سلیمانی

سلیمانی

 ایران کی وزارت ثقافت و سیاحت نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ امریکی اور صہیونی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں تاریخی اور ثقافتی ورثے کو ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ فیلڈ جائزوں اور ماہرین کی رپورٹس کے بعد متاثرہ تاریخی مقامات کی تعداد بڑھ کر 108 ہو گئی ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق تہران میں سب سے زیادہ 60 تاریخی مقامات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اصفہان میں 19 اور کردستان میں 12 آثار کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ لرستان اور کرمانشاہ میں 4، 4 جبکہ بوشہر اور قم میں 2، 2 مقامات متاثر ہوئے۔ مزید برآں ایلام، مشرقی آذربائیجان، مغربی آذربائیجان، مازندران اور سیستان و بلوچستان میں بھی ایک ایک تاریخی مقام کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔

بیان کے مطابق متاثرہ مقامات میں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل آثار، قومی تاریخی یادگاریں اور دیگر اہم تاریخی عمارتیں اور مقامات شامل ہیں جو ایران کی تہذیبی تاریخ کے ساتھ ساتھ عالمی ثقافتی ورثے کا بھی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران، اصفہان، سنندج، کرمانشاہ، قم اور خوانسار کے چھ تاریخی شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت کے مطابق تازہ واقعے میں تہران کے سعدآباد ثقافتی و تاریخی کمپلیکس کے اطراف میں دھماکوں سے بعض عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس کمپلیکس کے عجائب گھروں کی قیمتی اشیا کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم دھماکوں کی شدت سے عمارتوں کے اندرونی حصوں اور تاریخی تزئین و آرائش کو نمایاں نقصان پہنچا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں قاجار اور ابتدائی پہلوی دور کی گچ کاری، آئینہ کاری اور سنگ تراشی جیسے تاریخی فن پارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

وزارتِ ثقافت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1954 کے ہیگ کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کے تحت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی 110 اہم خصوصیات 

تحریر: ایس ایم شاہ

1. جامع الشرائط مجتہد

2. علم اصول فقہ پر کامل گرفت

3. فقہِ اہلِ بیتؑ پر عمیق دسترس

4. فقہِ حکومتی میں صاحب نظر

5. جدید فقہی مسائل پر اجتہادی بصیرت

6. علومِ قرآنی پر وسیع گرفت

7. تفسیرِ قرآن میں گہری مہارت

8. احادیث اہلِ بیتؑ سے دقیق واقفیت

9. تاریخِ اسلام کا گہرا مطالعہ

10. ائمہ معصومین علیہم السلام کے 250 سالہ دور کی جامع فہم اور ان کو عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت

11. دین و سیاست میں وحدانی نگاہ

12. دینی عقلانیت کے داعی

13. اسلامِ نابِ محمدی ﷺ کے مبلّغ

14. مشرق و مغرب کے فکری مکاتب سے آگاہی

15. فکری خود مختاری

16. مسائل کا تجزیاتی و منطقی حل نکالنا

17. علمی نظم و استدلال

18. فصیح و بلیغ بیان

19. فکری استقلال

20. مسلسل مطالعہ و تحقیق

21. تقوائے الٰہی سے سرشار

22. خلوصِ نیت

23. سادہ طرزِ زندگی اور دیگر علما کو بھی سادہ زیستی کی تلقین کرنا

24. زہد کا عملی پیکر

25. اقتدار کے باوجود تواضع

26. دیگر مراجع عظام کا احترام

27. صبر و تحمل

28. استقامت اور عالمی نام نہاد سپر طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملانا

29. جذبہ شہادت سے سرشار ہوکر عوامی اجتماعات میں حاضری

30. اخلاقی جرأت

31. حق گوئی

32. نڈر مزاج

33. معنویت سے گہرا تعلق

34. دعا اور توسل پر یقین

35. قرآن سے خاص انس

36. سیرتِ اہلِ بیتؑ کی عملی پیروی

37. دنیاوی لالچ سے بے نیازی

38. اللہ کو حقیقی سپر پاور سمجھنا

39. ذمہ داری کو امانتِ الٰہی جاننا

40. امام زمانہؑ سے قلبی تعلق

41. غیر معمولی قائدانہ صلاحیت

42. حکیمانہ فیصلہ سازی

43. دور اندیشی

44. مستقبل نگری

45. بحران مینجمنٹ

46. برمحل فیصلے

47. اسٹریٹجک منصوبہ بندی

48. واضح ریڈ لائنز کا تعین

49. ٹائم مینجمنٹ

50. نظم و ضبط

51. قومی ترجیحات کی درست شناخت

52. حالات کی نزاکت کا عمیق ادراک

53. دو ٹوک موقف

54. لچک کے ساتھ اصول پسندی

55. فرنٹ لائن قیادت

56. ادارہ سازی

57. نخبہ پروری یعنی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے میدان فراہم کرنا

58. ملک کے اعلی عہدوں پر باصلاحیت افراد کا درست انتخاب

59. ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم

60. قومی وسائل کا مؤثر استعمال

61. استکبار دشمنی

62. استعمار مخالف سوچ

63. مظلوموں کا بھرپور دفاع

64. فلسطین کی غیر متزلزل حمایت

65. محورِ مقاومت کی مسلسل پشت پناہی

66. قومی خود مختاری کا ہر فورم پر دفاع

67. غیر ملکی تسلط کی نفی

68. اسلامی اقدار کا تحفظ

69. عوام دوستی

70. عوامی شعور پر اعتماد

71. عوام کے درمیان براہِ راست موجودگی

72. نوجوان نسل پر خصوصی توجہ

73. جوانوں کی فکری تربیت

74. معاشرے کے کمزور طبقات کی حمایت

75. اتحاد بین المسلمین کے علمبردار

76. بصیرت افزائی

77. نفوذ اور دشمن کی دقیق شناخت

78. قوم کو بحرانوں سے آگاہ کرنا

79. بحران سے نکلنے کے راستے دکھانا

80. عالمی پلیٹ فارمز پر مؤثر نمائندگی

81. دینی ثقافت کے محافظ

82. اسلامی طرزِ زندگی کے مروّج

83. ثقافتی یلغار کا مقابلہ

84. متعہد فنون کی سرپرستی

85. علم و تحقیق پر خصوصی توجہ

86. نخبگان اور سائنسدانوں کی سرپرستی

87. سائنسی ترقی پر زور

88. خود کفالت کی حوصلہ افزائی

89. اسلامی، ایرانی شناخت کا تحفظ

90. فارسی زبان و ادب سے گہرا تعلق

91. تمدنی نگاہ

92. مستقبلِ اسلام کا واضح تصور

93. جدید اسلامی تمدن کا ہدف

94. سماجی عدل پر تاکید

95. اخلاقی اقدار کی ترویج

96. معنوی پروگراموں کی سرپرستی

97. قوم کو امید دلانا

98. اعتمادِ نفس کی ترویج

99. رشتہ داروں کو اقتدار سے دور رکھنا

100. عوام کے دلوں پر حکومت

101. عالمی استعماری لیڈروں کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارنا اور ان کے جرائم کو دنیا کے سامنے فاش کرنا

102. ہر اہم مشکل پر حرم امام رضا علیہ السلام، حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام اور مسجد جمکران میں ہنگامی حاضری کے ذریعے وقت کے حجت اللہ سے توسل کرنا

103. مرجعیت کی اہمیت اور طاقت سے دنیا کو روشناس کرانا

104. لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے کی خداد صلاحیت

105. ملکی اہم فیصلوں میں اقدار اسلامی کو ملحوظ خاطر رکھنا

106. مستقبل کے حوالے سے قوم کو باخبر رکھنے کے ساتھ پرامید رکھنا

107. تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی ان کے اپنے شعبے کے مطابق حوصلہ افزائی

