سلیمانی
قم : اہل بیتؑ کا روحانی آشیانہ
انسانی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں زمین محض زمین نہیں رہتی بلکہ وہ آسمان سے جڑ جاتی ہے۔ قم بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے—خاموش مگر گویا، سادہ مگر پُر اسرار، جہاں ہر سانس میں ولایت کی خوشبو اور ہر گوشے میں علم کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جسے ایک عظیم خاتون کی مختصر مگر بابرکت حیات نے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا—حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا، جن کا وجود قم کے لیے روح اور امت کے لیے چراغ بن گیا۔
مدینہ منورہ کی نورانی فضا میں آپ کی ولادت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جس کے ہر فرد نے تاریخ کو نئی سمت دی۔ آپ نے آنکھ کھولی تو علم آپ کے سامنے تھا، عبادت آپ کے ماحول میں تھی، اور ولایت آپ کی سانسوں میں رچی بسی تھی۔ قرآن نے اہل بیتؑ کی اسی پاکیزگی کو یوں بیان کیا:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
ترجمہ: “اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں کامل پاکیزگی عطا کرے۔”
(سورۃ الاحزاب: 33)
یہ آیت صرف ایک فضیلت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا اعلان بھی ہے—اور حضرت معصومہؑ نے اپنی مختصر زندگی میں اس ذمہ داری کو اس طرح نبھایا کہ تاریخ حیران رہ گئی۔
آپ کی زندگی کا سب سے درخشاں پہلو وہ ہجرت ہے جو بظاہر ایک بہن کی اپنے بھائی سے ملاقات کی آرزو تھی، مگر حقیقت میں یہ ایک فکری و روحانی تحریک تھی۔ جب امام علی رضا علیہ السلام کو عباسی حکومت نے خراسان منتقل کیا تو مدینہ کی گلیاں سونی ہو گئیں۔ اس فراق نے حضرت معصومہؑ کے دل میں ایک ایسا شعلہ بھڑکایا جو انہیں سفر پر لے آیا۔ یہ سفر صرف میلوں کا نہیں بلکہ ایک پیغام کا سفر تھا—حق کے ساتھ وابستگی کا، ظلم کے مقابل صبر کا، اور ولایت کی تبلیغ کا۔
راستے کی سختیاں، ساوہ کا سانحہ، اور بیماری کی حالت—یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سفر عام نہیں تھا۔ اسی حالت میں آپ نے قم کا رخ کیا، گویا آپ کو معلوم تھا کہ اس سرزمین نے آپ کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کرنی ہے۔ جب آپ قم پہنچیں تو لوگوں نے جس عقیدت سے استقبال کیا، وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ دلوں میں اہل بیتؑ کی محبت پہلے ہی گھر کر چکی تھی، اور اب اسے ایک مرکز مل گیا تھا۔
آپ کی مختصر قیام نے قم کو بدل کر رکھ دیا۔ چند دنوں کی عبادت، دعا اور خاموش تعلیم نے اس شہر کی روح میں ایک ایسا اثر چھوڑا کہ وہ صدیوں تک باقی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہؑ نے قم اور حضرت معصومہؑ کی عظمت کو بارہا بیان فرمایا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:
«أَلَا إِنَّ قُمَّ عُشُّ آلِ مُحَمَّدٍ وَمَأْوَى شِيعَتِهِمْ»
ترجمہ: “خبردار! قم آلِ محمدؐ کا آشیانہ اور ان کے شیعوں کی پناہ گاہ ہے۔”
(بحار الانوار، ج 60، ص 217)
اور ایک اور روایت میں حضرت معصومہؑ کی شان یوں بیان ہوئی:
«مَنْ زَارَهَا عَارِفًا بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ: “جو ان کی زیارت ان کے حق کی معرفت کے ساتھ کرے، اس کے لیے جنت ہے۔”
(بحار الانوار، ج 60، ص 228)
یہ “معرفت” دراصل اس پیغام کو سمجھنے کا نام ہے جو حضرت معصومہؑ نے اپنی زندگی سے دیا—کہ علم بغیر ولایت کے ادھورا ہے، اور ولایت بغیر شعور کے بے اثر۔
آج قم کو دیکھیں تو وہ ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ ادارہ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں مدارس، کتب خانے، تحقیقی مراکز اور علمی حلقے موجود ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ اس شہر میں علمِ دین حاصل کرتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں فکر، عبادت اور عمل ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ یہاں کے مدرسوں میں صرف کتابیں نہیں کھلتیں بلکہ ذہن بھی روشن ہوتے ہیں، اور یہاں کے صحنوں میں صرف قدم نہیں پڑتے بلکہ تقدیریں بدلتی ہیں۔
