سلیمانی

سلیمانی

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایرانی جہازوں نے امریکی بحری بیڑے کے پاس سے گزر کر ٹرمپ کے مبینہ محاصرے کو توڑ دیا ہے۔

ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایران کے جہازوں کی "گوسٹ فلیٹ" امریکی جنگی جہازوں کے قریب سے گزر کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ جنگ بندی اور تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ تلاطم پایا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ ان جہازوں کو "گوسٹ فلیٹ" کا نام دیتے ہیں جو امریکی پابندیوں کو نظرانداز اور بائی پاس کرتے ہوئے بین الاقوامی تجارت میں مصروف ہیں۔

 سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے کمانڈر نے خطے کے ممالک کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی زمین، جغرافیہ یا عسکری اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو انہیں توانائی کی سلامتی اور تیل کی پیداوار کو خیرباد کہنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق جنرل موسوی نے ایرانی عوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ کو پچاس دن سے زیادہ گزرچکے ہیں اور ان دنوں میں ایرانی عوام نے سڑکوں، میدانوں اور مختلف محاذوں پر موجود رہ کر ثابت کر دیا کہ ایران کی اصل طاقت قوم کا پختہ عزم اور غیر متزلزل حمایت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود کو اس ملت کا ایک معمولی فرزند سمجھتے ہیں اور عوام کے صبر، بصیرت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔

جنرل موسوی نے بتایا کہ سپاہ کی فضائیہ کے جوانوں نے چالیس دن و رات لانچروں پر ڈٹے رہ کر دشمن کی طاقت کے غرور کو توڑا اور موجودہ فوجی خاموشی کے دوران بھی پوری ہوشیاری کے ساتھ دفاعی تیاری برقرار رکھی۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی کے بعد بھی دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر دشمن نے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت کی تو ایران کا جواب اس بار زیادہ سخت، فیصلہ کن اور پشیمان کن ہوگا۔

انہوں نے خاص طور پر خلیج کے جنوبی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اپنی زمین، فوجی اڈے اور سہولتیں امریکہ اور ایران دشمن قوتوں کے حوالے کر رہے ہیں، انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف حملہ کیا گیا تو پورے مشرق وسطی میں تیل کی پیداوار اور توانائی کی سلامتی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔

اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران دھمکیاں دینے والا ملک نہیں، لیکن اپنی عزت، سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے دفاع میں کبھی بھی پس و پیش نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں، جیسے ملت کھڑی ہے۔

گارڈین کی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ بعنوان "وائرل فتح: ایران سوشل میڈیا کی جنگ میں ٹیکنالوجی کے دیو ہیکل ملک کو شکست دیتا ہے" میں لکھتا ہے: اگر ایران اسی رفتار سے تباہ کن میزائل تیار کر سکتا جس رفتار سے وہ وائرل میمز بناتا ہے، تو امریکی مرکزی کمانڈ  (سینٹکام) اب تک ہتھیار ڈال چکی ہوتی۔

اخبار نے مزید لکھا ہے: ایران اور امریکہ کی اس کشمکش کا ایک عجیب اور غیر متوقع پہلو یہ ہے کہ ایران، جو ایک قدامت پسند حکومت اور مغربی ثقافت و میڈیا سے مخالفت کے باعث جانا جاتا ہے، اب سوشل میڈیا کی جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور اس نے اپنی جنریشن زیڈ کی ٹیکنالوجی سے وابستہ قوتوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ طنز و مزاح کے ذریعے ٹرمپ کی حکومت کو نشانہ بنا کر مغربی عوام کو متوجہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس وقت نکسن کی طرح مواخذے کے خطرے سے دوچار ہیں، مسلسل غلطیاں کرتے جا رہے ہیں اور انہیں اپنے سوشل پلیٹ فارم پر کی گئی وہ متنازع پوسٹ بھی حذف کرنا پڑی جس میں انہوں نے خود کو مسیح سے تشبیہ دی تھی، اور انہیں عالمی تجارت میں سست روی کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑی۔

