سلیمانی

سلیمانی

تہران (IRNA) ایران کی پارلیمنٹ مجلسِ شورائے اسلامی میں عیسائی اقلیتوں آشوری، کلدانی کیتھولک اور ارمنی نمائندوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لئو چہاردہم کی توہین انسانیت کے خلاف اقدام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنماؤں کی توہین اور مقدسات کی بے حرمتی کسی بھی آزاد منش انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔

ارنا کے مطابق، ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں اقلیتی نمائندوں شارلی انویه‌تکیه، آرا شاوردیان اور گقارد منصوریان نے اپنے بیان میں ایران سے متعلق پوپ لئو چہاردہم کے مؤقف کی قدردانی بھی کی۔

بیان میں کہا گیا کہ خدا انسانوں میں امن کے پیغام کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ پوری دنیا ایک انسانی خاندان کی صورت اختیار کرے۔

پوپ لئو چہاردم کے نام اپنے پیغام میں عیسائی ارکان پارلیمان نے ایران کے خلاف حملوں کے بارے میں پوپ لئو چہاردم کے واضح مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی صدر کے ذریعہ پوپ کی اہانت کی مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ پوپ کی توہین نہ صرف عیسی مسیح کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ امن، انصاف اور انسانیت کے اصولوں پر حملہ بھی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ میں اہداف کی حصولی میں ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر پر اندرون ملک اور بیرون ملک دباو میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین اور سیاسی رہنما کسی منصوبہ بندی کے بغیر جنگ شروع کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید کررہے ہیں۔

 رِچَـرڈ اسٹیـنگل، جو اوباما دور میں امریکہ کے سفارتکار رچرڈ اسٹینگل نے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا کہ وکٹر اوربان اپنی تمام آمرانہ یوں کے باوجود، آخر میں صحیح قدم اٹھایا اور انتخابی شکست کو قبول کیا، دھاندلی کے جھوٹے الزامات نہیں لگائے، اپنے حریف سے رابطہ کیا اور اسے مبارکباد دی۔

سابق امریکی سفارتکار نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ شکست کو قبول کیجیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ سبق ہے جو امریکی قدامت پسندوں کو وکٹر اوربان سے سیکھنا چاہیے۔

جنگ بندی کے باوجود صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان کے جنوبی علاقوں پر حملے جاری ہیں۔

لبنان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی علاقوں، بشمول العباسیہ، صور، فلسیہ اور القاسمیہ میں اسرائیلی فضائیہ نے متعدد فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب، حزب اللہ لبنان نے اعلان کیا کہ گذشتہ روز بقاع میں ایک اسرائیلی جنگی طیارے کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں، جنوب لبنان کے صدیقین علاقے میں حزب اللہ نے اسرائیلی ڈرون ہرمیس 450 - زیک کو تباہ کردیا ہے۔


ایران کیساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد ٹرمپ بوکھلا گیا ہے اور اس بوکھلاہٹ میں ایران کے ساتھ ساتھ یورپ اور اپنے اتحادیوں کو بھی لتاڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اتحادیوں کے ساتھ اس نے عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ حالانکہ پوپ نے امن کی بات کی تھی، انسانیت کی بات کی تھی اور جنگوں کی مخالفت میں بولے تھے، لیکن یہ جنگوں کے شوقین ٹرمپ کو یہ اچھا نہ لگا اور اس نے پوپ کو بھی نشانے پر لے لیا۔ یہ وہ موڑ ہے، جہاں پر ٹرمپ امریکہ کیلئے گڑھا کھود رہا ہے۔ اگر ٹرمپ کو فوری طور پر اقتدار سے الگ نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب امریکہ تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا نے کھلے عام امریکہ کو صاف جواب دیدیا ہے اور کسی بھی امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خود امریکہ کے انڈر ٹرمپ کی اپنی پارٹی اس کیخلاف ہو گئی ہے اور امریکی صدر کے محاسبے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب آج ٹرمپ نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر وہاں سے ہونیوالی آمدورفت کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ اور واضح ہے کہ ایران نے امریکہ سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جے ڈی وینس کہتے ہیں کہ ایران نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ ’’ایران امریکہ کی بات کیوں مانے؟ اور بات بھی وہ جو ناجائز ہے‘‘۔ ایسی صورتحال میں ایران کا موقف مدلل رہا اور انہوں نے منطق اور دلیل کی بنیاد پر مذاکرات کئے، امریکہ کو آئینہ دکھایا ہے کہ اب دنیا بدل چکی ہے، اب امریکہ سپر پاور نہیں رہا، اور اب دنیا کی تقدیر کے فیصلے واشنگٹن میں نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ میں ہوں گے۔ اب عالم مشرق کا جنیوا تہران بن گیا ہے اور اب قرہ ارض کی تقدیر بدلے گی۔ اب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور اب قومیں اور ملک آزاد ہوں گے۔ امریکی طوق اب گلے میں نہیں رہیں گے۔