قم کی فضا میں ایک عجیب سکون ہے۔ فجر کے وقت جب اذان کی آواز حرم کے گنبد سے ٹکرا کر پورے شہر میں پھیلتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خود زمین بھی عبادت میں مشغول ہو گئی ہو۔ دن کے وقت طلبہ کے مباحثے، رات کے وقت زائرین کی دعائیں—یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جو دنیا کے کسی اور مقام پر کم ہی نظر آتا ہے۔
اسی سرزمین سے فکری بیداری کی وہ لہریں اٹھیں جنہوں نے زمانے کا رخ بدل دیا۔ یہاں سے اٹھنے والی آوازوں نے نہ صرف ایک ملک بلکہ پوری امت کو متاثر کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب علم اور روحانیت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو وہ صرف افراد نہیں بلکہ تاریخیں بدل دیتے ہیں۔
حرمِ حضرت معصومہؑ آج بھی صرف ایک زیارت گاہ نہیں بلکہ ایک تربیت گاہ ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ لے کر جاتا ہے—کوئی سکون، کوئی یقین، کوئی عزم، اور کوئی آنسو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دل نرم ہوتے ہیں، نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور انسان اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے۔
خدایا جس طرح تو نے اس پاکیزہ خاتون کے ذریعے قم کو علم و نور کا مرکز بنایا، ہمیں بھی وہ نور عطا فرما کہ ہم اپنی زندگیوں کو تیرے دین کے لیے وقف کر سکیں۔ ہمیں وہ بصیرت دے کہ ہم حق کو پہچان سکیں، اور وہ استقامت دے کہ ہم اس پر قائم رہ سکیں۔ اور ہمیں حضرت معصومہؑ کی سچی محبت اور ان کی زیارت کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
آبنائے ہرمز پر کنٹرول، ایران کی اسٹریٹجک طاقت میں نمایاں اضافہ ہے، سابق سی آئی اے سربراہ
امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اور سینٹکام کے سابق کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ جنگ کے باعث ہو سکتا ہے ایران عسکری لحاظ سے کمزور ہوا ہو، لیکن اس کے نتیجے میں وہ حکمت عملی کے اعتبار سے مزید مضبوط بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی اسٹریٹجک طاقت کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کس حد تک کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت اور ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے دنیا کے کئی حصوں میں توانائی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی فائرنگ پر سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کا فوری ردعمل، امریکہ کو پسپائی کا سامنا
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے بحیرۂ عمان کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی فائرنگ کے واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے امریکی دہشتگرد اہلکاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور بھارتی و برطانوی تجارتی جہازوں کو واپس بھیجنے کے بعد، سپاہ پاسداران کی کنٹرول کارروائیوں کے تناظر میں امریکی دہشتگرد اہلکاروں نے ایک ایرانی تجارتی جہاز کو واپس موڑنے کے لیے فائرنگ کی۔
سپاہ پاسداران کی بحریہ کی بروقت مداخلت اور تیز ردعمل کے بعد امریکی اہلکار علاقے سے پسپا ہو گئے۔
سرکش طاقتوں کو ان کی اوقات یاد دلانے میں ہمیں مہارت حاصل ہے: ایران
صدارتی دفتر کے روابط عامہ کے سربراہ سید مہدی طباطبائی نے کہا ہے کہ ایران ایک امن پسند ملک ہے لیکن سرکش طاقتوں کو ان کی اوقات یاد دلانے میں بھی مہارت رکھتا ہے۔
سید مہدی طباطبائی نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران نے اپنی نیک نیتی اور امن پسندی کو ثابت کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے کچھ شرائط کے تحت آمد و رفت کو ممکن بنایا لیکن [فریق مقابل نے] معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ہماری رحم دلی کو اپنے پروپیگینڈا مہم کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا جس کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے لکھا کہ تاریخ ثابت کرچکی ہے کہ ہم جتنا امن پسند ہیں، سرکش طاقتوں کو ان کی اوقات یاد دلانے میں اتنی ہی مہارت رکھتے ہیں۔
ایرانی فوج کا اہم اعلان — آبنائے ہرمز کی صورتحال دوبارہ سخت کنٹرول میں
