سلیمانی
جنگ ختم نہیں ہوئی، جنگی سازمان اور ہتھیاروں کو از سرنو ترتیب دی جارہی ہے، ترجمان ایرانی فوج
ایرانی فوج کے ترجمان امیر محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ حقیقت میں ابھی ختم نہیں ہوئی اور مسلح افواج اپنی تمام دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل اور مزید مستحکم بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آخری دنوں تک دشمن نے کئی بار زمینی حملے کی دھمکیاں دیں، لیکن ایرانی زمینی فوج کی تیاری اور مضبوط دفاعی انتظامات کے باعث وہ کبھی سرحدوں کے راستے کوئی کارروائی نہ کر سکا۔
انہوں نے جنگی میدان میں زمینی فوج کے کردار اور کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے جنگ کے دوران ہر محاذ پر ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ فوجی کمان اور انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹوں سے واضح تھا کہ دشمن حملے کی تیاری کر رہا ہے، اسی لیے جنگ سے پہلے ہی فوج کے تمام یونٹس مکمل تیاری کی حالت میں تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ زمینی فورسز نے جنگ کے دوران کئی اہم کارروائیاں کیں، جن میں دشمن کے ٹھکانوں پر فجر اور فتح میزائلوں سے کامیاب حملے بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے زمینی فوج نے مسلسل نگرانی اور دفاعی اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں دشمن آخر تک زمینی حملے کی ہمت نہ کر سکا۔ سپاہ پاسداران کے ساتھ مل کر زمینی فورسز کی مشترکہ تیاری نے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا۔
امیر اکرمینیا نے فضائیہ کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی جنگی طیاروں نے خطے میں دشمن کے مختلف مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں اربیل، کویت اور قطر میں قائم ٹھکانے شامل تھے۔ ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں اس کارروائی کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے، جہاں ایرانی ایف-5 طیارے شدید دفاعی حصار عبور کرکے امریکی اڈے تک پہنچ کر اسے نشانہ بنایا۔ فضائیہ نے جنگ کے آخری دن تک دشمن کے مختلف مقامات پر ڈرون حملے جاری رکھے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی اصفہان میں دشمن کی دراندازی کے موقع پر زمینی فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی طیارہ مار گرایا، جس سے دشمن کی کارروائی ناکام ہوگئی۔
ایران جنگ کے اثرات، عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کی معیشت خطرے میں
خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی جھڑپوں کے دوران عرب میڈیا نے مختلف زاویوں سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا ہے، جس سے ایک ایسے پیچیدہ بحران کی تصویر سامنے آتی ہے جس کے معاشی، سیاسی اور تزویراتی اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ان تجزیات میں صرف جنگ کے میدان کے نتائج ہی نہیں بلکہ امریکہ کی عالمی حیثیت، اس کے اعلان کردہ اہداف کی کامیابی یا ناکامی، اور اس تصادم کے علاقائی و عالمی توازن پر اثرات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔
ان رپورٹس کا بڑا حصہ اس جنگ کے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات پر مرکوز ہے، خاص طور پر خلیج فارس کے ممالک کے لیے، جو آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ، توانائی کی تجارت میں خلل اور منڈیوں میں عدم استحکام کے باعث شدید معاشی جھٹکوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی دوران بعض میڈیا اداروں نے واشنگٹن اور شخصی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں تضادات کو بھی اجاگر کیا ہے اور کہا ہے کہ اعلان کردہ اہداف اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ اور اس کی بحران کو سنبھالنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ کچھ تجزیے عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب کی معیشت پر اس جنگ کے طویل المدتی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں۔
ان تمام تجزیات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ مختلف نقطہ نظر رکھنے کے باوجود عرب میڈیا اس بات پر متفق ہے کہ اس جنگ نے خطے کے سابقہ توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے اور امریکہ کے ساتھ عرب ممالک کے مستقبل کے تعلقات اور حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
المیادین: کیا ٹرمپ خلیج فارس کے ممالک کے نقصانات کی پروا کرتے ہیں؟
