سلیمانی
ٹرمپ کی جنگی دلدل سے نکلنے کی کوششیں؛ ایران کے مسلسل حملے، 32 روز میں 5644 میزائل و ڈرون داغے گئے
، ایران کی جانب سے امریکی۔صہیونی جارحیت کے جواب میں بھرپور اور مسلسل جوابی کارروائیاں جاری ہیں، اور یہ آپریشن اب 33ویں روز میں داخل ہوچکا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دلدل سے نکلنے کے لیے بے بسی اور بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر چین اور پاکستان نے بھی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کر کے ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ترک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے بدھ کی صبح تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے گزشتہ 32 دنوں کے دوران کم از کم 5644 میزائل اور ڈرون اسرائیل اور عرب ممالک میں دشمن کی تنصیبات کی سمت فائر کیے، جبکہ اسی مدت میں دو جنگی طیاروں کے ذریعے ایک حملہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام متعدد بار واضح کرچکے ہیں کہ ان حملوں کا ہدف عرب ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور امریکی مفادات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات میں رپورٹ ہوئے، اس کے بعد بالترتیب کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب اور اردن کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ عمان سب سے کم نشانہ بننے والا ملک بتایا گیا۔
اسی تناظر میں خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے 26 مارچ کو دعوی کیا تھا کہ خطے کے ممالک کی سمت پانچ ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون فائر کیے گئے۔
ایرانی قوم کی استقامت، عاشورا واقعے کا عصر حاضر میں تکرار
حجتالاسلام والمسلمین سید احمد موسوی، متولی مسجد حنّانہ نجف نے ایکنا سے گفتگو میں امریکی–صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: ایران کے عوام اور رہبر نے امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے زمانے کے یزید یعنی ٹرمپ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور یہ راستہ بدستور جاری ہے۔
اس انٹرویو میں مسجد حنّانہ نجف کے متولی کے بیان کا متن درج ذیل ہے: إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا؛ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا
جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے، اور جب آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں اور دل گلے تک آ پہنچے، اور تم اللہ کے بارے میں مختلف گمان کرنے لگے؛ وہاں اہلِ ایمان آزمائش میں ڈالے گئے اور سخت اضطراب سے دوچار ہوئے۔
آج مجرم امریکہ اور غاصب صہیونی عناصر خلیج فارس کے ان عرب ممالک کے ساتھ مل کر، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، ایران کے خلاف جنگ شروع کر چکے ہیں، اور رمضان کی اس جنگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے۔
یہ جنگ بالکل جنگِ احزاب کی مانند ہے، جب مشرکین اور کفار نے ہر طرف سے نبی اکرم ﷺ پر حملہ کیا اور مدینہ میں محاصرہ کر لیا، لیکن بالآخر فتح نبی اکرم ﷺ کی ہوئی۔ آج بھی کامیابی غیور ایرانی قوم کی ہوگی جو میدان میں موجود ہے اور اسلام کے درخت کو اپنے پاک ترین انسانوں، بالخصوص اپنے بہادر اور غیور رہنما کے خون سے سیراب کر رہی ہے۔
یزید بن معاویہ نے امام حسینؑ سے کہا تھا کہ یا تو بیعت کرو یا قتل کر دیے جاؤ گے۔ : ألا وإن الدعي بن الدعي قد ركز بين اثنتين السلة أو الذلة و هیهات من الذّلّة؛
امام حسینؑ نے جواب دیا: خبردار! اس بدکار کے بیٹے بدکار نے مجھے دو چیزوں کے درمیان رکھا ہے: تلوار یا ذلت، اور ذلت ہم سے بہت دور ہے (ہیہات منا الذلة)۔
