سلیمانی

سلیمانی

اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے والا وفد، مذاکرات کے بعد تہران واپس آرہا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، پاکستان کے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، پاکستانی فوج کے سربراہ سید عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی ایرانی وفد کے روانہ ہوتے وقت ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

اس وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سمیت اعلی سطح کے عہدے داروں اور ماہرین اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی

حوزه نیوز ایجنسی|جنگ کے حامی پیچھے ہٹنے پر تیار نظر نہیں آتے۔ آج کوئی ایسا شخص نہیں جو اس حقیقت سے آگاہ نہ ہو کہ مغربی ایشیا کا خطہ انتہائی حساس صورتحال سے گزر رہا ہے اور کسی بھی وقت ایک ہلکی سی چنگاری جنگ کی آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف "بے نتیجہ انقلابوں" نے خطے کو ایک نئی مشکل کا شکار کر دیا ہے۔ آمرانہ حکومتی نظاموں کے خلاف انجام پانے والی کوششوں کا بے فائدہ ثابت ہو جانے سے عوام کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور حتی بعض یورپی ممالک اپنی آمدن اور سرمائے کی فراہمی یا جنگ کی آگ بدستور جلے رہنے یا منظم انداز میں دہشت گردی کو دوبارہ تشکیل دینے یا خطے میں اپنی مسلسل ناکامیوں کو قبول نہ کرنے کی خاطر ہمیشہ کی طرح خطے میں اپنے ڈکٹیٹر اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ اس بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکہ خطے خاص طور پر سعودی عرب میں مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
 
دوسری خبر یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس سعودی عرب کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے کا مقصد ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کی حفاظت بیان کیا ہے! جبکہ اقتصاد کے شعبے میں نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصاد اسٹنگ لیٹز جیسے معروف عالمی ماہرین اقتصاد نے خبردار کیا ہے کہ مغرب ایک بار پھر اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ واضح ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ ابھی گذشتہ اقتصادی بحران سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر پایا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع ہونے والی تجارتی جنگ اقتصادی بحران کی واپسی کا باعث بن سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تجارتی جنگ کسی کے فائدے میں نہیں ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ اور یورپی ممالک نے اپنی نجات کا راستہ پسماندہ ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے میں تلاش کیا ہے۔ حال ہی میں مغربی ایشیا میں امریکہ کے ایک اعلی سطحی فوجی کمانڈر نے اس آگ کو مزید ہوا دیتے ہوئے کہا ہے: "پینٹاگون نے مئی کے مہینے سے اب تک 14 ہزار مزید فوجی، ایک طیارہ بردار جنگی بیڑہ اور لاکھوں ٹن اسلحہ مشرق وسطی خطے میں پہنچایا ہے تاکہ ایران سے درپیش خطرات کا سدباب ہو سکے۔"
 
یہ امریکی فوجی کمانڈر کہتا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود خطے میں ایران سے درپیش خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بیان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں دشمن کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ خطے میں بدامنی پر مبنی اقدامات جاری رکھیں اور یونہی مغربی طاقتوں سے اسلحہ خریدتے رہیں۔ اس بارے میں جس واقعے پر بہت زیادہ تاکید کی جاتی ہے اور اسے بنیاد بنا کر ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے وہ سعودی عرب کی آرامکو تیل تنصیبات پر ہوائی حملے ہیں۔ اگرچہ یمن کے مجاہدین اس کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں اور ایران بھی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ وہ جو اقدام بھی انجام دیتا ہے اعلانیہ طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ حال ہی میں رویٹرز نیوز ایجنسی نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب اب تک آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی اپنے دعوے کے قابل قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
 
فرانس کے وزیر دفاع فلورینس پارلے نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سعودی عرب کو میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا: "آئندہ کچھ دنوں میں یہ پیکج سعودی عرب بھیج دیا جائے گا اور اسے بہت جلد آپریشنل کر دیا جائے گا۔" لیکن یہ مسئلہ صرف ایران اور خطے میں مغربی طاقتوں کے روایتی اتحادی ممالک کو مضبوط بنانے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ خطے میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی ملحوظ خاطر ہے۔ اسی طرح ترکی کی جانب سے مغرب اور نیٹو کو چھوڑ کر جدید اسلحہ خریدنے کیلئے روس کا رخ کرنا بھی اہم ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں خطے میں اپنے اتحادی ممالک کا خود سے دور ہو کر روس کی جانب جھکاو سے بھی خوفزدہ ہیں۔ اگرچہ اس وقت تک مغربی ممالک کا سب سے بڑا مقصد اسلحہ کی فروخت کے ذریعے آمدن کا حصول ہے۔ امریکہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر حتی داعش کی تشکیل نو کی بھی کوشش میں مصروف ہے۔ لہذا امریکہ خطے کو بدستور بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ جنگ کے ذریعے عالمی سیاست میں داخل ہوا، جنگ کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنی موجودگی کو جاری رکھا اور جنگ کے ذریعے زندہ ہے۔ جنگ اور بدامنی کا خاتمہ امریکی سیاست کا اختتام ثابت ہو گا۔