المیادین ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے سب سے زیادہ معاشی نقصان خلیج فارس کے ممالک کو پہنچایا ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، تیل و گیس کی برآمدات میں کمی آئی، سیاحت متاثر ہوئی اور خدمات کے شعبے میں جمود پیدا ہوا، جس سے ان ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق خطے کی معیشت کو براہ راست 200 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے، جس میں سے 103 سے 168 ارب ڈالر خلیجی ممالک کے حصے میں آئے ہیں۔ لاکھوں ملازمتیں ختم ہوئیں اور سماجی و معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں ٹرمپ کی بے توجہی کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں: اسرائیل کا دباؤ، خلیجی ممالک کو مالی وسائل کے طور پر دیکھنا، اور ایران کے مقابلے میں ناکامی کو چھپانے کی کوشش۔
الجزیرہ: ٹرمپ دو ناکامیوں کے درمیان پھنس گئے
الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے طرز سیاست کو متضاد اور غیر متوقع قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ایران میں نظام کی تبدیلی کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مقرر کیا، جو حاصل نہ ہو سکا۔
ایران نے نقصانات کے باوجود اپنی داخلی یکجہتی برقرار رکھی اور سیاسی و فوجی سطح پر مزاحمت جاری رکھی۔ جنگ میں ناکامی کے بعد ٹرمپ نے ایک طرف حملوں میں شدت کی دھمکی دی، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق ٹرمپ اب دو ناکامیوں کے درمیان گھرے ہوئے ہیں: جنگ جاری رکھنے کی صورت میں بڑھتے اخراجات اور عالمی ساکھ کو نقصان، یا ایران کے شرائط پر سمجھوتہ، جو امریکی ناکامی کا اعتراف ہوگا۔
العربیہ: امریکہ کی سیاسی ساکھ متاثر
العربیہ نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے بحران کو عالمی سطح تک پہنچا دیا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
یورپ، چین اور بھارت کو اس صورتحال سے زیادہ معاشی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ امریکہ کو براہ راست کم نقصان ہوا ہے، تاہم اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوئی ہے کیونکہ وہ اس بحران کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عربی 21: سعودی معیشت کی کمزوریاں بے نقاب
عربی 21 نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے سعودی عرب کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس میں تیل و گیس کی برآمدات میں کمی، خوراک کی درآمد میں مشکلات، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان شامل ہے۔
سعودی مرکزی بینک کے مطابق 2025 میں ملک کو 96 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جو مسلسل دوسرا سال ہے۔ اگرچہ تیل کی آمدن زیادہ رہی، لیکن خدمات، مالیاتی لین دین اور دیگر شعبوں میں خسارہ برقرار رہا۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی خدمات پر اخراجات، سرمایہ کا بیرون ملک اخراج، بیرونی امداد اور تارکین وطن کی جانب سے 58 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اس خسارے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیشگوئی کی ہے کہ یہ خسارہ 2031 تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اقتصادی شرح نمو بھی کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
امریکہ کی لامحدود خواہشات کے باعث مذاکرات منطقی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے غلط رویّے اور حد سے بڑھی ہوئی خواہشات کے باعث گزشتہ دور کے مذاکرات پیش رفت کے باوجود اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرسکے۔
سید عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے کے فورا بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان ہمیشہ قریبی مشاورت جاری رہی ہے اور دونوں ممالک مختلف امور خصوصاً علاقائی مسائل کے حوالے سے مسلسل دوطرفہ رابطے اور مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ رمضان کے باعث کچھ عرصہ ملاقاتوں میں وقفہ آگیا تھا، تاہم موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد روس کا سفر بھی طے کیا گیا تاکہ اس مدت کے دوران جنگ سے متعلق ہونے والی پیش رفت اور موجودہ صورتحال پر روسی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے دورے مکمل طور پر دوطرفہ نوعیت کے تھے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، اسی لیے ضروری تھا کہ تازہ ترین پیش رفت اور صورتحال پر پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران بعض تبدیلیاں رونما ہوئیں، تاہم امریکہ کے غلط طرز عمل اور حد سے بڑھی ہوئی شرائط کے باعث مذاکرات گزشتہ دور میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود اپنے اہداف تک نہ پہنچ سکے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان میں ایرانی وفد کی مشاورتیں مثبت رہیں اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں گزشتہ مراحل کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر گفتگو کی گئی کہ کس راستے اور کن شرائط کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام کی چالیس روزہ بہادرانہ مزاحمت کے بعد ضروری ہے کہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا مکمل طور پر دفاع کرے اور قومی مفادات کو یقینی بنائے۔