گارڈین نے مزید لکھا کہ ایران کی سوشل میڈیا کارکردگی۔ چاہے وہ اس کے سفارتخانوں کی آن لائن سرگرمیاں ہوں یا پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے ٹوئٹس، سب سے زیادہ حیران کن ہیں۔

یہ اس وقت ہو رہا ہے جب ایران چند ہفتوں سے انٹرنیٹ کی محدودیت یا تاریکی کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اسی تاریکی میں سے ایسی تخلیقی صلاحیت سامنے آ رہی ہے جو مغرب کو ہدف بنا رہی ہے۔ حکومت کے حامی اکاؤنٹس مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ لیگو طرز کی اینیمیشنز نشر کر رہے ہیں جن میں اپسٹین کے کیس کو ٹرمپ کی جنگ سے جوڑا جاتا ہے، یا پھر طنز اور خوداعتمادی کے ذریعے مغرب کی ناکامیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

نرجس باجغولی، جو Johns Hopkins University  کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مشرقِ وسطیٰ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کا مکمل میڈیا نظام مواد کی تیاری اور پیغام رسانی میں ٹیکنالوجی کی بڑی طاقتوں سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے۔

انہوں نے وضاحت کی: جنگیں دو میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، ایک حقیقی جنگ کا میدان اور دوسرا میڈیا کا میدان۔ ایران میڈیا کے میدان، خصوصاً سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر نمایاں حد تک برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

 

 آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پاپ لیون چهاردهم کی توہین پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں کی حرمت کا تحفظ سب پر لازم ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے پیغام میں اس گستاخانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عیسائی برادری اور عالمی مذہبی شخصیات کو اس عمل کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کیتھولک رہبر کی شان میں کی گئی یہ توہین ایک ناقابل قبول اقدام ہے جس کا ازالہ ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اولوالعزم انبیاء میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو عظمت اور احترام کے ساتھ یاد کیا ہے، لہٰذا ان مقدس ہستیوں اور ان سے وابستہ مذہبی قیادت کا احترام پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا کہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق تمام انبیاء اور ان کے ماننے والوں کے رہنماؤں کا احترام لازم ہے، اور کسی بھی مذہبی پیشوا کی توہین درحقیقت اخلاقی اقدار کی پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے علمی و فکری مراکز کو حکمت، دانائی اور متوازن سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے اقوال و افعال نہ علمی لحاظ سے درست ہیں اور نہ ہی عملی طور پر مناسب، اور اسی غیر ذمہ دارانہ رویے کے تحت انہوں نے ایک بڑے مذہبی رہنما کی توہین کی ہے۔

آیت اللہ نے زور دیا کہ خاص طور پر امریکہ کے عیسائی اور کیتھولک حلقے اس منکر کے خلاف احتجاج کریں اور اس طرح کے ناپسندیدہ رویوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ظلم و ناانصافی کے خلاف پاپ کی نصیحت ایک قیمتی اور اہم آواز ہے، جس کی حمایت کی جانی چاہیے، نہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔

تاریخ کے سیاہ ترین اوراق میں وہ سطور زیادہ دردناک ہیں جہاں طاقت نے معصومیت کو نشانہ بنایا ہو، جہاں جدید ہتھیاروں سے لیس طاقتوں نے معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کو خاک و خون میں نہلایا ہو، اور جہاں عالمی ضمیر اتنا بے حس ہو چکا ہو کہ وہ محض تماشائی بن کر رہ گیا ہو۔ یہ تحریر ایسے ہی ایک واقعے کی گواہی ہے جب 28 فروری 2026ء کی صبح، ایران کے جنوبی شہر میناب کے مدرسہ "شجرہ طیبہ" پر امریکی و اسرائیلی جارحیت نے معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔

یہ بچے ایک ایسی بستی میں تھے جس کے وسائل پر اپسٹین قبیلے کی نظر تھی۔ یہ کہانی صرف میناب کی نہیں؛ یہ غزہ، یمن، لبنان اور فلسطین کی بھی ہے بلکہ ان تمام مظلوم قوموں کی داستان ہے جن کے خلاف طاقت کی سیاست نے انسانیت کو روند ڈالا، اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

