سلیمانی
خاتم الانبیا ہیڈکواٹر: ایرانی بجلی گھروں کو نقصان پہنچا تو علاقے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے نابود ہوجائیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے خاتم الانبیا ہیڈکواٹر کے ترجمان کرنل ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو بلاتاخیر:
1۔ آبنائے ہرمز پوری طرح بند ہوجائے گی اور جب تک ایران کے تباہ ہونے والے بجلی گھروں کی تعمیر نہ ہوجائے، بند رہے گی۔
2۔صیہونی حکومت کے سبھی بجلی گھر، توانائی اور آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچوں پر وسیع پیمانے پر حملے کئے جائيں گے۔
3۔ علاقے کی وہ سبھی کمپنیاں تباہ کردی جائيں گی جس میں امریکا کے حصص ہوں گے اور
4۔ امریکی اڈوں کے میزبان ملکوں کے بجلی گھر ہمارے جوابی حملوں کے قانونی ہدف میں تبدیل ہوجائیں گے
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی جامعۃ الازہر مصر پر شدید تنقید، امریکہ نواز موقف پر افسوس کا اظہار
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے جامعۃ الازہر مصر کی جانب سے امریکہ اور خلیج فارس کے بعض ممالک میں اس کے نیابتی حکمرانوں کے حق میں دیے گئے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ الازہر کا یہ جانبدارانہ رویہ نہایت افسوسناک ہے اور اس سے اس قدیم دینی ادارے کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
جامعہ مدرسین نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مجرمانہ کارروائیوں کے دوران الازہر حق و باطل میں تمیز نہ کر سکا، جس سے اس ادارے کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بیان کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کا اقدام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، جبکہ الازہر کی جانب سے ایران کی مذمت حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران ہمیشہ مسئلہ فلسطین، اسلامی ممالک کی خودمختاری، عزت اور امت مسلمہ کے اتحاد کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے، اور الازہر کی جانب سے حقیقت کو الٹ کر پیش کرنا ایران کے مثبت کردار کو ہرگز متاثر نہیں کر سکتا بلکہ خود الازہر کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جامعہ مدرسین نے الازہر کے علماء اور دانشوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بیت المقدس کی آزادی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے خواہاں ہیں تو انہیں سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کو امت کے اصل دشمن کے طور پر پہچاننا ہوگا اور ان کی سازشوں سے باخبر رہنا ہوگا۔
بیان میں امت مسلمہ کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ اور اسلامی ممالک کی عزت و سربلندی کا خواہاں ہے، اور یہ مقصد صرف استکباری طاقتوں خصوصاً امریکہ سے دوری اختیار کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ آج کے حالات میں حق و باطل کی پہچان اور قدس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت، امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، اور اہل حق بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
القسام کے ترجمان کی ایران کے میزائل حملوں پر اظہار مسرت
حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے ایران کی جانب سے جنوبی مقبوضہ علاقوں پر کیے گئے میزائل حملوں کی تعریف کی ہے۔
ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ وہ فخر کے ساتھ دیکھا رہے ہیں کہ کس طرح سپاہ پاسداران نے نئی حربی تکنیکوں کے ساتھ دشمن کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف ایران کے خلاف ہونے والی صہیونی–امریکی کارروائیوں کا قدرتی جواب ہیں بلکہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری وسیع پیمانے کے حملوں کا ردِعمل بھی ہیں۔
القسام ترجمان نے دعوی کیا کہ اسرائیلی حکومت صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے اور بھاری قیمت چکائے بغیر اپنے حملوں سے باز نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران آج امت اسلامی کی دفاعی صف اول کی حیثیت رکھتا ہے اور جارح قوتیں عوام کی ارادوں کو پسپا نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے خطے کی تمام قوموں سے اپیل کی کہ وہ دشمن کے مقابلے میں متحد ہوں اور بنیادی مسائل، خصوصا مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔
کیا امریکہ، اسرائیل کی ایران کےخلاف جنگ کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے؟