آج بھی زمانے کے یزید یعنی ٹرمپ نے شہید رہنما کے سامنے یہی بات رکھی، اور انہوں نے بھی یہی جواب دیا: "ہیہات منا الذلة۔
ایران کے عوام اور جبهۂ مقاومت نے بھی اپنے شہید رہنما کی پیروی کرتے ہوئے ٹرمپ کو ٹھکرا دیا اور کہا: "ہیہات منا الذلة۔ ہیہات منا الذلة۔"
یاد رہے کہ حجتالاسلام والمسلمین سید احمد موسوی، متولی مسجد حنّانہ نجف، عید الفطر کے بعد سے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات میں شرکت کر رہے ہیں۔
ایران کا دفاع واجب شرعی ہے
آوا نیوز کے حوالے سے آیت اللہ محمد باقر فاضلی بہسودی، جو افغانستان کے شیعہ مراجع تقلید میں شمار ہوتے ہیں، نے اعلان کیا کہ قرآنِ کریم کی آیات کے مطابق امریکہ اور صہیونی رژیم کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاع مسلمانوں پر " شرعی واجب" ہے۔
انہوں نے مصر کی مجلسِ علماء الازہر کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جبکہ امریکہ اور صہیونی رژیم برسوں سے اسلامی سرزمینوں، خصوصاً فلسطین میں قتل و غارت اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں، توقع یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے دینی ادارے ان ممالک کی حمایت کریں جو ان جارحیتوں کے خلاف کھڑے ہیں، نہ کہ ان کے دفاع کی مذمت کریں۔
اس مرجعِ تقلید نے سورۂ حج کی آیت 39 کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ قرآنِ کریم نے مظلوموں کو دفاع کی اجازت دی ہے اور ان کی نصرت کا وعدہ بھی کیا ہے۔
آیت اللہ فاضلی بہسودی نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت صرف علماء کے فتوے یا ذاتی رائے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بنیاد قرآن کے صریح حکم میں ہے، اور ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ہے۔
انہوں نے ایران کے فوجی کمانڈروں اور سائنسی شخصیات کے قتل کو بھی دشمنانِ اسلام کی کھلی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کے مقابلے میں دفاع اور مزاحمت ایک فطری اور جائز عمل ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں بعض سنی دینی اداروں کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات کی مذمت نہ کرنا، اور اس کے برعکس ایک اسلامی ملک کے دفاع پر تنقید کرنا، مسلمانوں کے درمیان تشویش اور افسوس کا باعث بن رہا ہے۔
امریکہ نے اپنی حماقت سے دنیا کے تمام لوگوں کو "آبنائے ہرمز" سے محروم کردیا: جنرل فدوی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کے مشاور ٹیم کے سربراہ جنرل علی فدوی نے کہا ہے کہ امریکہ یہ تصور کر بیٹھا تھا کہ ایران کو تباہ کرسکتا ہے لیکن کوئی بھی معمولی ہدف بھی حاصل نہیں کرسکا۔
جنرل علی فدوی نے کہا کہ امریکہ نے غلط اندازوں کے تحت کچھ اہداف معین کیے تھے جنہیں اپنے زعم میں 3 سے 5 دن میں حاصل کیا جانا تھا لیکن ان میں سے ایک ٹارگیٹ بھی پورا نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مغربی ماہرین نے بھی امریکہ کی شکست کی تصدیق کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایران کو تباہ کرسکتے ہیں لیکن ان کی اس غلطی کے نتیجے میں دنیا کے عوام آبنائے ہرمز سے محروم ہوگئے۔
فارما فیکٹری پر صیہونی حکومت کا وحشیانہ حملہ/ سخت سزا دی جائے گی: وزیر خارجہ عراقچی
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں ایران کی ادویات بنانے والی ترقی یافتہ فیکٹری پر صیہونی حملے کی خبر دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیر خارجہ عراقچی نے لکھا ہے کہ جنگی مجرم اسرائیل نے کھلے عام اور پوری بے شرمی کے ساتھ ادویات بنانے والی کمپنیوں پر بمباری شروع کردی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ صیہونیوں کی نیت واضح ہے لیکن دشمن ایران کو نہتے فلسطینی شہریوں کی طرح سمجھ بیٹھے ہیں۔