تہران (IRNA) ایک سینیئر ایرانی سیکورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزرنے میں ناکام ہوگيا ہے امریکہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اس قسم کے من گھڑت دعوے کر رہا ہے۔

ایرانی سیکورٹی ذرائع نے کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نے گزرنے کے امریکی دعوے کے تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میدان جنگ میں اپنی شکست کو چھپانے کے لیے جو دعوے کر رہا ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

مذکورہ ذریعہ نے مزید کہا کہ ایک بحری جہاز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی بھرپور کوشش ضرور کی تھی لیکن ایران کی مسلح فواج کی سخت وارننگ کے بعد واپس لوٹنے پر مجبور ہوگیا۔

 سی این این نیوز چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے دباؤ کے تمام ذرائع نکل چکے ہیں اور ان کے تمام نظریات ناکام اور اب بس وہ موجودہ حالات سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ میں آیا ہے کہ درپیش نومبر کے مہینے میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کا منظرنامہ بھی ابتر معاشی صورتحال کی وجہ سے برا نظر آرہا ہے جس سے ری پبلیکن پارٹی کو سنجیدہ خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مذکورہ نیوز چینل کی رپورٹ میں آیا ہے کہ ٹرمپ ایران سے زیادہ معاہدے کے لیے راغب نظر آرہے ہیں، جبکہ اس سے قبل انہوں نے ایران کے مکمل گھٹنے ٹیکنے کے بعد ہی جنگ کے خاتمے کا دعوی کیا تھا۔

ادھر امریکہ کی معاشی صورتحال ایسی ہے کہ مارچ کے مہینے میں افراط زر کی شرح میں 0/9 فیصد اضافہ ہوگیا، پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران 21 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اوراس کے نتیجے میں امریکی شہریوں کا قومی معیشت پر بھروسہ اتنا کم ہوگیا ہے کہ 1952 سے اب تک ایسی صورتحال کا مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ حتی اگر جنگ فوری طور پر ختم اور آبنائے ہرمز بالفرض کھل جائے تب بھی افراط زر کا سلسلہ کئی مہینے تک جاری رہے گا۔

ان تمام معاملات کی وجہ سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں ان کے ممکنہ دباؤ کے ذرائع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے کے سلسلے میں ابہام ہے اور دونوں فریقوں کی جانب سے معاملے کو الگ طرح سے پیش کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ نے ایران کو دو اہم معاملات میں زیادہ رعایت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی عہدے داروں نے کئی بار مذاکرات کی میز کو چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔

ادھر امریکی عوام جنگ سے اپنی ناراضگی کو وسط مدتی انتخابات میں ظاہر کرسکتے ہیں جو ٹرمپ اور ان کی پارٹی کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔

 اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ بات چیت اسی صورت میں آگے بڑھے گی جب اس کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وفد گزشتہ رات اسلام آباد پہنچا۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، نیشنل ڈیفنس کونسل کے سربراہ علی اکبر احمدیان، قومی سلامتی سے متعلق اعلی عہدیدار علی باقری کنی، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی بھی شامل ہیں۔ وفد میں سکیورٹی، سیاسی، عسکری، اقتصادی اور قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بھی ہیں۔

ایران نے مذاکرات کے لیے دس اہم شرائط پیش کی ہیں جن میں ایران کے خلاف جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کرنا، یورینیم افزودگی کے حق کو قبول کرنا، تمام ابتدائی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے کی قراردادوں کا خاتمہ، ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ، خطے سے امریکی فوجی انخلا اور مزاحمتی محاذوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات اور امریکا کی جانب سے وعدہ خلافیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران اس عمل میں محتاط انداز اختیار کرے گا۔ ایران نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئی اور امریکا کو اسرائیل کو اس پر عملدرآمد کا پابند بنانا ہوگا۔


رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا عظیم الشان شہید امام خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت کے چالیسویں (چہلم) کے موقع پر اور تیسری مسلط کردہ جنگ سے متعلق اہم امور کے حوالے سے خصوصی پیغام
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
{إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (2) وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا (3)} (سورہ الفتح).
اسلام اور ایران کے دشمنوں کے سنگین ترین جرائم اور اس قوم کی تاریخ کے ہولناک ترین سانحات میں سے ایک کو آج چالیس روز بیت چکے ہیں۔ یہ انقلابِ اسلامی کے عظیم قائد، ملتِ ایران کے شفیق پدر، امتِ مسلمہ کے رہبر، عصرِ حاضر کے متلاشیانِ حق کے امام اور ایران و محاذِ مزاحمت کے سید الشہداء، خامنہ ایِ بزرگ (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت کا اندوہناک اور کربناک سانحہ ہے۔
چالیس دن گزر چکے ہیں اور ہمارے شہید قائد کی روحِ مطہر قربِ الٰہی کی فضاؤں میں محوِ پرواز ہے اور اولیاء، صدیقین اور شہداء کی بزم میں مہمان ہے۔ ان کی معیت میں اور ان کے بعد، انصار و قائدین، مجاہدینِ اسلام اور چند روزہ شیر خوار بچوں سے لے کر ضعیف العمر بزرگوں تک، مظلوم شہریوں کی ایک کثیر تعداد نے بھی شہادت کے اس عظیم فیض کو پایا ہے۔
چالیس شب و روز گزر چکے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اس امت کے امام کو اپنے حضور بُلا لیا؛ لیکن اس بار، کلیم اللہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) کے دور کے برعکس، شہید قائد کے ساتھیوں اور ان کی امت نے حق کے قیام اور باطل کی سرکوبی کے لیے کمر کس لی۔ وہ سامری اور اس کے بچھڑے کے سامنے آہنی پہاڑوں کی طرح ڈٹ گئے اور جارحیت پسندوں اور فرعونوں کے سروں پر آتش فشاں کے لاوے کی طرح برس پڑے۔
ان چالیس شب و روز میں عالمی استکبار نے اپنے چہروں سے فریب اور جھوٹ کی نقابیں نوچ پھینکی ہیں، تاکہ قتل و غارت گری، ظلم و بربریت، جارحیت، دروغ گوئی، فرعونیت، طفل کشی، استبداد اور فساد پر مبنی اپنا گھناؤنا اور شیطانی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر سکیں۔
لیکن اس کے مدمقابل، ان چالیس شب و روز کے دوران، خمینیِ کبیر اور خامنہ ایِ عزیز کے غیور فرزندان اور اسلامِ نابِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیروکار، بے مثال استقامت اور شجاعت کے ساتھ میدانوں، سڑکوں اور جنگی خندقوں میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ دشمن کے وحشیانہ حملوں سے پہنچنے والے نقصانات اور صدمات کے باوجود، انہوں نے اس 'تیسری مسلط کردہ جنگ' کو 'تیسرے دفاعِ مقدس' کی عظیم الشان داستان میں بدل دیا ہے۔
بیدار اور باشعور ملتِ ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگرچہ وہ اپنے شہید امام کے غم میں نڈھال ہے، مگر عاشورہِ حسینی کے حقیقی وارثوں کی پیروی کرتے ہوئے، اس نے اس عظیم سانحے کو ایک حماسہ (رزمیہ) میں، اور نوحے کو رجز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس جذبے نے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دشمن کو حواس باختہ اور سراسیمہ کر دیا ہے، جبکہ دنیا بھر کے حریت پسندوں کو محوِ حیرت و ستائش کر دیا ہے۔ اس مرتبہ، مستکبرین کی جہالت اور حماقت اس بات کا سبب بنی ہے کہ مارچ 2026 کا مہینہ ایران اور انقلابِ اسلامی کی طاقت اور نام کے عروج کے ایک نئے باب کا آغاز بن جائے، تاکہ اسلامی ایران کا پرچم نہ صرف ہمارے ملک کے جغرافیائی رقبے پر، بلکہ دنیا بھر کے متلاشیانِ حق کے دلوں کی گہرائیوں میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ لہرائے۔