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک، محمد اکمل خان؛ جنگوں میں پہلا نشانہ اکثر فوجی تنصیبات نہیں بلکہ سچ بنتا ہے۔ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حالیہ حملے کے بعد بھی یہی ہوا ہے۔ 19 مارچ 2026 کواسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہ تاثر دیا کہ کارروائی گویا اسرائیل نے اپنے طور پر کی، جبکہ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے رہے کہ انہوں نے اسرائیل کو آئندہ ایسے حملوں سے روک دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملہ واقعی اکیلے کیا گیا تھا تو پھر اسے فوراً امریکی رضامندی، ناراضی یا ہدایت کے ساتھ نتھی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کیا اسرائیل نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ امریکہ کو لاعلم رکھ کر کیا؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ان دنوں مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود امریکہ کی کڑی نگرانی میں ہے۔ امریکی فضائی ڈھانچے کا مشترکہ فضائی آپریشنز مرکز، یعنی مشترکہ فضائی کارروائیوں کا مرکز (Combined Air Operations Center)، خطے میں فضائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، نگرانی، رابطہ کاری اور تصادم سے بچاؤ کا بنیادی نظام ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق یہی مرکز لمحہ بہ لمحہ جنگی طیاروں کی پروازوں، حملہ آور مشنوں، فضائی ایندھن رسانی اور دوسری اہم کارروائیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرتا ہے۔ ایسے میں یہ مان لینا کہ دنیا کی سب سے بڑی اورحساس ترین گیس فیلڈزمیں سے ایک پر بڑا حملہ امریکی علم کے بغیر ہو گیا، ایک سفید جھوٹ محسوس ہوتا ہے۔
مغربی میڈیا کی رپورٹوں میں یہ بھی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ اسرائیلی اہلکاروں نے خود کہا کہ جنوبی پارس پر حملے کے بارے میں امریکہ کو پہلے سے علم تھا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر مسئلہ صرف حملے کا نہیں رہتا، بلکہ حملے کے بعد ذمہ داری سے بچنے کے لیے بیانیہ گھڑنے کا بن جاتا ہے۔ گویا کارروائی کےلئے ہدف مشترک ہو سکتاہے، مگر اعتراف کو اس حملے کے ممکنہ سنگین رد عمل کو دیکھتے ہوئے ایک بہت معمولی سے بات
ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو جیسے یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔
اگر امریکہ ایرانی گیس فیلڈز پر حملوں کے حوالے سے لاعلم نہیں تھا تو اس نے لاتعلقی کا تاثر کیوں دیا گیا؟
اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جدید جنگ میں صرف حملہ کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، اس کے ردعمل کا بغور جائزہ لے کر اس سنگین اقدام کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر بھی تھونپا جا سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اسرائیل کی عسکری خودمختاری کا تاثر قائم رکھیں۔ ٹرمپ کے لیے یہ ضروری تھا کہ جب حملے کے اثرات خلیج کی توانائی پٹی اور عالمی منڈیوں تک پہنچنے لگیں تو ذمہ داری تل ابیب کے کھاتے میں ڈال دی جائے۔ اسی لیے ایک طرف “ہم نے اکیلے حملہ کیا” کا دعویٰ سامنے آیا، دوسری طرف یہ پیغام بھی دیا گیا کہ امریکی صدر کی مداخلت کی وجہ سے مزید ایسے حملے نہیں ہوں گے۔ جب تک کارروائی دباؤ کا ہتھیار تھی، خاموشی اختیار کی گئی؛ جب اس کے معاشی اور سفارتی اثرات پھیلنے لگے تو ایک فریق نے اس حملے کو ایک معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ بیانیے کا یہ تضاد صرف جنوبی پارس حملے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جنگ کے اصل جواز تک جا پہنچتا ہے
کیا امریکہ کو ایران سے واقعی “فوری جوہری حملے کا خطرہ” تھا؟
ایران سے” فوری جوہری حملے کے خطرہ“(Imminent Nuclear Threat) کے حوالے سے 18 مارچ 2026 کو واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی عالمی خطرات کی سماعت (Worldwide Threats Hearing) کے دوران سینیٹر جان اوسوف نے ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ سے پوچھا کہ کیا واقعی ایران کی طرف سے ایسا فوری جوہری حملے کاخطرہ موجود تھا جس کی بنیاد پر جنگ کو جائز قرار دیا جا سکے۔ اوسوف کے دفتر کے جاری کردہ متن کے مطابق گبارڈ نے واضح ہاں یا ناں کے بجائے یہ مؤقف اختیار کیا کہ فوری خطرے کا تعین صرف امریکی صدر کرتا ہے۔ اوسوف نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ یہی تو انٹیلیجنس قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کانگریس کو بروقت، معروضی اور غیر سیاسی انداز میں بتائے کہ خطرہ کیا ہے۔