108. ملک سے وفاداری

109۔ پوری دنیا سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب کرکے جمہوریہ اسلامی ایران میں ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبستی کرکے دنیا میں علم کی ضو فشانی کرنا

110. حالیہ ایران اسرائیل 12 روزہ جنگ میں مکمل اسلامی اور عالمی قوانین کی رعایت کرنا آپ کی چند بارز خصوصیات ہیں۔

آج امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی استکباری و شیطانی قوتیں عالمِ اسلام کے اس عظیم اور باوقار رہبر کے بالمقابل صف آرا ہیں۔ مگر ہمیں کامل یقین ہے کہ ان شاء اللہ یہ مردِ مجاہد اپنی بصیرت افروز قیادت، ایمانی استقامت اور علوی جرأت کے ذریعے یہود و ہنود کو ایک بار پھر خیبر کی تاریخ یاد دلائیں گے اور فاتحِ خیبر، مولائے متقیان حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام کے حقیقی وارث ہونے کا عملی اور ناقابلِ تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ باطل، ظلم اور استکبار کی قوتوں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت، رسوائی اور شکست ہی لکھی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس بار بھی یہی ظالم طاقتیں اس عظیم مردِ حق کے ہاتھوں ایک اور عبرتناک اور ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوں گی اور حق کی فتح ایک بار پھر عالمِ انسانیت پر آشکار ہو جائے گی۔

 

قرآنِ کریم سورۂ فتح کی آیات 22 اور 23 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اگر کافر تم سے جنگ کریں تو یقیناً وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی وہ سنت ہے جو پہلے سے جاری ہے، اور تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

سنتِ الٰہی کا مطلب ایک یقینی اور قطعی قانون ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ جاری اصول ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اگر دشمن تم پر حملہ کرے اور تم میدان سے فرار نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ دشمن کو لازماً پسپا کر دیتا ہے۔ یہ عقیدہ تمام جنگوں میں ایک اصول کے طور پر کارفرما ہوتا ہے۔

البتہ اگر مؤمن خود جنگ کا آغاز کریں تو اس صورت میں اللہ کی سنت کے طور پر قطعی فتح کی ضمانت نہیں دی گئی؛ یعنی نصرت تو ہو سکتی ہے مگر فتح اور کامل غلبہ یقینی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر دشمن حملہ آور ہو تو اس وقت یہ سنتِ الٰہی جاری ہوتی ہے۔ آیت کا اندازِ بیان بھی بہت دقیق ہے؛ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دشمن مکمل شکست کھائے گا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ پسپا ہو جائے گا۔

 جنگِ احزاب کے موقع پر جب مؤمنوں نے دیکھا کہ کفار مختلف گروہوں کی صورت میں حملہ آور ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا اور یقیناً دشمن پر غلبہ ہوگا:

اور جب مؤمنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؛ اور اس سے ان کے ایمان اور تسلیم میں اضافہ ہی ہوا۔ (احزاب: 22)

لہٰذا مؤمن اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں کی تکمیل کو یقینی سمجھتے ہیں، اور جب یہ وعدے پورے ہوتے ہیں تو ان کے ایمان اور یقین میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

- روایات میں آیا ہے کہ قرآن کریم "یجری مجری الشمس" ہے، یعنی قرآن سورج کی طرح ہے جو ہر روز ایک نئے انداز سے طلوع ہوتا ہے۔ آج کے حالات کے تجزیے میں قرآن کی آیات میں سب سے قریب مثال جنگِ احزاب اور اس سے پہلے جنگِ بدر کے واقعات میں ملتی ہے۔

جب مسلمانوں کا لشکر روانہ ہوا تو ان کے سامنے دو قافلے تھے: ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا قریش کا مسلح لشکر۔ قرآن فرماتا ہے:

وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ (الأنفال: 7)

مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تھی اور ان کے پاس زیادہ جنگی ساز و سامان بھی نہیں تھا۔ فطری طور پر مسلمان چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگ جائے، لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ وہ دشمن کے لشکر کے سامنے آئیں، تاکہ حق کو اپنی ہدایات کے ذریعے مضبوط کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے:

وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (الأنفال: 7)

لفظ "يُرِيدُ اللَّهُ" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر تھی، تاکہ فیصلہ کن مرحلہ آئے اور دشمن کی جڑ کاٹ دی جائے" وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ"۔

آج کے ایران کے حالات میں بھی دو راستے موجود تھے مذاکرات یا جنگ۔ عقل اور جنگ کے منفی نتائج کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ ایران اور پورے خطے کے لیے زیادہ پسندیدہ تھا، لیکن اللہ کی تقدیر یہ بنی کہ دشمن نے عقل کے خلاف مذاکرات کی میز کو الٹ دیا اور انقلاب اسلامی کے رہبر، ایرانی کمانڈروں، بچوں اور خواتین کو شہید کرنے کا اقدام کیا۔

حالانکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ عزت اور سربلندی اہلِ ایمان کے ساتھ ہوتی ہے اور بالآخر دشمنوں اور بچوں کے قاتل صہیونی نظام کی عسکری قوت اور اس کے تمام سہارے ختم و نابود ہو جاتے ہیں۔

ایران کا دشمن کے خلاف آئندہ جنگ میں ڈرون کا استعمال ایک ایسے سیاسی حیاتِ نو (Life-world) کو ظاہر کرتا ہے جس میں برتری ایران کی ہے۔ "وعدہ صادق 4" میں فوجی حملوں کے دوران ایران کا ڈرونز (اور میزائلوں) کے وسیع پیمانے پر استعمال نے ایران کے لیے بڑی فتح حاصل کی ہے اور دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس مختصر مضمون میں میں اس نکتے کو بیان اور تجزیہ کروں گا کہ اس واقعہ کو محض ایک فوجی فتح نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ایک نیا عالمی نظام تشکیل دیتا ہے جو خطے اور دنیا میں نئی سیاسی اور سماجی مساواتیں لائے گا۔ اس جنگ میں ڈرون محض ایک فوجی ہتھیار نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی حیاتِ نو (Life-world) کو ظاہر کرتا ہے جس میں برتری ایران کی ہے۔
 
جدید دنیا میں ڈرونز کو مختلف مقاصد جیسے امدادی کاموں، تصویر کشی وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان استعمالات کے ساتھ ساتھ، تاریخ میں انہیں فوجی مقاصد کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے۔ روایتی جغرافیائی سیاست (Geopolitics) میں، سرحد کا مطلب زمین پر کنٹرول ہے۔ لیکن ڈرونز نے سرحد کو قابلِ عبور اور پوشیدہ بنا دیا ہے۔ ریاستیں بغیر کسی انسانی فوجی کو دوسرے ملک کی سرزمین میں داخل کیے، آسمان میں یا دور سے جاسوسی، نگرانی یا حملہ کر سکتی ہیں۔ جنگ کی تاریخ کا یہ واقعہ "علاقائی سالمیت" کے کلاسیکی تصور کو کمزور کرتا ہے۔ اسی وجہ سے، آج کی جغرافیائی سیاست زمین کے محور سے آسمان، خلا اور ڈیٹا پر کنٹرول کے محور کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ ڈرونز نے ممالک کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ کم لاگت پر فوجی مسابقت کی اعلی سطح میں داخل ہو سکیں۔ مثلاً، ایران اور چین نے ڈرون انڈسٹری کی ترقی کے ساتھ بحرانی علاقوں (قفقاز، مشرق وسطیٰ، بحیرہ احمر) میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح، طاقت چند سپر پاورز (جیسے امریکہ اور روس) کے انحصار سے نکل کر عالمی جغرافیائی سیاست کی کثیر قطبی ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ڈرونز "طاقت کا نیا جغرافیہ" تشکیل دے رہے ہیں — جہاں فضائی اور ڈیجیٹل سرحد، زمینی سرحد سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
 