یہاں تک کہ امریکی اخبار کی ہی رپورٹ ہے کہ عرب ملکوں میں ایران کے ہاتھوں امریکی اڈوں کی تباہی کے بعد عرب حکمرانوں نے بھی سوچنا شروع کر دیا ہے، کہ امریکہ نے تو ان کا دفاع نہیں کیا، وہ امریکہ جو اپنے اڈے نہیں بچا سکا، وہ عربوں کو ایران سے کیا بچائے گا۔ ایران نے نہ صرف اڈے تباہ کئے بلکہ امریکہ کے مہنگے مہنگے دفاعی نظام بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیئے۔ امریکہ کے اٹھارہ طیارے ناکارہ بنا کر رکھ دیئے گئے۔ سپر پاور کا یہ مصنوعی رعب اور دبدبہ ایران نے خلیج فارس میں ڈبو دیا۔ ٹرمپ ایک طرف دعویٰ کرتا ہے کہ اس سے ایرانی نیوی کو سمندر میں غرق کر دیا ہے، اگر ٹرمپ سچ بول رہا ہے، تو آبنائے ہرمز کیوں نہیں کھلوا پا رہا؟ ایران آج بھی مضبوط دفاع رکھتا ہے بلکہ ماضی کی نسبت آج ایران کا دفاع انتہائی مضبوط ہے۔ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ اب تک ہم نے پرانے ہتھیار استعمال کئے ہیں، ابھی تو ہمارے پاس ہتھیاروں کی جدید کھیپ بھی موجود ہے اور یہ ہتھیار ایسے ہیں کہ دنیا ایٹم بم کو بھول جائے گی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران انتہائی خطرناک ہتھیار بنا چکا ہے، اور اس بات کا ادراک امریکی دانشوروں اور سیاستدانوں کو بھی ہو چکا ہے، لیکن ٹرمپ کی بیوقوفیاں امریکہ کو مروا دیں گے۔ ٹرمپ کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے ایران کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب عرب ممالک سے بھی ایران سے محبت اور خیر سگالی کے پیغامات آ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں بھی ایسی باتیں ہو رہی ہیں، جن میں اب بلاک بدلنے پر غور ہو رہا ہے اور حالات اس طرف آ رہے ہیں کہ امریکہ کو چھوڑ کر روس، چین اور ایران پر مشتمل ایک مشرقی بلاک تشکیل دیا جائے اور اس میں ترکیہ، پاکستان، عراق سمیت تمام عرب ممالک شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بدلتے ہوئے رویے پر ٹرمپ نے محمد بن سلمان کی توہین بھی کی۔ اگر یہ بلاک معرض وجود میں آتا ہے، جو کہ بہت قریب ہے، تو پیٹرو ڈالر منصوبے سمیت خطے سے امریکی اثرورسوخ ختم ہو جائے گا اور ایران کا ہدف بھی یہی ہے کہ امریکہ کو خطے سے نکالنا ہے اور اس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بہت مدد کی ہے۔ اور یہی ٹرمپ امریکہ کو تنہا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جس پر ٹرمپ کو شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں، بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں اور بحری قزاقی کے مترادف ہے۔ ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکیوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے ایک مستقل نظام نافذ کرے گا، اگر ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور خلیج عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

سکردو بلتستان پاکستان میں قائدِ امت شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے عظیم الشان اجتماع، شہر کے سب سے بڑے میونسپل گروانڈ میں منعقد ہوا جس میں لاکھوں عاشقانِ رہبرِ انقلاب نے شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو بلتستان پاکستان میں قائدِ امت شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے عظیم الشان اجتماع، شہر کے سب سے بڑے میونسپل گروانڈ میں منعقد ہوا جس میں لاکھوں عاشقانِ رہبرِ انقلاب نے شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ 

 

 

 
مولانا یاسین حسین کا تعلق مقبوضہ کشمیر ضلع بارہمولہ سے ہے، ابتدائی تعلیم مقبوضہ کشمیر کے جامعہ علمیہ امام رضا (ع) میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسلامی جمہوری ایران کا رخ کیا۔ مولانا یاسین حسین جامعہ علمیہ امام رضا (ع) کے مسئول اور مجمع اسلامی کشمیر کے بانی ممبر بھی ہیں۔ جامعہ علمیہ امام رضا (ع) کی زیر نظارت جامع مسجد میں امام جمعہ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مولانا یاسین حسین قمی سے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال، چالیس روزہ جنگ میں ایران کی امریکہ و اسرائیل پر فتح و کامیابی، رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کے اثرات اور امریکہ و ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سپر پاور کا بھرم ایران نے 40 دن میں ہی خاک میں ملا دیا، اب الحمد اللہ دنیا پر آشکار ہوگیا کہ ایران بھی اپنی استقامت و جوانمردی سے ایک مضبوط طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عرب حکمرانوں کی بیداری کا آخری وقت ہے شاید انکی بیداری کا اس سے بہتر موقع ہاتھ نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ایران امن کا خواہاں لیکن امریکہ امن ِعالم کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اصل چہرے کو پہچنوایا کہ یہ ہرگز قابل اعتماد نہیں ہیں۔ خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔  قارئین 

 ارنا نے پولیٹیکو جریدے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پوپ لئو چہاردہم نے کہا ہے کہ خود پسندی اور دولت پرستی بہت ہوچکی! اب جنگ بند کی جائے۔

کیتھولک عیسائیوں کے پیشوائے اعظم نے اپنے اب تک کے سخت ترین بیان میں،جھوٹی طاقت کے نشے کی مذمت کی اور کہا کہ یہی نشہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائيل کی جنگ کا باعث بنا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ بہت  ہوچکا، اب یہ جنگ بند کی جائے۔

 قابل ذکر ہے کہ پوپ لئو چہاردہم نے پاکستان میں  ایران امریکا مذاکرات شروع ہوتے ہی سینٹ پیٹر چرچ میں، دعائیہ تقریب منعقد کی تھی۔  

 پوپ لئو چہاردہم نے، جو امریکا میں پیدا ہوئے ہیں، اپنی دعا میں امریکا یا ٹرمپ کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا انداز اور لہجہ بتارہا تھا کہ وہ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام سے مخاطب ہیں جنھوں نے امریکا کی نام نہاد فوجی برتری کے نشے میں چور ہوکر، مذہبی اصطلاحات کے ساتھ جنگ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

شیکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جان مرشمائر نے کہا ہے کہ یہ جنگ امریکی خارجہ پالیسی کی بہت بڑی ناکامی ہے اور امریکا کی سیاست اور معیشت پر اس کے بہت سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

 ارنا کے مطابق جان مرشمائر نے العربی الجدید نے کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ جنگ ہار چکی ہے، ہارے ہوئے پتے سے کھیل رہی ہے، اور اس جنگ کا بند ہوجانا اس کے صدر کے فائدے میں ہے۔  

انھوں نے ٹرمپ حکومت اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے حصول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اندازہ لگانا کہ دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہوجائے گا بہت مشکل ہے لیکن جو بات کھل کر سامنے آچکی ہے وہ یہ ہے کہ ایران جنگ جیت چکا ہے۔

 امریکا کے ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار پروفیسر مرشمائر نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس جنگ کا فاتح امریکا نہیں ایران ہے۔

 پروفیسر مرشمائر نے کہا کہ ٹرمپ نے  اسرائیل کے لئے یہ جنگ شروع کی ہے اور اس کے بعد یہ جنگ المیئے میں تبدیل ہوگئی۔ اس کو  امریکی عوام بھی جانتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکیوں کا ماننا ہے کہ اس المیئے کے لئے  اسرائیل کی سرزنش ہونی چاہئے۔

پروفیسر مرشمائر نے کہا کہ آخر کار یہ جنگ اور اس سے وجود میں آنے والے المیئے امریکا اسرائیل روابط کے نقصان پر منتج ہوں گے۔  

سپاہ پاسداران انقلاب کے 59ویں بیان میں درج ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری فورس اعلان کرتی ہے کہ دشمن ملکوں کے بعض حکام کے جھوٹے دعووں برخلاف، آبنائے ہرمز منظم کنٹرول، اسمارٹ منیجمنٹ اور خاص قوانین کے تحت، غیرفوجی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلا ہوا ہے۔

لیکن اگر کسی جنگی جہاز نے کسی بھی عنوان یا بہانے کے ساتھ، آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کی، تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے اس جہاز کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا۔