بعد کی رپورٹنگ میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ گبارڈ نے اپنی تحریری گواہی کے اس حصے کو زبانی بیان کا حصہ نہیں بنایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر ایسا تھا تو پھر فوری خطرہ کہاں تھا؟ اگر خطرہ فوری نہیں تھا تو جنگ کس بنیاد پر شروع کی گئی؟ جب سوال سیدھا تھا تو جواب میں آئیں بائیں شائیں کیوں کی گئی؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں اس ایران جنگ کا مقدمہ صریحاًً جھوٹ پر مبنی دکھائی دینے لگتا ہے۔
جب جنگ کا بنیادی جواز ہی جھوٹ ہو تو باقی کیا بچتا ہے؟
اگر جنگ کا بنیادی جواز ہی جھوٹ ہو تو پھر بعد کے تمام دعوے بھی خود بخود سوال کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ صرف حملے کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑتی ہے، بلکہ اس کے سیاسی، قانونی اور سفارتی جواز بھی دم توڑنے لگتے ہیں۔ پھر مسئلہ صرف ایک کارروائی کا نہیں رہتا، بلکہ پورا بیانیہ ہی جھوٹ پر مبنی ہونا ثابت ہو جاتا ہے اور جب جنگ کا جواز ہی غلط ہو، تو پھر اس کے نتائج بھی صرف فوجی دائرے تک محدود نہیں رہتے۔ جنوبی پارس پر حملہ اسی بڑے توانائی کے بحران کی ایک مثال بن گیا۔
کیا جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ صرف ایران کے خلاف تھا، یا اس کا نشانہ پوری خلیجی توانائی پٹی تھی؟
جنوبی پارس اور عسلویہ پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے توانائی کےڈھانچے کو نشانہ بنایا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ردعمل نے خلیج بھر میں تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا دیا، اور راس لفان جیسے مراکز، جو عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت میں اہم کردار رکھتے ہیں، براہِ راست تباہی کی زد میں آ گئے۔ یوں جنوبی پارس پر حملہ محض ایک محدود عسکری کارروائی نہ رہا، بلکہ پوری خلیجی توانائی پٹی کو آگ کے دہانے پر لے جانے والا اقدام بن گیا۔
یوں نیتن یاہو کے ایک جنگی فیصلے نے صرف ایران کو نہیں، بلکہ قطر، کویت، سعودی عرب اور امارات جیسے امریکی اتحادیوں کی توانائی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ٹرمپ کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ وہ ذمہ داری نیتن یاہو پر ڈالنے کی کوشش کریں، کیونکہ اب معاملہ صرف ایران کا نہیں رہا تھا؛ خلیجی اتحادیوں کا اعتماد، عالمی توانائی رسد اور امریکی معیشت کے اندر مہنگائی کا دباؤ بھی اس میں شامل ہو چکا تھا۔
کیا اس جنگ کا محاذ صرف فوجی ہے یا معاشی میدان بھی اس کے نشانے پر ہے؟
جنگ کا محاذ اب واضح طور پر معاشی دنیا پر بھی اثر انداز ہو رہاہے۔ ایران کی جانب سے جنگ اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے نتیجے میں دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی رسد کو شدید دھچکا لگا ہے، تقریباً 400 ملین بیرل رسد مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہے، عالمی تیل قیمتیں 50 فیصد سے زیادہ بڑھیں، عالمی سطح پر تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلاگیا، اور مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہونے والے بعض خام تیل کے درجوں کی قیمت 164 ڈالر تک پہنچی۔ یورپی گیس منڈی میں قیمتیں بھی تقریباً 35 فیصد بڑھ گئیں۔
آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری راستہ نہیں، عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے میں خلل کا مطلب صرف پٹرول مہنگا ہونا نہیں، بلکہ بیمہ، جہاز رانی، صنعتی خام مال، ٹرانسپورٹ اور صارفین کی لاگت میں ہمہ گیر اضافہ بھی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جنوبی پارس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والا بحران صرف خلیج کا بحران نہیں رہا، بلکہ عالمی معیشت پر براہِ راست حملہ بن گیا ہے۔
کیا توانائی کا بحران زراعت اور خوراک تک بھی پہنچ سکتا ہے؟ِ
اس سوال کا جواب بھی افسوس ناک حد تک واضح ہے۔ خلیجی خطہ کھاد سازی اور اس کی ترسیل دونوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ آبنائے ہرمز سے کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے، اور جنگ کے باعث بعض کھادوں کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافے ہو چکا ہے امریکہ میں کھاد کی قیمتیں مارچ کے آغاز میں 516 ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر 683 ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل اور گیس مہنگی ہوں گی تو صرف پٹرول اور بجلی ہی مہنگی نہیں ہوگی، بلکہ یوریا، امونیا اور دوسری کھادیں بھی مہنگی ہوں گی۔ کھاد مہنگی ہوگی تو کاشت کی لاگت بڑھے گی۔ لاگت بڑھے گی تو غذائی پیداوار دباؤ میں آئے گی۔ اگر کسان کھاد کم استعمال کرنے پر مجبور ہوئے تو پیداوار گر سکتی ہے، اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر دنیا اٹھائے گی۔ یوں جنوبی پارس پر حملے کی آگ صرف خلیج میں نہیں، دنیا کے کھیتوں اور باورچی خانوں تک پہنچ سکتی ہے۔