یہ موقع اس عظیم قائد کے مختصر تعارف کے لیے ایک بہترین فرصت ہے۔ یہاں اس عظیم ہستی کا ذکر ہے جنہیں ان کی شہرت کے مساوی پہچانا نہیں گیا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے شہید قائد ایک بصیرت افروز فقیہ، زمانے کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ، ایک انتھک مجاہد، پہاڑوں کی مانند ثابت قدم اور استوار، ایک عالمِ باعمل اور ربانی، ذکر و تہجد اور بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری کرنے والے، معصومین (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) سے توسل کرنے والے، اور الٰہی وعدوں پر صمیمِ قلب سے کامل ایمان رکھنے والے انسان تھے۔
ان کی دیگر امتیازی خصوصیات میں ایران سے ان کی گہری محبت اور اس کی خودمختاری کے استحکام کے لیے ان کی مسلسل کاوشیں شامل ہیں، جبکہ وہ ہمیشہ قومی یکجہتی اور اتحاد پر زور دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام عمر اسلامی نظام کی تاسیس، اس کے استحکام اور بقاء کی جدوجہد میں صرف کر دی، اور اس کے ساتھ ہی ان کا یہ پختہ نظریہ تھا کہ عوام کی شمولیت کے بغیر 'اسلامی جمہوریہ' کا کوئی مفہوم نہیں۔ اس قدر جلال، اقتدار اور صلابت کے باوجود، وہ افکار و نظریات اور معاملات کو پرکھنے میں حد درجہ باریک بینی اور لطافت کے حامل تھے۔5وہ قومی صلاحیتوں اور بالخصوص نوجوانوں پر خصوصی توجہ مرکوز فرماتے تھے، اور علم و ٹیکنالوجی اور ان کے زیرِ سایہ حاصل ہونے والی ترقی کی اہمیت پر زور دیا کرتے تھے۔ اسی طرح، وہ عظیم شہداء کے خانوادوں، زخمیوں (غازیوں) اور عزیز فداکاروں (جان نثاروں) کے لیے دل میں بے پناہ عقیدت و احترام رکھتے تھے۔ انہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بیش قیمت اور وسیع تجربات حاصل تھے جن میں سے بعض کئی دہائیوں پر محیط تھے، اور ان کے علاوہ ایسی بے شمار خصلتیں تھیں جن کا بیان طوالت کا متقاضی ہے۔
ان دنوں بعض ذرائع ابلاغ میں ان کے فن، فنون سے ان کی آشنائی اور ان کی سرپرستی کا چرچا ہو رہا ہے۔ اگرچہ تنہا یہ ایک عنصر بھی کسی فرد کی شخصیت کو انتہائی گراں قدر بنانے کے لیے کافی ہے، اور ہمارے عزیز قائد میں یہ وصف اپنے حقیقی معنوں اور اعلیٰ ترین سطح پر موجود تھا، تاہم ان کی ذاتِ والا صفات کے دیگر پہلوؤں اور کمالات کے مقابلے میں یہ بہت معمولی دکھائی دیتا ہے۔ اور میں ذاتی طور پر ان کی ذات میں کئی فنون کا مشاہدہ کر چکا ہوں:
ان کے عظیم فنون میں سے ایک، جس پر کم ہی توجہ دی گئی ہے، وہ عوام الناس اور معاشرتی طبقات کے افکار، نفسیات، اور جذبات کی تشکیل کے ذریعے 'تربیت اور معاشرہ سازی' کا فن تھا۔
ان کا ایک اور ہنر بامقصد اداروں کے قیام میں نمایاں ہوتا ہے، جس کا آغاز انہوں نے اپنی قیادت اور رہبری کے ابتدائی برسوں میں ہی کر دیا تھا، کیونکہ ان کی نگاہیں دور رس اہداف پر مرکوز تھیں۔
ایک اور عظیم ہنر ملک کے عسکری ڈھانچے اور دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے کا اقدام تھا، جس کے مثبت اثرات کو ملتِ ایران نے بخوبی محسوس کیا اور پچھلی دو مسلط کردہ جنگوں میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح مختلف علمی، تزویراتی (اسٹریٹجک)، یا پالیسی سازی کے پہلوؤں میں ان کی قوتِ تخلیق و جدت طرازی ان کے دیگر کمالات میں سے تھی، جس کی ایک جھلک نظام کی عمومی پالیسیوں کی تدوین میں نظر آتی ہے۔
برجستہ اور اچھوتی اصطلاحات اور اختراعی تراکیب وضع کر کے نئے مفاہیم تخلیق کرنے کی ان کی صلاحیت بھی بے مثال تھی، جن میں سے ہر ایک ترکیب اپنے اندر معانی کا ایک سمندر سموئے ہوئے تھی اور اس سے ایک جامع اور عملی بیانیہ جنم لیتا تھا۔
اور ان سب کے ہمراہ، وہ غیر معمولی خداداد صلاحیت جو انہیں مصائب و آلام کی بھٹی میں اپنی روحِ عظیم کو کندن بنانے، اور حق کی راہ میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے کے صلے میں عطا ہوئی تھی، یعنی دور رس واقعات کو قبل از وقت بھانپ لینے (پیش بینی) کا کمال؛ کیونکہ بے شک «المُؤمِنُ يَنْظُرُ بِنورِ الله» (مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے)۔ اس کے علاوہ ان کی اور بھی بے شمار کرامات اور صلاحیتیں ہیں جن کا اس مختصر مقام پر احاطہ ممکن نہیں۔

