزادی کی حمایت کرنا ہے اور انہوں نے ایران کے خلاف کچھ بے بنیاد الزامات بھی لگائے ہیں، جبکہ زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کے اقدامات اس کے اعلان کردہ اہداف سے واضح تضاد رکھتے ہیں اور امریکیوں نے صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور عدم استحکام کو گہرا کرنے کا ہی کام کیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے : آبنائے ہرمز کے سلسلے میں واحد پائیدار حل، جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے ۔ اس کے برعکس، امریکہ "بحری تجارت کی آزادی" کی آڑ میں سلامتی کونسل میں ایک ناقص اور سیاسی طور پر اشتعال انگيز قرارداد کا مسودہ پیش کر رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے اور غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دے سکے، نہ کہ بحران کو حل کر سکے۔
سعید ایروانی نے مزید کہا: اس قرارداد کے مسودہ کے ذریعے بین الاقوامی بحری تجارت کی حمایت کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سمیت امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے۔
جان پر کھیل کر بچوں کو نجات دینے پر ایرانی نرس کو خراج پیش
عراق میں ایران کی ثقافتی کونسل کے حوالے سے جاری بیان میں، ایران کے ثقافتی مشیر نے ندا سلیمی کے نام اپنے پیغام میں انہیں مسلم خواتین کی جرات کی ایک بے نظیر مثال قرار دیا اور تاکید کی کہ آپ کی یہ عالمی نوعیت کی قربانی، جس کے ذریعے آپ نے انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کے جذبے کے تحت معصوم بچوں کی جان بچائی، ہمیشہ کے لیے ایک مثالی نمونہ رہے گی۔ یہ قابلِ قدر اقدام ایک دوست اور قدر دان قوم کی جانب سے اعلیٰ ترین ستائش کا مستحق ہے۔
ندا سلیمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس خوفناک واقعے کے لمحات کو بیان کرتے ہوئے کہا: ان نازک لمحات میں خوف انسان پر غالب آجاتا ہے، لیکن جس چیز نے مجھے حرکت میں لایا وہ ان تین نومولود بچوں کے لیے احساسِ ذمہ داری تھا۔ وہ اللہ کی امانت تھے جن کی پیدائش کو ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا اور ان کی مائیں آپریشن تھیٹر میں تھیں۔ جب میں نے ان کے معصوم چہروں کو دیکھا تو ایک لمحے میں محبت نے خوف پر قابو پالیا اور میں نے انہیں گود میں لے کر بچانے کا فیصلہ کیا۔
اس فداکار نرس نے اس سوال کے جواب میں کہ جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو آپ ان کے لیے کیا پیغام دیں گی، کہا: میں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ تم اللہ کی طرف سے زندگی کا تحفہ ہو۔ کبھی نہ بھولو کہ زندگی ایک معجزہ ہے جسے محبت اور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل میں مفید اور خدمت گزار انسان بنیں گے اور جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا، وہ بھی مشکل وقت میں اپنے ہم وطنوں اور امت مسلمہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
سلیمی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ میں کامیابی صرف فنی مہارت پر منحصر نہیں بلکہ انسانیت کا فن اور محبت سے بھرپور دل رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایک کامیاب نرس وہ ہے جو مریض کی تکلیف کے تاریک ترین لمحات میں اس کے دل میں امید کی روشنی پیدا کرے۔
اس آن لائن نشست میں مختلف اسپتالوں اور صحت مراکز کے منتخب نرسوں اور منتظمین، یونیورسٹی اساتذہ اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی اور اس نرس کے بہادرانہ اور ایثار پر مبنی عمل کو سراہتے ہوئے ان کے لیے محبت اور قدردانی کا اظہار کیا، اور انہیں ایک باوقار اور باعمل مسلم خاتون کا مثالی نمونہ قرار دیا۔/
بحری فورس نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ضبط کر لیا
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے ایک کمانڈو دستے نے ایران کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک آئل ٹینکر کو ضبط کرلیا۔
بحریہ کے کمانڈو فورس نے ایران کا تیل غیرقانونی طریقوں سے لے جانے کی کوشش کرنے والے اس جہاز کو ضبط کرکے ایران کے آبی حدود میں منتقل کردیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ جہاز ایران کے تیل کی برآمدات اورعوام کے مفادات کو متاثر کرنا چاہتا تھا جسے ایران کے عدالتی حکم کے مطابق، ضبط کرلیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری فورس نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ایران کے اقتدار اعلی اور قومی اور عوامی مفادات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