ایران جنگ کے حوالے سے زمینی حقائق کیا ہیں؟
اس ایران جنگ کی قیمت صرف منڈیوں اور خوراک تک محدود نہیں۔ میدانِ جنگ میں بھی ایسے حقائق سامنے آ رہے ہیں جن سے امریکی اور اسرائیلی دعووں کے برعکس زمینی حقیقت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ 21 اور 22 مارچ 2026 کی درمیانی رات ایرانی میزائل حملوں نے ڈیمونا اور عراد میں قیامت ڈھا دی۔ جنوبی اسرائیل کے ان شہروں پر ایرانی میزائل حملوں میں6 شہری ہلاک اور سو سے زائد شہری زخمی ہوئے ، اور اسرائیلی فوج نے خود تسلیم کیا کہ اس کا فضائی دفاع حملہ روکنے میں ناکام رہا۔اس حملے میں میزائل اسرائیلی جوہری مرکز کے طور پر معروف شہر ڈیمونا کے قریب حساس تنصیبات تک جا پہنچے۔
جب کسی ریاست کے شہری ہر وقت خطرے کے سائرن سن کر زیرِ زمین پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے پر مجبور ہوں، جب حساس شہروں تک میزائل پہنچ رہے ہوں، اور جب میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا نظام حملے نہ روک پا رہا ہو، تو اسےمکمل فتح نہیں کہا جا سکتا۔ یہ زیادہ سے زیادہ اس جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اعتراف ہو سکتا ہے، چاہے وہ اعتراف زبان سے نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ اسرائیل کے اندر نقصانات اور خوف کی مکمل تصویر عوام کے سامنے نہیں آنے دی جا رہی، جس سے سرکاری دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ اور نمایاں ہو جاتا ہے۔
امریکی بیانیے میں بھی یہی احتیاط دکھائی دی۔ سعودی عرب میں امریکی طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کو محدود ظاہر کیا گیا، جبکہ ایف-35 کے واقعے پر بھی مکمل وضاحت سے گریز کیا گیا کہ یہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل یہ جہاز ایرانی دفاعی نظام نے کیسے کامیابی سے نشانہ بنا لیا۔ سعودی عرب کے شہر ریاض میں نشانہ بننے والے پانچ طیاروں کے لیے یہ جواز بھی سامنے آیا کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو غیر ضروری صدمے سے بچانے کی وجہ سے ابتدائی طور پر نقصان کو کم بتایا گیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اہلِ خانہ کو حوصلہ دینے کے لئے نقصان کم بتایا گیا یا عوام سے اس لاحاصل جنگ کی اصل قیمت چھپائی جا رہی ہے؟
اگر امریکہ اور اسرائیل جنگ جیت چکے ہیں تو پھر ان کی قیادت کے بیانات میں تضاد اور بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے؟
جب جنگ کا دائرہ توانائی، کھاد اور عالمی منڈیوں تک پھیل جائے، اور زمینی سطح پر میزائل ڈیمونا اور عراد تک پہنچنے لگیں، تو اس کا اثر بیانیے کے لئے گھڑی گئی سیاسی زبان پر بھی پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لہجوں میں فتح سے زیادہ بے چینی محسوس ہونے لگی ہے۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران کی میزائل یا جوہری صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچا دیا گیا ہے، دوسری طرف زمینی حقائق اور معاشی جھٹکے بتاتے ہیں کہ جنگ نہ سمٹی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج قابو میں ہیں۔ ایسے میں اگر “کامیابی” کا بیانیہ زیادہ زور سے سنائی دے رہا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ راہِ فرار کو فتح کے پردے میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔
یہی تضاد ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ 17 مارچ کو وہ کہہ رہے تھے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی جنگی کارروائی ” بہت جلد “ ختم کر دے گا۔ 20 مارچ تک امریکی اہداف اور جواز بدلتی زبان میں بیان ہو رہے تھے۔ پھر 22 مارچ کو امریکی صدر ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دے کر آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں کو “تباہ” (obliterate) کرنے کی دھمکی دینے لگے۔ اگر فتح واقعی قریب تھی تو پھر اس نئے حملے کی بات کیوں؟ یہ زبان فتح کی نہیں، بے چینی، دباؤ اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کی زبان ہے۔
کیاڈونلڈ ٹرمپ اب فتح نہیں، راہِ فرار تلاش کر رہےہیں؟
آخر میں سوال یہی بچتا ہے کہاگر واقعی سب کچھ قابو میں ہے، اگر واقعی اہداف حاصل ہو چکے ہیں، اور اگر واقعی ایران کو شکست ہو چکی ہے، تو پھر واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کے لہجوں میں یہ بے چینی کیوں ہے؟ جواب شاید یہ ہے کہ جنگ کو شروع کرنا ہمیشہ آسان ہوتا ہے، سمیٹنا نہیں۔ اسی لیے اب راہِ فرار کو فتح، سیاسی ہچکچاہٹ کو حکمت، اور بڑھتے ہوئے نقصان کو وقتی بحران بنا کر بیچا جا رہا ہے اور ایرانی قوم کے ساتھ لڑائی میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کی فتح قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