ان تمام تر کمالات اور خداداد صلاحیتوں کا سرچشمہ محض پروردگار کی خصوصی عنایات اور ہمارے آقا و مولا اور ان کے آبائے طاہرین (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کے الطافِ بے کراں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اگر ان اسباب کا خلاصہ کیا جائے جنہوں نے ان عنایات و الطاف کو اس عظیم ہستی کی جانب مبذول کیا، تو وہ کلمہءِ حق کی سربلندی کے لیے ان کی مخلصانہ اور انتھک جہدِ مسلسل ہے۔
تاہم، بالخصوص، خائن پہلوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی صعوبتوں کے شانہ بشانہ، آپ نے فریضے کی ادائیگی کی راہ میں ایک اور خاص موقع کے چشمہِ فیض سے بھی بھرپور استفادہ کیا، ایک ایسا امر جس سے عام لوگ عموماً ناواقف ہیں۔
علم کے شیدائی اور عمل میں سبقت لے جانے والے اس نوجوان سید کے مقدر میں یہ لکھا تھا کہ عین اس وقت جب ان کے والدِ گرامی کی بینائی رخصت ہو رہی تھی، اور وہ جلیل القدر اساتذہ کے حضور زانوئے تلمذ طے کرنے کے بعد قم میں علمی ارتقاء اور روشن مستقبل کی تعمیر کے تمام دستیاب مواقع ترک کر دیں، اور فضلِ الٰہی پر کامل توکل کرتے ہوئے خود کو اپنے والدِ بزرگوار کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔
اس عظیم ایثار کے نتیجے میں فضلِ الٰہی کچھ یوں جلوہ گر ہوا کہ سید علی خامنہ ای کا ستارہ تیس برس کی عمر سے قبل ہی خراسان کے افق سے ایک درخشاں سورج کی مانند طلوع ہوا، اور وہ بہت جلد فکر اور جدوجہد کے ایک اساسی ستون میں تبدیل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مروجہ علوم میں بھی اس قدر نمایاں کمال حاصل کیا کہ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں 'ساواک' (شاہِ ایران کی خفیہ ایجنسی) نے انہیں «خمینیِ خراسان» کا لقب دے دیا۔
یہاں مجھے اس امر پر بھی زور دینا ہے کہ آپ کے باطنی اور ظاہری ارتقاء کا یہ سفر مابعد کے مراحل میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔ آج، جب ہم مشاہیر اور بالخصوص اس جیسی نابغہِ روزگار شخصیت کی سیرت سے فیض یاب ہونے کے مقام پر کھڑے ہیں، تو یہ انتہائی موزوں ہوگا کہ ہم «خیر خواہی» اور «مواسات» (ہمدردی و ایثار) کی صفات کو اپنا نصب العین بنا لیں۔ یہی وہ امتیازی خصلت ہے جو پروردگار کی وسیع رحمت کی امید کے ساتھ مل کر، پرچمِ حق تلے کھڑے ہونے والوں اور باطل کے علمبرداروں کے