عمان کے دورے سے متعلق عراقچی نے کہا کہ عمان ایک قریبی اور دوست ملک ہے جس نے حالیہ جنگ میں مثبت موقف اختیار کیا، اور اس لیے ضروری تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے، بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں مشترکہ مسائل کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران اور عمان دونوں آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں اور اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ آمدورفت ایک عالمی مسئلہ ہے، لہٰذا دونوں ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی اقدام میں ایران اور عمان کے مفادات براہ راست وابستہ ہیں، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر وسیع اشتراک نظر پایا جاتا ہے۔
ایرانی انجنئیرز کے ہاتھوں امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کی ممکنہ ریورس انجینئرنگ پر مغربی میڈیا کی تشویش
امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ مہینے ایران کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل گرائے تاہم ان میں سے بڑی تعداد کو ایرانی دفاعی نظام نے ناکارہ بنادیا اور پھٹے بغیر زمین پر گرگئے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران میں امریکی اور اسرائیلی عسکری سازوسامان کے ناکارہ یا نہ پھٹنے والے حصوں کے ذریعے ریورس انجینئرنگ کی کوششوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔
متعدد مغربی اخبارات اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے حساس ٹیکنالوجی کے مطالعے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کی کشیدگی اب صرف براہ راست فوجی تصادم تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ٹیکنالوجی، ہتھیاروں کے حصول اور علاقائی طاقت کے توازن تک پھیل چکی ہے۔
برطانوی ویب سائٹ “آئی پیپر” نے سابق امریکی خفیہ اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ ایران وہ ہتھیار پرکھ رہا ہے جو یا تو پھٹے نہیں یا اس کی سرزمین پر آکر گرے۔ ان میں ٹاماہاک میزائل، MQ‑9 ریپر ڈرون، JASSM میزائل اور GBU‑57 قسم کے بینکر شکن بم شامل ہیں۔
مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں روس یا چین کی ممکنہ تکنیکی مدد بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے امریکی ہتھیاروں کی رہنمائی، جامنگ اور اسٹیلتھ خصوصیات کو سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اسی سلسلے میں گارڈین کے دفاعی ایڈیٹر ڈین صباغ نے لکھا کہ حالیہ حملوں سے ایران کی فوجی صلاحیت میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑا اور اس کے بہت سے ڈرون اور میزائل نظام اب بھی کام کر رہے ہیں۔
گارڈین میں ہی فواز جرجس نے اپنے جائزے میں کہا کہ ماضی میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوئی، اور اس دور کی کشیدگی نے ایران کو خطے میں نئے اثرورسوخ کے مواقع دیے ہیں۔
جرجس نے کہا کہ اس ٹکراؤ کے بعد ایران زیادہ پراعتماد ہو کر ابھرا اور اس نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں توانائی لے جانے والے جہازوں کی راہ کو خطرے میں ڈالنے کی اپنی صلاحیت استعمال کی، جس سے اسے اپنے ایٹمی پروگرام سے بڑھ کر ایک اضافی طاقت اور دباؤ کا ذریعہ مل گیا۔
مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہے، جنرل اسماعیل قاآنی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے کہا ہے کہ مزاحمتی محاذ آج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور منظم ہوچکا ہے اور اس کے تمام اجزا ایک مضبوط اتحاد کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
جنرل قاآنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں دنیا کی توجہ حزب اللہ اور مزاحمتی محاذ کے دیگر اہم حصوں پر مرکوز ہے، جو میدان میں دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ صہیونی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، اور اب بھی جنوبی لبنان میں اسے شکست و ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
سپاہ قدس کے کمانڈر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ صہیونی حکومت کا مستقبل تاریک ہے اور مزاحمت کی قوت، اتحاد اور استقامت کے سامنے اس کے تمام منصوبے خاک میں ملتے رہیں گے۔