واقعات کا تسلسل کچھ یوں ہے کہ 28 فروری کی صبح دس بجے اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ شروع کیا تو اس مدرسے کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس سے پہلے کہ بچے محفوظ مقام تک پہنچ پاتے، پہلا میزائل اسکول کی مرکزی عمارت پر آیا۔ جو بچے اس سے بچ نکلے، وہ نماز خانہ کی طرف بھاگے مگر دوسرا میزائل عین اسی جگہ پر گرا، اور پھر تیسرا حملہ اسکول گراؤنڈ پر کیا گیا، گویا منصوبہ یہ تھا کہ کوئی زندہ نہ بچے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سو پینسٹھ سے ایک سو ستر کے قریب معصوم بچے، جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں، شہید ہو گئے۔ یہ کوئی جنگی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک منظم قتلِ عام اور جنگی جرم تھا۔

اس وحشیانہ اقدام کے بعد عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف دباؤ بڑھا اور متعدد ممالک کی طرف سے شدید مذمتی بیانات جاری ہوئے، مگر افسوس کہ اس بدترین بربریت کے باوجود امریکہ نے ابتدائی لمحات میں اپنے موقف کا دفاع جاری رکھا۔ پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ یہ حملہ خود ایران نے کیا ہے ایک ایسا الزام جس کی تردید کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہ تھی۔ جب ثبوت سامنے آئے اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہ حملہ امریکی فورسز نے کیا ہے، تو ان کا کہنا تھا: "میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا اور جو بھی رپورٹ آئے گی، میں اسے ماننے کو تیار ہوں"۔ پھر پینٹاگون نے تسلیم کیا کہ "امریکی افواج کے اسکول کو نشانہ بنانے کے ذمہ دار ہونے کا امکان ہے" لیکن اسے "انسانی غلطی" قرار دے کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ امریکی فوج کی سابق انٹیلیجنس آفیسر جوزفین گیلبو،نے کھلے عام اعتراف کیا کہ "ہم امریکہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ ہم اس کہانی کے ولن ہیں۔" انہوں نے واضح کیا کہ جدید ترین سسٹمز سے لیس میزائل، حملے سے پہلے اصل منظرنامے کو کمانڈ روم میں براہِ راست منتقل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی کمانڈ سسٹم نے اپنی آنکھوں سے اسکول کے صحن میں کھیلتے ہنستے مسکراتے بچوں کو دیکھا، اور پھر بھی حملے کا حکم دیا۔ اور جب تین حملے ہوئے، تین مختلف مقامات پر، تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ کیا غلطی ایک بار ہوتی ہے؟ مگر ایک ہی اسکول پر تین بار حملے کو غلطی کہہ سکتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ بالکل نہیں! یہ کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ ایک منصوبہ بند اور سفاکانہ جرم تھا، جسے بعد میں "غلطی" کا نام دے کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا گیا۔

میناب کا یہ واقعہ کوئی الگ سانحہ نہیں ہے، بلکہ یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلم ممالک میں کی جانے والی "بے حسی کی تہذیب" کی تازہ ترین کڑی ہے۔ جب ہم غزہ کی طرف دیکھتے ہیں تو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ نومبر 2023 سے لے کر اپریل 2026 تک تقریباً ستر ہزار سے زیادہ افراد بچے، خواتین، بوڑھے قتل کیے گئے، اور رپورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ اعداد و شمار "عام شہریوں کی موت کے لیے واضح طور پر بے حسی" کو ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ براؤن یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دو سالوں میں امریکہ نے اسرائیل کو 21 بلین ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کی، یعنی غزہ میں بچوں کی قبریں بنانے والے ہتھیار امریکی تھے، اور یہ امداد دو طرفہ سیاسی حمایت کے ساتھ ملتی رہی۔

اہم سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے: جب معصوم بچوں کا قتل عام جاری تھا تو عالمی ادارے کہاں تھے؟ اقوامِ متحدہ؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ مغربی میڈیا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مسلمان ملک میں ایسے مظالم ہوئے، عالمی ردِ عمل سست اور کمزور رہا۔ یہ خاموشی ہی وہ چیز ہے جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جرأت بخشی کہ وہ اپنے جرائم میں مزید جری ہوتے چلے گئے۔ شکاگو سن ٹائمز کی ایرانی نژاد صحافی نگار مرتضوی نے ٹھیک کہا ہے کہ "یہ حملہ مجھے ویت نام کے قتلِ عام کی یاد دلاتا ہے". یہ مغربی طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کی جانوں سے بے اعتنائی کی تازہ بدترین مثال ہے۔"