گرد گھیرا ڈالنے والوں کے درمیان ایک بنیادی اور جوہری فرق قائم کرتی ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روش پر کاربند رہنا آسمانوں کے دروازے وا کرنے کی کلید ثابت ہوگا اور طرح طرح کی الٰہی اور غیبی امداد کے نزول کا سبب بنے گا؛ جس کا آغاز بارانِ رحمت کے نزول سے ہوگا، اور جو دشمن پر غلبہ پانے اور حتیٰ کہ شاندار علمی اور تکنیکی کامیابیاں سمیٹنے تک جا پہنچے گا۔
ان دنوں، ہر زبان پر اس یگانہِ روزگار ہستی کا ذکر عام ہے، اور ہماری عزیز قوم کے مختلف طبقات انہیں انتہائی سچے اور حسرت و فراق سے لبریز جذبات کے ساتھ یاد کر رہے ہیں، جس سے ان کی اعلیٰ و ارفع شخصیت کے درخشاں جوہر کے نئے نئے پہلو روز بروز نمایاں ہو رہے ہیں۔
اسی طرح، آپ کے مخصوص افعال اور موقف کی پیروی کا رجحان بتدریج وسعت اختیار کر رہا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال ہماری عزیز قوم کا بوقتِ شہادت آپ کی مضبوطی سے بھنچی ہوئی مٹھی سے سبق حاصل کرنا ہے، یہاں تک کہ بعض افراد کے نزدیک وہ «مضبوط مٹھی» عقیدے اور استقامت کی ایک مشترکہ علامت بن چکی ہے۔ یوں یہ حقیقت ایک بار پھر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ شہید کا اثر ایک زندہ شخص سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، اور توحید، نصرتِ حق، اور ظلم و فساد کی بیخ کنی پر مبنی آپ کی بلند پایہ صدائے حق ان کی زندگی کی نسبت آج کہیں زیادہ گونج رہی ہے، اور ان کا پیغام زیادہ پرتاثیر ہو چکا ہے۔ مزید برآں، اس عظیم المرتبت شہید کی دلی تمنا، جو اس قوم اور دیگر تمام امتِ مسلمہ کی فلاح و کامرانی سے عبارت ہے، آج پہلے سے کہیں بڑھ کر حقیقت کے قریب تر ہو چکی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے، اور عوام کی اس مؤثر اور مستحکم حاضری کی بدولت، ملتِ ایران کے سامنے جو افق ابھر رہا ہے، وہ ایک پرشکوہ، درخشاں، عزت و سربلندی اور خوشحالی سے لبریز دور کے آغاز کی نوید دے رہا ہے۔ جس وقت ہمارے شہید قائد نے رہبری کی باگ ڈور سنبھالی تھی، اس وقت اسلامی جمہوریہ کا نظام ایک نازک پودے کی مانند تھا جس نے اسلام اور ایران کے دشمنوں کے لگائے گئے بے شمار زخم سہے تھے، مگر اس نے ان تمام مصائب کو بخوبی برداشت کیا۔ لیکن جب تقریباً 37 برس کے بعد انہوں نے امت کی قیادت کی مسند چھوڑی، تو اپنے پیچھے ایک ایسا شجرِ طیبہ (پاکیزہ اور تناور درخت) چھوڑا جس کی جڑیں نہایت مضبوط ہو چکی ہیں، اور جس کی شاخیں پھیل کر خطے اور دنیا کے وسیع حصوں پر سایہ فگن ہو چکی ہیں۔
روز بروز طاقتور تر ہوتے ایران» تک پہنچنے کی راہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد اور یکجہتی سے ہو کر گزرتی ہے، اور یہی وہ بات تھی جس پر ان کی جانب سے بار بار زور دیا جاتا تھا۔ اس اتحاد کا ایک عظیم جلوہ ان چالیس دنوں میں بخوبی نمایاں ہوا؛ جب لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آ گئے، اور مختلف نظریات رکھنے والے طبقات کے درمیان حائل برف پگھلنے لگی۔ سبھی لوگ مادرِ وطن کے پرچم تلے جمع ہو گئے، اور اس اجتماع کی تعداد اور کیفیت و معیار میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اور بہت سے ایسے افراد جو ابھی تک اس طرح میدانِ عمل میں حاضر نہیں ہو سکے، وہ بھی دل سے میدانوں میں موجود ہجوم کے حامی اور ان کے ہم نوا ہیں۔
ان دنوں، بہت سے لوگ دور رس افق پر نگاہیں جمائے ہوئے ایک تہذیبی اور تمدنی نقطہِ نظر کا تجربہ کر رہے ہیں، اور اپنے لیے ایک ایسا خاکہ مرتب کر رہے ہیں جو محض وہم و گمان پر نہیں، بلکہ انسانیت کے حال اور مستقبل کے حقائق پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس کی نظیر، کچھ عرصہ قبل تک، محض چند گنے چنے افراد میں ہی نظر آتی تھی جن کے ہراول دستے میں ہمارے شہید قائد شامل تھے۔ اور یوں ہر دیکھنے والی آنکھ اس قوم کی تیز ترین اور اعجاز نما ترقی کا بخوبی مشاہدہ کر رہی ہے۔ اور یہ محض کوئی اتفاق نہیں کہ عصرِ حاضر کے نامور حکیم اور جلیل القدر فقیہ، جب ان دنوں آپ سے اس عظیم مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، تو اکثر فرطِ جذبات سے ان کا گلا رندھ جاتا ہے اور الفاظ حلق میں اٹکنے لگتے ہیں۔
اس مقام پر، میں ایران کے جنوبی پڑوسیوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں: اس وقت آپ ایک معجزے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پس حالات کو درست زاویے سے دیکھیں، ان کا صحیح ادراک کریں، حق کے مقام پر کھڑے ہوں، اور شیاطین کے جھوٹے وعدوں سے بدگمان ہوں۔ ہم ہنوز آپ کی جانب سے ایک مناسب اور دانشمندانہ مؤقف کے منتظر ہیں تاکہ ہم بھی آپ کے حق میں اپنی اخوت اور نیک نیتی کا عملی مظاہرہ کر سکیں۔ اور یہ اس وقت تک ہرگز ممکن نہیں جب تک آپ ان مستکبرین سے منہ نہیں موڑ لیتے جو آپ کو رسوا کرنے اور آپ کا استحصال کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