لیکن ایرانی دفاع میں ڈرونز کی چند اہم خصوصیات اور اثرات ہیں:
 
1.ثقافتی تعمیر: ایران کے دفاع میں ڈرونز کو مکمل طور پر ثقافتی تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے اور وہ ایک طرح کی ثقافتی تعمیر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں امریکہ کی سپر پاور اور بدعنوان نظام، مقبوضہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر، جدید ترین ہتھیاروں اور اسٹیلتھ بمبار طیاروں کی بے شمار اقسام رکھتے ہیں، ایران اپنے ڈرون کی برتری دکھا کر اس سخت فوجی محاذ آرائی میں اپنی تمام ثقافتی اقدار کو انہی ڈرونز کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج کوئی بھی ایرانی ڈرونز کی برتری کو محض فوجی برتری نہیں سمجھتا بلکہ اسے اسلامی انصاف اور ظلم کے خلاف نظام کی برتری اور عالمی آزاد لوگوں کی علامت کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب ہم خطے کے معلوماتی نیٹ ورکس کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ ان ہتھیاروں میں ایک گہرا ثقافتی پیغام اور انسانی اقدار کا پیکج دیکھتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔
 
2. ثقافتی حیات نو: اس جنگ میں بغیر پائلٹ کے طیارے (ڈرون) ایک نیا "ثقافتی-سیاسی حیاتِ نو" (Life-world) پیش کرتے ہیں۔ اس حیاتِ نو میں، مظلوم کی ثقافت، ظالم کی ثقافت کے مقابلے میں، براہ راست انسانی عامل کی موجودگی کے بغیر ابھرتی ہے اور اسے پوری طرح چیلنج کرتی ہے اور اس کی نااہلی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایرانی ڈرونز محض جنگی ہتھیار نہیں ہیں، بلکہ وہ اسلامی ایرانی ثقافت کی نوآبادیاتی اور قابض ثقافت پر برتری کی علامت ہیں۔
 
3. نفسیاتی اثرات: خاص ثقافتی پہلو کے علاوہ، ڈرونز ایک خاص نفسیاتی اثر بھی رکھتے ہیں۔ اس قسم کا ہتھیار نہ صرف استعماری نظام اور اس کے حامیوں کے لیے خوف لاتا ہے، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے لیے دنیا پرستوں اور تاریخ کے بدنام زمانہ مجرموں کے مقابلے میں سکون اور اطمینان کا ایک ہالہ (ہالۂ نور) بھی پیش کرتا ہے۔
 
4. تاریخ میں الٰہی وعدے کی تکمیل کی علامت: اللہ کا صریح وعدہ ہے کہ نصرت ان لوگوں کے لیے ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ ایرانی قوم، خواہ ظالم پہلوی دور میں ہو یا انقلاب کے بعد کے دور میں، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بہت زیادہ ظلم سہہ چکی ہے۔
 
ڈرونز کے ذریعے ایران کی برتری اور نئے عالمی نظام کی تشکیل:
1. مغرب کی اجارہ داری کا خاتمہ: بیسویں صدی میں، ہتھیاروں کی اجارہ داری چند مغربی ممالک کے پاس تھی، لیکن ایران نے ڈرون سسٹمز کی داخلی ترقی سے دکھا دیا کہ مغربی ٹیکنالوجی تک رسائی کے بغیر بھی جدید اور درست ہتھیار تیار اور استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ نتیجتاً، یک قطبی عالمی نظام کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
 
2. ٹیکنالوجی کے مرکز ثقل کی مغرب سے ایران منتقلی: ایرانی ڈرونز نہ صرف قومی دفاع میں، بلکہ بین الاقوامی اتحادوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران مغربی ایشیا، افریقہ اور یہاں تک کہ لاطینی امریکہ کے ممالک اور افواج کو ڈرون اور اس کی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
 