جب ہم اس پورے منظرنامے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک اور بھی گہرا المیہ نظر آتا ہے اور وہ ہے عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بے حسی۔

یہ وہی بے حسی ہے جس نے غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ افراد کو خاک و خون میں نہلانے کے بعد بھی مغربی بلاک نے سکوت اختیار کیا، یہی وہ بے حسی ہے جس نے آج اس خوبصورت دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ معاملات حل کرنے اور عالمی افق پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے صرف طاقت اور زبردستی کی زبان ہی واحد راستہ رہ گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے، کیونکہ جب طاقت ہی واحد زبان ہوتی ہے تو پھر کمزور قوموں کے پاس کوئی آواز نہیں رہتی، اور انصاف کا تصور معدوم ہو جاتا ہے۔

یہ صرف ایران کا المیہ نہیں، بلکہ یمن، حماس، لبنان اور دیگر مزاحمتی محاذوں پر بھی امریکہ اور اسرائیل کے مظالم و دہشت گردی کا انداز یکساں رہا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی خود مختاری اور آزادی کی آواز بلند ہوئی، وہاں مغربی طاقتوں نے ملکی مفادات ، علاقائی سیاست اور انسانی حقوق کے نام پر خاموشی اختیار کی، مگر عمل میں سب سے زیادہ ظلم ڈھائے۔ ویت نام سے لے کر عراق کے فلوجہ تک، افغانستان کے قندھار سے لے کر غزہ کے شجاعیہ تک، اور اب میناب کے اسکول تک یہ سلسلہ جاری ہے، اور عالمی برادری ہر بار وہی خاموشی اختیار کرتی ہے۔

جب تک طاقتور ممالک کو ان کے جرائم پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، یہ عالمی ادارے اپنی کمزوری اور بے اثری کا شکار رہیں گے، اور "بے حسی کی تہذیب" اور "سکوت کا پرچم" ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کریں گے کیونکہ طاقت کے زور پر مسلط کردہ امن کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کردہ امن ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ حقیقی امن وہ ہے جو انصاف، مساوات اور باہمی احترام پر قائم ہو۔

میناب کے بکھرے خواب، غزہ کی کچلی ہوئی مسکراہٹیں، اور یمن کی بھوکی آنکھیں سب ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ اب خاموشی جرم سے بڑھ کر گناہ بن چکی ہے۔ تاریخ کی بند آنکھوں اور ضمیر کی بے حسی میں آج ان مظلوم بچوں کی یہ آواز گونج رہی ہے: " *کیا کوئی ہماری بھی سنے گا؟*

یہ تو طے ہے کہ مظلوم کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ مگر وقت کی ضرورت ہے کہ ہم خود ان کی آواز بنیں۔ ورنہ یہی سکوت اور خاموشی سب کے لیے سزا بن جائے گی، اور تاریخ کے اوراق میں ہم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

 

تحریر: جواد پاروی

حوزہ نیوز ایجنسی|


امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی بلا اشتعال جنگ عبرتناک طریقے سے ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی نوآبادیاتی ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، واشنگٹن واپسی کا راستہ تلاش کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ امن "مذاکرات" میں ایران کا پلہ بھاری ہے۔ مزید برآں، خلیج فارس میں بحری آمد و رفت پر تہران کے نئے اور مضبوط کنٹرول نے (جسے نہ تو امریکہ اور نہ ہی کوئی دوسرا چیلنج کر سکا ہے) اسے زبردست معاشی برتری فراہم کر دی ہے۔ مزید یہ کہ، ایرانی عوام شہری اہداف پر حملوں کے ایک طویل سلسلے کے باوجود متحد کھڑے ہیں۔ ان حملوں کا آغاز سابق رہبر سید علی خامنہ ای کی شہادت اور جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول میں 168 افراد، جن میں زیادہ تر طالبات تھیں، کے قتلِ عام سے ہوا تھا۔ عوام کی یہ یکجہتی اسلامی جمہوریہ کے استحکام اور مستقبل کی ضمانت بن گئی ہے۔