وزیر خارجہ نے انتباہ دیا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج جارحیت کرنے والوں کو سخت سزا دیں گی۔
ایران پر جارحیت میں ملوث آئی ٹی کمپنیاں، ہماری جوابی کارروائی کے نشانے پر ہیں: سپاہ پاسداران انقلاب کا انتباہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے شہری مراکز، عام شہریوں اور سول شخصیات پر حملہ نہ کرنے پر مبنی ہمارے انتباہات کو نظرانداز کیا لہذا اب کے بعد ICT اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرگرم تمام امریکی کمپنیاں جن کا ایران میں قتل عام کی ڈیزائننگ اور ٹارگیٹ کلنگ میں مرکزی کردار رہا ہے، ہماری جوابی کارروائی کے زد پر ہوں گی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ان کمپنیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اس میں سرگرم کارکنوں اور اطراف میں رہنے والے شہریوں کو تجویز دی ہے کہ اپنی جان محفوظ رکھنے کے لیے ان کمپنیوں کے دفاتر سے کم از کم 1 ہزار میٹر کی دوری برقرار رکھیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ تمام کمپنیاں جنہوں نے مذکورہ دہشت گردانہ اقدامات میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، انہیں ضرور نشانہ بنایا جائے گا۔
اس انتباہی بیان میں آیا ہے کہ ایران پر ہر جارحیت اور ہر قاتلانہ حملے کی صورت میں بدھ، پہلی اپریل شام 8 بجے سے درج ذیل کمپنیاں، ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں آئيں گی۔
1. sisco
2. HP
3. Intel
4. Oracle
5. microsoft
6. Apple
7. Google
8. Meta
9. IBM
10. DEL
11. Plantier
12. Nvidia
13. GP. Morgan
14. Tesla
15. GE
16. Spire Solution
17. G42
18. Boeing
امریکی و صہیونی اہداف پر برق رفتار حملے؛ دشمن کے درجنوں ڈرون تباہ
جنگ کے بتیسویں روز بھی ایران کی مسلح افواج نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور مختلف محاذوں پر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران کی بحریہ نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف ایک بھاری حملہ کیا جس میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تازہ حملوں میں ایرانی میزائلوں کی ایک نئی لہر تل ابیب کی جانب داغی گئی جس کے بعد تل ابیب، اس کے جنوبی علاقوں اور مغربی کنارے کی شمالی بستیوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
صہیونی میڈیا کے مطابق صرف دس منٹ کے اندر ایران کی جانب سے تل ابیب پر دو میزائل حملے کیے گئے اور مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے عمومی علاقے میں دشمن کا ایک جدید MQ‑9 ڈرون نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مار گرائے گئے امریکی و صہیونی ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب سپاہ پاسداران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پینٹاگون کے دعوے کے برعکس ایک ماہ گزرنے کے باوجود ایران کی حملہ آور صلاحیت میں کمی نہیں آئی بلکہ حملے پہلے سے زیادہ منظم، مربوط اور شدید ہوگئے ہیں۔
خطے میں امریکی اڈوں پر حملے جاری، مزید فوج ہلاک و زخمی
خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق کویت کی وزارتِ بجلی نے تصدیق کی ہے کہ ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک بھارتی مزدور ہلاک جبکہ پلانٹ کو شدید نقصان بھی ہوا ہے۔
کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ملک کی فضائی حدود میں 14 بیلسٹک میزائل اور 12 ڈرون کی نشاندہی کی گئی۔ بعض حملوں کا ہدف مسلح افواج کا ایک کیمپ تھا جس کے نتیجے میں 10 فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک نجی لاجسٹک کمپنی کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے مالی نقصان ہوا تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹس کے مطابق کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سعودی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں واقع ایک امریکی اڈے کی جانب پانچ بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ جس کے بعد شہریوں کو ہنگامی الرٹ سسٹم کے ذریعے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا۔