تہران (IRNA) ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ پہلے والی سخت نگرانی کی حالت میں واپس لے آیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے حسنِ نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محدود تعداد میں تیل بردار اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، مگر امریکہ کی مسلسل بدعہدی اور سمندری جارحیت کے باعث یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
ایرانی مسلح افواج نے اس اہم گزرگاہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بحری آمد و رفت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول برقرار رہے گا۔
آبنائے ہرمز بدستور ایران کے کنٹرول میں ہے/ نئے سمجھوتے کوئی سوال ہی نہیں: ترجمان وزارت خارجہ
اسماعیل بقائی نے قومی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رفت آمد کو فریق مقابلے کے رویوں سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فریق مقابل نے کوتاہی کی تو ایران ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کی نگرانی اور کنٹرول میں ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگا ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ وزیر خارجہ سیدعباس عراقچی کے ٹوئٹ میں واضح کردیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت ایران کی جانب سے طے شدہ راستے سے اور ایران کی پورٹ اینڈ شپنگ اتھارٹی کی اجازت سے انجام پاسکے گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر فریق مقابل نے وعدہ خلافی کی تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی جوابی اقدامات انجام دے گا اور اس بارے میں ضروری فیصلے اور اقدامات پہلے ہی کيے جاچکے ہیں۔
ایران کے بحری محاصرے کے حوالے سے پوچھےگئے ایک سوال کے جواب میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تہران لازمی اقدامات پر مجبور ہوگا اور اس حوالے سے ذرہ برابر کوتائي نہیں کی جائے گي۔
آبنائے ہرمز کے لیے نئے احکامات جاری کردیئے ہیں: آئی آر جی سی نیول کمانڈ کا اعلان
سپاہ پاسداران کی نیول کمانڈ نے اپنے سوشل میڈیا ہنڈل ایکس پر جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے جاری کردہ نئے حکم نامے کے تحت صرف کمرشل جہازوں کو پہلے سے طے شدہ راستے سے گزرنے کی اجازت ہوگی جبکہ فوجی جہازوں کا داخلہ بدستور بند رہے گا۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بھی سپاہ پاسداران کی نیول کمانڈ کی اجازت سے ممکن ہوگی۔
سپاہ پاسداران کی نیو کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رفت و آمد میدان جنگ میں سکوت (جنگ بندی) کے بارے میں ہونے والے اتفاق رائے کے تحت اور جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
ارنا کے مطابق، آبنائے ہرمز کی صورتحال، جہاں سے دنیا کی تیل کا ایک چوتھائی گزرتا ہے، ایران کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کے بعد بین الاقوامی مباحثے کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے چند گھنٹے قبل اپنے ایکس پیغام میں آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ بعد، جنگ بندی کی باقی ماندہ مدت کے دوران تمام تجارتی بحری بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادی کے ساتھ گزر سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت ایران کی پورٹ اینڈ شپنگ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ روٹ کے ذریعے انجام پائے گي جسکا اعلان پہلے ہی جاچکا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کوغاصب صیہونی حکومت کی ناتوانی کا ثبوت ہے: حماس
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت اپنے اہداف میں ناکام ہوگئي ہے۔ انھوں نے کہا کہ حزب اللہ نے اس غاصب حکومت کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ صیہونی حکومت لبنان کی عوامی تحریک مزاحمت(حزب اللہ) پر اپنی مرضی کبھی بھی مسلط نہیں کرسکتی۔
یاد رہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیان رات نصف شب سے لبنان میں جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے.
غاصب صیہونی حکومت ایسی حالت میں لبنان میں جنگ بندی پر مجبور ہوئی ہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ دنوں اس کی جارحیت کے جواب میں اس کے فوجی اور اسٹریٹیجک اہداف پر بہت ہی کاری حملے کئے تھے۔
یاد رہے کہ ایران نے شروع سے ہی اس بات پر زور دیا تھا کہ علاقے میں جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کرنا پڑے گا اور جب تک لبنان پر غاصب صیہونی حکومت کے حملے جاری رہیں گے، امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
پختہ عزم، آہنی ارادے کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں: آرمی چیف
ارنا کے مطابق نیشنل آرمی ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں میجنرل امیر حاتمی نے کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج پختہ عزم، بیدار نگاہوں اور مضبوط ارادے کے ساتھ ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے اور دشمن کے ہر حملے یا دھمکی کا جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے آرمی ڈے کو اسلامی انقلاب کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بانی نے دور اندیشی کے ساتھ فوج کو ختم ہونے سے بچایا اور اسے ملک کی سلامتی کے مضبوط محافظ کے طور پر قائم رکھا۔
آرمی چیف نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک ایرانی فوج نے ہمیشہ قوت، شجاعت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کے دفاع، آٹھ سالہ دفاع مقدس اور مختلف محاذوں پر فوج کی کارکردگی قابلِ فخر رہی ہے اور دشمن کو ملک کی آزادی اور ارضی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
میجرجنرل امیر حاتمی نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں بھی فوج ملکی دفاع، جدید صلاحیتوں اور ہمہ وقت تیاری کے ساتھ قومی سلامتی کا دفاع اور ملت پر جان نچھاور کر رہی ہے۔
آخری سفارتی کوشش
ایران کے لیے یہ مذاکرات کسی امید کی کرن سے زیادہ ایک سفارتی ذمہ داری تھے، ایک ایسی روایت کا تسلسل جس کے ذریعے وہ خود کو ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ ماضی کے تجربات میں امریکہ کے وعدے کس طرح وقت کے ساتھ اور متعدد بار دورانِ مذاکرات تحلیل ہوتے رہے ہیں اور کس طرح ہر معاہدہ کسی نہ کسی مرحلے پر یکطرفہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ایران نے اس عمل میں شرکت کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اب بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک طرح کی پہلے سے حاصل شدہ اخلاقی برتری میں اضافہ کرنے کی کوشش تھی، تاکہ کل اگر حالات مزید کشیدہ ہوں تو ایران یہ کہہ سکے کہ اس نے ہر بار ہر ممکن حد تک امن کی راہ اختیار کی تھی۔ درحقیقت ایران کی یہ حکمت عملی دوہری تھی، ایک طرف عالمی برادری کو مطمئن کرنا اور دوسری طرف اپنے داخلی حلقوں کو یہ باور کرانا کہ ریاست نے کسی بھی ممکنہ راستے کو نظر انداز نہیں کیا۔ یوں ایران مذاکرات میں شریک ہو کر بھی دراصل اپنی آئندہ سخت پالیسیوں کے لیے اخلاقی بنیاد تیار کر رہا تھا۔
امریکہ کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہ تھا، بلکہ شاید زیادہ پیچیدہ تھا۔ ایک طرف وہ دنیا کے سامنے خود کو امن کا داعی ظاہر کرنا چاہتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس پر یہ الزام بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے، اس کے اتحادی ساتھ چھوڑ چُکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک سمیت دُنیا بھر کے کئی ممالک آبنائے ہرمز پر ایرانی موقف کو سرکاری سطح پر مان چُکے ہیں۔ نیٹو کی حمایت میں بھی واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف اس کے اپنے ملک کے اندر ایک نئی بیداری جنم لے رہی ہے، جہاں عوامی سطح پر یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا اسرائیل کی جنگ امریکہ کو لڑنی چاہیے یا نہیں۔ ایسے ماحول میں یہ مذاکرات امریکہ کے لیے ایک موقع تھے کہ وہ عالمی اوربالخصوص داخلی دونوں سطحوں پر اپنے مؤقف کو تقویت دے سکے۔ وہ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ تو ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، مگر مسئلہ ایران کی پالیسیوں میں ہے۔ یوں یہ مذاکرات امریکہ کے لیے ایک سفارتی اقدام کم اور ایک بیانیہ مضبوط کرنے کا ذریعہ زیادہ تھے، تاکہ حسبِ سابق آنے والے کسی بھی سخت فیصلے کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا جا سکے کہ “ہم نے تو کوشش کی تھی”۔
پاکستان کے لیے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک کڑی آزمائش تھے، جہاں اسے بیک وقت کئی محاذوں پر توازن قائم رکھنا تھا۔ ایک طرف اسے عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، کے ساتھ اپنے معاملات کو سنبھالنا ہے، دوسری طرف فارن ریزرو کی مسلسل کمی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ اس کی معیشت پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں ایران کے ساتھ تعلقات بھی ایک حساس معاملہ بن جاتے ہیں، کیونکہ ایک طرف جغرافیائی اور مذہبی قربت ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ مالی اور دفاعی وابستگیاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی تعیناتی اور دفاعی تعاون میں اضافہ بھی اسی توازن کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے وہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تو کھڑا ہی ہے۔ مگر ایران سے بھی دشمنی نہیں رکھناچاہتا، پاکستان ایران کے سامنے کھل کر کہنا چاہتا تھا کہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی پوری کوشش کریں تاکہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو سعودی معاہدات کی بنا پر ایران کے سامنے کھڑا نہ ہونا پڑے۔
پاکستان کی اپنی مجبوریاں تھیں، جیسے کہ یو اے ای کی جانب سے دہائیوں پر محیط ساڑھے تین بلین ڈالر قرض کی اپریل کے آخر تک ادائیگی۔ اسی تناظر میں تقریباً پانچ ارب ڈالر کی متوقع سعودی و قطری مالی امداد بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آتی ہے، جس کی شرائط تاحال واضح نہیں، یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ اس میں سعودیہ کی طرف سے کتنی امداد ہے اور قطر کی طرف سے کتنی امداد دی گئی۔ آئندہ دو ہفتوں میں یہ عقدہ کُھل سکتا ہے۔{سعودی عرب کا تو دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدہ ہے پاکستان کے ساتھ مگر قطر کیوں امداد دے رہا ہے، اس کی وجہ معاشی تعاون بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان قطر کا خلیجی اتحادی بِھی ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان سے "ایل این جی" معاہدہ بھی رہا ہے۔ اسی لیے قطر پاکستان کو مستقل معاشی سہارا دینا چاہتا ہے تاکہ پاکستان علاقائی طورپر مستحکم رہے، اس کے علاوہ مستقبل قریب میں قطر کا بھی سعودی طرزپر پاکستان سے دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے}۔
مگر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آیا یہ واقعی امداد ہے یا ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری جس کے بدلے میں پاکستان سے مخصوص توقعات وابستہ ہوں گی۔ اپریل اور جون 2026 تک کی ادائیگیوں کے دباؤ کے پیشِ نظر یہ مالی سہارا پاکستان کے لیے وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی جیوپولیٹیکل توقعات مستقبل میں اس کی پالیسیوں کو محدود بھی کر سکتی ہیں۔ مذاکرات کے عین وسط میں پاکستان نے گزشتہ سال کے دفاعی معاہدے کے تحت تیرہ ہزار فوجی اور درجن سے زائد سٹیلٹھ طیارے سعودی عرب میں تعینات کر دیئے ہیں۔ مبصرین کے نزدیک یہ تعیناتی امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ اب سعودی عرب سے مکمل طور پر جانا ہو گا۔ پاکستان اس وقت ایک ایسی کشتی میں سوار ہے جسے بیک وقت دو مختلف سمتوں میں چلانا پڑ رہا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی مجبوری بھی ہے اور مہارت بھی۔
آخرکار یہ حقیقت اب زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی کہ یہ تینوں ممالک اپنی اپنی آخری سفارتی کوشش کر چکے ہیں، اور اب اگلا مرحلہ الفاظ سے زیادہ اقدامات کا ہوگا۔ مذاکرات کی میز پر جو کچھ کہا گیا وہ شاید تاریخ کے صفحات میں ایک رسمی کوشش کے طور پر درج ہو، مگر اصل کہانی اب اس کے بعد شروع ہوگی جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق کھل کر فیصلے کرے گا۔ یہ وہ مرحلہ ہوگا جہاں بیانیے کی جنگ عملی حکمت عملی میں بدل جائے گی، جہاں سفارتکاری کی نرم زبان کی جگہ طاقت کی واضح زبان لے سکتی ہے۔ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے دفاع میں مزید سخت مؤقف اختیار کرے گا، امریکہ اپنے عالمی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائے گا، اور پاکستان کو اپنی بقا اور توازن کے درمیان ایک بار پھر باریک لکیر پر چلنا ہوگا۔ یوں یہ مذاکرات ایک اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے دور کا آغاز ہیں جہاں مفادات کی سیاست کھل کر سامنے آئے گی اور ہر فیصلہ اپنے ساتھ ایک نئی قیمت لے کر آئے گا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