یہ ایک عجیب جنگ ہے، جیسا کہ میں نے اس کے تیسرے اور چوتھے ہفتے میں مشاہدہ کیا۔ اکثر بڑے شہروں میں روزمرہ کی زندگی معمول کے مطابق جاری تھی، جبکہ پس منظر میں دہشت گردانہ کارروائیاں ہو رہی تھیں۔ تہران کے نیلوفر اسکوائر پر ایک بیکری کے مالک نے مجھے بتایا کہ یہ 1980ء کی دہائی کی ایران عراق جنگ جیسی روایتی جنگ نہیں ہے جہاں فوجیں فرنٹ لائن پر ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس بیکری کی عمارت ایک دشمن میزائل سے تباہ ہو گئی تھی جس کا ہدف برابر میں واقع پولیس اسٹیشن تھا۔ نیلوفر اسکوائر پر اس حملے میں درجنوں افراد ایک قریبی کیفے اور رہائشی اپارٹمنٹس میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ میں 19 سے 31 مارچ کے درمیان ایرانی میڈیا کی میزبانی میں چار مبصرین کے ایک گروپ (ایک ترک صحافی، ایک یونانی وکیل و صحافی اور ایک شمالی امریکی ویڈیو گرافر) کا حصہ تھا۔ہمارا دورہ شمالی شہر تبریز سے شروع ہوا اور تہران، اصفہان، شیراز، بوشہر، بندر عباس اور میناب (اسکول کی طالبات کے قتلِ عام کی جگہ) تک گیا۔

ہم زیادہ تر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد کے اثرات اور بڑے شہروں میں تقریباً ہر شام لوگوں کی حب الوطنی پر مبنی متحرک لہر کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ ہر ایرانی شہر میں، دسیوں ہزار لوگ ہر شام اپنے ملک کی حمایت میں باہر نکلتے تھے۔ اس میں تہران کی امام خمینی مسجد میں عید کی نماز کا ایک بہت بڑا اجتماع بھی شامل تھا، جو 35 برسوں میں پہلا ایسا اجتماع تھا جس سے شہید ایرانی رہنما سید علی خامنہ ای نے خطاب نہیں کیا تھا۔ رپورٹس اور مشاہدات سے معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ، خواہ ان کے سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں (بشمول وہ لوگ جو دوسرے ممالک سے واپس آئے تھے) اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے پرجوش تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران پر ٹرمپ کا حملہ اسرائیلی پروپیگنڈے کی وجہ سے ہوا، جس میں بار بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ "حکومت" انتہائی غیر مقبول اور تنہا ہے، جس کے لیے اکثر جانبدارانہ سروے کا سہارا لیا گیا۔ اسرائیلی پروپیگنڈے نے تجویز دی تھی کہ اگر قیادت کو ختم کر دیا گیا تو ایرانی عوام اس "حکومت" کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا، یہاں تک کہ کئی رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی نہیں۔ یہ "اپنی ہی جھوٹی باتوں پر یقین کرنے" کا نتیجہ ہے، جو زیادہ تر اسرائیلی 'ہاسبرا' (Hasbara) مہمات کا پیدا کردہ تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ اسلامی جمہوریہ سے نفرت کی جاتی ہے اور یہ کمزور ہے۔ اس مہم نے جنوری 2026ء میں موساد اور سی آئی اے کی جانب سے بھڑکائی گئی تشدد کی لہر کا فائدہ اٹھایا، جیسا کہ اسرائیلی میڈیا اور سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیک پومپیو نے اعتراف کیا تھا۔ اس لہر نے معاشی احتجاج (کرنسی کی گراوٹ کے بعد) کا رخ موڑا اور 3,000 سے زائد افراد کو قتل کیا، جن میں سینکڑوں پولیس اہلکار اور رضاکار (بسیج) شامل تھے۔ ایران میں ہمارے گروپ نے ہر طرح کے لوگوں، خاص طور پر خواتین کو اپنے ملک اور فوج کے دفاع کے لیے باہر نکلتے دیکھا۔ ٹرمپ-اسرائیل جنگ کا مقصد کبھی واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اسرائیلی ایران کو تباہ یا ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے تھے۔ جنگ کے کسی واضح جواز کی کمی کی وجہ سے بہت سے امریکی اتحادیوں نے دوری اختیار کر لی۔