سلیمانی, [4/10/2026 12:15 اور یہ بات سبھی پر عیاں ہو جانی چاہیے کہ: بحکمِ خداوندی، ہم ان مجرم جارحین کو ہرگز معاف نہیں کریں گے جنہوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا۔ ہم اس جنگ میں پہنچنے والے ایک ایک نقصان کے ازالے، شہداء کے بہنے والے پاکیزہ خون، اور مجروحین و غازیوں کی دیت کا حساب لازماً چکائیں گے، اور ہم آبنائے ہرمز کے انتظام کو یقینی طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔ ہم نہ تو کبھی جنگ طلب تھے اور نہ ہی اب ہیں، مگر ہم کسی بھی صورت اپنے جائز اور آئینی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، اور اس راستے میں ہم مکمل محاذِ مزاحمت کو اپنے پیشِ نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اور اس مرحلے میں، اور اپنے حق کی کامل بازیابی تک، *اولاً:* عوام کے تمام طبقات پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں، تاکہ کسی بھی جنگی صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قلت اور دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایسی قلت دشمن کے محاذ پر کہیں زیادہ سنگین ہے، جبکہ ہمارے ملک میں حکومت اور دیگر اداروں میں موجود آپ کے بھائیوں اور بہنوں کی شبانہ روز کاوشوں کی بدولت اسے کافی حد تک قابو میں رکھا گیا ہے۔
ثانیاً: دشمن کی سرپرستی میں چلنے والے یا اس کے ہم نوا ذرائع ابلاغ (میڈیا) کے مقابلے میں اپنی سماعتوں کی حفاظت کرنا، جو کہ عقل اور دل کے دریچے ہیں، انتہائی ناگزیر ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ ابلاغی ادارے ریاستِ ایران اور اس کی عوام کے لیے ہرگز خیر خواہ نہیں ہیں، اور یہ بات بارہا ثابت ہو چکی ہے۔ لہٰذا، یا تو ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے، یا پھر ان کی نشر کردہ ہر بات کو شدید شک و شبہ کی نگاہ سے پرکھا جائے۔
ثالثاً: اے عزیز قوم! اگرچہ سرکاری سوگ کی مدت ختم ہونے پر آپ اپنے سوگ کے لباس اتار دیں گے، لیکن شہید قائد اور دوسری اور تیسری جنگ کے تمام شہداء کے خون کا انتقام لینے کا اٹل ارادہ آپ کی روحوں اور دلوں میں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا، اور اپنے پایہِ تکمیل تک پہنچنے کی اس گھڑی کا شدت سے منتظر رہے گا۔
اور اختتام پر، میں اپنے آقا و مولا (حضرت امام مہدی) عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں روئے سخن کرتے ہوئے عرض گزار ہوں: ہم، اللہ رب العزت پر اپنے کامل ایمان، ائمہ معصومین (صلوات اللہ و سلامہ علیہم) سے توسل، اور اپنے شہید قائد کی پیروی میں، آپ کے پرچم تلے کفر اور استکبار کے محاذ کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ ہم نے اس راہ میں ملک کی عزت و خودمختاری، اور اسلام و انقلابِ اسلامی کی سربلندی کی خاطر مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اپنے عزیز شہداء کا نذرانہ پیش کیا ہے، اور بے شمار دیگر نقصانات بھی برداشت کیے ہیں۔ اب ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ دشمن پر فیصلہ کن غلبے کے لیے آپ کی خصوصی دعاؤں کے متلاشی ہیں، خواہ وہ مذاکرات کی میز ہو یا جنگ کا میدان، اور ہمیں قوی امید ہے کہ ہم اور ہمارے دشمن جلد از جلد اس کے اعجاز نما اثرات کا مشاہدہ کریں گے، ان شاء اللہ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای | 9 اپریل 2026

 ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمدباقر قالیباف نے سماجی رابطے کے ایکس پیج پر اپنی پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ لبنان اور استقامتی محاذ جنگ بندی میں شامل ہیں اور انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔

 انھوں نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ " لبنان اور پورا استقامتی محاذ، جنگ بندی کے لئے ایران کی دس نکاتی تجویز کی پہلی ہی شق میں شامل ہے۔

ڈاکٹر قالیباف نے کہا کہ پاکستان کے محترم وزیر اعظم نے آشکارا اور شفاف طور پر لبنان کے موضوع پر زور دیا ہے اور اس سے مکرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ایران کے اسپیکرپارلیمان نے کہا کہ " جنگ بند کرو، جنگ بندی کی خلاف ورزی کی قیمت اور ہمارا جواب بہت سخت ہوگا۔'

رہبر معظم اسلامی انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ چالیس دنوں کی طرح عوام کی میدان میں موجودگی جاری رہنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق شہید امام خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر اور موجودہ جنگی صورتحال کے حوالے سے جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے تک پہنچ کر پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کی بہادر قوم اس میدان میں کامیاب رہی ہے۔ اگر کسی وجہ سے جنگی محاذ پر وقتی خاموشی آ بھی جائے تو عوام کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تک، دفاع مقدس کے اس مرحلے میں، ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آپ، اہل ایران، اس میدان کے واضح فاتح ہیں۔ اگر فرض کریں کہ اب فوجی محاذ پر خاموشی کا وقت آگیا ہے، تو عام لوگوں کا جو مساجد، گلیوں اور میدانوں میں جاسکتے ہیں، کردار پہلے سے بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ یقیناً آپ کے نعرے اور مظاہرے مذاکرات کے نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب نے زور دے کر کہا کہ دشمن کے ساتھ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کی سڑکوں پر موجودگی ختم ہوجائے۔ ایک مضبوط ایران کے لیے ضروری ہے کہ عوام اسی طرح متحد اور متحرک رہیں جیسے وہ گزشتہ چالیس دنوں سے رہے ہیں۔ میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ سے کہتا ہوں کہ ہم آپ کی خصوصی دعا کے ذریعے، چاہے مذاکرات میں ہو یا میدانِ جنگ میں، دشمن پر حتمی فتح کے لیے پوری دل جمعی کے ساتھ یقین رکھتے ہیں۔

حضرت آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای نے کہا کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن اپنے حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے اور پوری مزاحمتی صف کو یکجا سمجھتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے، ہم ظالم حملہ آوروں کو نہیں چھوڑیں گے، ہر نقصان، شہداء کے خون کا بدلہ اور جانبازوں کے نقصان کی پوری قیمت طلب کریں گے اور تنگہ ہرمز کی نگرانی کو ایک نئے مرحلے میں لے جائیں گے۔

انہوں نے جنوبی ہمسایہ ممالک سے کہا کہ آپ ایک معجزہ دیکھ رہے ہیں، اسے صحیح سمجھیں، صحیح جگہ کھڑے ہوں اور شیطانی جھوٹے وعدوں پر شک کریں۔ ہم ابھی بھی آپ کی مناسب کارروائی کے منتظر ہیں تاکہ ہم آپ کی بھائی چارگی اور خیرخواہی دیکھ سکیں۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب آپ ظالموں سے لاتعلقی اختیار کریں۔ اس لیے یا تو ان سے رابطہ ترک کریں یا ان کی پیشکشوں پر بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ غور کریں۔

انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ دشمن کے حمایت یافتہ میڈیا سے محتاط رہیں کیونکہ ایسے ذرائع ابلاغ ایران اور اس کی قوم کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

 "حزب اللہ کو تنہا نہ چھوڑیں" یہ جملہ بظاہر ایک سیاسی مشورہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری تزویراتی، تاریخی اور تہذیبی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے اپنی یاد داشت میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب امریکی۔صہیونی محاذ نے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی جنگ کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، حزب اللہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر مقابلے کا بڑا حصہ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ محض علامتی حمایت نہیں تھی بلکہ اس اقدام نے جنگ کے میدان اور نفسیاتی فضا دونوں میں توازن کو بدل دیا۔

اداریے میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں جب جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، صہیونی حکومت کے طرز عمل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی اصولوں کی پابند ہے اور نہ ہی جنگ بندی کو سنجیدگی سے لیتی ہے، بلکہ اسے اپنی طاقت بحال کرنے اور دوبارہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لبنان پر حملے اور شہریوں کا قتل اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

چیف ایڈیٹر کے مطابق اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا کوئی عملی جواب نہ دیا گیا تو اس کا پیغام پورے خطے میں جائے گا کہ جارحیت کی قیمت زیادہ نہیں اور قوانین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

اخلاقی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑ دینا نہ صرف انسانی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے تزویراتی طاقت بھی کمزور ہوتی ہے۔ حزب اللہ اور لبنان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا تعلق محض وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ خطرات اور مستقبل کی سمجھ پر قائم ہے۔

اداریے میں مزید کہا گیا کہ خطے کے حالیہ تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی مزاحمتی محاذ کا کوئی حصہ کمزور ہوا، دباؤ فوری طور پر دوسرے حصوں تک منتقل ہو گیا۔ شام کی صورتحال، حماس پر دباؤ اور حزب اللہ پر حملوں نے بالآخر ایسے حالات پیدا کیے کہ دشمن نے براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی جرات کی۔

لبنان کے عوامی ردعمل کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہاں کے لوگ خود کو تنہا محسوس کریں تو یہ احساس بداعتمادی میں بدل سکتا ہے، جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے گا اور خطے میں قائم اعتماد کو کمزور کرے گا۔

آخر میں چیف ایڈیٹر نے زور دیا کہ آج کی دنیا میں سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تہران کی سلامتی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے الگ نہیں۔ اس لیے حزب اللہ اور لبنان کا دفاع کوئی جذباتی یا محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر تزویراتی ضرورت ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت مستقبل میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