پوتین اور عراقچی کی دلچسپ ملاقات اور گفتگو
- روس کے صدر نے سینٹ پیٹرزبرگ میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا شاندار استقبال کیا۔ ذرائع ابلاغ ان کی ابتدائی گفتگو پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔
مصافحہ اور استقبالیہ بات چیت کے موقع پر وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی اور صدر ڈاکٹر پزشکیان کا سلام آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں جس پر ولادیمیر پوتین نے کہا کہ گزشتہ ہفتے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کا خط انہیں موصول ہوا۔
روس کے صدر نے سید عباس عراقچی سے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے پیغام کے لیے اعماق دل سے میری قدردانی کا پیغام انہیں پیش کیجیے گا۔
ولادیمیر پوتین نے سید عباس عراقچی سے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی سے بتایا جائے کہ روس بھی ایران کی طرح اسٹریٹیجک تعلقات کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
روس کے صدر نے رہبر انقلاب اسلامی کی صحت اور کامیابی کی بھی آرزو کی اور کہا کہ امید ہے کہ نئے رہبر کی ہدایات کے تحت اور اپنے شجاعت اور خودمختاری کے جذبے کی بنیاد پر، ایرانی عوام اس مشکل دور سے گزرتے ہوئے امن حاصل کے ساحل سے ہمکنار ہوں گے۔
جنگی حالات میں ایران کی معیشت کیسے قائم رہی؟ الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ
الجزیرہ نے ایک تفصیلی مضمون میں جنگی حالات کے دوران ایران کی معیشت کی مضبوطی کے 8 اہم عوامل کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ ان ذرائع کی بدولت ایران موجودہ صورتحال میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی بندرگاہوں، خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان پر عائد بحری پابندیاں ایران کی معیشت کو ایک بڑے امتحان سے دوچار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ایران کس حد تک امریکی دباؤ کو قابو میں رکھتا ہے اور اسے اندرون ملک منتقل ہونے سے روکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کی معاشی مضبوطی 8 بنیادی ستونوں پر قائم ہے، جن میں تیل کی مقامی پیداوار، ریفائنری اور ایندھن کے مراکز، غذائی تحفظ، پیٹروکیمیکل صنعت، ہمسایہ ممالک سے غیر بحری تجارت، بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں، مشرقی زمینی و ریلوے راستے اور ہنگامی معاشی اقدامات شامل ہیں۔
پہلا عنصر تیل کے شعبے میں مقامی پیداوار کا فروغ ہے۔ ایرانی وزارت تیل کے مطابق اس صنعت میں درکار 80 فیصد سے زائد آلات ملک کے اندر ہی تیار کیے جاتے ہیں، جس سے بیرونی پابندیوں کا اثر کم ہوتا ہے۔
دوسرا اہم عنصر تیل کی ریفائننگ اور مقامی ایندھن کی فراہمی کا تسلسل ہے۔ جون 2025 تک ایران کی ریفائننگ صلاحیت 24 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی تھی اور تمام ریفائنریز مکمل استعداد سے کام کر رہی تھیں، جبکہ ایندھن کی ترسیل بھی بغیر رکاوٹ جاری رہی۔
تیسرا عنصر غذائی تحفظ ہے، خاص طور پر گندم میں خود کفالت ہونا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 50 لاکھ ٹن سے زائد بنیادی اشیاء ذخیرہ تھیں اور کئی ہفتوں بعد بھی ہنگامی ذخائر کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
چوتھا عنصر پیٹروکیمیکل شعبہ ہے، جو غیر تیل برآمدات کا 25 فیصد اور صنعتی پیداوار کا 19 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ شعبہ ملک کی تقریباً نصف غیر ملکی آمدن کا ذریعہ رہا ہے۔
پانچواں عنصر ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر بحری تجارت ہے۔ ایران کی 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت 2023 میں 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چھٹا عنصر شمالی ایران میں بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں اور شمال-جنوب راہداری ہے، جو جنوبی بندرگاہوں پر دباؤ کے باوجود متبادل راستے فراہم کرتی ہیں۔
ساتواں عنصر مشرقی زمینی اور ریلوے راستے ہیں، جہاں افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مال برداری میں اضافہ ہوا ہے، جو بحری پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہے۔
آٹھواں عنصر ہنگامی معاشی اقدامات ہیں، جن میں 65 نکاتی پیکج شامل ہے، جس کا مقصد تجارت اور پیداوار کو آسان بنانا ہے، جیسے بنیادی اشیاء کی درآمد کو ترجیح دینا اور صنعتی مشینری کی اجازت دینا۔
رپورٹ میں ماہر اقتصادیات پیمان مولوی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران نے برسوں کی پابندیوں کے دوران اپنی معیشت کو اس انداز میں ڈھال لیا ہے کہ کم از کم پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر خوراک کے شعبے میں۔