صہیونی فضاؤں میں ایرانی میزائلوں کو مکمل برتری حاصل ہے، جنرل موسوی
سپاہ پاسداران انقلابِ اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ آج شب جنوبی مقبوضہ علاقوں کا آسمان مسلسل کئی گھنٹوں تک روشن رہے گا۔
جنرل موسوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس لمحے سے مقبوضہ فلسطین کے فضائی حدود پر ایرانی جوانوں کی میزائلی برتری کا اعلان کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی موجوں میں استعمال ہونے والی نئی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی امریکی اور اسرائیلی کمانڈروں کو حیران کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
ٹرمپ کا اپنی جیت کو لے کر صاف جھوٹ
امریکہ جنگ ہار رہا ہے، امریکن انٹیلیجنس کا بیان
اسرائیلی ائیرڈیفنس سسٹم کے میزائلوں کے ذخائر ختم ہونے والے ہیں، امریکی عہدیدار
ایک امریکی عہدیدار نے موقر امریکی ویب سائٹ "Semafor" کو بتایا کہ تل ابیب نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ اس کے میزائل شکن ذخائر، جو بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ختم ہو رہے ہیں۔
اس امریکی عہدیدار نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ کئی مہینوں سے اسرائیل کی میزائل دفاعی صلاحیت میں کمی سے آگاہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا واشنگٹن اپنے میزائل شکن ذخائر مقبوضہ علاقوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں، امریکی خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے زور دیا کہ ایران دانستہ طور پر امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائل ذخائر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے امریکہ سالانہ بہت کم اور محدود تعداد میں دفاعی میزائل بنا سکتا ہے، جو ایک ممکنہ کمزوری پیدا کرتا ہے۔
ہم نے امریکی فوجی طاقت اور غرور کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
یرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ایف-35 کو ایک ایسی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو کسی بھی آنکھ سے پوشیدہ اور ہر طاقت سے برتر ہے، تاہم خدا کی قدرت اس سے بھی بالاتر ہے۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دنیا میں پہلی بار اس علامت کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ ایک نظام کے زوال کا لمحہ ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز ایرانی دفاعی نظام نے ایک امریکی ایف 35 طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے کو مبینہ نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
آيت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے پیغام کا مکمل متن
بسمالله الرحمن الرحیم
یا مقلب القلوب والابصار یا مدبّر اللیل و النهار یا محوِّل الحول و الاحوال، حَوِّل حالَنا الی احسن الحال
اس سال روحانیت کی بہار اور فطرت کی بہار یعنی عیدالفطر اور نوروز کا قدیم تہوار ایک ساتھ آیا ہے۔ میں ان دو مذہبی اور قومی عیدوں پر قوم کے ہر فرد کو اور خاص طور پر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجاہدین اسلام کی شاندار فتوحات کے موقع پر سب کو مبارکباد پیش کروں اور دوسری مسلط کردہ جنگ، جنوری کی بغاوت اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، سیکورٹی اداروں، سرحدی محافظوں اور انٹیلی جینس سروسز کے شہیدوں کے اہل خانہ اور پسماندگان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کروں۔
شمسی سال 1405 کی آمد کے موقع پر مندرجہ ذیل عرائض پیش کرنا چاہوں گا۔
سب سے پہلے ہم گزشتہ سال کے چند اہم واقعات پر مختصراً نظر ڈالیں گے۔ پچھلے سال، ہمارے عزیز ہم وطنوں نے تین فوجی اور سیکورٹی جنگوں کا تجربہ کیا۔ پہلی جنگ جون کی جنگ تھی جس میں صیہونی دشمن نے امریکہ کی خصوصی مدد سے اور مذاکرات کے درمیان ایک بزدلانہ حملے میں ملک کے چند بہترین کمانڈروں اور نامور سائنسدانوں اور پھر ہمارے ایک ہزار کے قریب ہم وطنوں کو شہید کیا۔ اپنے غلط حساب کتاب کی وجہ سے دشمن یہ سمجھ رہاتھا کہ ایک دو دن بعد یہی لوگ اسلامی نظام کا تختہ الٹ دیں گے۔ بہرحال آپ لوگوں کی چوکسی اور مجاہدین اسلام کی بے مثال بہادری اور بے شمار قربانیوں سے جلد ہی دشمن کے اندر بے بسی اور لاچارگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے ثالثی ذریعے اور جنگ روک کر کسی طرح اپنے آپ کو پاتال کے کنارے سے بچا لیا۔