ایران کی میزائل اور ڈرون قوت نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک اسرائیلیوں کو سزا دی، جبکہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں موجود تمام 13 امریکی اڈوں کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ایرانی میزائلوں کے خوف سے امریکی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب نہ آ سکے۔ اسی وجوہات کی بنا پر امریکہ نے کوئی زمینی حملہ بھی نہیں کیا۔ پھر بھی ہم نے شہروں سے گزرتے ہوئے صدمے سے دوچار خاندان دیکھے۔ تہران کے رسالت محلے میں ایک رہائشی علاقہ دشمن کے میزائلوں سے تباہ ہو گیا جس میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے۔ وہاں کوئی تزویراتی یا فوجی ہدف نہیں تھا۔ اصفہان میں ہم نے آئی آر جی سی (IRGC) کے کرنل مہدی نصر آزادانی کے جنازے میں شرکت کی، جو 20 دن کی ڈیوٹی کے بعد گھر لوٹے تھے اور امریکی-اسرائیلی میزائل حملے میں اپنی والدہ، بیوی اور دو بچوں سمیت شہید ہو گئے۔ ہم نے ان کی واحد بچ جانے والی بچی زینب سے اسپتال میں ملاقات کی جو لائف سپورٹ پر تھی، اور اسے علم نہیں تھا کہ اس کا پورا خاندان ختم ہو چکا ہے۔

ہم نے تبریز میں ایک ڈاکخانے کے ملازم کے سوگوار خاندان کو دیکھا، ہنگامی امدادی کارکنوں اور دیہاتیوں کو دیکھا جو شیراز کے مضافات میں فضائی مقناطیسی بارودی سرنگوں سے زخمی یا ہلاک ہوئے تھے۔ شیراز کے اسپتال میں ہماری ملاقات 12 سالہ سالار سے ہوئی، جو فٹ بال کا کھلاڑی تھا اور اسپورٹس گراؤنڈ پر میزائل حملے میں بچ گیا تھا، جہاں 20 افراد قتل ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس حملے میں نیا "پریسیژن اسٹرائیک میزائل" (PrSM) استعمال کیا گیا تھا، جسے بحرین سے فائر کیا گیا تھا۔ اگرچہ ہمارے مشاہدات محدود تھے، لیکن تہران میں ایرانی ہلالِ احمر نے ہمیں بتایا کہ شہری مقامات پر 81,000 حملے ہو چکے ہیں۔ اپریل کے اوائل تک ہلالِ احمر کے مطابق 2,100 سے زائد افراد شہید اور 115,000 شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔تہران میں تاریخی گلستان محل اور پہلوی محل میوزیم کمپلیکس کو بنکر بسٹر بموں سے شدید نقصان پہنچا، جبکہ اصفہان میں چہل ستون محل کو بھی نقصان پہنچا۔ جب ہم بوشہر سے بندر عباس اور پھر میناب پہنچے تو وہاں اسکول کے قتلِ عام کے متاثرین کے والدین کو ابھی تک قبرستان میں اپنے بچوں کے غم میں بیٹھے دیکھا۔