دوسری جانب بحرین میں بھی کم از کم سات دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
عراق میں ایک ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ بغداد ایئرپورٹ کے مغرب میں واقع امریکی لاجسٹک سپورٹ کیمپ (ویکٹوریا بیس) کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہاں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
مزید اطلاعات کے مطابق اربیل میں الحریر امریکی اڈے کو بھی ایک میزائل نے نشانہ بنایا جبکہ شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں واقع الرميلان کے علاقے میں امریکی اڈے کے قریب بھی شدید دھماکے کی خبر دی گئی ہے۔
امارات میں امریکی فوجیوں کی خفیہ رہائشگاہ اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کا اعلان
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجیوں کی خفیہ رہائشگاہ نیز ریڈار اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔
فوج کے 48ویں بیانیے میں بتایا گیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو امارات میں نصب دشمن کے ریڈار اسٹیشنوں اور مراکز کو ڈھونڈ نکال کر، میزائلوں اور جنگی ڈرون طیاروں سے نشانہ بنا دیا گیا۔
اس بیان میں آیا ہے کہ ان حملوں میں دہشت گرد امریکی فوج کے اہل کاروں پر بھی خودکش ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا جو ایک خفیہ رہائشگاہ میں روپوش تھے۔
ٹرمپ کے بن سلمان کیلیے نامناسب الفاظ اور نجی راز کے عالمی سیاسی leverage کا تجزیاتی جائزہ
27 مارچ 2026ء کو امریکی صدر ٹرمپ نے Future Investment Initiative سرمایہ کاری کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا، جس میں متعدد عالمی لیڈرز، کاروباری شخصیات اور مشہور شخصیات موجود تھیں۔ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “He thought it’d be just another American president that was a loser … He didn’t think he’d be kissing my ass … but now he has to be nice to me.” یعنی محمد بن سلمان نے پہلے نہیں سوچا تھا کہ یہ سب ہوگا، اور ”وہ میری پچھواڑا چاٹ رہا ہوگا“ (crude slang) لیکن اب اسے میرے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا پڑے گا۔ بظاہر یہ جملہ طنز یا مذاق کے طور پر سنا جا سکتا ہے، لیکن سیاسی اور سفارتی تناظر میں یہ ایک واضح اور معقول اشارہ بھی رکھتا ہے۔
فرض کریں کہ کسی کے پاس دوسرے کا کوئی حساس یا نجی راز ہو یا کوئی یا اسکے ساتھ کوئی نجی برا فعل اس کے ساتھ انجام دیا ہو اور وہ اس سے اپنے جائز یا ناجائز کام میں بھرپور حمایت چاہتا ہو۔ اس صورت میں دنیا کے مہذب لوگوں کے سامنے صرف ایک چھوٹا سا اشارہ یا جملہ دے دینا کافی ہے کہ وہ خود بخود سمجھ جائے گا۔ یہاں پہ ٹرمپ ایم بی ایس کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تمہارے نجی رازوں کو بتانے میں کوئی دیر نہیں لگائیں گے اگر تم نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ صدر ٹرمپ کوئی عام شہری یا محض بات کرنے والا نوجوان نہیں ہیں، بلکہ دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ ان کے جملے اکثر مقاصد، اشارے، اور leverage کے حربے کے طور پر ہوتے ہیں۔
نجی معاملات اور leverage عالمی سیاست میں طاقتور رہنما اور ممالک اپنے اتحادیوں یا حلیف ممالک کے ساتھ نجی اور حساس معلومات کو leverage کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کسی رہنما کے ذاتی یا جنسی راز اب صرف ذاتی نہیں رہے بلکہ سیاسی ہتھیار بن گئے ہیں۔ Edward Snowden کے لیکس نے واضح کیا کہ امریکہ نجی شہریوں اور عالمی رہنماؤں کی آن لائن اور مواصلاتی سرگرمیوں میں بھی جاسوسی کرتا ہے۔ CIA کے Vault 7 لیکس اور سفارتی کیبلز نے ظاہر کیا کہ حساس معلومات کس طرح اثرورسوخ اور دباؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بے تکلف جملہ اس زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اب جب کہ امریکی صدر ٹرمپ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں یورپی ممالک ان کا ساتھ نہیں دے رہے اور عرب ممالک بھی صرف زبانی خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے اس موقع پر یہ گفتگو کرنا ایم بی ایس کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم تمہارے حساس یا نجی معاملات سے آگاہ ہیں، اور تمہیں ہمارے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا۔ یہ ایک دوہری پیغام رسانی رکھتا ہے۔
ظاہری سطح پر طنز و مذاق
خفیہ سطح پر leverage کا اشارہ
نجی راز اور عالمی سیاست
تاریخی اور جدید مثالیں بتاتی ہیں کہ Edward Snowden لیکس (2013) اور امریکی NSA سمیت CIA کی نگرانی کے پروگرامز PRISM، XKeyscore، Boundless Informant نے واضح کیا کہ نہ صرف دہشت گردی بلکہ عام شہریوں کی نجی زندگی بھی ٹریک ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر یہ افشا ہوا کہ طاقتور ممالک نجی معلومات کے ذریعے leverage حاصل کرتے ہیں۔
CIA کے ہیکنگ ٹولز، میل ویئر، اور جاسوسی کے طریقے افشا ہوئے۔ اس نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل آلات اور رابطوں پر مکمل نگرانی ممکن ہے۔ عام تجزیہ نگار یہی کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے پاس امریکی صدر ٹرمپ کے نجی راز موجود ہیں جس کی وجہ سے ٹرمپ مجبور ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو جب بھی ٹرمپ نے اسرائیل کو کوئی انکار کی صورت دی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی ٹرمپ کا ایک سکینڈل نجی یا جنسی سامنے آ جاتا ہے اور ٹرمپ نتن یاہو کی زبان بولنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نجی اور ذاتی راز سیاست اور اثرورسوخ کا ہتھیار بن چکے ہیں۔ طاقتور ممالک یا رہنما اپنے اتحادیوں کو leverage میں رکھنے کے لیے حساس معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی گفتگو کا تجزیاتی منظر
صدر ٹرمپ کی محمد بن سلمان کے لیے بے تکلف جملہ ایک سیاسی حربہ اور اشارہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
طنز یا مذاق عوام کے لیے: بے تکلفی، کھلے رویے کا تاثر
خفیہ leverage: محمد بن سلمان کو یہ واضح کرنا کہ ان کے حساس یا نجی راز جاننے کا امکان موجود ہے
اثرورسوخ اور تعاون: عالمی یا امریکی مفادات کے مطابق رویہ رکھنے کی ضرورت
یہ حکمت عملی قدرتی طور پر سیاسی دباؤ، اثرورسوخ، اور leverage کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا محمد بن سلمان کے لیے جملہ
محض طنزیہ یا مذاق نہیں، بلکہ عالمی سیاست میں leverage کے حربے کا مظہر ہے۔ نجی، حساس، اور جنسی راز اب عالمی تعلقات اور اثرورسوخ کے ہتھیار بن چکے ہیں، جس کی تازہ مثال ایپسٹین فائلز کا کیس ہے۔ اس ہتھیار کو طاقتور ممالک یا رہنما اپنے حلیفوں کے نجی راز سے واقف رہ کر، انہیں سیاسی اور سفارتی دباؤ میں استعمال کرتے ہیں۔ اس منظر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں عوامی بیانات کے علاوہ، خفیہ معلومات اور نجی راز کے ذریعے بھی اپنی حکمت عملی اور leverage قائم کرتی ہیں۔
تحریر: میثم عابدی




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