ایک اور ماہر آیزاک سعیدیان کے مطابق ایران کے پاس 6 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل زمینی سرحدیں ہیں، جو تجارت اور برآمدات کے لیے اہم راستے فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے کی پابندیوں نے ایران کو غیر رسمی تجارتی طریقے اپنانے پر مجبور کیا، جو اگرچہ مہنگے اور خطرناک ہیں، لیکن مختصر مدت میں برآمدات، خصوصاً تیل کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیرونی انحصار میں کمی کی پالیسی نے بھی ایران کو بعض بنیادی اشیاء کی درآمد کم کرنے میں مدد دی ہے۔
مغرب کا سورج ڈوب چکا، اور افقِ مشرق سے ایک نئی دنیا طلوع ہو رہی ہے
مغرب کا سورج اب محض ڈوب ہی نہیں رہا بلکہ اس کی وہ چمک بھی ماند پڑ چکی ہے جو کبھی دنیا پر اپنی ہیبت اور طاقت کا سکہ جمائے ہوئے تھی۔ ایران پر دباؤ، حملوں اور مسلسل پابندیوں کے باوجود اسے جھکانے میں ناکامی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ امریکہ کی وہ دھاک، جس کے سہارے وہ عالمی فیصلے مسلط کرتا تھا، اب کمزور پڑ رہی ہے۔ ایران کی مزاحمت نے نہ صرف عسکری سطح پر جواب دیا بلکہ ایک نفسیاتی دیوار بھی گرا دی—وہ دیوار جس کے پیچھے “ناقابلِ شکست سپر پاور” کا تصور کھڑا تھا۔
یہ معاملہ اب کسی ایک ملک یا ایک جنگ کی حدود میں قید نہیں رہا، بلکہ اس نے عالمی طاقت کے پورے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب ایک ایسا ملک، جو برسوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری دھمکیوں کے حصار میں گھرا ہو، نہ صرف ڈٹ کر کھڑا ہو جائے بلکہ جواب دینے کی صلاحیت بھی دکھا دے، تو یہ منظر صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام بن جاتا ہے۔ یہ پیغام یہ ہوتا ہے کہ طاقت کا پرانا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے، اور اب فیصلہ صرف اسلحے کی کثرت یا معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ عزم، حکمتِ عملی اور استقلال سے بھی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک—چاہے وہ کھل کر اظہار کریں یا خاموشی سے—اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سمجھ رہے ہیں اور اپنے تعلقات، ترجیحات اور اتحادوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقت اب ایک مرکز سے پھسل کر کئی مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے، اور دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی ایک طاقت مطلق حاکم نہیں رہے گی۔
افقِ مشرق پر ابھرنے والی یہ نئی روشنی اب محض ایک ادبی استعارہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چین کی برق رفتار معاشی ترقی، روس کی مستقل عسکری و اسٹریٹجک موجودگی، اور ایران جیسی ریاستوں کی مزاحمتی حکمتِ عملی نے مل کر ایک ایسے عالمی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے جو مغرب کی یکطرفہ برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ صرف طاقت کا بدلتا ہوا نقشہ نہیں بلکہ سوچ اور خوف کے توازن کی تبدیلی بھی ہے۔ وہ زمانہ، جب فیصلے ایک ہی دارالحکومت سے صادر ہوتے تھے اور باقی دنیا انہیں قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی، اب بتدریج پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسا دور جنم لے رہا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات، نظریات اور حکمتِ عملیوں کے ساتھ عالمی فیصلوں میں شریک ہو رہی ہیں۔
یہ تبدیلی نہ شور و ہنگامے کے ساتھ آئی ہے اور نہ کسی ایک واقعے نے اسے جنم دیا ہے، بلکہ یہ ایک تدریجی مگر فیصلہ کن عمل کے طور پر سامنے آ رہی ہے جس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری اور حتیٰ کہ عوامی ذہنوں تک سرایت کر چکے ہیں۔ طاقت کا وہ تصور، جو برسوں تک ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا رہا، اب بکھر رہا ہے۔ اب فیصلے یک طرفہ نہیں رہے، اور نہ ہی کوئی ایک قوت اپنی مرضی کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی سابقہ حیثیت رکھتی ہے۔ خوف اور دباؤ کا وہ توازن، جو کبھی صرف ایک سمت میں جھکا ہوا تھا، اب تبدیل ہو رہا ہے—اور یہی تبدیلی دنیا کے رویّوں، اتحادوں اور ترجیحات میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں ابھرنے والی نئی صف بندیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ایک نیا عالمی نقشہ ترتیب پا رہا ہے۔ مشرقی طاقتیں صرف معاشی یا عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ فکری اور سیاسی سطح پر بھی اپنی موجودگی منوا رہی ہیں۔ وہ ریاستیں جو کبھی عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور تھیں، اب نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر رہی ہیں بلکہ عالمی فیصلوں میں فعال کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں خود اعتمادی، مزاحمت اور باہمی تعاون جیسے عناصر نمایاں ہو رہے ہیں، جو ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن رہے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک نظام کے زوال کی داستان نہیں بلکہ ایک نئے دور کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے۔ مغرب کی وہ شام، جو طویل عرصے تک طاقت، برتری اور فیصلہ سازی کی علامت بنی رہی، اب بتدریج ڈھل رہی ہے، جبکہ مشرق کا افق ایک نئی روشنی سے روشن ہو رہا ہے۔ یہ روشنی صرف عسکری یا معاشی قوت کی نہیں بلکہ خود اعتمادی، استقامت، فکری آزادی اور باوقار مزاحمت کی علامت ہے—ایک ایسا عالمی توازن جنم لے رہا ہے جس میں دنیا ایک سے زیادہ مراکز کے گرد گردش کرے گی اور جہاں فیصلے محض طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اشتراک، مفاہمت اور توازن کے اصولوں کے تحت طے ہوں گے۔
اس بدلتی ہوئی تصویر میں ایران کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایران کی ہمت، اس کی مستقل مزاج سیاست، اور دباؤ کے باوجود نہ جھکنے کا عزم اس پورے منظرنامے میں ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ برسوں کی سخت اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور مسلسل عسکری خطرات—یہ سب ایسے عوامل تھے جو کسی بھی ریاست کو کمزور کر سکتے تھے، مگر ایران نے ان حالات کو اپنی کمزوری کے بجائے اپنی طاقت میں بدل دیا۔ اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ ایک ایسا سیاسی و فکری بیانیہ بھی قائم کیا جس میں خود انحصاری، مزاحمت اور خود داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
ایران کی یہی استقامت دراصل اس وسیع تر تبدیلی کی علامت بن گئی ہے جو آج دنیا میں رونما ہو رہی ہے۔ اس نے یہ تصور توڑا ہے کہ عالمی دباؤ کے سامنے جھک جانا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس، اس نے ثابت کیا کہ مستقل مزاجی، حکمت عملی اور عوامی حمایت کے ساتھ ایک ریاست نہ صرف اپنا دفاع کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، چاہے کھل کر یا خاموشی سے، اس ماڈل کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے فیصلوں میں اس سے اثر قبول کر رہے ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرق کے اس ابھرتے ہوئے منظرنامے میں ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک علامت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے—ایک ایسی علامت جو مزاحمت، خود مختاری اور نئے عالمی توازن کی تشکیل کی نمائندگی کرتی ہے۔ مغرب کی ڈھلتی ہوئی شام کے مقابل، مشرق کی یہ نئی روشنی اسی عزم اور استقامت سے اپنی توانائی حاصل کر رہی ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو آنے والے عالمی نظام کی بنیادوں کو تشکیل دے رہا ہے۔
تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور صہیونی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہو گا۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ بندی اس وقت ہی معنی رکھتی ہے جب محاصرہ اور عالمی اقتصاد کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند ہو، اور صہیونی حکومت ہر محاذ پر جارحیت روک دے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ فوجی حملوں کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ طاقت آزمائی کے بجائے ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔
تہران- واشنگٹن مذاکرات کی شکست کی اصل وجہ امریکہ کا متضاد موقف ہے: روس
ویانا میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے کہا ہے کہ تہران- واشنگٹن مذاکرات کی شکست کے لیے امریکہ اور اس کے جلدبازانہ اور متضاد موقف ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے عدم انعقاد کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹہرایا۔
روس کے مستقل مندوب نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے مناسب ہماہنگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
میخائیل اولیانوف نے امریکی صدر کی سوشل میڈیا پر پیغامات کی بمباری اور متضاد بیانات کے بارے میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے جلدبازانہ اور متضاد موقف کا افراط دیکھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مذاکرات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں تہران کی عدم شمولیت کی اصل وجہ واشنگٹن سے ملنے والے متضاد پیغامات ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