3. محدود (ذیلی حد) روک تھام کی نئی تعریف: روایتی دنیا میں، روک تھام کی تعریف میزائلوں اور ایٹم بم سے کی جاتی تھی۔ لیکن ایران نے اپنے ماورائے علاقہ ڈرون نیٹ ورک (جس میں سینسرز، جاسوسی، آپریشنز اور درست حملے شامل ہیں) کے ذریعے روک تھام کی ایک نئی شکل تشکیل دی ہے: ذیلی حد کی روک تھام۔ دوسرے لفظوں میں، ایران بغیر کسی مکمل جنگ میں داخل ہوئے، دشمن کے ہر اقدام کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔ یہ نمونہ تیزی سے عالمی نظام میں مثال بن رہا ہے۔
 
4. ٹیکنالوجی بطور سیاسی شناخت: ایران نے ڈرون کو نہ صرف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، بلکہ خود انحصاری، مقامی علم اور تزویراتی بصیرت کے اظہار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ اس نے دکھایا ہے کہ ٹیکنالوجی خود انحصاری، مقامی علم اور تزویراتی دانش کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ اس تحریک کا ایک ثقافتی اور تمدنی پہلو بھی ہے — کیونکہ اس سے جو نیا عالمی نظام ابھرتا ہے، وہ طاقت کے متعدد مراکز اور مغربی ٹیکنالوجی کے استعماری ڈھانچے سے آزادی پر قائم ہے۔
 
5. مزاحمتی جغرافیائی سیاست کی تشکیل: اگر پہلے کا عالمی نظام نیٹو، ڈالر، اور ٹیکنالوجی کی اجارہ داری پر قائم تھا، تو اب ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے جو ٹیکنالوجیکل اتحادوں، علاقائیت، اور وکندریقرت مزاحمت پر قائم ہے۔ ایرانی ڈرونز اس منتقلی کی کنجی ہیں، کیونکہ انہوں نے ان ممالک اور گروہوں کو، جو پہلے فضائی صلاحیت سے محروم تھے، فعال جغرافیائی سیاسی کھلاڑی بنا دیا ہے۔
 
6. نئے عالمی نظام کے لیے نتیجہ: ماضی میں، بین الاقوامی طاقت کی تعریف بڑی فوجوں، اسٹریٹجک بمبار طیاروں، اور مہنگے ہتھیاروں سے کی جاتی تھی۔ یہ نمونہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے تھا جن کے پاس وسیع صنعتی اور مالی صلاحیت تھی؛ طاقت دنیا میں انتہائی مرتکز تھی اور ٹیکنالوجی کا کنٹرول چند سپر پاورز کے پاس رہتا تھا۔ لیکن ایرانی ڈرونز کے ظہور کے ساتھ — سستے، ذہین، اور مقامی — عالمی طاقت کی مساوات اندر سے ٹوٹ گئی۔
 
ایران نے دکھایا ہے کہ محدود وسائل لیکن تکنیکی اور تزویراتی ذہنیت کے ساتھ، روک تھام کی اس سطح تک پہنچا جا سکتا ہے جو پہلے صرف بڑی طاقتوں کے لیے ممکن تھی۔ یہی حقیقت پرانے نظام کو چیلنج کرتی ہے اور نئے نظام کی طرف منتقلی کو جاری رکھتی ہے؛ ایک ایسا نظام جس میں فائدہ صرف بھاری ہتھیاروں سے نہیں آتا، بلکہ چستی، ذہانت، اور تکنیکی نیٹ ورکنگ سے حاصل ہوتا ہے۔ اس نئے نظام میں، آسمان کا کنٹرول اب مغرب کی اجارہ داری نہیں رہا اور نئے کھلاڑی مسابقت اور تعاون کے نئے اصول تشکیل دے رہے ہیں۔
 