بہت سے لوگوں نے بچوں کے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے بیگ تھامے ہوئے تھے جو اس قتلِ عام کی علامت بن چکے ہیں۔ امریکی فوج کی سابق کاؤنٹر ٹیررازم انٹیلی جنس آفیسر جوزفین گیلبیو نے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا اور امریکی افسران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بندر عباس واپسی پر ہم نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز "بند" نہیں تھی، بلکہ دشمن سے منسلک بحری جہازوں کو آئی آر جی سی نے روک دیا تھا، جبکہ کچھ خلیجی ریاستوں کے جہازوں سے ٹول ٹیکس لیا جا رہا تھا اور دوست ممالک (مثلاً عراق اور چین) کے جہاز آزادانہ گزر رہے تھے۔ امریکہ آبنائے کا کنٹرول حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ مجموعی طور پر، ایران کے برسوں کے "اسٹریٹجک صبر" کا خاتمہ واشنگٹن کے براہ راست حملوں کے ساتھ ہوا، جس نے تہران کو دنیا کی 20 فیصد توانائی کی سپلائی کے گیٹ وے پر کنٹرول کا ایک طاقتور ہتھیار دے دیا ہے۔ مغربی میڈیا نے اس پر سخت ردعمل دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی-اسرائیلی جنگ بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ جیت رہے ہیں، لیکن حقیقت میں امریکہ نے اپنے درجنوں طیارے اور فوجی اڈے کھو دیے۔ پروفیسر جان میئر شائمر جیسے تجزیہ کاروں نے تسلیم کیا کہ ایران نے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسرائیلیوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو "زہر آلود" کر دیا ہے۔ برطانوی تجزیہ کار ڈیوڈ ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حماقت نے خلیج فارس میں ایران کی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ کی اس شکست کا ممکنہ نتیجہ خلیج فارس سے تمام امریکی اڈوں کا انخلاء ہو سکتا ہے، جو اب ایران کا اہم مطالبہ ہے۔ یہ امریکی عالمی بالادستی کے زوال کا ایک اور قدم ہے۔ یاد رہے کہ چین بھی ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا حامی ہے کیونکہ یہ اس کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ بہرحال، ٹرمپ اب اپنی اس عظیم ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی فرضی "فتح" کی تلاش میں ہوں گے۔
 
 
 

تہران(IRNA) ایرانی فوج نے بتایا ہے کہ ایرانی بحریہ کے آپریشنل تعاون سے ایرانی آئل ٹینکر "سلی سٹی" کے ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوگيا ہے۔

ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق دہشت گرد امریکی فوج کے بحری بیڑے کی دھمکیوں پرواہ نہ کرتے ہوئے سلی سٹی آئل ٹینکر بحفاظت ایران سمندری حدوہ میں پہنچ گيا ہے۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر گزشتہ رات بحریہ آپریشنل کمک اور شیلٹر میں بحیرہ عرب سے گزرنے کے بعد ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوا اور چند گھنٹوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوبی بندرگاہوں میں سے ایک پر لنگر انداز ہوگیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بحیرہ عمان میں بحری جہاز پر امریکی حملے کو قزاقی عمل قرار دے کر شدید مذمت کی ہے

تفصیلات کے مطابق ترجمان بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عارضی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری جہاز کے عملے و ان کے اہل خانہ کو یرغمال بنایا ہے۔

انہوں نے جہاز اور عملے کی فوری رہائی کے لیے اقوام متحدہ، سیکیورٹی کونسل اور بین الاقوامی بحری امور کی تنظیم سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

وزارت خارجہ نے امریکہ اس خطرناک کاروائی کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا۔

لاہور میں سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی سینئر صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ، خلیج فارس کے ممالک اور خطے سمیت ملک کی سیاسی صورت حال پر بات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کے ائیر بیسز ان کے لئے دفاعی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ثالثی کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا ہے مگر حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی ہے، ہمٰں مستقل پالیسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں بھی جنگ کا حصہ بن جائیں گی۔ 

 ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ اب تک ایران کا کوئی بھی وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نہیں گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز سے مختلف بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع ابلاغ مسلسل ایسی خبریں نشر کرتے رہے جن میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کا دعوی کیا گیا۔ بعض رپورٹس میں تو یہاں تک کہا گیا کہ ایرانی وفد کی پاکستانی حکام سے ملاقات کا وقت بھی طے ہوچکا ہے تاہم یہ تمام اطلاعات غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح اور مستقل موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دھمکیوں اور عہد شکنی کے ماحول میں مذاکرات کو قبول نہیں کرتا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق مذاکرات میں مزید شرکت کا انحصار امریکہ کے رویے اور پالیسی میں تبدیلی پر ہوگا۔