دوسری جنگ جنوری کی بغاوت تھی، جس میں امریکہ اور صیہونی حکومت نے یہ سوچتے ہوئے کہ ایرانی عوام مسلط کردہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے دشمن کی خواہشات کو عملی جامہ پہنائیں گے، اپنے زرخرید ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے بے شمار سانحات رقم کیے اور پچھلی جنگ کی نسبت ہمارے عزیز ہم وطنوں کی زیادہ تعداد کو شہید کرنے کے علاوہ ملک کو بہت زیادہ نقصان بھی پہنچایا۔
تیسری جنگ، جس سے ہم اس وقت دوچار ہیں، اس جنگ کے پہلے دن ہم نے قوم کے مہربان باپ، اپنے عظیم القدر رہبر اعلی اللہ مقامہ کو، جو شہیدوں کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے، اپنے سفر آسمانی کے دوران اس مقام کی جانب جانے کے لیے بے تاب تھے کہ جو رحمت الہی کے سائے اور قرب انوار طیبہ اور عداد صدیقین اور شہدا میں ان کے لیے مختص تھا، اشکبار آنکھوں اور غمزدہ اور ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ رخصت کیا۔
نیز اس دن کے بعد سے ہم نے بتدریج، اس جنگ کے دیگر شہداء بشمول میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے نونہالوں ، دنا بحری جہاز کے بہادر اور مظلوم ستاروں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، فوج، پولیس بسیج، انٹیلی جینس اور سرحدی فورس کے بہادر جوانوں اور بچوں اور بوڑھوں سمیت قوم کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو، جو ہماری نگاہوں کے سامنے قافلہ نور شامل ہوئے، الوداع کہا۔
یہ جنگ، اپنے حق میں نمایاں عوامی تحریک سے دشمن کی ناامیدی اور اس وہم کے ساتھ شروع ہوئی کہ اگر سربراہ نظام اور بعض اہم فوجی کمانڈروں کو شہید کر دیا جائے تو وہ آپ عزیز ھم وطنوں میں خوف اور مایوسی پیدا کر دے گا، جس کی وجہ سے آپ میدان چھوڑ دیں گے، اور اس طرح ایران پر تسلط اور پھر اسے تقسیم کرنے کا خواب پورا ہو جائے گا۔لیکن آپ نے اس بابرکت مہینے میں روزے کو جہاد کے ساتھ ملاکر ایک ملک گیر وسیع دفاعی زنجیر فراہم کی اور ملک بھر کے چوراہوں، محلوں اور مساجد تک مضبوط محاذ قائم کیا اور اس طرح دشمن پر چکرا دینے والی ایسی ضرب لگائي کہ وہ تضاد بیانی اور ہرزہ سرائي پر اتر آیا جو اس کے ہوش اڑجانے اور زوال عقل کی علامت ہے۔
آپ نے اس سے پہلے 12 جنوری کو ہونے والی بغاوت کو کچل دیا اور 11 فروری کو آپ نے ایک بار پھرعالمی استکبار کے خلاف نہ ختم ہونے والی مخالفت کا اظہار کیا، پھر 12 مارچ کو یوم قدس کے موقع پر آپ نے دشمن پر وار کر کے واضح کر دیا کہ تمہارا مقابلہ صرف میزائلوں، ڈرونز، تارپیڈو اور فوجی معاملات سے نہیں، ایران کی فرنٹ لائن دشمن کے حقیر اور کوتاہ دماغ سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔
میں اس عظیم کارنامے کی تخلیق پر قوم کے ایک ایک فرد کا اور اسی طرح بہادر، سچے اور عوامی صدر نیز ان تمام عہدیداروں کا جو کسی پروٹوکول کے بغیر عوام کے ساتھ یوم قدس کے جلوس میں شامل ہوئے، شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ یہ اقدام اور اسطرح کی دیگر کاوشیں اپنی جگہ پر لائق تحسین ہیں کیونکہ ان سے عوام اور حکومت کے درمیان اتحاد کو مزید تقویت ملے گی۔
اس وقت ہم وطنوں کے درمیان تمام ترمذہبی، فکری، ثقافتی اور سیاسی تفاوت کے باجود جو حیرت انگیز اتحاد پیدا ہوا ہے، اس نے دشمن کو شکست و ریخت سے دوچار کردیا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص نعمت سمجھنا چاہیے اور زبان سے، دل سے اور عمل سے اس کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ ناقابلِ تنسیخ اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی کسی نعمت کا شکر ادا کیا جاتا ہے تو اس کی جڑیں، ادائے شکر کے تناسب سے مضبوط یا بلند ہوجاتی ہیں اور شکر گزار پر زیادہ احسانات ہوتے ہیں۔عملی طور پر شکرگزاری کے لحاظ سے فی الحال جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس عظیم نعمت کو محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت سمجھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائيں۔ اس طرح یہ اتحاد یقیناً مضبوط اور مستحکم ہوگا اورآپ کے دشمن ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔
یہ تو تھا سن 1404 ہجری شمسی کے چند اہم واقعات کا جائزہ۔
لیکن اب جب کہ ہم سن 1405 ہجری شمسی کی دہلیز پر ہیں، ہمیں کئی چیزوں کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ ہم اپنے پیارے مہمان، رمضان المبارک 1447 کے بابرکت مہینے کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ رہے ہیں۔ وہ مہینہ جس میں لیلۃ القدر میں آپ کے دل عالم بالا کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے خدائے رحمان کو پکارا اور اس نے بھی اپنی نظر رحمت تمہاری جانب موڑ دی۔
آپ نے ہم سب کے آقا (امام زمانہ) عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اور ان کے خدا سے فتح وظفر، خیر و عافیت اور ہر قسم کی نعمتیں طلب کی ہیں، یقینا اس نظام اور اس قوم پر اس کی سابقہ عنایتوں کے پیش نظر، انشااللہ آپ کی طلب قلبی کے مطابق یا اس بھی زیادہ نتیجہ آپ کے شامل حال ہوگا۔
ماہ رمضان کو الوداع کہتے ہوئے کہ اگرچہ انسانوں کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی، اس ماہ کا فراق اتناہی تلخ اور غمگین ہوگا، ہم شوال المکرم کے بابرکت چاند کا گرمجوشی سے خیر مقدم کرتے ہیں اور خوف اور امید کے ساتھ حضرت حق تبارک و تعالی کی جانب سے عیدی کے منتظر ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ عزیز ہم وطنوں کی ذمہ دارانہ اور شبانہ روز حاضری اور یوم قدس کے جلوسوں میں عظیم الشان شرکت کے نتیجے میں حق تعالی ہمارے ساتھ اپنے کرم و حلم اور عفو و لطف عمیم کے سوا، کہ جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں، کوئی سلوک نہیں کرے گا اور خاص کر ہمارے آقا حضرت ولی اللہ الاعظم کے امر ظہور عام کا راستہ ہموار ہونے کی جلد بشارت دے کر آنجناب کے قلب مبارک کو سرور عطا فرمائے گا کہ جس کے بعد اس کی منت و کرم سے اہل دنیا پر متنوع برکتیں نازل ہوں گی۔
ایک اور چیز جو ہمارے سامنے ہے وہ نوروز کا اہم او قدیمی تہوار ہے۔ایک ایسا تہوار جو اپنے ساتھ فطرت کی طرف سے تجدید، تازگی اور زندگی کا تحفہ لاتا ہے، اور خوشی اور جشن منانے کے لیے انتہائي موزوں ہے۔
دوسری طرف قوم کے لیے یہ پہلا سال ہے کہ جب ہمارے شہید قائد اور دیگر اعلیٰ ترین شہداء ہمارے درمیان موجود نہیں۔ خاص طور پر شہداء کے اہل خانہ اور پسماندگان کے دل اپنے پیاروں کے غم میں سوگوار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اپنی طرف سے، اور ایک عام شہری کی حیثیت سے کہ جس حصے میں بھی چند شہادتیں آئیں ہیں، میں سجھتا ہوں کہ اگرچہ ہم عزادار ہیں اور ہمارے دل اپنے تمام شہیدوں کے غم سے لبریز ہیں، مجھے خوشی ہوگی کہ ان ایام میں، نوبیاہتی دلہنیں اور دولہے اپنی مشترکہ زندگي کا آغاز کریں انشااللہ ہمارے شہید رہبر اور اس جنگ کے دیگر شہدا کی دعائيں ان کے ساتھ ہیں۔
میں پوری قوم کو سفارش کرتا ہوں کہ وہ شہیدوں کے اہل خانہ کے احترام کو ملحوظ خاطر اور ان کے حالات کا خیال رکھتے ہوئے ان ایام میں ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور کیا ہی اچھا ہو کہ ہر محلے کے لوگ ضروری ہم آہنگی کے ذریعے اپنے محلے کے شہیدوں کے احترام کے ساتھ سال نو کی ملنے ملانے کا آغاز کریں۔ بلاشبہ حکومت نے ہمارے محبوب رہبر کی شہادت کے غم کی جو مدت مقرر کی ہے وہ اپنی جگہ باقی ہے اور اس کا احترام اس نظام اور ملک کی عظمت کا ایک ستون شمار ہوتا ہے۔
ان عرائض کے بعد چند اور باتیں گوش گزار کرنا چاہوں گا۔
سب سے پہلے، مجھے ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جو، شاہراہوں، محلوں اور مساجد میں اپنی موجودگی کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی کردار کو بھی بھرپور طریقے سے نبھانے میں مصروف ہیں۔جن میں پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے بعض پیداواری یونٹ اور انڈسٹریاں بھی شامل ہیں۔اور خاص طور پر وہ لوگ جو عوام کو مفت میں مفید خدمات فراہم کر رہے ہیں اگر چہ یہ ان کا پیشہ بھی نہیں ہے، اور الحمدللہ ایسے لوگوں کی تعداد ہمارے ملک میں کم نہیں۔
دوم، دشمن کا ایک راستہ اس کی میڈیا کارروائیاں ہیں، جو ان دنوں خاص طور پر افراد کے ذہنوں اور نفسیات کو نشانہ بنا کر قومی یکجہتی اور نتیجتاً قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں ہماری اپنی غفلت سے دشمن کے مذموم ارادے پورے نہ ہوں۔ لہٰذا، ملکی میڈیا کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ممکنہ فکری، سیاسی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود کمزویوں کو اجاگر کرنے سےگریز کریں بصورت دیگر دشمن کے مقاصد پورے ہونے کا اندیشہ ہے۔
سوم، دشمن کی امیدوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ان معاشی اور انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے جو طویل عرصے سے چلی آرہی ہیں۔ ہمارے شہید رہبر، اعلیٰ اللہ مقامہ نے مختلف برسوں میں سال کا بنیادی فوکس اور نعرہ معیشت پر مرکوز رکھا تھا۔ اس عاجز کی رائے میں لوگوں کی روزی روٹی کو محفوظ بنانا، زندگی اور فلاحی انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا اور عام لوگوں کے لیے دولت پیدا کرنا دشمن کی طرف سے شروع کی گئی معاشی جنگ کے خلاف مرکزی نقطہ ہی نہیں بلکہ اسے ایک طرح کا دفاع اور پیشقدمی کا راستہ سمجھنا چاہیے۔
میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے مختلف سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے عزیز ہم وطنوں کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر، میں آپ کے ساتھ ایک نامعلوم شخص کی طرح تہران کی سڑکوں پر ایک ٹیکسی میں سفر کرتا رہا ہوں جو میری ہی درخواست پر مہیا گئی تھی اور میں آپ کی باتیں سنتا رہا ہوں، اور میں اس طرح کے رابطے کو رائے عامہ کے جائزوں سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ بہت سے معاملات میں آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں، جن کا اظہار عام طور پر معاشی اور انتظامی معاملات پر تنقیدوں کی شکل میں کیا جاتا رہا ہے۔ اس دوران، میں نے آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور آئندہ بھی سیکھنے کی کوشش کروں گا۔ مثال کے طور پر ان دنوں میں 19 رمضان سے پہلے اور بعد کے ایام میں، جو لوگ سڑکوں اور اہم اسکوائر پر موجود تھے، میں نے ان لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں آئندہ بھی اس نعمت سے محروم نہیں رہوں گا۔ سیکھنے، سننے اور دیگر مطالعات کے نتیجے میں، ایک قابل عمل اور کارساز منصوبہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ممکنہ حد تک جامع ہو۔بحمداللہ یہ مقصد کافی حد تک پورا ہوگيا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی ملک کے اعلیٰ ہمت حکام اور عوام کے تعاون سے اس پر عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا۔
اپنے پیغام کے اس حصے کے آخر میں عظیم شہید رہبر کی تاسی کرتے ہوئے میں اس سال کے نعرے کا اعلان کرتا ہوں ’’قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘‘۔
چوتھی اور آخری بات، میں نے اپنے پہلے بیان میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت کے نقطہ نظر اور پالیسی کے بارے میں جو باتیں کہی تھیں وہ ایک سنجیدہ اور حقیقی معاملہ ہے۔ ہمسائیگی کے رشتے سے ہٹ کر بھی، دوسرے روحانی عناصر ہمارے پیش نظر ہیں، اور تمام اشترکات میں دین اسلام پر تدین سرفہرست ہے، اور ان میں سے بعض ممالک میں مشاہد مشرفہ اور مقامات مقدسہ واقع ہیں جبکہ بعض دیگر ممالک میں ایرانیوں کی بڑی تعداد مقیم یا کام کاج کرتی ہے، جبکہ بعض ممالک کے ساتھ ہمارے نسلی اور لسانی رشتے ہیں یا مشترکہ اسٹریٹجک مفادات ہیں، خاص طور سے سامراجی محاذ کے خلاف جدوجہد حوالے سے، کہ ان میں سے ہر ایک عنصر اپنی جگہ، اچھے تعلقات کی تقویت کا باعث بن سکتاہے۔
ہم اپنے مشرقی پڑوسیوں کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ میں طویل عرصے سے پاکستان کو ایسے ملک کے طور پر جانتا ہوں جو ہمارے شہید رہبر کا خاص پسندیدہ ملک تھا، جس کی مثال اس تباہ کن سیلاب کے بعد نماز عید کے خطبوں میں آپ کی غمگین آواز میں دکھائی دی تھی، وہ سیلاب جس نے ہمارے دینی بھائيوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ مختلف دلائل کی بنا پر میری سوچ بھی ہمیشہ یہی رہی ہے اور مختلف ملاقاتوں میں نے اس کے اظہار سے گریز نہیں کیا۔ یہاں میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہمارے دو برادر ممالک افغانستان اور پاکستان رضائے الہی کی خاطر اور مسلم امہ کو تقسیم سے بچانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائيں اور یہ حقیر اس مقصد کے لیے اپنے حصے کے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔
یہاں میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ترکی اور عمان میں کہ جن کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات قائم اور ان کے ممالک کے بعض حصوں میں جو حملے کیے گئے وہ اسلامی جمہوریہ ایرن کی مسلح افواج یا مزاحمی محاذ کی دیگر قوتوں نے ہرگز نہیں کیے۔ یہ صیہونی دشمن کی ایک چال ہے کہ فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے اسلامی جمہوریہ اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا کیا جائے اور ہوسکتا ہے کہ بعض دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کی صورتحال دکھائی دے۔ اس سے متعلق باقی باتیں میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں۔
میں امید کرتاہوں کہ ہمارے آقا عجل اللہ تعالی فرجہ کی دعاؤں اور حضرت باری تعالی کی نظر کرم سے آنے والا سال ہماری قوم، ہمارے تمام پڑوسیوں اور مسلم اقوام کے لیے اور خاص طور پر مزاحمتی محاذ کے لوگوں کے لیے فتوحات اور ہر قسم کے مادی اور روحانی مواقع سے بھرپور سال ثابت ہوگا جبکہ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔
وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّهً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِینَ وَ نُمَکِّنَ لَهُمْ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامَانَ وَ جُنُودَهُمَا مِنْهُم ما کانُواْ یَحْذَرُون. صدق الله العلی العظیم و صدق رسوله الکریم و نَحنُ عَلی ذلکَ مِنَ الشّاهدین.
و السلام علیکم و رحمه الله و برکاته




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