زیادہ دقیق الفاظ میں، ایرانی ڈرون کی فتح عالمی پیراڈائم میں تبدیلی کا آغاز ہے: طاقت نے تمرکز سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے اور کثیر مرکزی شکل میں تقسیم ہو رہی ہے۔ مستقبل کی دنیا وہ ہے جس میں قومی اقتدار علم، جدت، اور ذہین ٹیکنالوجیز کی ساخت بندی کی صلاحیت سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایران کی ڈرون کے میدان میں کامیابی نہ صرف ایک ہتھیاروں کا کارنامہ ہے، بلکہ طاقت کے ہندسے (Geometry of Power) میں تاریخی تبدیلی اور عالمی نظام میں برتری کے معنیٰ کی نئی تعریف کی علامت ہے۔
تجزیہ: حجت الاسلام والمسلمین علی رضا قائمی نیا


ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہید آیت اللہ سید عیلی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی اکثر نظر آتے تھے۔ شہید ڈاکٹر علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود شہادت سے چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکاء کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔ علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ اور اس حملہ میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔ شہید کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ 1958ء میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران ڈاکٹر علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005ء سے 2007ء کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ 2025ء میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ شہید کے بارے میں بتایا گیا ہے رہبر معظم کی شہادت کے بعد سے ڈاکٹر علی لاریجانی ان مخصوص رہنماوں میں شامل تھے جو اس جنگ کی قیادت کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، ایسے صورتحال میں دشمن شہید علی لاریجانی کے بھرپور تعقب میں تھا۔ علی لاریجانی کا شمار شہید رہبر معظم کے انتہائی قریبی اور باعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

رپورٹ: سید عدیل عباس

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور لڑکیاں جنگ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان کی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں ایک خستہ حال خیمے کے اندر 22 سالہ ہند اپنے نومولود بچے کو شدید سردی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا بچہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ پیدا ہوا اور اب بھی غزہ کے چند فعال اسپتالوں میں سے ایک کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج ہے۔

ہند کا کہنا ہے کہ زچگی کے وقت اس کا وزن صرف تقریباً ۴۳ کلوگرام تھا کیونکہ حمل کے دوران اسے شدید غذائی قلت کا سامنا رہا۔ وہ اپنے دوسرے بچے کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا اور ایک سرد اور نم خیمے میں رہنے کے باعث بیمار رہتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہند کی کہانی غزہ میں ہزاروں خواتین کی حالت کی صرف ایک مثال ہے۔ جنگ اور انسانی بحران کے کئی پہلوؤں نے فلسطینی خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔

 ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے پندرہویں دن ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اس کے میزائلوں کی ہدف پر لگنے کی صلاحیت میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے آپریشن “وعدہ صادق 4” کے تسلسل میں اسرائیل کے نواتیم فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر سردار سید مجید موسوی نے میدانِ جنگ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایرانی میزائلوں کی ہدف تک پہنچنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ایرانی میزائل اب پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکہ کو آخری انتباہ

دراین اثناء خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی تیل، توانائی یا اقتصادی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود ان تمام تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں امریکی کمپنیوں کا حصہ ہے اور تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، ایرانی بحریہ

ایرانی بحریہ کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشتیوں کی آمد و رفت پر مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ امریکی جنگی جہازوں کی ساحلی علاقوں سے دوری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایران کے ممکنہ ردعمل سے محتاط ہیں۔


دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو کر ہم آواز ہو جائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی خواہ دنیا بھر میں متحد ہیں۔ امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لئے ایک مرکز ی دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔

امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ یوم اللہ اور یوم رسول اللہ ہے۔ انہوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انہوں نے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیااور کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کاروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔ 7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جو کہ 23 رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا جائے گا۔ ایسے حالات میں آئے گا کہ جب دنیا کی شیطانی قوتیں امریکہ و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔ ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں۔ اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہو جائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔ یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال بھی بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کر لیا ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔ عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لئے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیر کو بیدار رکھنا بھی ہے۔

جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرار کی ہے کہ حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجو دہیں۔ ان کا راستہ ہمارے لئے واضح ہے۔ اگرا ٓج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤں نےاپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔ یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کا دن بن چکا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لئے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان